کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 14288
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ ، اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَامِرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ كَعْبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ بْنِ لُؤَيٍّ . شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . وَأُمُّ أَبِي بَكْرٍ : أُمُّ الْخَيْرِ : سَلْمَى بِنْتُ صَخْرِ بْنِ عَامِرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ كَعْبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ بْنِ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبِ بْنِ فِهْرِ بْنِ مَالِكٍ ، وَأُمُّ أُمِّ الْخَيْرِ : دِلَافُ وَهِيَ أُمَيْمَةُ بِنْتُ عُبَيْدِ بْنِ النَّاقِدِ الْخُزَاعِيِّ . ¤ وَجَدَّةُ أَبِي بَكْرٍ أُمُّ أَبِي قُحَافَةَ : أَمِينَةُ بِنْتُ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ حُرْثَانَ بْنِ عَوْفِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُوَيْجِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر بن صدیق رضی اللہ عنہ کا نام : عبداللہ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن لؤی تھا ۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدر میں شرکت کی ہے ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی والدہ ام الخیر سلمہ بنت صخر بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن لؤی بن غالب بن فہر بن مالک ہیں ، اور ام الخیر کی والدہ ” دلاف“ ہیں ، جن کا نام امیمہ بنت عبید بن ناقد خزاعی ہے ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی دادی یعنی سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کی والدہ امینہ بنت عبدالعزیٰ بن حرثان بن عوف بن عبید بن عویج بن عدی بن کعب ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14288
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1)»
حدیث نمبر: 14289
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَظَرَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ : " هَذَا عَتِيقُ اللَّهِ مِنَ النَّارِ " . فَمِنْ يَوْمِئِذٍ سُمِّيَ : عَتِيقًا ، وَكَانَ قَبْلَ ذَلِكَ اسْمُهُ : عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُثْمَانَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھ کر یہ ارشاد فرمایا : ” یہ جہنم سے اللہ تعالیٰ کا آزاد کردہ شخص ہے ۔ “ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو اس دن سے ان کا نام عتیق پڑ گیا اس سے پہلے ان کا نام عبداللہ بن عثمان تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14289
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2483) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7)»
حدیث نمبر: 14290
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : وَاللَّهِ إِنِّي لَفِي بَيْتِي ذَاتَ يَوْمٍ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْفِنَاءِ وَأَصْحَابُهُ ، وَالسِّتْرُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ ، إِذْ أَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى عَتِيقٍ مِنَ النَّارِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ ، وَإِنَّ اسْمَهُ الَّذِي سَمَّاهُ أَهْلُهُ : لَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، فَغَلَبَ عَلَيْهِ اسْمُ عَتِيقٍ " . ¤ قُلْتُ : بَعْضُهُ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطَّلْحِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اللہ کی قسم ! ایک دن میں اپنے گھر میں موجود تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب صحن میں موجود تھے ، میرے اور ان لوگوں کے درمیان پردہ حائل تھا ، اسی دوران سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ جہنم سے آزاد شدہ کسی شخص کو دیکھے تو اسے ابوبکر کو دیکھ لینا چاہیے ۔ “ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وہ نام جو ان کے گھر والوں نے رکھا تھا وہ عبداللہ بن عثمان تھا ، لیکن پھر بعد میں ان کا نام عتیق مشہور ہو گیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس روایت کا کچھ حصہ امام ترمذی نے نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن موسیٰ طلحی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14290
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4899) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10)»
حدیث نمبر: 14291
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَسْلَمَتْ أُمُّ أَبِي بَكْرٍ ، وَأُمُّ عُثْمَانَ ، وَأُمُّ طَلْحَةَ ، وَأُمُّ الزُّبَيْرِ ، وَأُمُّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَأُمُّ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، وَإِنَّمَا سُمِّيَ : عَتِيقَ بْنَ عُثْمَانَ ; لِحُسْنِ وَجْهِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی والدہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی والدہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کی والدہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی والدہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی والدہ اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی والدہ ( ان سب خواتین نے ) اسلام قبول کیا تھا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا نام عتیق بن عثمان رکھا گیا تھا ، کیونکہ ان کا چہرہ خوبصورت تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن شبیب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14291
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3)»
حدیث نمبر: 14292
وَعَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : إِنَّمَا سُمِّيَ أَبُو بَكْرٍ عَتِيقًا ; لِعَتَاقَةِ وَجْهِهِ ، وَكَانَ اسْمُهُ : عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُثْمَانَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
لیث بن سعد بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا نام عتیق ان کے چہرے کی خوبصورتی کی وجہ سے رکھا گیا تھا ، ویسے ان کا نام عبداللہ بن عثمان تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14292
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4)»
حدیث نمبر: 14293
عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ اسْمِ أَبِي بَكْرٍ ، فَقَالَتْ : عَبْدُ اللَّهِ ، فَقُلْتُ : إِنَّهُمْ يَقُولُونَ : عَتِيقٌ ؟ فَقَالَتْ : إِنَّ أَبَا قُحَافَةَ كَانَ لَهُ ثَلَاثَةٌ ، فَسَمَّى وَاحِدًا عَتِيقًا ، وَمُعَيْتِقًا ، وَمُعَتَّقًا . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ أَبِي قَيْسٍ الْبُخَارِيُّ ، فَإِنْ كَانَ ثِقَةً فَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں : میں نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نام کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے جواب دیا : عبداللہ نے کہا: لوگ تو یہ کہتے ہیں ان کا نام تحقیق تھا ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کے تین بیٹے تھے ۔ ان میں سے ایک کا نام انہوں نے عتیق رکھا تھا ایک کا معیتق رکھا اور ایک کا معتق رکھا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ابوقیس بخاری ہے ، اگر تو وہ ثقہ ہو ، تو پھر اس روایت کی سند حسن ہو گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14293
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبان فى المعجم الكبير (6)»
حدیث نمبر: 14294
وَعَنْ أَبِي حَفْصٍ عَمْرِو بْنِ عَلِيٍّ : أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : كَانَ أَبُو بَكْرٍ مَعْرُوقَ الْوَجْهِ ، وَإِنَّمَا سُمِّيَ عَتِيقًا لِعَتَاقَةِ وَجْهِهِ ، وَكَانَ اسْمُهُ : عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُثْمَانَ ، وَقَدْ رُوِيَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمَّاهُ عَتِيقًا مِنَ النَّارِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوحفص عمرو بن علی کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ فرماتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے چہرے پر گوشت کم تھا ، اور ان کا نام ” عتیق “ ان کے چہرے کی خوبصورتی کی وجہ سے رکھا گیا تھا ، ویسے ان کا نام عبداللہ بن عثمان تھا ۔
یہ روایت بھی نقل کی گئی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام ” عتیق “ یعنی جہنم سے آزاد شده شخص رکھا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند عمدہ اور حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14294
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5)»
حدیث نمبر: 14295
وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا يَحْلِفُ : لَلَّهُ أَنْزَلَ اسْمَ أَبِي بَكْرٍ مِنَ السَّمَاءِ الصِّدِّيقَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
حکیم بن سعد بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حلف اٹھا کر یہ کہتے ہوئے سنا : ” اللہ تعالیٰ نے آسمان سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا نام ” صدیق “ نازل کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14295
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (14)»
حدیث نمبر: 14296
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عُرِجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، فَمَا مَرَرْتُ بِسَمَاءٍ إِلَّا وَجَدْتُ فِيهَا اسْمِي : مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ، وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ ، مِنْ خَلْفِي " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغِفَارِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے آسمان دنیا کی طرف معراج کروائی گئی ، میں جس بھی آسمان کے پاس سے گزرا وہاں میں نے اپنا نام ” محمد رسول اللہ “ پایا ، اور میرے پیچھے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ( کا نام ) تھا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ابراہیم غفاری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14296
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6607)»
حدیث نمبر: 14297
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَمَّا عُرِجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ ، مَا مَرَرْتُ بِسَمَاءٍ إِلَّا وَجَدْتُ اسْمِي فِيهَا مَكْتُوبًا : مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ، أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغِفَارِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب مجھے آسمان کی طرف معراج کروائی گئی ، تو میں جس بھی آسمان سے گزرا وہاں میں نے اپنا نام یہ لکھا ہوا پایا ” محمد اللہ کے رسول ہیں “ ( اور ساتھ یہ لکھا ہوا تھا ) ” ابوبکر صدیق ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ابراہیم غفاری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14297
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2482)»
حدیث نمبر: 14298
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ : " إِنَّ قَوْمِي لَا يُصَدِّقُونِي " . فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ : " يُصَدِّقُكَ أَبُو بَكْرٍ ، وَهُوَ الصِّدِّيقُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں جس رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کروائی گئی ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : میری قوم میری بات کی تصدیق نہیں کرے گی ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے آپ کی خدمت میں عرض کی : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کی تصدیق کریں گے ، اور وہ صدیق ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14298
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 14299
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهَ :” «إِنَّ قَوْمِي يَتَّهِمُونِي» “ ۔ وَفِي أَحَدِ إِسْنَادَيْهِ أَبُو وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ۔
محمد محی الدین
ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” میری قوم مجھ پر تہمت عائد کرے گی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس کی دو اسناد میں سے ایک سند میں ایک راوی ابووہب ہے ، جس نے اسے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14299
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14300
وَعَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا أُسْرِيَ بِهِ : " إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى قُرَيْشٍ فَأُخْبِرَهُمْ " . فَكَذَّبُوهُ وَصَدَقَهُ أَبُو بَكْرٍ ; فَسُمِّيَ يَوْمَئِذٍ : الصِّدِّيقَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جس رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کروائی گئی ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : میں نکل کر قریش کی طرف جاتا ہوں اور انہیں اس بارے میں بتاتا ہوں ( جب آپ نے لوگوں کو اس بارے میں بتایا ) تو لوگوں نے آپ کو جھوٹا قرار دیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کی تصدیق کی ، تو اس دن ان کا نام صدیق رکھا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلی بن ابومساور ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14300
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (15)»