کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے علاوہ دیگر خلفاء اور دیگر لوگوں کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 14345
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ فِي السَّمَاءِ مَلَكَيْنِ ، أَحَدُهُمَا يَأْمُرُ بِالشِّدَّةِ ، وَالْآخَرُ يَأْمُرُ بِاللِّينِ ، وَكُلٌّ مُصِيبٌ : جِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ ، وَنَبِيَّانِ : أَحَدُهُمَا : يَأْمُرُ بِالشِّدَّةِ ، وَالْآخَرُ يَأْمُرُ بِاللِّينِ ، وَكُلٌّ مُصِيبٌ " . وَذَكَرَ إِبْرَاهِيمَ وَنُوحًا . " وَلِي صَاحِبَانِ : أَحَدُهُمَا يَأْمُرُ بِالشِّدَّةِ ، وَالْآخَرُ يَأْمُرُ بِاللِّينِ ، وَكُلٌّ مُصِيبٌ " . وَذَكَرَ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” آسمان میں دو فرشتے ہیں ان میں سے ایک شدت کا حکم دیتا ہے ، اور دوسرا نرمی کا حکم دیتا ہے ، اور وہ دونوں ٹھیک ہوتے ہیں ، ایک جبرائیل ہے ، اور ایک میکائیل ہے ، اور دو نبی ہیں ، ان میں سے ایک شدت کا حکم دیتا ہے ، اور دوسرا نرمی کا حکم دیتا ہے ، اور دونوں ٹھیک ہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا نوح علیہ السلام کا ذکر کیا ( اور پھر یہ ارشاد فرمایا : ) میرے دو ساتھی ہیں ان میں سے ایک سختی کا حکم دیتا ہے ، اور دوسرا نرمی کا کہتا ہے اور وہ دونوں ٹھیک ہیں “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14345
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (315/23)»
حدیث نمبر: 14346
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَيَّدَنِي بِأَرْبَعَةِ وُزَرَاءَ نُقَبَاءَ " . قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعُ ؟ قَالَ : " اثْنَيْنِ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ ، وَاثْنَيْنِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ " . فَقُلْتُ : مَنِ الِاثْنَيْنِ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ ؟ قَالَ : " جِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ " . قُلْنَا : مَنِ الِاثْنَيْنِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ ؟ قَالَ : " أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُجِيبٍ الثَّقَفِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِمَعْنَاهُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے چار افراد کے ذریعے میری تائید کی ہے ، جو وزیر بھی ہیں اور نقیب بھی ہیں ۔ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ چار افراد کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان میں سے دو اہل آسمان سے تعلق رکھتے ہیں ، اور دو اہل زمین سے تعلق رکھتے ہیں ، میں نے دریافت کیا : اہل آسمان سے تعلق رکھنے والے دو لوگ کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جبرائیل اور میکائیل ، ہم نے دریافت کیا : اہل زمین سے تعلق رکھنے والے دو افراد کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابوبکر اور عمر ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مجیب ثقفی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن مالک بن مغول ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14346
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2491) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11422)»
حدیث نمبر: 14347
وَعَنْ أَبِي أَرْوَى الدَّوْسِيِّ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، فَقَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَيَّدَنِي بِكُمَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ وَيُخَالِفُ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوارویٰ دوسی بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے تمہارے ذریعے میری تائید کی ۔
یہ روایت امام بزار نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عمر بن حفص ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے اور دوسروں کے برخلاف نقل کرتا ہے ، جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14347
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2490) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (396/22)»
حدیث نمبر: 14348
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَيَّدَنِي بِكُمَا ، وَلَوْلَا أَنَّكُمَا تَخْتَلِفَانِ عَلَيَّ مَا خَالَفْتُكُمَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَبِيبُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ كَاتِبُ مَالِكٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا : ” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے تم دونوں کے ذریعے میری تائید کی اور اگر تم دونوں نے میرے سامنے ایک دوسرے سے مختلف رائے نہ دی ہوتی تو میں نے تم دونوں کی ( متفقہ رائے ) کے برخلاف نہیں کرنا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حبیب بن ابوحبیب ہے جو مالک کا کاتب ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14348
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 14349
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : ( وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ ) قَالَ : نَزَلَتْ فِي أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ فُرَاتُ بْنُ السَّائِبِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور نیک مومنین ۔ “ یہ حضرات فرماتے ہیں : یہ آیت سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فرات بن سائب ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14349
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (824)»
حدیث نمبر: 14350
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ خَاصَّةً مِنْ أُمَّتِهِ ، وَإِنَّ خَاصَّتِي مِنْ أَصْحَابِي : أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ حَمَّادٍ الثَّقَفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک ہر نبی کا اس کی امت میں خاص ساتھی ہوتا ہے ، اور میرے اصحاب میں سے میرے خاص لوگ ابوبکر اور عمر ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحیم بن حماد ثقفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14350
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10008)»
حدیث نمبر: 14351
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَبْعَثَ رَجُلًا فِي حَاجَةٍ قَدْ أَهَمَّتْهُ ، وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ يَمِينِهِ وَعُمَرُ عَنْ يَسَارِهِ ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : مَا يَمْنَعُكَ مِنْ هَذَيْنِ ؟ فَقَالَ : " كَيْفَ أَبْعَثُ هَذَيْنِ وَهُمَا مِنَ الدِّينِ بِمَنْزِلَةِ السَّمْعِ وَالْبَصَرِ مِنَ الرَّأْسِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ فُرَاتُ بْنُ السَّائِبِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . قُلْتُ : وَلِهَذَا الْحَدِيثِ طَرِيقٌ فِي بَابِ مَنَاقِبِ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کام کے سلسلے میں کسی صاحب کو بھیجنے کا ارادہ کیا ، وہ ایک اہم کام تھا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف موجود تھے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ کے بائیں طرف موجود تھے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں گزارش کی آپ ان دونوں حضرات کو کیوں نہیں بھیجتے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں ان دونوں کو کیسے بھیج سکتا ہوں ؟ جب کہ ان دونوں کی حیثیت دین میں وہی ہے ، جو سر میں سماعت اور بصارت کی ہوتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فرات بن سائب ہے اور وہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس حدیث کا ایک طریق صحابہ کرام کی ایک جماعت کے مناقب سے متعلق باب میں موجود ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14351
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 14352
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ : مِنَ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ ، وَمُعَاذٍ ، وَأُبَيٍّ ، وَسَالِمٍ ، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَبْعَثَهُمْ فِي الْأُمَمِ كَمَا بَعَثَ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ الْحَوَارِيِّينَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ " . فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَيْنَ أَنْتَ مِنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا غِنًى عَنْهُمَا ; إِنَّمَا مَثَلُهُمَا مِنَ الدِّينِ كَمَثَلِ السَّمْعِ وَالْبَصَرِ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدٌ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَلَهُ طَرِيقٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ضَعِيفَةٌ ، تَأْتِي فِي فَضْلِ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ فِي أَوَّلِ الْمُجَلَّدِ الَّذِي يَلِي هَذَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قرآن چار لوگوں سے سیکھو ! ابن ام عبد ( یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) معاذ ( بن جبل ) ابی ( بن کعب ) اور سالم ( مولیٰ ابوحذیفہ ) میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں انہیں مختلف لوگوں کی طرف بھیجوں جس طرح سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے حواریوں کو لوگوں کی طرف بھیجا تھا ، ایک صاحب نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو کیوں نہیں بھیجتے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان دونوں کے بغیر گزارہ نہیں ہے ، ان دونوں کی مثال دین میں وہی ہے ، جو سماعت اور بصارت کی ہوتی ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا ابتدائی حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد ہے ، جو بنو ہاشم سے نسبت ولاء رکھتا ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں انہوں نے ایک طریق سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے بھی نقل کیا ہے ، جو ضعیف ہے ، اور وہ صحابہ کرام کی ایک جماعت کے فضائل سے متعلق باب میں اگلی جلد کے آغاز میں آئے گا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14352
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف۔
حدیث نمبر: 14353
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَمَمْتُ أَنْ أَبْعَثَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، وَسَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، وَابْنَ مَسْعُودٍ ، إِلَى الْأُمَمِ كَمَا بَعَثَ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ الْحَوَارِيِّينَ " . فَقَالَ رَجُلٌ : أَلَا تَبْعَثُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فَإِنَّهُمَا أَبْلَغُ ؟ قَالَ : " لَا غِنًى بِي عَنْهُمَا ، إِنَّمَا مَنْزِلَتُهُمَا مِنَ الدِّينِ مَنْزِلَةُ السَّمْعِ وَالْبَصَرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں معاذ بن جبل کو سالم مولیٰ ابوحذیفہ کو ، ابی بن کعب کو اور عبداللہ بن مسعود کو مختلف لوگوں کی طرف بھیجوں ، جس طرح سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے حواریوں کو بھیجا تھا ، ایک صاحب نے عرض کی : آپ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو کیوں نہیں بھیجتے ؟ کیونکہ وہ دونوں زیادہ اچھے طریقے سے تبلیغ کر سکیں گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان دونوں کے بغیر گزارہ نہیں ہو گا کیونکہ دین میں ان دونوں کی حیثیت وہی ہے ، جو سماعت اور بصارت کی ہوتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14353
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14354
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَبْعَثَ فِي النَّاسِ مُعَلِّمِينَ كَمَا بَعَثَ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ الْحَوَارِيِّينَ إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ " فَقِيلَ : أَيْنَ أَنْتَ مِنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ أَلَا تَبْعَثُ بِهِمَا ؟ قَالَ : " إِنَّهُمَا مِنَ الدِّينِ كَالرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْأَيْلِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں لوگوں میں معلمین کو بھیجوں جس طرح سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے حواریوں کو بھیجا تھا ۔ عرض کی گی : آپ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو کیوں نہیں بھیجتے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ دونوں دین میں وہی حیثیت رکھتے ہیں جو جسم میں سر کی ہوتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حفص بن عمر ایلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14354
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14355
وَعَنِ ابْنِ غَنْمٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ : " لَوِ اجْتَمَعْتُمَا فِي مَشُورَةٍ مَا خَالَفْتُكُمَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ ابْنَ غَنْمٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابن غنم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا : ” اگر تم دونوں کسی مشورے میں اکٹھے ہو جاؤ ، تو میں تم دونوں کے برخلاف نہیں کروں گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابن غنم نامی راوی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14355
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (227/4)»
حدیث نمبر: 14356
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اقْتَدُوا بِالَّذِينَ مِنْ بَعْدِي : أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ; فَإِنَّهُمَا حَبْلُ اللَّهِ الْمَمْدُودُ ، وَمَنْ تَمَسَّكَ بِهِمَا فَقَدْ تَمَسَّكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى الَّتِي لَا انْفِصَامَ لَهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے بعد ابوبکر اور عمر کی پیروی کرنا کیونکہ یہ دونوں اللہ کی پھیلی ہوئی رسی ہیں ، جو شخص ان دونوں کو مضبوطی سے تھام لے گا ، وہ اس مضبوط رسی کو مضبوطی سے تھام لے گا جو ٹوٹے گی نہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14356
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14357
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَلِيٍّ فِي بَيْتِهِ ، فَقُلْتُ : يَا خَيْرَ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : مَهْلًا ! وَيْحَكَ يَا أَبَا جُحَيْفَةَ ! أَلَا أُخْبِرُكَ بِخَيْرِ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ . وَيْحَكَ يَا أَبَا جُحَيْفَةَ ! لَا يَجْتَمِعُ حُبِّي وَبُغْضُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فِي قَلْبِ مُؤْمِنٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آپ کے گھر میں حاضر ہوا ، میں نے کہا: اے اللہ ! کے رسول کے بعد سب سے بہتر فرد ! تو انہوں نے فرمایا : اے ابوجحیفہ ! رک جاؤ ، تمہارا ستیاناس ہو ، کیا میں تمہیں اللہ کے رسول کے بعد سب سے بہتر افراد کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ وہ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما ہیں ( پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) اے ابوجحیفہ ! تمہارا ستیاناس ہو ، میری محبت اور سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بغض کسی مومن کے دل میں اکٹھے نہیں ہو سکتے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14357
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (996)»
حدیث نمبر: 14358
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كُنَّا نَجْلِسُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَأَنَّمَا عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرُ ، مَا يَتَكَلَّمُ أَحَدٌ مِنَّا إِلَّا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ رَحْمَةُ بْنُ مُصْعَبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یوں بیٹھا کرتے تھے جیسے ہمارے سروں پر پرندے موجود ہیں ۔ ہم میں سے کوئی بات چیت نہیں کرتا تھا صرف سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بات چیت کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رحمت بن مصعب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14358
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14359
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ : " هَذَانِ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ فرمایا : ” یہ دونوں اہل جنت کے تمام پہلے والے اور بعد والے عمر رسیدہ افراد کے سردار ہیں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عابس ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14359
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2492)»
حدیث نمبر: 14360
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ ، لَا تُخْبِرْهُمَا يَا عَلِيُّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ ، وَقَدْ قَالَ ابْنُ دَقِيقِ الْعِيدِ : إِنَّهُ وُثِّقَ ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ابوبکر اور عمر اہل جنت کے پہلے والے اور بعد والے عمر رسیدہ افراد کے سردار ہیں اے علی ! تم ان دونوں کو یہ نہ بتانا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے ، ابن دقیق العید کہتے ہیں اس کو ثقہ قرار دیا گیا ہے ، امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14360
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14361
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ بِمِثْلِ حَدِيثٍ مَتْنُهُ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُولِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ إِلَّا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ ، لَا تُخْبِرْهُمَا يَا عَلِيُّ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ : لَا نَعْلَمُ رَوَاهُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ إِلَّا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ ، قُلْتُ : وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، جس کا متن یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ابوبکر اور عمر انبیاء و مرسلین کے علاوہ اہل جنت کے ( تمام ) پہلے والے اور بعد والے عمر رسیدہ افراد کے سردار ہیں ، اے علی ! تم اُن دونوں کو یہ نہ بتانا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے وہ یہ کہتے ہیں ۔ ہمارے علم کے مطابق عبیداللہ بن عمر نامی راوی کے حوالے سے اس روایت کو صرف عبدالرحمن بن مالک بن مغول نے نقل کیا ہے ، میں یہ کہتا ہوں یہ راوی متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14361
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2492)»
حدیث نمبر: 14362
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ، فَقَالَ : " هَكَذَا نُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْعُمَرِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے درمیان چلتے ہوئے تشریف لائے اور ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن ہمیں اسی طرح اٹھایا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید عمری ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14362
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 14363
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : مَنْ فَضَّلَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَدْ أَزْرَى عَلَى الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ ، وَاثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَازِمُ بْنُ جَبَلَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جو شخص صحابہ کرام میں سے کسی کو بھی سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما پر فضیلت دیتا ہے ، وہ مہاجرین و انصار اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ ہزار صحابہ کرام پر عیب لگاتا ہے ( یا ان پر اعتراض کرتا ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حازم بن جبلہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14363
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (836)»
حدیث نمبر: 14364
وَعَنِ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، فَقَالَ : مَا كَانَ مَنْزِلَةُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : كَمَنْزِلَتِهِمَا السَّاعَةَ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ ، وَابْنُ أَبِي حَازِمٍ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَشَيْخُ عَبْدِ اللَّهِ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن ابوحازم بیان کرتے ہیں : ایک شخص سیدنا علی بن حسین ( یعنی امام زین العابدین ) کے پاس آیا تو انہوں نے فرمایا : سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں وہی منزلت حاصل تھی جس طرح ان دونوں کو آج قدر و منزلت حاصل ہے ۔
یہ روایت عبداللہ نے اور طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ابن ابوحازم نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اور عبداللہ کا استاد ثقہ شخص ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14364
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14365
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : سَبَقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ ، وَثَلَّثَ عُمَرُ ، ثُمَّ خَبَطَتْنَا فِتْنَةٌ - أَوْ أَصَابَتْنَا فِتْنَةٌ - يَعْفُو اللَّهُ عَمَّنْ يَشَاءُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَقَالَ : ثُمَّ خَبَطَتْنَا فِتْنَةٌ ، يُرِيدُ أَنْ يَتَوَاضَعَ بِذَلِكَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سبقت لے گئے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ دوسرے فرد ہیں ، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تیسرے فرد ہیں ، پھر فتنے نے ہمیں مخبوط الحواس کر دیا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) پھر ہمیں فتنہ لاحق ہوا تو اللہ تعالیٰ جس سے چاہے گا درگزر کرے گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ کہا: ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ پھر فتنے نے ہمیں مخبوط الحواس کر دیا ، وہ اس کے ذریعے تواضع کا اظہار کر رہے تھے ، یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14365
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (895)»
حدیث نمبر: 14366
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ : خَطَبَ رَجُلٌ يَوْمَ الْبَصْرَةِ حِينَ ظَهَرَ عَلِيٌّ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : هَذَا الْخَطِيبُ الشَّحْشَحُ . وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ . ¤
محمد محی الدین
ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : جنگ بصرہ کے دن ایک شخص نے خطبہ دیا ، یہ اس وقت کی بات ہے جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ غالب آ گئے تھے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : یہ ایک قادر الکلام خطیب ہے ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14366
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1255)»
حدیث نمبر: 14367
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ أَهْلَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى يَرَاهُمْ مَنْ هُوَ أَسْفَلُ مِنْهُمْ كَمَا تُرَى الْكَوَاكِبُ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ ، وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ مِنْهُمْ وَأَنْعَمَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الرَّبِيعُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ( جنت میں ) اوپر کے درجات والے لوگوں کو نیچے والے لوگ اس طرح دیکھیں گے ، جس طرح آسمان کے افق میں موجود ستاروں کو دیکھا جاتا ہے ، اور ابوبکر اور عمر ان ( بالائی درجوں والے افراد ) میں سے ہیں ، اور یہ دونوں اچھے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن سہل واسطی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14367
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2065)»
حدیث نمبر: 14368
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ عِلِّيِّينَ يُشْرِفُ عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ كَأَنَّهُ كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ ، وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ مِنْهُمْ وَأَنْعَمَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ سَلْمِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بالائی درجہ والے لوگوں میں سے کوئی شخص جھانک کر اہل جنت کی طرف یوں دیکھے گا جیسے وہ چمکتا ہوا ستارہ ہوتا ہے ، اور ابوبکر اور عمر ان ( بالائی درجات والے افراد ) میں سے ہیں اور یہ دونوں اچھے بندے ہیں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں البتہ مسلم بن قتیبہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14368
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 14369
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَتْمَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِرَجُلٍ : " إِذَا أَنَا مِتُّ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَمُوتَ فَمِتْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَلْمُ بْنُ مَيْمُونٍ الْخَوَّاصُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لِغَفْلَتِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا : ” جب میں ، ابوبکر اور عمر انتقال کر جائیں تو اس وقت اگر تم سے ہو سکے کہ تم مر جاؤ تو تم مر جانا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلم بن میمون خواص ہے ، اور وہ اپنی غفلت کی وجہ سے ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14369
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14370
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : لَمْ يَجْلِسْ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ فِي مَجْلِسِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْمِنْبَرِ حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ ، وَلَمْ يَجْلِسْ عُمَرُ فِي مَجْلِسِ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ ، وَلَمْ يَجْلِسْ عُثْمَانُ فِي مَجْلِسِ عُمَرَ حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونے تک کبھی بھی منبر میں اس درجہ پر نہیں بیٹھے ، جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوتے تھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونے تک اس درجہ پر نہیں بیٹھے جس پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیٹھتے تھے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونے تک سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بیٹھنے کے مقام پر نہیں بیٹھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14370
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 14371
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ النَّاسَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى مِنْبَرِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ : إِنَّ فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ قَصْرًا لَهُ خَمْسُمِائَةُ بَابٍ ، عَلَى كُلِّ بَابٍ خَمْسَةُ آلَافٍ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ لَا يَدْخُلُهُ إِلَّا نَبِيٌّ . ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى قَبْرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : هَنِيئًا لَكَ يَا صَاحِبَ هَذَا الْقَبْرِ ، ثُمَّ قَالَ : أَوْ صَدِيقٌ . ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى قَبْرِ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ : هَنِيئًا لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ . ثُمَّ قَالَ : أَوْ شَهِيدٌ . ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى نَفْسِهِ فَقَالَ : وَأَنَّى لَكَ الشَّهَادَةُ يَا عُمَرُ ؟ ثُمَّ قَالَ : إِنَّ الَّذِي أَخْرَجَنِي مِنْ مَكَّةَ إِلَى هِجْرَةِ الْمَدِينَةِ قَادِرٌ أَنْ يَسُوقَ إِلَيَّ الشَّهَادَةَ . قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : فَسَاقَهَا اللَّهُ إِلَيْهِ عَلَى يَدِ شَرِّ خَلْقِهِ : عَبْدٍ مَمْلُوكٍ لِلْمُغِيرَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ شَرِيكٍ النَّخَعِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : ایک دن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ کے منبر پر لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے اپنے خطبے کے دوران یہ ارشاد فرمایا : ” بے شک جنات عدن میں ایسا مل ہے کہ جس کے پانچ سو دروازے ہوں گے ، اور ہر ایک دروازے پر پانچ ہزار حورعین ہوں گی ، اس محل میں صرف نبی داخل ہو سکیں گے ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے : اے اس قبر والی ہستی ! آپ کو مبارک باد ہو ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا کوئی صدیق داخل ہو گا پھر وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی قبر کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے : اے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کو مبارک باد ہو ، پھر انہوں نے کہا: یا کوئی شہید داخل ہو گا ، پھر انہوں نے اپنی طرف رخ کیا اور بولے : اے عمر تمہیں کہاں شہادت نصیب ہو گی ۔ پھر انہوں نے یہ کہا: جس ذات نے مجھے مکہ سے نکال کر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کروائی تھی ، وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ وہ شہادت کو مجھ تک لے آئے ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تو اللہ تعالیٰ نے ایک بدترین شخص کے ہاتھ کے ذریعے ان کو شہادت نصیب کی ، وہ شخص سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کا غلام تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف شریک نخعی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ، اور اس میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14371
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 14372
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ : أَنَّ أُحُدًا ارْتَجَّ وَعَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اثْبُتْ أُحُدُ ; فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ ، أَوْ صَدِيقٌ ، أَوْ شَهِيدَانِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ احد پہاڑ میں ارتعاش پیدا ہوا ، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر ، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم موجود تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے احد ! اپنی جگہ پر جمے رہو ، تم پر ایک نبی ایک صدیق اور دو شہید موجود ہیں ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14372
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (146) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (331/5)»
حدیث نمبر: 14373
وَعَنْ بُرَيْدَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ جَالِسًا عَلَى حِرَاءَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ ، فَتَحَرَّكَ الْجَبَلُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اثْبُتْ حِرَاءُ ; فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ ، أَوْ صَدِيقٌ ، أَوْ شَهِيدٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حراء پہاڑ پر بیٹھے ہوئے تھے ، آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر ، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم تھے ، پہاڑ نے حرکت کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے حراء تم جمے رہو ! تم پر ایک نبی ایک صدیق اور ایک شہید موجود ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14373
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (346/5)»
حدیث نمبر: 14374
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " انْطَلِقْ حَتَّى تَأْتِيَ أَبَا بَكْرٍ فَتَجِدَهُ فِي دَارِهِ جَالِسًا مُحْتَبِيًا ، فَقُلْ لَهُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ لَكَ : أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ . ثُمَّ انْطَلِقْ حَتَّى تَأْتِيَ الثَّنِيَّةَ فَتَلْقَى عُمَرَ فِيهَا عَلَى حِمَارٍ تَلُوحُ صَلْعَتُهُ ، فَقُلْ لَهُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ لَكَ : أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ . ثُمَّ انْطَلِقْ حَتَّى تَأْتِيَ السُّوقَ فَتَلْقَى عُثْمَانَ فِيهَا يَبِيعُ وَيَبْتَاعُ ، فَقُلْ لَهُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ لَكَ : أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ بَعْدَ بَلَاءٍ شَدِيدٍ " . فَانْطَلَقْتُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَوَجَدْتُهُ فِي بَيْتِهِ جَالِسًا مُحْتَبِيًا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ : " أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ " . فَقَالَ : وَأَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قُلْتُ : فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا ، فَقَامَ إِلَيْهِ . ¤ ثُمَّ أَتَيْتُ الثَّنِيَّةَ فَإِذَا فِيهَا عُمَرُ عَلَى حِمَارٍ تَلُوحُ صَلْعَتُهُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ : " أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ " . فَقَالَ : وَأَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قُلْتُ : فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا ، فَانْطَلَقَ . ثُمَّ انْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُ السُّوقَ فَلَقِيتُ عُثْمَانَ فِيهَا يَبِيعُ وَيَبْتَاعُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ : " أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ بَعْدَ بَلَاءٍ شَدِيدٍ " . فَقَالَ : وَأَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَأَخَذَ بِيَدِي ، فَجِئْنَا جَمِيعًا حَتَّى أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ زَيْدًا أَتَانِي فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ : " أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ بَعْدَ بَلَاءٍ شَدِيدٍ " . فَأَيُّ بَلَاءٍ يُصِيبُنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا تَغَنَّيْتُ ، وَلَا تَمَنَّيْتُ ، وَلَا مَسَسْتُ ذَكَرِي بِيَمِينِي مُنْذُ بَايَعْتُكَ . فَقَالَ : " هُوَ ذَاكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَزَادَ فِيهِ : " إِنَّ اللَّهَ مُقَمِّصُكَ قَمِيصًا ، فَإِذَا أَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعْهُ " . وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَوُثِّقَ فِي رِوَايَةٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ ، وَالْمَشْهُورُ عَنْهُ تَضْعِيفُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا اور ارشاد فرمایا : تم جاؤ ، یہاں تک کہ تم ابوبکر کے پاس پہنچ جاؤ ، تم اسے اپنے گھر میں احتباء کی حالت میں بیٹھا ہوا پاؤ گے ، تم اسے کہنا کہ اللہ کے رسول نے تمہیں سلام کہا: ہے ، اور وہ تم سے یہ فرما رہے ہیں کہ تم جنت کی خوشخبری قبول کرو ، پھر تم جانا ، یہاں تک کہ تم گھاٹی کے پاس آؤ گے وہاں تمہاری ملاقات عمر سے ہو گی ، جو ایک گدھے پر سوار ہو گا ، اور اس کی پیشانی چمک رہی ہو گی ( یعنی آگے کے حصے پر بال نہیں ہوں گے ) تم اس سے کہنا کہ اللہ کے رسول نے تمہیں سلام کہا: ہے اور وہ تم سے یہ فرما رہے ہیں کہ تم جنت کی خوشخبری قبول کرو ، پھر تم جانا یہاں تک کہ تم بازار آؤ گے ، وہاں تم عثمان کو خرید و فروخت کرتے ہوئے پاؤ گے ، تم اس سے یہ کہنا کہ اللہ کے رسول نے تمہیں سلام کہا: ہے اور وہ یہ فرما رہے تھے کہ تم ایک زبردست آزمائش کے بعد جنت کی خوشخبری قبول کرو ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) میں روانہ ہوا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، میں نے انہیں اپنے گھر میں احتباء کے طور پر بیٹھے ہوئے پایا ، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا ، تو میں نے انہیں کہا: اللہ کے رسول نے آپ کو سلام بھیجا ہے ، اور یہ فرمایا ہے کہ آپ جنت کی خوشخبری قبول کریں ، تو انہوں نے دریافت کیا : اللہ کے رسول کہاں ہیں ؟ میں نے بتایا : فلاں فلاں جگہ پر ہیں ، تو وہ اٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلے گئے ، پھر میں گھاٹی کے پاس آیا ، وہاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ موجود تھے جو ایک گدھے پر سوار تھے اور ان کے سر کے آگے والا حصہ چمک رہا تھا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ، میں نے کہا: اللہ کے رسول نے آپ کو سلام کہا: ہے ، اور یہ فرمایا ہے کہ آپ جنت کی خوشخبری قبول کریں ، تو انہوں نے دریافت کیا : اللہ کے رسول کہاں ہیں ؟ میں نے جواب دیا : فلاں جگہ پر ہیں ، پھر وہ بھی چلے گئے ، پھر میں روانہ ہوا ، یہاں تک کہ بازار آیا ، وہاں میری ملاقات سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، جو خرید و فروخت کر رہے تھے ، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا ، میں نے کہا: اللہ کے رسول نے آپ کو سلام کہا: ہے اور یہ فرمایا ہے کہ ایک زبردست آزمائش کے بعد آپ جنت کی خوشخبری قبول کریں ، انہوں نے دریافت کیا : اللہ کے رسول کہاں ہیں ؟ میں نے بتایا فلاں جگہ پر ہیں ، تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور پھر ہم سب لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں گزارش کی : یا رسول اللہ ! زید میرے پاس آیا اور اس نے یہ کہا: اللہ کے رسول نے آپ کو سلام کہا: ہے اور یہ فرمایا ہے کہ آپ ایک زبردست آزمائش کے بعد جنت کی خوشخبری قبول کریں ، یا رسول اللہ ! مجھے کون سی آزمائش لاحق ہو گی ؟ اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، نہ تو میں نے کوئی زیادتی کی ہے ، نہ میں نے اس کی آرزو کی ہے ، اور جب سے میں نے آپ کی بیعت کی ہے ، میں نے اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے اپنی شرمگاہ کو کبھی نہیں چھوا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایسا ہی ہو گا ( یعنی تمہیں آزمائش کا سامنا کرنا ہو گا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور انہوں نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا جب منافقین اسے اتروانے کا ارادہ کریں تو تم اسے نہ اتارنا ۔ “ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالاعلی بن ابومساور ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور یحیی بن معین سے منقول ایک روایت اس کی ، توثیق کی ہے ، جبکہ ان سے مشہور روایت یہی منقول ہے کہ انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14374
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (872) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5061)»
حدیث نمبر: 14375
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِحَشٍّ مِنْ حِشَّانِ الْمَدِينَةِ ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَأْذَنَ ، فَقَالَ : " قُمْ فَائْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " . فَقُمْتُ فَأَذِنْتُ لَهُ ، فَإِذَا هُوَ أَبُو بَكْرٍ فَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ ، فَجَعَلَ يَحْمَدُ اللَّهَ حَتَّى جَلَسَ . ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَأْذَنَ ، فَقَالَ : " قُمْ فَائْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " . فَقُمْتُ فَأَذِنْتُ لَهُ ، فَإِذَا هُوَ عَمَرُ فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ ، فَجَعَلَ يَحْمَدُ اللَّهَ حَتَّى جَلَسَ . ثُمَّ جَاءَ خَفِيضُ الصَّوْتِ فَقَالَ : " قُمْ فَائْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فِي بَلْوَى تُصِيبُهُ " . فَقُمْتُ فَأَذِنْتُ لَهُ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ ، فَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ صَبْرًا ، حَتَّى جَلَسَ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَيْنَ أَنَا ؟ قَالَ : " أَنْتَ مَعَ أَبِيكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ بِأَسَانِيدَ ، وَبَعْضُ رِجَالِ الطَّبَرَانِيِّ وَأَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ فِي أَوَاخِرَ مَنَاقِبِ عُمَرَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ منورہ کے ایک باغ میں موجود تھا ، اسی دوران ایک شخص آیا اس نے اندر آنے کی اجازت مانگی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اٹھ کر اسے اندر آنے کی اجازت دو اور اسے جنت کی خوشخبری دو ۔ راوی کہتے ہیں : میں اٹھا ، میں نے ان صاحب کو اندر آنے کے لئے کہا: تو وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے ، میں نے انہیں جنت کی خوشخبری دی ، تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور تشریف فرما ہو گئے ، پھر ایک صاحب آئے انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اٹھ کر اسے اجازت دو اور اسے جنت کی خوشخبری دو ، میں اٹھا ، میں نے انہیں اندر آنے کے لئے کہا: ، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے ، میں نے انھیں اندر آنے کے لئے کہا: اور انہیں جنت کی خوشخبری دی ، تو انہوں نے بھی اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرنا شروع کی ، یہاں تک کہ وہ بھی تشریف فرما ہوئے ، پھر ایک اور صاحب آئے ، انہوں نے بھی اندر آنے کی اجازت مانگی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اٹھو اور اسے اجازت دو اور اسے جنت کی خوشخبری دو اور یہ بتانا کہ اسے ایک آزمائش لاحق ہو گی ، میں اٹھا ، میں نے انہیں اندر آنے کے لئے کہا: ، وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے ، میں نے انہیں جنت کی خوشخبری دی اور یہ بتایا : انہیں ایک آزمائش لاحق ہو گی ، تو انہوں نے یہ کہا: اے اللہ ! صبر کا سوال ہے ، یہاں تک کہ وہ تشریف فرما ہوئے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کہاں ہوں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے باپ کے ساتھ ہو گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، اسے امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، امام طبرانی کی بعض اسانید اور امام أحمد کی بعض اسانید کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مناقب سے متعلق باب کے آخر میں آئے گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14375
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (6548)»