کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے علاوہ دیگر خلفاء اور دیگر لوگوں کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 14376
وَعَنْ نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى دَخَلَ حَائِطًا ، فَقَالَ : " أَمْسِكْ عَلَيَّ الْبَابَ " . فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ عَلَى الْقُفِّ ، وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ ، وَضُرِبَ الْبَابُ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : أَبُو بَكْرٍ . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ : " ائْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " . قَالَ : فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ . قَالَ : فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْقُفَّةِ ، وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ . ثُمَّ ضُرِبَ الْبَابُ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : عُمَرُ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا عُمَرُ . قَالَ : " ائْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " . قَالَ : فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ . قَالَ : فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْقُفِّ ، وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ [ قَالَ : ثُمَّ ضَرَبَ الْبَابَ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا قَالَ : عُثْمَانُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا عُثْمَانُ ، قَالَ : " ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ مَعَهَا بَلَاءٌ " فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ ، فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقُفِّ وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ ] . ¤ قُلْتُ : عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نافع بن عبدالحارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا ، آپ ایک باغ میں تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : تم دروازے کا خیال رکھنا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لے آئے ، آپ کنویں کے منڈیر پر بیٹھ گئے اور آپ نے اپنی دونوں ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں ، دروازے پر دستک ہوئی ، میں نے دریافت کیا : کون ہے ؟ ان صاحب نے بتایا : ابوبکر ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے اجازت دو اور اسے خوشخبری دے دو ۔ راوی کہتے ہیں : یعنی جنت کی خوشخبری دے دو ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے انہیں اجازت دی اور میں نے انہیں جنت کی خوشخبری دی ، راوی بیان کرتے ہیں : وہ اندر آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منڈیر پر بیٹھ گئے ۔ انہوں نے بھی اپنی ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں ، پھر دروازے پر دستک ہوئی ، میں نے دریافت کیا : کون ہے ؟ تو ان صاحب نے کہا: عمر ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اُسے اجازت دو اور اسے جنت کی خوشخبری دو ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے انہیں اجازت دی اور انہیں جنت کی خوشخبری دی ، راوی بیان کرتے ہیں : وہ بھی اندر آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منڈیر پر بیٹھ گئے ۔ انہوں نے بھی اپنی دونوں ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں ، راوی کہتے ہیں : پھر دروازے پر دستک ہوئی ، میں نے دریافت کیا : کون ہے ؟ انہوں نے بتایا : عثمان ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے اجازت دو ، اسے جنت کی خوشخبری دے دو اور اسے ایک آزمائش کا سامنا بھی ہو گا ، میں نے انہیں اندر آنے کی اجازت دی ، انہیں جنت کی خوشخبری دی وہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منڈیر پر بیٹھ گئے اور انہوں نے بھی دونوں ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں ۔ “ ( علامہ ہیثمی ) فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں ، امام ابوداؤد نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14377
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْأَسْوَافِ وَبِلَالٌ مَعَهُ ، فَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ وَكَشَفَ عَنْ فَخِذَيْهِ ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ ، فَقَالَ : " يَا بِلَالُ ، ائْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " . فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَجَلَسَ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ ، وَكَشَفَ عَنْ فَخِذَيْهِ . ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ يَسْتَأْذِنُ ، فَقَالَ : " ائْذَنْ لَهُ يَا بِلَالُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " . فَدَخَلَ فَجَلَسَ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ ، وَكَشَفَ عَنْ فَخِذَيْهِ . ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ يَسْتَأْذِنُ ، فَقَالَ : " ائْذَنْ لَهُ يَا بِلَالُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ " . فَدَخَلَ عُثْمَانُ فَجَلَسَ قُبَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ ، وَكَشَفَ عَنْ فَخِذَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدٍ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسواف کے مقام پر ٹھہرے ، آپ کے ساتھ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں اور زانوں سے کپڑا ہٹا لیا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے اجازت مانگی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے بلال ! تم اسے اجازت دو اور تم اسے جنت کی خوشخبری دو ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اندر آئے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف آ کے بیٹھ گئے ۔ انہوں نے بھی ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں اور زانوں سے کپڑا ہٹا لیا ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے ، انہوں نے اجازت مانگی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے بلال ! اسے اجازت دے دو اور اسے جنت کی خوشخبری دے دو ، وہ اندر آئے اور انہوں نے بھی کنویں میں ٹانگیں لٹکا لیں اور زانوں سے کپڑا ہٹا لیا ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے اجازت مانگی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے اجازت دو اور اسے جنت کی خوشخبری دے دو اور اسے یہ بتانا کہ اُسے ایک آزمائش کا سامنا کرنا ہو گا ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدمقابل بیٹھ گئے ۔ انہوں نے بھی دونوں ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں اور زانوں سے کپڑا ہٹا لیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف امام طبرانی کے استاد علی بن سعید کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف امام طبرانی کے استاد علی بن سعید کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ۔
حدیث نمبر: 14378
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَائِرًا لِسَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ - وَمَنْزِلُهُ بِالْأَسْوَافِ - فَبَسَطَتِ امْرَأَتُهُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَحْتَ صُورٍ مِنْ نَخْلٍ ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَلَسْنَا مَعَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَطْلُعُ الْآنَ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . فَطَلَعَ أَبُو بَكْرٍ . ثُمَّ قَالَ : " يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . فَطَلَعَ عُمَرُ . ثُمَّ قَالَ : " يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . فَطَلَعَ عُثْمَانُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لئے تشریف لے گئے ۔ ان کا گھر اسواف میں تھا ، ان کی اہلیہ نے کھجور کے درختوں کے جھنڈ کے نیچے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بچھونا بچھایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے ، آپ کے ساتھ ہم بھی بیٹھ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابھی تمہارے سامنے اہل جنت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آئے گا ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آ گئے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اہل جنت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تمہارے سامنے آئے گا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آ گئے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اہل جنت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تمہارے سامنے آئے گا ، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آ گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 14379
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ مِنْ تَحْتِ هَذَا الصُّورِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . قَالَ : فَطَلَعَ أَبُو بَكْرٍ ، فَهَنَّأْنَاهُ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ ثُمَّ لَبِثَ هُنَيْهَةً ، ثُمَّ قَالَ : " يَطْلُعُ مِنْ تَحْتِ هَذَا الصُّورِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . فَطَلَعَ عَمَرُ ، فَهَنَّأْنَاهُ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ثُمَّ قَالَ : " يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ مِنْ تَحْتِ هَذَا الصُّورِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ جَعَلْتَهُ عَلِيًّا " . ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ : فَطَلَعَ - صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمْ - . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : درختوں کے اس جھنڈ کے نیچے سے ایک شخص تمہارے سامنے آئے گا جو جنتی ہو گا ، راوی کہتے ہیں : تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سامنے آئے ، ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق انہیں مبارک باد دی ، پھر کچھ دیر گزری تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس جھنڈ کے نیچے سے ایک شخص تمہارے سامنے آئے گا ، وہ جنتی ہو گا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سامنے آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے بموجب ہم نے انہیں مبارک باد دی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس جھنڈ کے نیچے سے ایک شخص تمہارے سامنے آئے گا جو جنتی ہو گا ، اے اللہ ! اگر تو چاہے ، تو اسے علی بنا دے ، یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، راوی کہتے ہیں : تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سامنے آئے ۔
حدیث نمبر: 14380
وَفِي رِوَايَةٍ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ عَلِيًّا " . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اے اللہ ! تو اسے علی بنا دے ۔ “ ( یعنی اللہ کرے کہ وہ علی ہو ) ۔
حدیث نمبر: 14381
وَفِي رِوَايَةٍ : مَشَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَذَبَحَتْ لَهُ شَاةً - فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ أَحَدِ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ رِجَالٌ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل کر انصار سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کی طرف گیا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بکری ذبح کی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، امام بزار نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، امام أحمد کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، امام بزار نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، امام أحمد کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 14382
وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا حَائِطًا ، ثُمَّ قَالَ : " يَدْخُلُ عَلَيْكُمُ الْآنَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ . ثُمَّ قَالَ : " يَدْخُلُ عَلَيْكُمُ الْآنَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . فَدَخَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ . ثُمَّ قَالَ : " يَدْخُلُ عَلَيْكُمُ الْآنَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ عَلِيًّا " ، فَدَخَلَ عَلِيٌّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ایک باغ میں تشریف لے گئے ، پھر آپ نے فرمایا : ابھی تمہارے پاس اہل جنت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آئے گا ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابھی تم لوگوں کے پاس اہل جنت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آئے گا ، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابھی تم لوگوں کے پاس اہل جنت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آئے گا ، اے اللہ ! تو اسے علی بنا دے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن عبدالکریم ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن عبدالکریم ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 14383
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةٌ - أَوْ مَا فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةٌ شَكَّ عَلِيُّ بْنُ جَمِيلٍ - مَا عَلَيْهَا وَرَقَةٌ إِلَّا مَكْتُوبٌ عَلَيْهَا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ، أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ ، وَعُمَرُ الْفَارُوقُ ، وَعُثْمَانُ ذُو النُّورَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ جَمِيلٍ الرَّقِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جنت میں ایک درخت ہے “ یہاں ابن جمیل نامی راوی کو یہ شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : جنت میں جو بھی درخت موجود ہیں اُن کے ہر پتے پر لکھا ہوا ہے ، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، سیدنا محمد اللہ کے رسول ہیں ، ابوبکر صدیق عمر فاروق عثمان ذوالنورین ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن جمیل رقی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن جمیل رقی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 14384
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ بَدْرٍ ، وَلِأَبِي بَكْرٍ : " مَعَ أَحَدِكُمَا جِبْرِيلُ ، وَمَعَ الْآخَرِ مِيكَائِيلُ ، وَإِسْرَافِيلُ مَلَكٌ عَظِيمٌ يَشْهَدُ الْقِتَالَ أَوْ يَكُونُ فِي الصَّفِّ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَالْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : ” تم دونوں میں سے ایک کے ساتھ جبرائیل ہے ، اور دوسرے کے ساتھ میکائیل ہے ، اور اسرافیل جو ایک بڑا فرشتہ ہے ، وہ جنگ میں شریک ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) وہ صف میں موجود ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ہے امام أحمد اور امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ہے امام أحمد اور امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14385
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كُنَّا نَقُولُ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَيٌّ : أَفْضَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَعُثْمَانُ ، وَيَسْمَعُ ذَلِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا يُنْكِرُهُ ، مَا نَعْلَمُ عُثْمَانَ جَاءَ بِشَيْءٍ مِنَ الْكَبَائِرِ ، وَلَا قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ حِلِّهَا ، وَلَكِنَّهُ هَذَا الْمَالُ إِنْ أَعْطَاكُمُوهُ رَضِيتُمْ ، وَإِنْ أَعْطَى قُرَيْشًا سَخِطْتُمْ ، إِنَّمَا تُرِيدُونَ أَنْ تَكُونُوا كَفَارِسَ وَالرُّومِ لَا يَتْرُكُونَ لَهُمْ أَمِيرًا إِلَّا قَتَلُوهُ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ بِاخْتِصَارٍ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَعُثْمَانُ ، ثُمَّ اسْتَوَى النَّاسُ فَيَبْلُغُ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَا يُنْكِرُهُ عَلَيْنَا . وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِ الطَّبَرَانِيِّ الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا ، وَفِيهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ہم لوگ یہ کہا: کرتے تھے کہ اس امت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے زیادہ فضیلت رکھنے والے فرد سیدنا ابوبکر ، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات سنتے تھے اور آپ اس کا انکار نہیں کرتے تھے ، ہمارے علم کے مطابق سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کسی کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہیں کیا ، کسی جان کو ناحق طور پر قتل نہیں کیا ، اصل معاملہ صرف اس مال کا ہے کہ اگر وہ یہ مال تمہیں دے دیتے ، تو تم نے راضی ہونا تھا اور اگر وہ قریش کو دے دیں تو تم ناراض ہو جاتے ہو ، تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ تم لوگ اہل فارس اور اہل روم کی طرح ہو جاؤ ، کہ جنہوں نے اپنے کسی بھی امیر کو نہیں چھوڑا ، اسے قتل کروا دیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا ابتدائی حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” سیدنا ابوبکر ، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم ( اس امت میں افضل ہیں ) اور پھر سب لوگ برابر کی حیثیت رکھتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ نے اس حوالے سے ہم پر انکار نہیں کیا ۔ “ امام ابویعلیٰ نے امام طبرانی کی معجم کی نقل کردہ روایت کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اور ان میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” سیدنا ابوبکر ، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم ( اس امت میں افضل ہیں ) اور پھر سب لوگ برابر کی حیثیت رکھتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ نے اس حوالے سے ہم پر انکار نہیں کیا ۔ “ امام ابویعلیٰ نے امام طبرانی کی معجم کی نقل کردہ روایت کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اور ان میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 14386
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ غَدَاةٍ بَعْدِ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَقَالَ : " رَأَيْتُ قُبَيْلَ الْفَجْرِ كَأَنِّي أُعْطِيتُ الْمَقَالِيدَ وَالْمَوَازِينَ . فَأَمَّا الْمَقَالِيدُ فَهَذِهِ الْمَفَاتِيحُ . وَأَمَّا الْمَوَازِينُ فَهَذِهِ الَّتِي يُوزَنُ بِهَا ، فَوُضِعْتُ فِي كِفَّةٍ وَوُضِعَتْ أُمَّتِي فِي كِفَّةٍ ، فَوُزِنْتُ بِهِمْ فَرَجَحْتُ . ثُمَّ جِيءَ بِأَبِي بَكْرٍ ، فَوُزِنَ بِهِمْ فَوَزَنَ . ثُمَّ جِيءَ بِعُمْرَ ، فَوُزِنَ بِهِمْ فَوَزَنَ . ثُمَّ جِيءَ بِعُثْمَانَ ، فَوُزِنَ بِهِمْ . ثُمَّ رُفِعَتْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " فَرَجَحَ بِهِمْ " . فِي الْجَمِيعِ . وَقَالَ : " ثُمَّ جِيءَ بِعُثْمَانَ فَوُضِعَ فِي كِفَّةٍ وَوُضِعَتْ أُمَّتِي فِي كِفَّةٍ ، فَرَجَحَ بِهِمْ ، ثُمَّ رُفِعَتْ " ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دن سورج نکلنے کے بعد صبح کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” صبح صادق سے کچھ پہلے میں نے دیکھا کہ جیسے مجھے مقالید اور موازین عطا کیے گئے ہیں ، جہاں تک مقالید کا سوال ہے ، تو اس سے مراد چابیاں ہیں ، اور جہاں تک موازین کا معاملہ ہے ، تو اس سے مراد وہ چیز ہے ، جس کے ذریعے وزن کیا جاتا ہے ، تو مجھے ایک پلڑے میں رکھا گیا اور میری امت کو دوسرے پلڑے میں رکھا گیا ، تو میں ان سب سے زیادہ وزنی تھا اور میرا پلڑا بھاری ہو گیا ، پھر ابوبکر کو لایا گیا ، اور اس کا وزن ان لوگوں کے ساتھ کیا گیا تو وہ وزنی تھا ، پھر عمر کو لایا گیا اور اس کا وزن ان لوگوں کے ساتھ کیا گیا ، تو وہ وزنی تھا ، پھر عثمان کو لایا گیا ، اس کا وزن ان لوگوں کے ساتھ کیا گیا پھر اس ترازو کو اٹھا لیا گیا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : ” وہ ان سب سے زیادہ وزنی تھا “ تمام روایت میں یہی الفاظ ہیں ، اور اس میں یہ الفاظ بھی ہیں : ” پھر عثمان کو لایا گیا اسے ایک پلڑے میں رکھا گیا ، اور میری امت کو دوسرے پلڑے میں رکھا گیا ، تو عثمان ان سب سے وزنی تھا پھر وہ پلڑا اٹھا لیا گیا ۔ “ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : ” وہ ان سب سے زیادہ وزنی تھا “ تمام روایت میں یہی الفاظ ہیں ، اور اس میں یہ الفاظ بھی ہیں : ” پھر عثمان کو لایا گیا اسے ایک پلڑے میں رکھا گیا ، اور میری امت کو دوسرے پلڑے میں رکھا گیا ، تو عثمان ان سب سے وزنی تھا پھر وہ پلڑا اٹھا لیا گیا ۔ “ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14387
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ، فَسَمِعْتُ فِيهَا خَشْفَةً بَيْنَ يَدَيَّ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ قَالُوا : بِلَالٌ . فَمَضَيْتُ ، فَإِذَا أَكْثَرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَقُرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ وَذَرَارِيُّ الْمُسْلِمِينَ ، وَلَمْ أَرَ فِيهَا أَحَدًا أَقَلَّ مِنَ النِّسَاءِ وَالْأَغْنِيَاءِ . قِيلَ لِي : أَمَّا الْأَغْنِيَاءُ ; فَهُمْ هَاهُنَا يُحَاسَبُونَ وَيُمَحَّصُونَ ، وَأَمَّا النِّسَاءُ ; فَأَلْهَاهُنَّ الْأَحْمَرَانِ الذَّهَبُ وَالْحَرِيرُ " . قَالَ : " ثُمَّ خَرَجْنَا مِنْ أَحَدِ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ ، فَلَمَّا كُنْتُ عِنْدَ الْبَابِ أُتِيتُ بِكِفَّةٍ ، فَوُضِعْتُ فِيهَا وَوُضِعَتْ أُمَّتِي ، فَرَجَحْتُ بِهَا . ثُمَّ أُتِيَ بِأَبِي بَكْرٍ فَوُضِعَ فِي كِفَّةٍ ، وَجِيءَ بِجَمِيعِ أُمَّتِي فَوُضِعَتْ فِي كِفَّةٍ ، فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ . ثُمَّ جِيءَ بِعُمَرَ فَوُضِعَ فِي كِفَّةٍ ، وَجِيءَ بِجَمِيعِ أُمَّتِي فَوُضِعُوا ، فَرَجَحَ عُمَرُ . وَعُرِضَتْ عَلَيَّ أُمَّتِي رَجُلًا رَجُلًا ، فَجَعَلُوا يَمُرُّونَ ، فَاسْتَبْطَأْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ، فَجَاءَ بَعْدَ الْإِيَاسِ ، فَقُلْتُ : عَبْدَ الرَّحْمَنِ ؟ فَقَالَ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ [ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ] ، مَا خَلَصْتُ إِلَيْكَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنِّي لَا أَخْلُصُ إِلَيْكَ أَبَدًا إِلَّا بَعْدَ الْمُشِيبَاتِ . قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : مِنْ كَثْرَةِ مَالِي أُحَاسَبُ وَأُمَحَّصُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِمَا مُطَّرِحُ بْنُ زِيَادٍ وَعَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ ، وَكِلَاهُمَا مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ ، وَمِمَّا يَدُلُّكَ عَلَى ضَعْفِ هَذَا : أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ أَحَدُ أَصْحَابِ بَدْرٍ وَالْحُدَيْبِيَةِ ، وَأَحَدُ الْعَشْرَةِ ، وَهُمْ أَفْضَلُ الصَّحَابَةِ . وَالْحَمْدُ لِلَّهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے اپنے آگے کسی کی آہٹ سنی ، میں نے دریافت کیا : کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا : یہ بلال ہیں ، میں گیا ، تو اہل جنت میں اکثریت مہاجرین کے غریب لوگوں اور مسلمانوں کے بچوں کی تھی اور میں نے وہاں سب سے زیادہ کم تعداد خوشحال لوگوں اور خواتین کی پائی ، مجھ سے کہا: گیا کہ جہاں تک خوشحال لوگوں کا تعلق ہے ، تو انہیں وہاں روک لیا گیا ہے ، اور ان سے حساب لیا جائے گا ، اور تفتیش کی جائے گی ، اور جہاں تک خواتین کا تعلق ہے تو دو سرخ چیزوں یعنی سونے اور ریشم نے انہیں غافل کر دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر ہم جنت کے آٹھ دروازوں میں سے ایک دروازے سے نکلے ، جب میں دروازے کے پاس پہنچا تو میرے پاس ایک ترازو لایا گیا ، جس کے ایک پلڑے میں مجھے رکھا گیا ، اور دوسرے پلڑے میں میری امت کو رکھا گیا ، تو میں ان سب سے وزنی تھا ، پھر ابوبکر کو لایا گیا ، اور اسے ایک پلڑے میں رکھا گیا ، اور میری پوری امت کو لا کر دوسرے پلڑے میں رکھا گیا ، تو ابوبکر وزنی تھا ، پھر عمر کو لایا گیا ، اسے ایک پلڑے میں رکھا گیا ، اور میری پوری امت کو لایا گیا ، اور ان لوگوں کو رکھا گیا ، تو عمر والا پلڑا وزنی تھا ، پھر میرے سامنے میری امت کے ایک ایک فرد کو پیش کیا گیا ، وہ لوگ گزرتے رہے ، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے آنے میں تاخیر ہو گئی ، وہ کچھ دیر کے بعد آیا ، میں نے کہا: عبدالرحمن ( کیا ہوا ؟ ) تو اس نے جواب دیا : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ۔ اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں آپ کے پاس اس وقت پہنچ پایا ہوں جب میں یہ گمان کر چکا تھا کہ میں کبھی بھی آپ کے پاس نہیں پہنچ سکوں گا ، صرف اس صورت میں پہنچ سکوں گا ، جب بوڑھا ہو جاؤں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اس کی وجہ کیا تھی ؟ انہوں نے بتایا : میرے مال کی کثرت ( وجہ تھی ) مجھ سے حساب لیا جا رہا تھا اور تفتیش کی جا رہی تھی ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں کی روایات کی سند میں ایک راوی مطرح بن زیاد ہے ، اور ایک راوی علی بن یزید الہانی ، ان دونوں کے ضعیف ہونے پر اتفاق پایا جاتا ہے ، اور جو بات اس روایت کے ضعیف ہونے پر دلالت کرتی ہے وہ یہ ہے کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا شمار غزوہ بدر اور غزوہ حدیبیہ میں شرکت کرنے والے افراد میں ہوتا ہے ، وہ عشرہ مبشرہ میں سے ایک ہیں ، اور فضیلت رکھنے والے صحابہ میں سے ہیں ، باقی ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں کی روایات کی سند میں ایک راوی مطرح بن زیاد ہے ، اور ایک راوی علی بن یزید الہانی ، ان دونوں کے ضعیف ہونے پر اتفاق پایا جاتا ہے ، اور جو بات اس روایت کے ضعیف ہونے پر دلالت کرتی ہے وہ یہ ہے کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا شمار غزوہ بدر اور غزوہ حدیبیہ میں شرکت کرنے والے افراد میں ہوتا ہے ، وہ عشرہ مبشرہ میں سے ایک ہیں ، اور فضیلت رکھنے والے صحابہ میں سے ہیں ، باقی ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ۔
حدیث نمبر: 14388
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُرِيتُ أَنِّي وُضِعْتُ فِي كِفَّةٍ وَأُمَّتِي فِي كِفَّةٍ ، فَعَدَلْتُهَا ، ثُمَّ وُضِعَ أَبُو بَكْرٍ فِي كِفَّةٍ وَأُمَّتِي فِي كِفَّةٍ ، فَعَدَلَهَا ، ثُمَّ وُضِعَ عُمَرُ فِي كِفَّةٍ وَأُمَّتِي فِي كِفَّةٍ ، فَعَدَلَهَا ، وَوُضِعَ عُثْمَانُ فِي كِفَّةٍ وَأُمَّتِي فِي كِفَّةٍ ، فَعَدَلَهَا ، ثُمَّ رُفِعَ الْمِيزَانُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ وَاقَدٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ : كَانَ صَدُوقًا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے خواب میں دیکھا کہ مجھے ایک پلڑے میں رکھا گیا ، اور میری امت کو ایک پلڑے میں رکھا گیا ، تو میرا پلڑا وزنی تھا ، پھر ابوبکر کو ایک پلڑے میں رکھا گیا ، اور میری امت کو دوسرے پلڑے میں رکھا گیا ، تو ابوبکر ان سے وزنی تھا ، پھر عمر کو ایک پلڑے میں رکھا گیا ، اور میری امت کو دوسرے پلڑے میں رکھا گیا ، تو وہ ان سے وزنی تھا ، پھر عثمان کو ایک پلڑے میں رکھا گیا ، اور میری امت کو دوسرے پلڑے میں رکھا گیا ، تو وہ ان سے وزنی تھا ، پھر میزان کو اٹھا لیا گیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے ، اور وہ متروک ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، محمد بن مبارک صوری بیان کرتے ہیں : وہ صدوق تھا اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے ، اور وہ متروک ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، محمد بن مبارک صوری بیان کرتے ہیں : وہ صدوق تھا اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14389
وَعَنْ عَرْفَجَةَ قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْفَجْرَ ، ثُمَّ قَالَ : " وُزِنَ أَصْحَابِي اللَّيْلَةَ ; فَوُزِنَ أَبُو بَكْرٍ فَوَزَنَ ، ثُمَّ وُزِنَ عُمَرُ فَوَزَنَ ، ثُمَّ وُزِنَ عُثْمَانُ فَوَزَنَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ وَضَعَّفَهُ فِي رِوَايَاتٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عرفجہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” گزشتہ رات میرے اصحاب کا وزن کیا گیا ، ابوبکر کا وزن کیا گیا ، تو وہ وزنی تھا ، عمر کا وزن کیا گیا ، تو وہ وزنی تھا پھر عثمان کا وزن کیا گیا ، تو وہ وزنی تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلیٰ بن ابومساور ہے ، اور وہ متروک ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر روایات کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلیٰ بن ابومساور ہے ، اور وہ متروک ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر روایات کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 14390
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ : " وُزِنَ أَصْحَابِي اللَّيْلَةَ فَوَزَنَ أَبُو بَكْرٍ ، ثُمَّ وَزَنَ عُمَرُ ، ثُمَّ وَزَنَ عُثْمَانُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَقَالَ : هَكَذَا رَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَرَوَاهُ سَعْدَوَيْهِ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ أَبِي الْمُسَاوِرِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عَرْفَجَةَ . قُلْتُ : وَفِي إِسْنَادِ هَذَا أَيْضًا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ ، وَتَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَى ضَعْفِهِ قَبْلَ هَذَا الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” گزشتہ رات میرے اصحاب کا وزن کیا گیا ، ابوبکر کا وزن کیا گیا پھر عمر کا وزن کیا گیا پھر عثمان کا وزن کیا گیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : یزید بن ہارون نے اسے اس طرح نقل کیا ہے ، اور سدویہ نے اسے عبدالاعلیٰ بن ابومساور کے حوالے سے زیاد بن علاقہ کے حوالے سے قطبہ بن ملک کے حوالے سے سیدنا عرفجہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس روایت کی سند میں بھی ایک راوی عبدالاعلی بن ابومساور نامی راوی ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر کلام اس حدیث سے پہلے گزر چکا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : یزید بن ہارون نے اسے اس طرح نقل کیا ہے ، اور سدویہ نے اسے عبدالاعلیٰ بن ابومساور کے حوالے سے زیاد بن علاقہ کے حوالے سے قطبہ بن ملک کے حوالے سے سیدنا عرفجہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس روایت کی سند میں بھی ایک راوی عبدالاعلی بن ابومساور نامی راوی ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر کلام اس حدیث سے پہلے گزر چکا ہے ۔
حدیث نمبر: 14391
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ أَسَنَّ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ ، وَسُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي فَضْلِ أَبِي بَكْرٍ وَغَيْرِهِ فِي بَابِ مَنَاقِبِ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ بَعْدَ فَضْلِ الْعَشْرَةِ . إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سب سے زیادہ عمر رسیدہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا سہل بن عمرو رضی اللہ عنہ تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور دیگر حضرات کی فضیلت کے بارے میں کچھ احادیث صحابہ کرام کی ایک جماعت کے مناقب سے متعلق باب میں آئیں گی ، جو عشرہ مبشرہ کی فضیلت کے بعد آئے گا ، اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور دیگر حضرات کی فضیلت کے بارے میں کچھ احادیث صحابہ کرام کی ایک جماعت کے مناقب سے متعلق باب میں آئیں گی ، جو عشرہ مبشرہ کی فضیلت کے بعد آئے گا ، اگر اللہ نے چاہا ۔