حدیث نمبر: 14305
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَبُو بَكْرٍ صَاحِبِي وَمُؤْنِسِي فِي الْغَارِ ، سُدُّوا كُلَّ خَوْخَةٍ فِي الْمَسْجِدِ غَيْرَ خَوْخَةِ أَبِي بَكْرٍ " . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ابوبکر میرا ساتھی ہے ، غار میں میرا غم خوار ہے ، تم مسجد کا ہر دروازہ بند کر دو ، صرف ابوبکر کا دروازہ نہ بند کرنا ۔ “
یہ روایت امام عبداللہ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام عبداللہ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14306
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صُبُّوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ مِنْ آبَارٍ شَتَّى ; حَتَّى أَخْرُجَ إِلَى النَّاسِ فَأَعْهَدَ إِلَيْهِمْ " . ¤ قَالَ : فَخَرَجَ عَاصِبًا رَأْسَهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى صَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِ اللَّهِ خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَ اللَّهِ فَاخْتَارَ مَا عِنْدَ اللَّهِ " . فَلَمْ يُلَقَّنْهَا إِلَّا أَبُو بَكْرٍ ، فَبَكَى . فَقَالَ : نَفْدِيكَ بِآبَائِنَا ، وَأُمَّهَاتِنَا ، وَأَبْنَائِنَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَلَى رَسْلِكَ ، أَفْضَلُ النَّاسِ عِنْدِي فِي الصُّحْبَةِ وَذَاتِ الْيَدِ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ ، انْظُرُوا هَذِهِ الْأَبْوَابَ الشَّوَارِعَ فِي الْمَسْجِدِ فَسُدُّوهَا ، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ بَابِ أَبِي بَكْرٍ ; فَإِنِّي رَأَيْتُ عَلَيْهِ نُورًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، إِلَّا أَنَّهُ زَادَ : وَذَكَرَ قَتْلَى أُحُدٍ فَصَلَّى عَلَيْهِمْ فَأَكْثَرَ . وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ مجھ پر مختلف کنووں سے آیا ہوا پانی بہاؤ تاکہ میں نکل کر لوگوں کے پاس جاؤں اور انہیں تلقین کروں ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نکلے تو آپ نے اپنے سر مبارک پر پٹی باندھی ہوئی تھی ، آپ منبر پر چڑھے ، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے ایک بندے کو دنیا اور اللہ تعالیٰ کے پاس موجود چیز کے درمیان اختیار دیا گیا ، تو اس نے اس چیز کو اختیار کیا جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کی سمجھ صرف سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آئی اور وہ رونے لگ گئے ۔ انہوں نے عرض کی : ہم اپنے آباؤ اجداد اور اپنی ماؤں اور بیٹوں کو آپ پر فدا کر دیں گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنی جگہ رہو ، میرے نزدیک ساتھ کے اعتبار سے اور اچھا سلوک کرنے کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے زیادہ فضیلت ابوقحافہ کا بیٹا رکھتا ہے ، تم ان دروازوں کا جائزہ لو جو مسجد میں آتے ہیں ، تو ابوبکر کی آمد کے مخصوص دروازے کے علاوہ باقی سب کو بند کر دو ، کیونکہ میں نے اس پر نور دیکھا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہدائے احد کا ذکر کرتے ہوئے ان کے لئے بکثرت دعائے رحمت کی ۔ اس روایت کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہدائے احد کا ذکر کرتے ہوئے ان کے لئے بکثرت دعائے رحمت کی ۔ اس روایت کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 14307
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَدِّ الْأَبْوَابِ الَّتِي فِي الْمَسْجِدِ إِلَّا بَابَ أَبِي بَكْرٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ : مُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَهُوَ وَضَّاعٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی آمد کے مخصوص دروازے کے علاوہ مسجد کے تمام دروازے بند کر دینے کا حکم دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی معلیٰ بن عبدالرحمن ہے ، اور وہ حدیث ایجاد کرنے والا شخص ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی معلیٰ بن عبدالرحمن ہے ، اور وہ حدیث ایجاد کرنے والا شخص ہے ۔
حدیث نمبر: 14308
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سُدُّوا عَنِّي كُلَّ بَابٍ إِلَّا بَابَ أَبِي بَكْرٍ ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ابوبکر کے مخصوص دروازے کے علاوہ ہر دروازہ میرے حکم کے تحت بند کر دو ، اگر میں نے کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو میں نے ابوبکر کو خلیل بنا لینا تھا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 14309
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْبَقِيعِ . قُلْتُ : فَذَكَرَ حَدِيثَ مَرَضِهِ إِلَى أَنْ قَالَ : قَالَتْ : فَصَبَنْنَا عَلَيْهِ حَتَّى طَفِقَ يَقُولُ : " حَسْبُكُمْ ، حَسْبُكُمْ " . - قَالَ مُحَمَّدٌ : يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ - ثُمَّ خَرَجَ - كَمَا حَدَّثَنِي أَيُّوبُ بْنُ بَشِيرٍ - عَاصِبًا رَأْسَهُ فَجَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَكَانَ أَوَّلُ مَا تَكَلَّمَ بِهِ أَنْ صَلَّى عَلَى أَصْحَابِ أُحُدٍ فَأَكْثَرَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِمْ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِ اللَّهِ خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ ، فَاخْتَارَ مَا عِنْدَ اللَّهِ " . قَالَ : فَفَهِمَهَا أَبُو بَكْرٍ ، فَبَكَى ، وَعَرَفَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَفْسَهُ يُرِيدُ . قَالَ : " عَلَى رَسْلِكَ يَا أَبَا بَكْرٍ ، انْظُرُوا فِي الْمَسْجِدِ هَذِهِ الْأَبْوَابَ اللَّاصِقَةَ فَسُدُّوهَا ، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ بَيْتِ أَبِي بَكْرٍ ; فَإِنِّي لَا أَعْلَمُ أَحَدًا كَانَ أَفْضَلَ عِنْدِي فِي الصُّحْبَةِ مِنْهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ تَتَضَمَّنُ سَدَّ الْأَبْوَابِ غَيْرِ بَابِهِ فِي أَحَادِيثَ تَأْتِي فِي مَوَاضِعِهَا . إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بقیع سے واپس تشریف لائے ( راوی کہتے ہیں : ) اس کے بعد انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں حدیث ذکر کی ہے ، جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہم نے آپ پر پانی ڈالنا شروع کیا ، یہاں تک آپ نے یہ فرمانا شروع کیا ، بس کافی ہے ، کافی ہے ، یہاں محمد بن اسحاق نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : جس طرح ایوب بن بشیر نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ۔ اس کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر پٹی باندھ کر باہر تشریف لے گئے اور منبر پر تشریف فرما ہوئے ، آپ نے گفتگو کا آغاز اس بات سے کیا کہ آپ نے شہداء احد کے لئے دعائے رحمت کی اور ان کے لئے بکثرت دعا کی ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے کو اللہ تعالیٰ نے دنیا اور اپنے پاس موجود چیز کے درمیان اختیار دیا ، تو اس بندے نے اس چیز کو اختیار کر لیا جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے ، راوی کہتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ بات سمجھ آ گئی اور وہ رونے لگے ، اور انہیں یہ بات پتہ چل گئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات مراد لی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابوبکر ! آرام سے رہو ( پھر آپ نے لوگوں سے فرمایا : ) تم لوگ مسجد کا جائزہ لو ، اس کے ساتھ لگنے والے تمام دروازوں کو بند کر دو ، صرف اس دروازے کو رہنے دو جو ابوبکر کے گھر کی طرف ہے ، کیونکہ مجھے کسی ایسے شخص کا علم نہیں ہے ، جس نے ابوبکر سے زیادہ اچھے طریقے سے میرا ساتھ دیا ہو ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں آگے چل کر کچھ احادیث آئیں گی جو دوسرے باب میں آئیں گی ، جن میں دروازے بند کرنے کا ذکر ہو گا ، اور وہ احادیث اپنے مخصوص مقامات پر آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں آگے چل کر کچھ احادیث آئیں گی جو دوسرے باب میں آئیں گی ، جن میں دروازے بند کرنے کا ذکر ہو گا ، اور وہ احادیث اپنے مخصوص مقامات پر آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔