کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس چیز کا بیان کہ نبی اکرم ﷺ نے کیا ترکہ چھوڑا ؟
عَنْ عُمَرَ قَالَ : لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جِئْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ إِلَى عَلِيٍّ ، فَقُلْنَا : مَا تَقُولُ فِيمَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَحْنُ أَحَقُّ النَّاسِ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : فَقُلْتُ : وَالَّذِي بِخَيْبَرَ ؟ قَالَ : وَالَّذِي بِخَيْبَرَ . قُلْتُ : وَالَّذِي بِفَدَكٍ ؟ قَالَ : وَالَّذِي بِفَدَكٍ . فَقُلْتُ : أَمَا وَاللَّهِ حَتَّى تُحِزُّوا رِقَابَنَا بِالْمَنَاشِيرِ فَلَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ، تو میں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، ہم نے کہا: اللہ کے رسول نے جو کچھ چھوڑا ہے ، اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعلق کی وجہ سے ہم ، لوگوں سے زیادہ حق رکھتے ہیں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے کہا: اس چیز کے بارے میں جو خیبر میں ہے ؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے بارے میں جو خیبر میں ہے ، میں نے کہا: اس کے بارے میں جو فدک میں ہے ؟ انہوں نے کہا: اس کے بارے میں جو فدک میں ہے ۔ تو میں نے کہا: اللہ کی قسم ! آپ ہماری گردن آرے کے ذریعے چیر دیں گے ، تو بھی ایسا نہیں ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن جعفر بن ابراہیم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن جعفر بن ابراہیم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ جُوَيْرِيَةَ قَالَ : مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ تُوفِّيَ إِلَّا بَغْلَةً بَيْضَاءَ ، وَسِلَاحَهُ ، وَأَرْضًا جَعَلَهَا صَدَقَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا ، تو آپ نے ترکہ میں صرف ایک سفید خچر اپنا اسلحہ اور ایک زمین چھوڑی تھی ، جسے آپ نے صدقہ قرار دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْفَيْضُ بْنُ وَثِيقٍ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہماری ( یعنی انبیاء کرام علیہم السلام کی ) وراثت نہیں ہوتی ہے ، ہم جو چھوڑ کے جائیں ، وہ صدقہ ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فیض بن وثیق ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فیض بن وثیق ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّا لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہماری ( یعنی انبیاء کرام علیہم السلام کی ) وراثت منتقل نہیں ہوتی ہے ، ہم جو چھوڑ کے جائیں ، وہ صدقہ ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمرو بجلی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمرو بجلی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔