کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس بات کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زبان اور دل پر حق کو رکھ دیا ہے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ الْجَهْمِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان اور اس کے دل پر حق کو رکھ دیا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف جہم بن ابوجہم کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف جہم بن ابوجہم کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ ، يَقُولُ بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْمُقْرِئُ الْعَكَّاوِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان اور اس کے دل پر حق کو رکھ دیا ہے وہ اس ( حق ) کے مطابق بات کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن سعید مقرء عکاوی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن سعید مقرء عکاوی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَالِحٍ - كَاتِبِ اللَّيْثِ - وَقَدْ وُثِّقَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان اور اس کے دل پر حق کو رکھ دیا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن صالح کا معاملہ مختلف ہے ، جو لیث کا کاتب ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن صالح کا معاملہ مختلف ہے ، جو لیث کا کاتب ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
وَعَنْ بِلَالٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان اور اس کے دل پر حق کو رکھ دیا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ضُعَفَاءُ ، سُلَيْمَانُ الشَّاذَكُونِيُّ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان اور اس کے دل پر حق کو رکھ دیا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ضعیف راوی ، سلیمان شاذ کونی اور دیگر لوگ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ضعیف راوی ، سلیمان شاذ کونی اور دیگر لوگ ہیں ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا كَانَ نَبِيٌّ إِلَّا فِي أُمَّتِهِ مُعَلِّمٌ أَوْ مُعَلِّمَانِ ، وَإِنْ يَكُنْ فِي أُمَّتِي مِنْهُمْ أَحَدٌ فَهُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ; إِنَّ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، وَهُوَ لَيِّنُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” جو بھی نبی ہوا اس کی امت میں ایک یا دو معلم ہوتے ہیں ، اور اگر میری امت میں ان میں سے کوئی ہوا تو وہ عمر بن خطاب ہو گا ، بے شک حق عمر کی زبان اور دل پر موجود ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا کچھ حصہ اس سیاق کے بغیر ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے ، اور وہ حدیث میں کمزور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے ، اور وہ حدیث میں کمزور ہے ۔
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : إِذَا ذُكِرَ الصَّالِحُونَ فَحَيَّهَلَا بِعُمَرَ ، مَا كُنَّا نُبْعِدُ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ السَّكِينَةَ تَنْطِقُ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب نیک لوگوں کا ذکر کیا جائے گا ، تو ان میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر بھی ہو گا ، اور ہم لوگ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اس بات کو بعید نہیں سمجھتے تھے کہ سکینت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی زبان پر کلام کرتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : مَا كُنَّا نُبْعِدُ أَنَّ السَّكِينَةَ تَنْطِقُ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم اس بات کو بعید نہیں سمجھتے تھے کہ سکینت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی زبان پر کلام کرتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ : كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ السَّكِينَةَ تَنْزِلُ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں : ہم لوگ یہ بات چیت کیا کرتے تھے کہ سکینت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی زبان پر نازل ہوتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔