حدیث نمبر: 14284
عَنْ عُمَرَ قَالَ : لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جِئْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ إِلَى عَلِيٍّ ، فَقُلْنَا : مَا تَقُولُ فِيمَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَحْنُ أَحَقُّ النَّاسِ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : فَقُلْتُ : وَالَّذِي بِخَيْبَرَ ؟ قَالَ : وَالَّذِي بِخَيْبَرَ . قُلْتُ : وَالَّذِي بِفَدَكٍ ؟ قَالَ : وَالَّذِي بِفَدَكٍ . فَقُلْتُ : أَمَا وَاللَّهِ حَتَّى تُحِزُّوا رِقَابَنَا بِالْمَنَاشِيرِ فَلَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ، تو میں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، ہم نے کہا: اللہ کے رسول نے جو کچھ چھوڑا ہے ، اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعلق کی وجہ سے ہم ، لوگوں سے زیادہ حق رکھتے ہیں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے کہا: اس چیز کے بارے میں جو خیبر میں ہے ؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے بارے میں جو خیبر میں ہے ، میں نے کہا: اس کے بارے میں جو فدک میں ہے ؟ انہوں نے کہا: اس کے بارے میں جو فدک میں ہے ۔ تو میں نے کہا: اللہ کی قسم ! آپ ہماری گردن آرے کے ذریعے چیر دیں گے ، تو بھی ایسا نہیں ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن جعفر بن ابراہیم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14284
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف