حدیث نمبر: 14301
عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، فَرَأَيْتُ أَسْمَاءَ قَائِمَةً عَلَى رَأْسِهِ بَيْضَاءَ ، وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ أَبْيَضَ نَحِيفًا ، فَحَمَلَنِي وَأَبِي عَلَى فَرَسَيْنِ ، ثُمَّ عُرِضْنَا عَلَيْهِ وَأَجَازَنَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد کے ساتھ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو میں نے دیکھا کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا ان کے سرہانے کھڑی ہوئی ہیں ۔ وہ سفید رنگت کی خاتون تھیں ۔ میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ بھی سفید رنگت کے کمزور جسم کے مالک شخص تھے ۔ انہوں نے مجھے اور میرے والد کو دو گھوڑے سواری کے لئے دیے پھر ہم نے ان کے سامنے پیشکش کی ، تو انہوں نے ہمیں اجازت دی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14302
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ قَالَ : رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ ، وَكَأَنَّ لِحْيَتَهُ لَهَبُ الْعَرْفَجِ ، عَلَى نَاقَةٍ لَهُ أَدَمًا أَبْيَضَ نَحِيفًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفِ الرَّجُلَ الَّذِي مِنْ بَنِي أَسَدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
بنو اسد سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : غزوہ ذات سلاسل کے موقع پر میں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، ان کی داڑھی عرفج نامی درخت کی طرح سرخ تھی ، وہ اپنی اونٹنی پر سوار تھے ، وہ سفید رنگت کے مالک کمزور جسم والے شخص تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور میں اس شخص سے واقف نہیں ہوں ، جس کا تعلق بنو اسد سے ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور میں اس شخص سے واقف نہیں ہوں ، جس کا تعلق بنو اسد سے ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14303
وَعَنْ عَائِشَةَ : أَنَّهَا رَأَتْ رَجُلًا مَارًّا وَهِيَ فِي هَوْدَجِهَا ، فَقَالَتْ : مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشْبَهَ مِنْ أَبِي بَكْرٍ مِنْ هَذَا ، فَقِيلَ لَهَا : صِفِي لَنَا أَبَا بَكْرٍ . فَقَالَتْ : كَانَ رَجُلًا أَبْيَضَ نَحِيفًا ، خَفِيفَ الْعَارِضَيْنِ ، أَحْنًا لَا تَسْتَمْسِكُ إِزْرَتُهُ تَسْتَرْخِي عَنْ حِقْوَيْهِ ، مَعْرُوقَ الْوَجْهِ ، غَائِرَ الْعَيْنَيْنِ ، نَاتِئَ الْجَبْهَةِ ، عَارِيَ الْأَشَاجِعِ . هَذِهِ صِفَتُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْوَاقِدَيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْخِضَابِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ اپنے ہودج میں موجود تھیں ، انہوں نے ایک شخص کو گزرتے ہوئے دیکھا ، تو یہ فرمایا : میں نے کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا ، جو اس شخص سے زیادہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مشابہت رکھتا ہو ، ان سے کہا: گیا : آپ ہمارے سامنے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا حلیہ بیان کریں ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : وہ سفید رنگت کے مالک کمزور جسم والے ہلکے رخساروں والے ایک شخص تھے ، ان کا تہبند ایک جگہ پر ٹکتا نہیں تھا ، بلکہ ان کے پہلو سے ڈھلک جاتا تھا ، ان کے چہرے پر گوشت کم تھا ، آنکھیں اندر کی طرف دھنسی ہوئی تھیں ، پیشانی ابھری ہوئی تھی اور انگلیوں کے جوڑوں پر گوشت کم تھا ، یہ ان کا حلیہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے خضاب لگانے سے متعلق باب میں کچھ احادیث گزر چکی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے خضاب لگانے سے متعلق باب میں کچھ احادیث گزر چکی ہیں ۔
حدیث نمبر: 14304
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : مَرَّ بِي أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوٍ أَوْ حَجٍّ فَتَأَمَّلْتُهُمْ ، فَلَمْ أَرَ مِنْهُمْ أَحْسَنَ هَيْئَةً مِنْ أَبِي بَكْرٍ ; قَدْ جَلَّلَ عَلَيْهِ كِسَاءً مِنَ الْحَرِّ وَالْبَرْدِ . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي كَرَاهِيَةِ الْإِمَارَةِ فِي الْخِلَافَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رافع بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک جنگ میں یا شاید حج کے موقع پر ( یہ شک راوی کو ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب میرے پاس سے گزرے ، میں نے ان کا بغور جائزہ لیا ، تو میں نے ان میں کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا ، جو ظاہری اعتبار سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے زیادہ خوبصورت ہو ، انہوں نے گرمی سردی سے بچنے والی چادر اپنے اوپر اوڑھی ہوئی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو اس سے پہلے کتاب الخلافہ میں حکومت کے ناپسندیدہ ہونے سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔