حدیث نمبر: 14313
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : رَأَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَا الدَّرْدَاءِ يَمْشِي بَيَنَ يَدَيْ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ : " يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ ، تَمْشِي قُدَّامَ رَجُلٍ لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ بَعْدَ النَّبِيِّينَ عَلَى رَجُلٍ أَفْضَلَ مِنْهُ ؟ " . فَمَا رُئِيَ أَبُو الدَّرْدَاءِ بَعْدُ يَمْشِي إِلَّا خَلَفَ أَبِي بَكْرٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى التَّيْمِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے آگے چلتے ہوئے دیکھا ، تو ارشاد فرمایا : اے ابودرداء ! تم ایک ایسے شخص کے آگے چل رہے ہو ، سورج کسی ایسے شخص پر طلوع نہیں ہوا جو انبیاء کے بعد ، اس سب سے زیادہ فضیلت رکھتا ہو ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : تو اس کے بعد سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کو ہمیشہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے چلتے ہوئے دیکھا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یحیی تیمی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یحیی تیمی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 14314
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أَمْشِي أَمَامَ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ : " لَا تَمْشِ أَمَامَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ ; إِنَّ أَبَا بَكْرٍ خَيْرٌ مِمَّنْ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ أَوْ غَرَبَتْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ بَقِيَّةٌ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا ، میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آگے چل رہا تھا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم اس شخص کے آگے نہ چلو جو تم سے زیادہ بہتر ہے ، ابوبکر ان سب لوگوں سے زیادہ بہتر ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے یا غروب ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے ، اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے ، اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 14315
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ خَيْرُ النَّاسِ ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ نَبِيًّا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ زِيَادٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ابوبکر صدیق سب لوگوں سے زیادہ بہتر ہے ، البتہ انبیاء کا معاملہ مختلف ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن زیاد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن زیاد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 14316
وَعَنْ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطَبَ النَّاسَ ، فَالْتَفَتَ الْتِفَاتَةً فَلَمْ يَرَ أَبَا بَكْرٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَبُو بَكْرٍ ، أَبُو بَكْرٍ ، إِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - أَخْبَرَنِي آنِفًا : أَنَّ خَيْرَ أُمَّتِكَ بَعْدَكَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو غَزِيَّةَ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا ، آپ نے توجہ کی ، تو آپ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ملاحظہ نہیں کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابوبکر ، ابوبکر روح القدس جبریل نے ابھی مجھے یہ بتایا ہے کہ آپ کے بعد آپ کی امت کا سب سے بہتر فرد ابوبکر صدیق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوغزیہ محمد بن موسیٰ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوغزیہ محمد بن موسیٰ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 14317
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ يَسْبَحُونَ فِي غَدِيرٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِيَسْبَحْ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمُ إِلَى صَاحِبِهِ " . فَسَبَحَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ إِلَى صَاحِبِهِ ، وَبَقِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ ، فَسَبَّحَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى أَبِي بَكْرٍ حَتَّى عَانَقَهُ وَقَالَ : " أَنَا إِلَى صَاحِبِي ، أَنَا إِلَى صَاحِبِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب ایک کنویں میں سے پانی نکال رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میں سے ہر فرد اپنے ساتھ والے فرد کو لے جائے ، تو ان میں سے ہر ایک نے اپنے ساتھ والے فرد کو لے لیا ، صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ باقی رہ گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ ملایا اور ان گلے لگایا اور فرمایا : میں اپنے ساتھی کے ساتھ ہوں ، میں اپنے ساتھی کے ساتھ ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 14318
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا ، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَوْدِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اگر میں نے کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو میں ابوبکر کو خلیل بنا لیتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن یزید اؤدی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن یزید اؤدی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 14319
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا ، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا ، وَلَكِنَّ أُخُوَّةَ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَاسِطِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر میں نے کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو میں ابوبکر کو خلیل بنا لیتا البتہ اسلامی بھائی چارہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عبدالرحمن واسطی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عبدالرحمن واسطی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 14320
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ أَبَا بَكْرٍ نَالَ مِنْ عُمَرَ شَيْئًا ، ثُمَّ قَالَ : اسْتَغْفِرْ لِي يَا أَخِي ، فَغَضِبَ عُمَرُ ، فَقَالَ ذَلِكَ مَرَّاتٍ فَغَضِبَ عُمَرُ ، فَذَكَرَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَانْتَهَوْا إِلَيْهِ وَجَلَسُوا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَسْأَلُكَ أَخُوكَ أَنْ تَسْتَغْفِرَ لَهُ فَلَا تَفْعَلُ ؟ " . فَقَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا مَا مِنْ مَرَّةٍ يَسْأَلُنِي إِلَّا وَأَنَا أَسْتَغْفِرُ لَهُ ، وَمَا مِنْ خَلْقِ اللَّهِ أَحَبُّ إِلَيَّ بَعْدَكَ مِنْهُ . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَأَنَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا مِنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تُؤْذُونِي فِي صَاحِبِي فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - بَعَثَنِي بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ ، فَقُلْتُمْ : كَذَبْتَ ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : صَدَقْتَ ، وَلَوْلَا أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - سَمَّاهُ صَاحِبًا ، لَاتَّخَذْتُهُ خَلِيلًا ، وَلَكِنْ أُخُوَّةٌ لِلَّهِ ، أَلَا فَسُدُّوا كُلَّ خَوْخَةٍ إِلَّا خَوْخَةَ ابْنِ أَبِي قُحَافَةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا: ، اور پھر اس کے بعد انہوں نے کہا: اے میرے بھائی ! آپ میرے لئے دعائے مغفرت کریں ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے ( اور انہوں نے انکار کر دیا ) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چند مرتبہ یہ بات کہی لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ غصے میں تھے ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ، جب لوگ آپ کے پاس آئے اور وہاں بیٹھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے بھائی نے تم سے یہ کہا: تم اس کے لیے دعائے مغفرت کرو ، تو تم نے ایسا نہیں کیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ نبی بنا کر مبعوث کیا ہے ۔ انہوں نے جب بھی مجھ سے یہ کہا: تو میں نے ان کے لئے ہمیشہ دعائے مغفرت کی ، آپ کے بعد میرے نزدیک مخلوق میں کوئی بھی ان سے زیادہ محبوب نہیں ہے ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جس ذات نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میرا بھی یہ عالم ہے کہ میرے نزدیک آپ کے بعد ان سے زیادہ محبوب اور کوئی نہیں ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے ساتھی کے بارے میں تم لوگ مجھے اذیت نہ پہنچاؤ ، اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت اور دین حق کے ہمراہ مبعوث کیا ، تو تم لوگوں نے کہا: آپ غلط کہہ رہے ہیں ، اور ابوبکر نے کہا: آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ، اللہ کی قسم ! اگر اللہ تعالیٰ نے اس کا نام صاحب نہ رکھا ہوتا تو میں نے اسے خلیل بنا لینا تھا ، لیکن بھائی چارہ اللہ تعالیٰ کے لئے ہے ، خبردار ! تم لوگ ابوقحافہ کے بیٹے کے مخصوص دروازے کے علاوہ ہر دروازہ بند کر دو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14321
وَعَنْ رَبِيعَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ : كُنْتُ أَخْدِمُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْطَانِي أَرْضًا وَأَعْطَى أَبَا بَكْرٍ أَرْضًا ، وَجَاءَتِ الدُّنْيَا فَاخْتَلَفْنَا فِي عِذْقِ نَخْلَةٍ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : هِيَ فِي حَدِّي ، وَقُلْتُ أَنَا : هِيَ فِي حَدِّي . فَكَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِي بَكْرٍ كَلَامٌ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ كَلِمَةً كَرِهْتُهَا وَنَدَمَ ، فَقَالَ لِي : يَا رَبِيعَةُ ، رُدَّ عَلَيَّ مِثْلَهَا حَتَّى تَكُونَ قِصَاصًا ، فَقُلْتُ : لَا أَفْعَلُ . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : لَتَفْعَلَنَّ أَوْ لَأَسْتَعْدِيَنَّ عَلَيْكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقُلْتُ : مَا أَنَا بِفَاعِلٍ ، وَرَفَضَ الْأَرْضَ ، فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَانْطَلَقْتُ أَتْلُوهُ ، فَجَاءَ أُنَاسٌ مِنْ أَسْلَمَ فَقَالُوا : يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ ، فِي أَيِّ شَيْءٍ يَسْتَعْدِي عَلَيْكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ الَّذِي قَالَ لَكَ مَا قَالَ ؟ ! قُلْتُ : أَتَدْرُونَ مَنْ هَذَا ؟ هَذَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ ، وَهُوَ ثَانِيَ اثْنَيْنِ ، وَهُوَ ذُو شَيْبَةِ الْمُسْلِمِينَ ; فَإِيَّاكُمْ لَا يَلْتَفِتُ فَيَرَاكُمْ تَنْصُرُونِي عَلَيْهِ فَيَغْضَبَ ، فَيَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَغْضَبَ لِغَضَبِهِ ، فَيَغْضَبَ اللَّهُ لِغَضَبِهِمَا ; فَتَهْلَكَ رَبِيعَةُ . قَالُوا : فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ : ارْجِعُوا ، فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَبِعْتُهُ وَحْدِي ، وَجَعَلْتُ أَتْلُوهُ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَدَّثَهُ الْحَدِيثَ كَمَا كَانَ ، فَرَفَعَ إِلَيَّ رَأْسَهُ فَقَالَ : " يَا رَبِيعَةُ ، مَا لَكَ وَلِلصِّدِّيقِ ؟ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَانَ كَذَا كَانَ كَذَا قَالَ لِي كَلِمَةً كَرِهْتُهَا ، فَقَالَ لِي : قُلْ كَمَا قُلْتُ حَتَّى يَكُونَ قِصَاصًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَجَلْ ، : فَلَا تَرُدَّنَّ عَلَيْهِ ، وَلَكِنْ قُلْ : غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ " . فَوَلَّى أَبُو بَكْرٍ وَهُوَ يَبْكِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ تَقَدَّمَ فِي النِّكَاحِ ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ربیعہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا ، آپ نے مجھے ایک زمین عطا کی ، آپ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی ایک زمین عطا کی ، جب دنیا آئی ، تو ہمارے درمیان کھجور کے ایک درخت کے بارے میں اختلاف ہو گیا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ میری حد میں آتا ہے ، میں نے کہا: یہ میری حد میں آتا ہے ، اس دوران میرے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے درمیان تکرار ہو گئی ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک ایسی بات کہی جو مجھے بری لگی ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ندامت ہوئی ، تو انہوں نے مجھ سے کہا: اے ربیعہ ! تم بھی اس طرح کی بات مجھے جواب میں کہہ دو ، تاکہ بدلہ ہو جائے ، میں نے کہا: میں ایسا نہیں کروں گا ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا تو تم ایسا کرو گے ورنہ میں تمہارے خلاف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت کروں گا ، میں نے کہا: میں ایسا نہیں کروں گا ۔ پھر انہوں نے اس زمین کو چھوڑا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ۔ ان کے پیچھے چلتا ہوا میں بھی جانے لگا ۔ اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ آئے ہوئے تھے ۔ ان لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر رحم کرے ، یہ کس لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تمہارے خلاف شکایت کرنا چاہ رہے ہیں ، حالانکہ تمہارے بارے میں بات تو انہوں نے کی ہے ، میں نے کہا: کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ یہ کون ہیں ، یہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں ۔ یہ دو افراد میں سے ایک ہیں ۔ یہ مسلمانوں کے بزرگ ہیں ، تم لوگ اس چیز سے بچنے کی کوشش کرو کہ ایسا نہ ہو کہ وہ مڑ کے دیکھیں اور انہیں تم نظر آؤ کہ تم لوگ ان کے خلاف میری مدد کرنا چاہ رہے ہو ، اور پھر وہ غصے میں آ جائیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے جائیں اور ان کے غصے کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی غصے میں آ جائیں اور ان دونوں کے غصے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بھی غصے میں آ جائے اور ربیعہ ہلاک ہو جائے ، لوگوں نے کہا: پھر تم ہمیں کیا کہتے ہو ، سیدنا ربیعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم لوگ واپس چلے جاؤ ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے گئے ۔ ان کے بعد میں بھی اکیلا چلا گیا ، میں ان کے پیچھے چلتا ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری بات بتائی ، جس طرح ہوئی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور فرمایا : اے ربیعہ تمہارا اور صدیق کا کیا معاملہ ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس اس طرح ہوا تھا ، انہوں نے مجھے ایک بات کہی جو مجھے اچھی نہیں لگی ، تو انہوں نے مجھ سے کہا: تم بھی اس طرح کہہ لو ، جس طرح میں نے کہا: ہے ، تاکہ بدلہ ہو جائے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نے ٹھیک کیا ہے ، تم نے اسے ہرگز جواب نہیں دینا تھا ، لیکن تم یہ کہو کہ اے ابوبکر اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت کرے ، راوی کہتے ہیں : تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ روتے ہوئے تشریف لے گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام أحمد نے اس کی مانند روایت ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، جو اس سے پہلے نکاح سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام أحمد نے اس کی مانند روایت ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، جو اس سے پہلے نکاح سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14322
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : عَهْدِي بِنَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ وَفَاتِهِ بِخَمْسِ لَيَالٍ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " لَمْ يَكُنْ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَلَهُ خَلِيلٌ فِي أُمَّتِهِ ، وَإِنَّ خَلِيلِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي قُحَافَةَ ، وَإِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَ صَاحِبَكُمْ خَلِيلًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : تمہارے نبی کے ساتھ میری آخری ملاقات آپ کے وصال سے پانچ دن پہلے ہوئی تھی ، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا : ” ہر نبی کا اس کی امت میں ایک خلیل ہوتا ہے ، اور میرا خلیل ابوبکر بن ابوقحافہ ہے ، ویسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے آقا کو خلیل بنایا ہوا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 14323
وَعَنْ أَبِي وَاقِدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذَتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ ، وَلَكِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوواقد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر میں نے کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو میں ابوقحافہ کے صاحبزادے کو ( خلیل ) بنا لیتا لیکن تمہارے آقا اللہ کے خلیل ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 14324
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَنِي خَلِيلًا كَمَا اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا ، وَإِنَّ خَلِيلِي أَبُو بَكْرٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے خلیل بنایا ہے ، جس طرح اس نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا ہے ، اور میرا خلیل ابوبکر ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 14325
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ أَحَدٍ أَمَنُّ عَلَيَّ فِي يَدِهِ مِنْ أَبِي بَكْرٍ ، زَوَّجَنِي ابْنَتَهُ ، وَأَخْرَجَنِي إِلَى دَارِ الْهِجْرَةِ ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذَتُ أَبَا بَكْرٍ ، وَلَكِنْ إِخَاءٌ وَمَوَدَّةٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ نَهْشَلُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے ساتھ کسی نے بھی ابوبکر سے زیادہ اچھا سلوک نہیں کیا ، اس نے اپنی بیٹی کی شادی میرے ساتھ کروائی ، مجھے ساتھ لے کر دارالہجرت کی طرف آیا ، اگر میں نے کسی کو خلیل بنانا ہوتا ، تو میں ابوبکر کو خلیل بنا لیتا ، لیکن بھائی چارہ اور محبت قیامت کے دن تک رہیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نہشل بن سعید ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نہشل بن سعید ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 14326
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ أَحَدٍ أَعْظَمُ عِنْدِي يَدًا مِنْ أَبِي بَكْرٍ ; وَاسَانِي بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَزَادُوا : " وَأَنْكَحَنِي ابْنَتَهُ " . وَفِيهِ أَرْطَأَةُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے ساتھ ابوبکر سے زیادہ اچھا سلوک اور کسی نے نہیں کیا ، اس نے اپنی جان اور اپنے مال کے ذریعے میرا ساتھ دیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” اس نے میری شادی اپنی بیٹی کے ساتھ کروائی ۔ “ اس روایت کی سند میں ایک راوی ارطاۃ ابوحاتم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” اس نے میری شادی اپنی بیٹی کے ساتھ کروائی ۔ “ اس روایت کی سند میں ایک راوی ارطاۃ ابوحاتم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 14327
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا أَرَادَ أَنْ يُسَرِّحَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ فَاسْتَشَارَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَعُثْمَانُ ، وَعَلِيٌّ ، وَطَلْحَةُ ، وَالزُّبَيْرُ ، وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ ، فَاسْتَشَارَهُمْ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : لَوْلَا أَنَّكَ اسْتَشَرْتَنَا مَا تَكَلَّمْنَا ، فَقَالَ : " إِنِّي فِيمَا لَمْ يُوحَ إِلَيَّ كَأَحَدِكُمْ " . قَالَ : فَتَكَلَّمَ الْقَوْمُ فَتَكَلَّمَ كُلُّ إِنْسَانٍ بِرَأْيِهِ ، فَقَالَ : " مَا تَرَى يَا مُعَاذُ ؟ " . فَقُلْتُ : أَرَى مَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ يَكْرَهُ فَوْقَ سَمَائِهِ أَنْ يُخْطِئَ أَبُو بَكْرٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَأَبُو الْعَطُوفِ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجنے کا ارادہ کیا ، تو آپ نے اپنے اصحاب سے مشورہ لیا ، جن میں سیدنا ابوبکر ، سیدنا عمر ، سیدنا عثمان ، سیدنا علی ، سیدنا زبیر اور سیدنا اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہم شامل تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے مشورہ لیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ نے ہم سے مشورہ نہ لیا ہوتا تو ہم نے اس بارے میں بات چیت نہیں کرنی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جن معاملات میں میری طرف وحی نہیں کی جاتی ، میں ان میں تمہاری طرح کا ایک فرد ہوں ، راوی کہتے ہیں : لوگوں نے اس بارے میں بات چیت کی ، ہر انسان نے اپنی رائے بیان کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے معاذ ! تم کیا سمجھتے ہو ، میں نے عرض کی : میں یہ سمجھتا ہوں ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہے ، وہی ٹھیک ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ آسمان کے اوپر اس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ ابوبکر غلطی کرے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ابوعطوف نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ابوعطوف نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 14328
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ : اسْتَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فَأَشَارُوا عَلَيْهِ ; فَأَصَابَ أَبُو بَكْرٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مشورہ لیا ، دوسرے لوگوں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مشورہ دیا ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے اس بارے میں درست ثابت ہوئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ ابوبکر سے غلطی ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14329
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَمَّا أُسْرِيَ بِي إِلَى السَّمَاءِ دَخَلْتُ جَنَّةَ عَدْنٍ ، فَوَقَعَتْ فِي يَدِي [ تُفَّاحَةٌ ] ، فَلَمَّا وَضَعْتُهَا فِي يَدَيَّ انْفَلَقَتْ عَنْ حَوْرَاءَ ، عَيْنَاءَ ، مُرْضِيَةٍ ، أَشْفَارُ عَيْنَيْهَا كَمَقَادِيمِ أَجْنِحَةِ النُّسُورِ ، قُلْتُ لَهَا : لِمَنْ أَنْتِ ؟ قَالَتْ : أَنَا لِلْخَلِيفَةِ مِنْ بَعْدِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ بَكْرِ بْنِ سَهْلٍ قَالَ الذَّهَبِيُّ : مُقَارِبُ الْحَدِيثِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْعَبْدِيِّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب مجھے آسمان کی طرف معراج کروائی گئی ، تو میں جنت عدن میں داخل ہوا ، میرے سامنے ایک سیب آیا ، جب میں نے اسے اپنے ہاتھ میں رکھا تو وہ ایک حور کی طرف سے آیا تھا ، جو خوبصورت آنکھوں والی پسندیدہ شخصیت کی مالک تھی ، اس کی آنکھوں کی پلکیں یوں تھیں جس طرح عقاب کے آگے والے پر ہوتے ہیں ، میں نے اس سے دریافت کیا : تم کس کو ملو گی ؟ اس نے جواب دیا : میں آپ کے بعد والے خلیفہ کے لئے ہوں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اپنے استاد بکر بن سہل کے حوالے سے نقل کی ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : یہ مقارب الحدیث ہے اس نے سلیمان عبدی کے حوالے سے اس روایت کو نقل کیا ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اپنے استاد بکر بن سہل کے حوالے سے نقل کی ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : یہ مقارب الحدیث ہے اس نے سلیمان عبدی کے حوالے سے اس روایت کو نقل کیا ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14330
وَعَنْ جَابِرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى خَلَفَ أَبِي بَكْرٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ هِشَامٍ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ ، وَفِيهِ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز ادا کی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن ہشام ہے ، جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن ہشام ہے ، جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 14331
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ رَجُلٌ لَا يَبْقَى فِي الْجَنَّةِ أَهْلُ دَارٍ وَلَا غُرْفَةٍ إِلَّا قَالُوا : مَرْحَبًا مَرْحَبًا ، إِلَيْنَا إِلَيْنَا " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا ثَوَابُ هَذَا الرَّجُلِ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَجَلْ أَنْتَ هُوَ يَا أَبَا بَكْرٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي بَكْرٍ السَّالِمِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک شخص جنت میں داخل ہو گا ، تو جنت میں موجود ہر گھر اور ہر بالاخانے کے سب لوگ یہ کہیں گے خوش آمدید ، خوش آمدید ، ہماری طرف آئیں ، ہماری طرف آئیں ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کیا سمجھتے ہیں ۔ وہ شخص آج بھی موجود ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں اے ابوبکر ! وہ تم ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف أحمد بن ابوبکر سالمی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف أحمد بن ابوبکر سالمی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 14332
وَعَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ قَالَ : كَانَ عَلِيٌّ إِذَا ذُكِرَ عِنْدَهُ أَبُو بَكْرٍ قَالَ : السَّبَّاقُ ، يَذْكُرُونَ السَّبَّاقَ قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا اسْتَبَقْنَا إِلَى خَيْرٍ قَطُّ إِلَّا سَبَقَنَا إِلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُفَضَّلِ الْحَرَّانِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
صلہ بن زفر بیان کرتے ہیں : جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا جاتا تو وہ فرماتے تھے : سبقت لے جانے والے لوگ ، سبقت لے جانے والوں کا ذکر کرتے ہیں ، پھر انہوں نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، ہم نے جب بھی کسی بھلائی کی طرف سبقت لے جانے کی کوشش کی ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کی طرف ہم سے سبقت لے جا چکے ہوتے تھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن عبدالرحمن بن مفضل حرانی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن عبدالرحمن بن مفضل حرانی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14333
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ قَالَ : خَطَبَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، فَقَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ ، أَخْبَرُونِي مَنْ أَشْجَعُ النَّاسِ ؟ قَالُوا : - أَوْ قَالَ : - قُلْنَا : أَنْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ . قَالَ : أَمَا إِنِّي مَا بَارَزْتُ أَحَدًا إِلَّا انْتَصَفْتُ مِنْهُ ، وَلَكِنْ أَخْبَرُونِي بِأَشْجَعِ النَّاسِ . قَالُوا : لَا نَعْلَمُ ، فَمَنْ ؟ قَالَ : أَبُو بَكْرٍ ، إِنَّهُ لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ ، جَعَلْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَرِيشًا ، فَقُلْنَا : مَنْ يَكُونُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِئَلَّا يَهْوِيَ إِلَيْهِ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ؟ فَوَاللَّهِ مَا دَنَا مِنْهُ أَحَدٌ إِلَّا أَبُو بَكْرٍ شَاهِرًا بِالسَّيْفِ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَهْوِي إِلَيْهِ أَحَدٌ إِلَّا أَهْوَى إِلَيْهِ ; فَهَذَا أَشْجَعُ النَّاسِ . فَقَالَ عَلِيٌّ : وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَخَذَتْهُ قُرَيْشٌ ، فَهَذَا نَحَّاهُ وَهَذَا يُتَلْتِلُهُ ، وَهُمْ يَقُولُونَ : أَنْتَ الَّذِي جَعَلْتَ الْآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا ؟ قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا دَنَا مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا أَبُو بَكْرٍ ، يَضْرِبُ هَذَا ، وَيُحَارُّ وَيُتَلْتِلُ هَذَا ، وَهُوَ يَقُولُ : وَيْلَكُمُ ! أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ ؟ ثُمَّ رَفَعَ عَلِيٌّ بُرْدَةً كَانَتْ عَلَيْهِ ، ثُمَّ بَكَى حَتَّى اخْضَلَّتْ لِحَيَّتُهُ ، ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ : أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ أَمُؤْمِنُ آلِ فِرْعَوْنَ خَيْرٌ أَمْ أَبُو بَكْرٍ ؟ فَسَكَتَ الْقَوْمُ فَقَالَ : أَلَا تُجِيبُونِي ؟ فَوَاللَّهِ لَسَاعَةٌ مِنْ أَبِي بَكْرٍ خَيْرٌ مِنْ مِثْلِ مُؤْمِنِ آلِ فِرْعَوْنَ ، ذَاكَ رَجُلٌ كَتَمَ إِيمَانَهُ ، وَهَذَا رَجُلٌ أَعْلَنَ إِيمَانَهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن عقیل بیان کرتے ہیں : سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : اے لوگو تم لوگ مجھے بتاؤ کہ لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر کون ہے ، راوی کہتے ہیں : یا شاید یہ الفاظ ہیں ۔ ہم نے کہا: اے امیر المؤمنین ! آپ ہیں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جہاں تک میرا تعلق ہے ، تو میں نے جس کسی کو بھی مقابلے کے لئے للکارا اسے پسپا کر دیا ، لیکن تم لوگ مجھے یہ بتاؤ کہ سب سے زیادہ بہادر کون ہے ؟ لوگوں نے کہا: ہمیں نہیں معلوم کون ہے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ابوبکر ، غزوہ بدر کے دن ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک چھپر تیار کیا ، ہم نے سوچا کہ کون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے گا ، تاکہ مشرکین میں سے کوئی شخص آپ کی طرف نہ آ سکے ، تو اللہ کی قسم ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ اور کوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب نہیں ہوا ، وہ تلوار سونت کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے کھڑے رہے ، جو بھی شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آنا چاہتا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کی طرف چلے جاتے ، تو وہ سب سے زیادہ بہادر شخص تھے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ قریش نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑ لیا ، کوئی شخص آپ کو دھکے دے رہا تھا اور کوئی شخص آپ کو کھینچ رہا تھا ، اور وہ لوگ یہ کہہ رہے تھے ، کیا آپ وہ فرد ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ معبود صرف ایک ہی ہوتا ہے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! اس وقت ہم میں سے کوئی بھی آپ کے قریب نہیں ہوا ، صرف سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور وہ کسی کو مار رہے تھے ، کسی کو پرے کر رہے تھے ، کسی کو کھینچ رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے ، تم لوگوں کا ستیاناس ہو ، کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے جسم پر موجود چادر کو اٹھایا اور رونے لگے ، یہاں تک کہ ان کی داڑھی تر ہو گئی ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : میں تم لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا آل فرعون سے تعلق رکھنے والا کوئی مومن زیادہ بہتر ہے یا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ زیادہ بہتر ہیں ؟ تو لوگ خاموش رہے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ مجھے جواب کیوں نہیں دیتے ؟ اللہ کی قسم ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ایک گھڑی آل فرعون سے تعلق رکھنے والے کسی مومن جیسے فرد سے زیادہ بہتر ہے ، کیونکہ ان لوگوں نے اپنے ایمان کو چھپایا تھا اور ان صاحب نے اپنے ایمان کا اعلان کیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 14334
وَعَنْ شَقِيقٍ قَالَ : قِيلَ لَعَلِيٍّ : أَلَا تَسْتَخْلِفُ ؟ قَالَ : مَا اسْتَخْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْتَخْلِفُ عَلَيْكُمْ ، وَإِنْ يُرِدِ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - بِالنَّاسِ خَيْرًا ، فَسَيَجْمَعُهُمْ عَلَى خَيْرِهِمْ كَمَا جَمَعَهُمْ بَعْدَ نَبِيِّهِمْ عَلَى خَيْرِهِمْ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي الْحَارِثِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
شقیق بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: گیا : آپ کسی کو اپنا جان نشین مقرر کیوں نہیں کرتے ؟ انہوں نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو اپنا جانشین مقرر کیا تھا کہ میں تم پر اپنا جانشین مقرر کروں ، اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کرے گا ، تو ان لوگوں کو ان میں سے سب سے بہتر فرد پر جمع کر دے گا ، جس طرح اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو ان کے نبی کے بعد ان میں سے سب سے بہتر فرد پر جمع کر دیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف اسماعیل بن ابوحارث کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف اسماعیل بن ابوحارث کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 14335
وَعَنْ أُسَيْدِ بْنِ صَفْوَانَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : لَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ سُجِّيَ بِثَوْبٍ فَارْتَجَّتِ الْمَدِينَةُ بِالْبُكَاءِ ، وَدُهِشَ كَيَوْمِ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مُسْرِعًا مُسْتَرْجِعًا ، وَهُوَ يَقُولُ : الْيَوْمَ انْقَطَعَتْ خِلَافَةُ النُّبُوَّةِ ، حَتَّى وَقَفَ عَلَى بَابِ الْبَيْتِ الَّذِي هُوَ فِيهِ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ : رَحِمَكَ اللَّهُ يَا أَبَا بَكْرٍ ; كُنْتَ أَوَّلَ الْقَوْمِ إِسْلَامًا ، وَأَخْلَصَهُمْ إِيمَانًا ، وَأَشَدَّهُمْ يَقِينًا ، وَأَخْوَفَهُمْ لِلَّهِ ، وَأَعْظْمُهُمْ غَنَاءً ، وَأَحْوَطَهُمْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَحْدَبَهُمْ عَلَى الْإِسْلَامِ ، وَآمَنَهُمْ عَلَى أَصْحَابِهِ ، وَأَحْسَنَهُمْ صُحْبَةً ، وَأَفْضَلَهُمْ مَنَاقِبَ ، وَأَكْثَرَهُمْ سَوَابِقَ ، وَأَرْفَعَهُمْ دَرَجَةً ، وَأَقْرَبَهُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَشْبَهَهُمْ بِهِ هَدْيًا وَخُلُقًا وَسَمْتًا ، وَأَوْثَقَهُمْ عِنْدَهُ ، وَأَشْرَفَهُمْ مَنْزِلَةً ، وَأَكْرَمَهُمْ عَلَيْهِ مَنْزِلَةً ; فَجَزَاكَ اللَّهُ عَنِ الْإِسْلَامِ ، وَعَنْ رَسُولِهِ ، وَعَنِ الْمُسْلِمِينَ ، خَيْرًا صَدَّقْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ كَذَّبَهُ النَّاسُ ; فَسَمَّاكَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ : صِدِّيقًا ، فَقَالَ : وَالَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصَدَّقَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ ، آسَيْتَهُ حِينَ بَخِلُوا ، وَقُمْتَ مَعَهُ حِينَ عَنْهُ قَعَدُوا ، وَصَحِبْتَهُ فِي الشِّدَّةِ أَكْرَمَ الصُّحْبَةِ ، وَالْمُنَزِّلَ عَلَيْهِ السِّكِّينَةَ ، رَفِيقَهُ فِي الْهِجْرَةِ وَمَوَاطِنِ الْكُرْبَةِ ، خَلَفْتَهُ فِي أُمَّتِهِ بِأَحْسَنِ الْخِلَافَةِ حِينَ ارْتَدَتِ النَّاسُ فَقُمْتَ بِدِينِ اللَّهِ قِيَامًا لَمْ يَقُمْهُ خَلِيفَةُ نَبِيٍّ قَطُّ ، فَوَثَبْتَ حِينَ ضَعُفَ أَصْحَابُكَ ، وَنَهَضْتَ حِينَ وَهَنُوا ، وَلَزِمْتَ مِنْهَاجَ رَسُولِهِ بِرَغْمِ الْمُنَافِقِينَ وَغَيْظِ الْكَافِرِينَ ، فَقُمْتَ بِالْأَمْرِ حِينَ فَشِلُوا ، وَمَضَيْتَ بِنُورِ اللَّهِ إِذْ وَقَفُوا . كُنْتَ أَعْلَاهُمْ فَوْقًا ، وَأَقَلَّهُمْ كَلَامًا ، وَأَصْوَبَهُمْ مَنْطِقًا ، وَأَطْوَلَهُمْ صَمْتًا ، وَأَبْلَغَهُمْ قَوْلًا ، وَكُنْتَ أَكْثَرَهُمْ رَأْيًا وَأَشْجَعَهُمْ قَلْبًا ، وَأَشَدَّهُمْ يَقِينًا ، وَأَحْسَنَهُمْ عَمَلًا ، وَأَعْرَفَهُمْ بِالْأُمُورِ . كُنْتَ لِلدِّينِ يَعْسُوبًا ، وَكُنْتَ لِلْمُؤْمِنِينَ أَبًا رَحِيمًا ; إِذْ صَارُوا عَلَيْكَ عِيَالًا فَحَمَلْتَ أَثْقَالَ مَا عَنْهُ ضَعُفُوا ، وَحَفِظْتَ مَا أَضَاعُوا ، وَرَعَيْتَ مَا أَهْمَلُوا ، وَصَبَرْتَ إِذْ جَزِعُوا ، فَأَدْرَكْتَ آثَارَ مَا طَلَبُوا ، وَنَالُوا بِكَ مَا لَمْ يَحْتَسِبُوا . كُنْتَ عَلَى الْكَافِرِينَ عَذَابًا صَبًّا ، وَلِلْمُسْلِمِينَ غَيْثًا وَخِصْبًا ، فَطِرْتَ بِغِنَاهَا وَفُزْتَ بِحَيَاهَا ، وَذَهَبْتَ بِفَضَائِلِهَا ، وَأَحْرَزْتَ سَوَابِقَهَا ، لَمْ تُفْلَلْ حُجَّتُكَ ، وَلَمْ يُزَغْ قَلْبُكَ ، وَلَمْ تَضْعُفْ بَصِيرَتُكَ ، وَلَمْ تَجْبُنْ نَفْسُكَ . كُنْتَ كَالْجَبَلِ لَا تُحَرِّكُهُ الْعَوَاصِفُ وَلَا تُزِيلُهُ الْقَوَاصِفُ . كُنْتَ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَّنَ النَّاسُ عَلَيْهِ بِصُحْبَتِكَ وَذَاتِ يَدِكَ . وَكَمَا قَالَ : " ضَعِيفًا فِي بَدَنِكَ ، قَوِيًّا فِي أَمْرِ اللَّهِ " . مُتَوَاضِعًا عَظِيمًا عِنْدَ الْمُسْلِمِينَ ، جَلِيلًا فِي الْأَرْضِ ، لَمْ يَكُنْ لِأَحَدٍ فِيكَ مَهْمَزٌ ، وَلَا لِقَائِلٍ فِيكَ مَغْمَزٌ ، وَلَا فِيكَ مَطْمَعٌ ، وَلَا عِنْدَكَ هَوَادَةٌ لِأَحَدٍ ، الضَّعِيفُ الذَّلِيلُ عِنْدَكَ قَوِيٌّ حَتَّى تَأْخُذَ لَهُ بِحَقِّهِ ، وَالْقَوِيُّ الْعَزِيزُ عِنْدَكَ ذَلِيلٌ حَتَّى يُؤْخَذَ مِنْهُ الْحَقُّ ، وَالْقَرِيبُ وَالْبَعِيدُ عِنْدَكَ فِي ذَلِكَ سَوَاءٌ . شَأْنُكَ الْحَقُّ وَالصِّدْقُ ، وَالرِّفْقُ قَوْلُكَ . فَأَقْلَعْتَ وَقَدْ نُهِجَ السَّبِيلُ ، وَاعْتَدَلَ بِكَ الدِّينُ ، وَقَوِيَ الْإِيمَانُ ، وَظَهَرَ أَمْرُ اللَّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ ، فَسَبَقْتَ وَاللَّهِ سَبْقًا بَعِيدًا ، وَأَتْعَبْتَ مَنْ بَعْدَكَ إِتْعَابًا شَدِيدًا . وَفُزْتَ بِالْجَنَّةِ ، وَعَظُمَتْ رَزِيَّتُكَ فِي السَّمَاءِ ، وَهَدَّتْ مُصِيبَتُكَ الْأَنَامَ - فَإِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ . رَضِينَا عَنِ اللَّهِ قَضَاءَهُ ، وَسَلَّمْنَا لِلَّهِ أَمْرَهُ ، فَلَنْ يُصَابَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمِثْلِكَ أَبَدًا . كُنْتَ لِلدِّينِ عُدَّةً وَكَهْفًا ، وَلِلْمُسْلِمِينَ حِصْنًا وَفَيْئَةً وَأُنْسًا ، وَعَلَى الْمُنَافِقِينَ غِلْظَةً وَغَيْظًا ، فَأَلْحَقَكَ اللَّهُ بِنَبِيِّهِ ، وَلَا حَرَمَنَا اللَّهُ أَجْرَكَ ، وَلَا أَضَلَّنَا بَعْدَكَ . ¤ قَالَ : وَسَكَتَ النَّاسُ حَتَّى قَضَى كَلَامَهُ . ثُمَّ بَكَى أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالُوا : صَدَقْتَ يَا ابْنَ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَضِيَ عَنْهُمْ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ الْكُرْدِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسید بن صفوان رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ۔ وہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ، تو انہیں ایک چادر میں ڈھانپ دیا گیا ، مدینہ منورہ میں آہ و زاری شروع ہو گئی ، لوگ اسی طرح پریشان ہو گئے جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت ہوئے تھے ۔ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ تیزی سے چلتے ہوئے اور انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھتے ہوئے آئے اور وہ یہ کہہ رہے تھے کہ آج نبوت کی خلافت منقطع ہو گئی ہے ، یہاں تک کہ وہ اس گھر کے دروازے پر آ کر ٹھہر گئے جس گھر میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی میت رکھی ہوئی تھی ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوبکر ! اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے ، آپ سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے شخص تھے اور سب سے زیادہ خالص ایمان والے فرد تھے سب سے زیادہ پختہ یقین رکھنے والے تھے ، اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ ڈرنے والے تھے ( دنیا اور لوگوں سے ) سب سے زیادہ بے نیاز تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے زیادہ خیال رکھنے والے تھے ، اسلام کے سب سے زیادہ خیرخواہ تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پر سب سے زیادہ احسان کرنے والے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کے اعتبار سے سب سے زیادہ عمدہ تھے ، مناقب کے اعتبار سے سب سے زیادہ فضیلت والے تھے ، سبقت لے جانے والے امور کے حوالے سے سب سے زیادہ کثرت والے تھے ، درجہ کے اعتبار سے سب سے زیادہ بلند مرتبہ تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریبی تھے اور عادات و اطوار اور طور طریقوں کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ قابل اعتماد تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ قدر و منزلت کے مالک تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ معزز تھے ، تو اللہ تعالیٰ اسلام کی طرف سے اپنے رسول کی طرف سے اور تمام مسلمانوں کی طرف سے آپ کو جزائے خیر عطا کرے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں نے جھٹلایا تھا ، تو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی تھی اور آپ وہ فرد ہیں کہ جس کا نام اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں صدیق رکھا ہے ، اور ارشاد فرمایا ہے : ” اور وہ جو سچائی لے کے آیا “ اس سے مراد سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، اور جس نے اس کی تصدیق کی اس سے مراد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں ۔ ” جب لوگوں نے کنجوسی کا مظاہرہ کیا ، تو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا ، جب لوگ بیٹھے رہے ، تو آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے ، آپ سخت صورت حال میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ، اور اچھے طریقے سے ساتھ رہے ، آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سکون پہنچانے کی کوشش کی ، ہجرت میں آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی تھے ، پریشانی کے مقامات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی تھے اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے بارے میں آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین بنے ، تو اچھے طریقے سے خلیفہ ثابت ہوئے ، اس وقت جب کچھ لوگ مرتد ہو گئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کے دین کو اس طرح قائم رکھا کہ اس طرح کسی نبی کے کسی خلیفہ نے قائم نہیں کیا ہو گا ، جب آپ کے ساتھی کمزور تھے ، تو آپ چاک و چوبند تھے ، جب وہ ہلکے ہو رہے تھے ، تو آپ اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ نے اللہ کے رسول کے طریقے کو لازم پکڑ لیا ، خواہ یہ بات منافقین کو کتنی ہی بری لگے ، اور کافروں کو کتنا ہی غصہ آئے ، تو جب لوگ پھسل رہے تھے اس وقت آپ نے معاملے کو قائم رکھا اور جب لوگ ٹھہر گئے تھے ، تو آپ نے اللہ کے نور کو جاری رکھا ، مرتبے کے اعتبار سے آپ ان میں سب سے بلند تر تھے اور سب سے زیادہ کم کلام کرنے والے تھے اور سب سے زیادہ عمدہ کلام کرنے والے تھے ، سب سے زیادہ طویل خاموش رہنے والے تھے ، سب سے زیادہ بلیغ بات کرنے والے تھے ، سب سے زیادہ اچھی بات کرنے والے تھے ، سب سے زیادہ بہادر تھے ، سب سے مضبوط یقین رکھنے والے تھے ، سب سے بہتر عمل کرنے والے تھے ، معاملات کو سب سے زیادہ بہتر طور پر سمجھنے والے تھے ، آپ دین کے لئے پیشوا تھے اور مومنین کے لئے مہربان باپ تھے ، جب وہ لوگ آپ کے عیال بن گئے تھے ، تو آپ نے اس بوجھ کو اٹھایا ، جس کے حوالے سے وہ لوگ کمزور ہو گئے تھے اور اس چیز کی حفاظت کی جس کو وہ ضائع کرنے لگے تھے اور اس چیز کا خیال رکھا جس میں وہ تاخیر کر رہے تھے اور اس وقت آپ نے صبر سے کام لیا ، جب وہ لوگ گریہ و زاری کر رہے تھے اور وہ جو چاہتے تھے اس کے نشانات تک آپ پہنچ گئے اور وہ لوگ آپ کی وجہ سے وہاں تک پہنچے جس کے بارے میں ان کا گمان نہیں تھا ، آپ کافرین کے لئے انڈیلا جانے والا عذاب تھے اور مسلمانوں کے لیے بادل اور ہریالی تھے ، آپ کی فطرت میں بے نیازی تھی ، آپ اس کے کناروں ( یا اس کے زیادہ تر حصے ) کے ذریعے کامیاب ہوئے ، اور اس کے فضائل لے گئے ، آپ نے اس کے سبقت لے جانے والوں کو محفوظ کر لیا ، آپ کی حجت کم نہیں ہوئی ، آپ کا دل ٹیڑھا نہیں ہوا ، آپ کی بصیرت کم نہیں ہوئی ، آپ کا من بزدل نہیں ہوا ، آپ اس پہاڑ کی مانند تھے ، جس کو تیز ہوائیں ہلا نہیں سکتی ہیں اور بجلیاں گرا نہیں سکتی ہیں ، آپ ویسے ہی تھے جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ اچھا سلوک ، اپنے ساتھ کے اعتبار سے ، آپ نے کیا ، یا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ جسمانی طور پر کمزور ہے ، لیکن اللہ کے معاملے میں طاقتور ہے ، مسلمانوں کے نزدیک آپ تواضع کرنے والے عظیم فرد تھے ، زمین میں نمایاں حیثیت کے مالک تھے کسی کو آپ کے بارے میں کوئی الجھن نہیں تھی ، کوئی شخص آپ کی برائی نہیں کر سکتا تھا اور نہ ہی آپ کے بارے میں کوئی لالچ رکھ سکتا تھا ، آپ کے نزدیک کسی شخص کے لیے زیادتی نہیں تھی ، کمزور اور کمتر حیثیت کا شخص آپ کے نزدیک طاقتور تھا کہ آپ اس کا حق اسے دلوا سکتے تھے ، اور طاقتور نمایاں حیثیت کا شخص ، آپ کے نزدیک کمزور تھا ، جب تک اس سے حق وصول نہیں کیا جاتا ، اس بارے میں قریب کے لوگ اور دور کے لوگ آپ کے نزدیک برابر کی حیثیت رکھتے تھے ، آپ کا معاملہ حق کا سچائی کا تھا ، آپ کے قول میں نرمی پائی جاتی تھی ، جب آپ دنیا سے رخصت ہوئے ، تو راستہ طے ہو چکا تھا ، دین معتدل ہو چکا تھا ، ایمان قوی ہو چکا تھا ، اللہ کا معاملہ قوی ہو چکا تھا ، خواہ یہ بات کافروں کو بری ہی لگے ، تو اللہ کی قسم ! آپ زبردست سبقت لے گئے اور آپ نے اپنے بعد والوں کو شدید مشکل کا شکار کر دیا ، آپ جنت کے حوالے سے کامیاب ہوئے اور آسمان میں آپ کی ( وفات ) کی تکلیف بڑی سمجھی گئی ، اور آپ کی مصیبت مخلوق تک پہنچ گئی ، تو بے شک ہم اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں ، اور بے شک ہم نے اسی کی طرف لوٹ کے جانا ہے ، اور بے شک ہم اللہ تعالیٰ کے اس کے فیصلے کے حوالے سے اس سے راضی ہیں ، اور اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتے ہیں ، مسلمانوں کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اور کسی کے حوالے سے ایسی مصیبت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ، جس طرح کی مصیبت کا سامنا آپ کے ( انتقال کی ) وجہ سے کرنا پڑا ہے ، آپ دین کے لئے تیاری اور پناہ گاہ تھے ، مسلمانوں کے لئے قلعہ اور اجتماعیت اور انسیت کا باعث تھے ، منافقین کے لئے سختی اور شدت کا باعث تھے ، اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ملائے اور آپ کے اجر سے ہمیں اللہ تعالیٰ محروم نہ رکھے ، اور آپ کے بعد ہمیں گمراہ نہ کرے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : لوگ خاموش رہے ، یہاں تک کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی بات پوری کر لی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رونے لگے ، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول کے چچا زاد ! آپ نے سچ کہا: ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابراہیم ہاشمی کردی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابراہیم ہاشمی کردی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 14336
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ السَّدُوسِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : بَلَغَ عَائِشَةَ أَنَّ نَاسًا يَنَالُونَ مِنْ أَبِي بَكْرٍ ، فَبَعَثَتْ إِلَى أَزْفَلَةٍ مِنْهُمْ ، فَسَدَلَتْ أَسْتَارَهَا ، وَعَذَلَتْ وَقَرَّعَتْ ، وَقَالَتْ : أَبِي وَمَا أَبِيهِ ، أَبِي لَا تُعْطُوهُ الْأَيْدِي . هَيْهَاتَ وَاللَّهِ ، ذَاكَ طَوْدٌ مَنِيفٌ ، وَظِلٌّ مَدِيدٌ ، أَنْجَحَ وَاللَّهِ إِذْ كَذَّبْتُمْ ، وَسَبَقَ إِذْ وَنَيْتُمْ سَبْقَ الْجَوَادِ إِذَا اسْتَوْلَى عَلَى الْأَمَدِ ، فَتَى قُرَيْشٍ نَاشِئًا ، وَكَهْفًا كَهْلًا . يَفُكُّ عَانِيَهَا ، وَيَرِيشُ مُمْلِقَهَا ، وَيَرْأَبُ رَوْعَهَا ، وَيَلُمُّ شَعَثَهَا حَتَّى حَلِيَتْهُ قُلُوبُهَا ، ثُمَّ اسْتَشْرَى فِي دِينِهِ فَمَا بَرِحَتْ شَكِيمَتُهُ فِي ذَاتِ اللَّهِ حَتَّى اتَّخَذَ بِفَنَائِهِ مَسْجِدًا يُحْيِي فِيهِ مَا أَمَاتَ الْمُبْطِلُونَ ، وَكَانَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - غَزِيرَ الدَّمْعَةِ ، وَقِيدَ الْجَوَانِحِ ، شَجِيَّ النَّشِيجِ ، فَاصْفَقَّتْ إِلَيْهِ نِسْوَانُ مَكَّةَ وَوِلْدَانُهَا يَسْخَرُونَ مِنْهُ وَيَسْتَهْزِئُونَ بِهِ اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ فَأَكْبَرَتْ ذَلِكَ رِجَالَاتُ قُرَيْشٍ ; فَحَنَتْ قِسِيَّهَا ، وَفَوَّقَتْ سِهَامَهَا ، وَامْتَثَلُوهُ غَرَضًا فَمَا فَلُّوا لَهُ شَبَاةً ، وَلَا قَصَفُوا لَهُ قَنَاةً ، وَمَرَّ عَلَى سِيسَائِهِ حَتَّى إِذَا ضَرَبَ الدِّينُ بِجِرَانِهِ ، وَأَلْقَى بَرْكَهُ ، وَرَسَتْ أَوْتَادُهُ ، وَدَخَلَ النَّاسُ فِيهِ أَفْوَاجًا ، وَمِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ أَرْسَالًا وَأَشْتَاتًا ; اخْتَارَ اللَّهُ لِنَبِيِّهِ مَا عِنْدَهُ ، فَلَمَّا قَبَضَهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - ضَرَبَ الشَّيْطَانُ رِوَاقَهُ ، وَنَصَبَ حَبَائِلَهُ ، وَمَدَّ طُنُبَهُ ، وَأَجْلَبَ بِخَيْلِهِ وَرَجِلِهِ ; فَاضْطَرَبَ حَبْلُ الْإِسْلَامِ ، وَمَرَجَ عَهْدُهُ ، وَمَاجَ أَهْلُهُ ، وَعَادَ مَبْرَمُهُ أَنْكَاثًا ، وَبَغَى الْغَوَائِلُ ، وَظَنَّتِ الرِّجَالُ أَنْ قَدْ أَكْثَبَتْ أَطْمَاعُهُمْ ، وَلَاتَ حِينَ [ الَّتِي ] يَرْجِعُونَ ، وَإِنِّي وَالصِّدِّيقُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ فَقَامَ حَاسِرًا مُشَمِّرًا ، فَرَفَعَ حَاشِيَتَهُ ، وَجَمَعَ قَطْرَتَهُ ، فَرَدَّ يُسْرَ الْإِسْلَامِ عَلَى غِرَّةٍ ، وَلَمَّ شَعَثَهُ بِطَيِّهِ ، وَأَقَامَ أَوَدَهُ بِثِقَافِهِ ; فَابْدَعَرَّ النِّفَاقُ بِوَطْأَتِهِ ، وَانْتَاشَ الدِّينُ بِنَعْشِهِ . فَلَمَّا رَاحَ الْحَقُّ عَلَى أَهْلِهِ ، وَأَقَرَّ الرءُوسَ عَلَى كَوَاهِلِهَا ، وَحَقَنَ الدِّمَاءَ فِي أَهَبِهَا ، حَضَرَتْ مَنِيَّتُهُ ، فَسَدَ ثُلْمَتَهُ بِشَقِيقِهِ فِي الْمَرْحَمَةِ وَنَظِيرِهِ فِي السِّيرَةِ وَالْمَعْدَلَةِ - ذَاكَ ابْنُ الْخَطَّابِ ، لِلَّهِ أُمٌُّ حَمَلَتْ بِهِ وَدَرَّتْ عَلَيْهِ لَقَدْ أَوْحَدَتْ بِهِ ; فَفَتَحَ الْكَفَرَةَ وَذَيْخَهَا ، وَشَرَّدَ الشِّرْكَ شَذَرَ مَذَرَ ، وَبَعَجَ الْأَرْضَ ; فَقَاءَتْ أُكُلَهَا ، وَلَفِظَتْ خَبِيئَهَا تَرْأَمُهُ ، وَيُصْدِفُ عَنْهَا وَتَصَدَّى لَهُ وَيَأْبَاهَا ، ثُمَّ وَرِعَ فِيهَا ، ثُمَّ تَرَكَهَا كَمَا صَحِبَهَا ، فَأَرُونِي مَاذَا تَقُولُونَ ؟ وَأَيَّ يَوْمَيْ أَبِي تَنْقِمُونَ ؟ ! أَيَوْمَ إِقَامَتِهِ إِذْ عَدَلَ فِيكُمْ ، أَوْ يَوْمَ ظَعْنِهِ إِذْ نَظَرَ لَكَمْ ؟ أَقُولُ قَوْلِي هَذَا وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ لِي وَلَكُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَحْمَدُ السَّدُوسِيُّ لَمْ يُدْرِكْ عَائِشَةَ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ وَلَا ابْنَهُ . ¤
محمد محی الدین
علی بن أحمد سدوی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ اطلاع ملی کہ کچھ لوگ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر تنقید کرتے ہیں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان میں سے کچھ لوگوں کو پیغام بھیج کر بلوایا ، انہوں نے درمیان میں پردہ کروایا اور پھر غصے کا اظہار کرتے ہوئے اور ملامت کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : میرے والد ، میرے والد کے کیا کہنے ؟ تم لوگ میرے والد پر تنقید نہیں کر سکتے ، اللہ کی قسم ! وہ بلند پہاڑ تھے اور پھیلا ہوا سایہ تھے ، جب تم لوگوں نے جھٹلایا ، تو اللہ کی قسم ! اس وقت انہوں نے کامیابی حاصل کی ، جب تم لوگوں نے کمزوری دکھائی ، تو انہوں نے سبقت حاصل کی ، ایک ایسی سبقت جو کسی شہسوار کی ہوتی ہے ، جب اُس نے دور تک جانا ہو ، وہ اپنی جوانی میں قریش کے نمایاں فرد تھے ، اور بڑھاپے میں اُن کے لئے غار کی حیثیت رکھتے تھے ، انہوں نے ( لوگوں ) کے قیدیوں کو آزاد کروایا ، اور ان ( لوگوں ) کے غریبوں کو مال دیا ، وہ ان کے بکھرے ہوئے معاملات کو اکٹھا کرتے تھے ، اور پریشانیوں کو ختم کرتے تھے ، یہاں تک کہ ان لوگوں کے دل اُن کی طرف مائل ہو گئے ، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دین کے بارے میں مضبوطی کا اظہار کیا ، اور اللہ کی ذات کے بارے میں اُن کی یہ مضبوطی ہمیشہ برقرار رہی ، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے صحن میں مسجد بنا لی ، جس میں وہ ، اُس چیز ( یعنی عبادت ) کو زندہ کرتے تھے ، جسے باطل لوگ نہیں کرتے تھے ، وہ ایسے ( فرد ) تھے کہ اُن کے آنسو بہتے رہتے تھے ، اور ان کا دل نرم تھا ، غم کی وجہ سے ان کی گھٹی ہوئی سی آواز نکلتی تھی ، مکہ کی خواتین اور ان خواتین کے بچے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس اکٹھے ہو جاتے تھے اور اُن کا مذاق اڑایا کرتے تھے ، حالانکہ اللہ تعالیٰ ان ( کفار ) کے ساتھ استہزاء کرے گا اور انہیں اُن کی سرکشی میں رہنے دے گا کہ وہ بھٹکتے رہیں ، یہ بات قریش سے تعلق رکھنے والے افراد پر بہت گراں گزری ، انہوں نے اپنی کمانیں سیدھی کر لیں اور تیروں پر پھل لگا لیا ، اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نشانہ بنا لیا ، تو قریش کے لوگوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لئے نہ تو کوئی پتھر توڑا ، اور نہ ہی اُن کے لئے کوئی نیزہ توڑا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اپنے طریقے پر گامزن رہے ، یہاں تک کہ دین نے غلبہ حاصل کر لیا ، دین اپنی جگہ پر جم گیا ، اور اس نے اپنے کیل ٹھوک دیئے ، اور لوگ گروپوں کی شکل میں دین میں داخل ہونے لگے ، ہر گروہ کچھ افراد کو بھیج دیتا تھا ، لوگ متفرق شکلوں میں آتے تھے ، پھر یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لئے اس چیز کو منتخب کیا ، جو اس کے پاس ہے ، جب اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی ، تو شیطان نے اپنا خیمہ لگا لیا ، اس نے اپنا جال بچھا لیا ، اس نے اپنی طنابیں کھینچ لیں اور اپنے گھر سواروں اور پیادہ افراد کو لے آیا ، وہ اسلام کی رسّی میں اضطراب آ گیا ، اور اس کے عہد میں تنازع آ گیا ، اور اہل اسلام اختلاف کا شکار ہو گئے ، اور ان کا اجتماع انتشار میں بدل گیا ، تو کچھ لوگوں نے یہ گمان کیا کہ شاید وہ اپنے لالچ ، یا مقاصد کو حاصل کر لیں گے اور اس صورتحال میں مسلمان کامیابی حاصل نہیں کر سکیں گے ، لیکن یہ بھلا کیسے ہو سکتا تھا ، جبکہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے درمیان موجود تھے ، وہ آستینیں چڑھا کر اور تہبند سنبھال کر اٹھ کھڑے ہوئے ، انہوں نے اپنے لباس کے کنارے کو سی لیا ، اور دونوں طرف سے اسے اکٹھا کر لیا ( یعنی وہ مقابلہ کرنے کے لئے مکمل طور پر تیار ہو گئے ) تو انہوں نے اسلام کے غلبے کو لوٹا دیا ، اور اس کے بکھرے ہوئے امور کو سمیٹ دیا ، اور اس میں رونما ہونے والے ٹیڑھے پن کو سیدھا کر دیا ، تو ان کے دبانے کی وجہ سے منافقت پیچھے ہٹ گئی ، اور ان کے بلند کرنے کی وجہ سے دین اس چیز سے محفوظ ہو گیا ، جس کے حوالے سے اندیشہ تھا ، جب انہوں نے حق کو اس کے متعلقہ افراد تک پہنچا دیا ، اور سروں کو کندھوں پر جما دیا ، اور پھولوں کو جوڑوں میں محفوظ کر دیا ، تو ان کا آخری وقت آ گیا ، تو انہوں نے اپنی ذات کے حوالے سے پیدا ہونے والے خلاء کو اس شخصیت کے ذریعے پر کیا ، جو رحمت ہونے میں ان کی طرح کے تھے ، اور طریقہ کار اور عدل کرنے میں ان کی نظیر تھے ، اور وہ خطاب کے صاحبزادے ( سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ) ہیں ۔ اس ماں کے کیا کہنے ؟ جو ان کے حوالے سے حاملہ ہوئیں ، جس نے انہیں دودھ پلایا ، اور ان جیسے بے مثل شخص کو جنم دیا ، انہوں نے کافروں کو فتح کیا اور انہیں ذلت کا شکار کیا ، اور اور شرک کو یوں پرے کر دیا کہ اُس کا ٹھکانہ نہ رہا ، اور انہوں نے زمین کو چیر دیا ( یعنی اسے فتح کر لیا ) تو اُس ( زمین ) نے اپنی کھائی ہوئی چیز کو قے کر دیا اور چھپا کر رکھی گئی چیز کو اس نے پھینک دیا ( یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی وجہ سے زمین میں سے ، نعمتیں اور دولتیں مسلمانوں کو حاصل ہوئیں ) اُس ( یعنی دنیا ) نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے محبت کا اظہار کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اُس ( دنیا ) سے اعراض کیا ، وہ ( دنیا ) اُن کے سامنے آئی ، تو انہوں نے اس کو انکار کیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دنیا کے بارے میں پرہیزگاری کو اختیار کیا ، اور پھر اُسے اُسی حالت میں چھوڑا ، جس حالت میں وہ اُس ( دنیا ) کے ساتھ رہے تھے ۔ تو اب تم لوگ مجھے بتاؤ ! کہ تم کیا کہتے ہو ؟ تمہیں میرے والد کے دودنوں میں سے کون سے دن پر اعتراض ہے ؟ ان کے مقیم رہنے والے دن پر اعتراض ہے ؟ کہ جب انہوں نے تمہارے درمیان عدل سے کام لیا ، یا ان کی روانگی کے دن پر اعتراض ہے کہ جب انہوں نے تمہارے لئے سوچ بچار کی ؟ ( پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ) میں نے اپنی بات کہہ دی ہے ، اور میں اپنے لیے اور تمہارے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتی ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، أحمد سدوی نامی راوی نے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا زمانہ نہیں پایا ہے ، میں اُس سے اور اس کے بیٹے سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، أحمد سدوی نامی راوی نے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا زمانہ نہیں پایا ہے ، میں اُس سے اور اس کے بیٹے سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 14337
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَارْتَدَّتِ الْعَرَبُ ، وَاشْرَأَبَّ النِّفَاقُ ; فَنَزَلَ بِأَبِي مَا لَوْ نَزَلَ بِالْجِبَالِ الرَّاسِيَاتِ لَهَاضَهَا . قَالَتْ : فَمَا اخْتَلَفُوا فِي نُقْطَةٍ إِلَّا طَارَ أَبِي بِحَظِّهَا وَسِنَانِهَا . ثُمَّ ذَكَرَتْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَتْ : كَانَ وَاللَّهِ أَحْوَذِيًّا نَسِيجَ وَحْدِهِ ، قَدْ أَعَدَّ لِلْأُمُورِ أَقْرَانَهَا . ¤ قَالَ الرِّيَاشِيُّ : يُقَالُ لِلرَّجُلِ الْبَارِعِ الَّذِي لَا يُشَبَّهُ بِهِ أَحَدٌ : نَسِيجُ وَحْدِهِ ، وَعُيَيْرُ وَحْدِهِ ، وَيُقَالُ : جَلِيسُ وَحْدِهِ ، وَقَالَ الشَّاعِرُ : ¤ جَاءَتْ بِهِ مُعْتَجِرًا بِبُرْدِهِ سَفْوَاءَ تُرْدِي بِنَسِيجِ وَحْدِهِ يَقْدَحُ قَيْسًا كُلَّهَا بِزَنْدِهِ ¤ مَنْ يَلْقَهُ مِنْ بَطَلٍ يَسْرَنْدِهِ . ¤ أَيْ يَعْلُوهُ قَالَ الرِّيَاشَيُّ : وَأَنْشَدَنِي الْأَصْمَعِيُّ : ¤ مَا بَالُ هَذَا الْيَوْمِ يَغْرَنْدِينِي أَدْفَعُهُ عَنِّي وَيَسْرَنْدِينِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ مِنْ طُرُقٍ ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا ، تو عرب مرتد ہو گئے اور نفاق بلند ہو گیا ، میرے والد کو ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا کہ اگر وہ صورتحال مضبوط پہاڑوں پر نازل ہوتی ، تو انہیں بھی توڑ کے رکھ دیتی ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : لوگوں نے جس بھی نقطہ کے بارے میں خلل کا اظہار کیا ، تو میرے والد اس کے تمام تر لوازمات کو لے کر وہاں تک پہنچے ، جن کے ذریعے اسے ٹھیک کیا جا سکے ۔ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات کہی : اللہ کی قسم ! وہ بڑی ہمت والے تھے ، اور بے مثل شخصیت کے مالک تھے ، انہوں نے تمام امور کے لیے مناسب تیاری کی ۔ یہاں ریاشی نامی راوی نے یہ بات کہی ہے : جب کوئی شخص ایسا ماہر ہو کہ کسی کو اُس کے مشابہ قرار نہ دیا جا سکے ، تو اس کے یہ لفظ استعمال کیے جاتے ہیں : ” نسیج وحده - عییر وحده - جحیش وحده ۔ “ کسی شاعر نے کہا: ہے : ” وہ سواری اس شخص کو لے کر آئی ، جس شخص نے اپنی چادر لپیٹی ہوئی تھی اور وہ سواری چھوٹی پیشانی والی تھی ، وہ سواری تیزی سے ایک بے مثال شخص کو لے کر آئی ، وہ پتھر کو رگڑ کر ، قیس کو آگ لگانے کی کوشش کرتا ہے ، اور جو بھی سورما اُس کے سامنے آتا ہے ، وہ اسے سرنگوں کر لیتا ہے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : یعنی وہ اس پر غالب آ جاتا ہے ۔ ریاشی بیان کرتے ہیں : اصمعی نے مجھے یہ اشعار سنائے : ” اس نیند کا کیا معاملہ ہے ؟ جو مجھ پر طاری ہو رہی ہے ، میں اُسے اپنے سے پرے کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور وہ مجھ پر غالب آ رہی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں مختلف طرق کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں مختلف طرق کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14338
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَعْمَلَ أَبَا بَكْرٍ عَلَى الْحَجِّ ، ثُمَّ وَجَّهَ بِبَرَاءَةٍ مَعَ عَلِيٍّ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَجَدْتَ عَلَيَّ فِي شَيْءٍ ؟ قَالَ : " لَا ، أَنْتَ صَاحِبِي فِي الْغَارِ وَعَلَى الْحَوْضِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى لَهُ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثًا غَيْرَ هَذَا أَطْوَلَ مِنْهُ . وَفِي هَذَا زِيَادَةٌ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امیر الحج مقرر کیا ، پھر آپ نے برأت ( لاتعلقی ) کا اعلان دے کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ نے میرے خلاف کوئی چیز محسوس کی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ، تم غار میں میرے ساتھی رہے ہو اور حوض پر بھی ہو گے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ترمذی نے ان صحابی کے حوالے سے ایک اور حدیث نقل کی ہے ، جو اس کے علاوہ ہے ، اور اس سے زیادہ طویل ہے ، اور اس روایت میں اضافہ پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14339
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ - يَعْنِي الصِّدِّيقَ - قَالَ : جِئْتُ بِأَبِي قُحَافَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " هَلَّا تَرَكْتَ الشَّيْخَ حَتَّى آتِيَهُ ؟ " قَالَ : بَلْ هُوَ أَحَقُّ أَنْ يَأْتِيَكَ . قَالَ : " إِنَّا نَحْفَظُهُ لِأَيَادِي ابْنِهِ عِنْدَنَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْفِهْرِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( میں فتح مکہ کے دن ) سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نے ان بزرگوار کو ( گھر میں ) کیوں نہیں رہنے دیا ، میں ان کے پاس چلا جاتا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : بلکہ یہ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ وہ آپ کی خدمت میں آئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہم نے ان کا خیال رکھنا تھا ، کیونکہ ہمارے نزدیک ان کے صاحبزادے کی بڑی حیثیت ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالملک فہری ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، لیکن یہ روایت منقطع ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالملک فہری ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، لیکن یہ روایت منقطع ہے ۔
حدیث نمبر: 14340
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ : أَعْتَقَ أَبُو بَكْرٍ سَبْعَةً مِمَّنْ كَانَ يُعَذَّبُ فِي اللَّهِ . مِنْهُمْ : بِلَالٌ ، وَعَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى عُرْوَةَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سات ایسے افراد کو آزاد کروایا تھا جنہیں اللہ کی خاطر عذاب دیا جاتا تھا ان میں ایک سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور سیدنا عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور عروہ تک اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور عروہ تک اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14341
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : نَزَلَتْ فِي أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ : وَمَا لِأَحَدٍ عِنْدَهُ مِنْ نِعْمَةٍ تُجْزَى إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلَى وَلَسَوْفَ يَرْضَى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : یہ آیت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی : ” اور کسی کا اس پر کوئی احسان نہیں ہے ، جس کا بدلہ دیا گیا ہو بلکہ اس نے یہ اپنے برتر پروردگار کی رضا کے حصول کے لئے کیا ہے ، اور وہ پروردگار عنقریب راضی ہو جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مصعب بن ثابت ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مصعب بن ثابت ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14342
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا نَفَعَنَا مَالُ أَحَدٍ مَا نَفَعَنَا مَالُ أَبِي بَكْرٍ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ إِسْحَاقَ بْنِ إِسْرَائِيلَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کسی کے مال نے ہمیں اتنا فائدہ نہیں دیا جتنا ابوبکر کے مال نے ہمیں فائدہ دیا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف اسحاق بن اسرائیل کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ اور مامون ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف اسحاق بن اسرائیل کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ اور مامون ہے ۔
حدیث نمبر: 14343
وَعَنْ عَائِشَةَ فِي قِصَّةِ الْإِفْكِ ، وَفِيهَا : فَقَالَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ يُكَذِّبُ نَفْسَهُ : ¤ حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرَيْبَةٍ وَتُصْبِحُ غَرْثَى مِنْ لُحُومِ الْغَوَافِلِ فَإِنْ كُنْتُ قَدْ قُلْتُ الَّذِي قَدْ ¤ زَعَمْتُمُ فَلَا حَمَلَتْ سَوْطِي إِلَيَّ أَنَامِلِي وَكَيْفَ ؟ وَوِدِّي مَا حَيِيتُ وَنُصْرَتِي ¤ لِآلِ رَسُولِ اللَّهِ زَيْنِ الْمَحَافِلِ أَأَشْتُمُ خَيْرَ الناسِ بَعْلًا وَوَالِدًا وَنَفْسًا ¤ ؟ لَقَدْ أُنْزِلْتُ شَرَّ الْمَنَازِلِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ حَوْثَرَةَ بْنِ أَشْرَسَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا واقعہ افک نقل کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں : سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو جھٹلاتے ہوئے یہ کہا: ” وہ پاکدامن ہیں ، کامل عقل رکھنے والی ہیں ، ان پر کسی مشکوک صورتحال کا الزام عائد نہیں کیا جا سکتا ، وہ ایسی حالت میں صبح کرتی ہیں کہ غافل لوگوں کے گوشت کے حوالے سے وہ بھوکی ہوتی ہیں ( یعنی وہ کسی کی غیبت نہیں کرتی ہیں ) میں اگرچہ پہلے ایسا فرد تھا ، کہ میں نے وہ بات کہی تھی ، جو تم لوگوں کا بیان تھا ، لیکن میری انگلی کے پوروں نے میری چھڑی کو بھی نہیں اُٹھایا ، لیکن اب یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ جبکہ یہ صورتحال ہے کہ جب تک میں زندہ رہا ، میری محبت اور میری مدد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کے لئے ہو گی ، جو محفل کی زینت ہے ، کیا میں اس شخصیت کو برا کہوں گا ، جو اپنے شوہر ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کی نسبت سے ، اپنے والد ( یعنی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ) کی نسبت سے ، اور خود ذاتی اعتبار سے سب لوگوں سے بہتر ہیں ، اگر میں ایسا کروں ( یعنی انہیں برا کہوں ) گا ، تو میں بری جگہ پر پڑاؤ کروں گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف حوثرہ بن اشرس کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف حوثرہ بن اشرس کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 14344
وَعَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ قَالَ : لَا يُعْلَمُ أَرْبَعَةٌ أَدْرَكُوا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبْنَاؤُهُمْ إِلَّا هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعَةُ : أَبُو قُحَافَةَ ، وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَأَبُو عَتِيقِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَاسْمُ أَبِي عَتِيقٍ مُحَمَّدٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
موسیٰ بن عقبہ بیان کرتے ہیں : ایسے افراد کا پتہ نہیں چل سکا جن کی چار پشتوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا ہو ( اور انہیں آپ کے صحابی ہونے کا شرف حاصل ہو ) البتہ ان چار حضرات کا معاملہ مختلف ہے ، سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوعتیق رضی اللہ عنہ بن سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ بن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوعتیق کا نام محمد تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ بن عبدالرحمن بن قاسم بن محمد ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ بن عبدالرحمن بن قاسم بن محمد ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔