حدیث نمبر: 14251
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : نُعِيَ إِلَيْنَا حَبِيبُنَا وَنَبِيُّنَا ، بِأَبِي هُوَ وَنَفْسِي لَهُ الْفِدَاءُ ، قَبْلَ مَوْتِهِ بِسِتٍّ ، فَلَمَّا دَنَا الْفِرَاقُ ، جَمَعَنَا فِي بَيْتِ أُمِّنَا عَائِشَةَ ، فَنَظَرَ إِلَيْنَا ، فَدَمَعَتْ عَيْنَاهُ ، ثُمَّ قَالَ : " مَرْحَبًا بِكُمْ ، وَحَيَّاكُمُ اللَّهُ ، وَحَفِظَكُمُ اللَّهُ ، آوَاكُمُ اللَّهُ ، وَنَصَرَكُمُ اللَّهُ ، هَدَاكُمُ اللَّهُ ، رَزَقَكُمُ اللَّهُ ، وَفَّقَكُمُ اللَّهُ ، سَلَّمَكُمُ اللَّهُ ، قَبِلَكُمُ اللَّهُ ، أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ ، وَأُوصِي اللَّهَ بِكُمْ ، وَأَسْتَخْلِفُهُ عَلَيْكُمْ ، إِنِّي لَكَمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ أَلَّا تَعْلُوا عَلَى اللَّهِ فِي عِبَادِهِ وَبِلَادِهِ ; فَإِنَّ اللَّهَ قَالَ لِي وَلَكُمْ : " تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ " ، وَقَالَ : " أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِلْمُتَكَبِّرِينَ " . ثُمَّ قَالَ : " قَدْ دَنَا الْأَجَلُ وَالْمُنْقَلَبُ إِلَى اللَّهِ ، وَإِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى ، وَإِلَى جَنَّةِ الْمَأْوَى ، وَالْكَأْسِ الْأَوْفَى ، وَالرَّفِيقِ الْأَعْلَى " . أَحْسَبُهُ قَالَ : فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَنْ يُغَسِّلُكَ إِذًا ؟ قَالَ : " رِجَالُ أَهْلِ بَيْتِي ، الْأَدْنَى فَالْأَدْنَى " . قُلْنَا : فَفِيمَ نُكَفِّنُكَ ؟ قَالَ : " فِي ثِيَابِي هَذِهِ - إِنْ شِئْتُمْ - أَوْ فِي حُلَّةٍ يَمَنِيَّةٍ ، أَوْ فِي بَيَاضِ مِصْرَ " . ¤ قَالَ : فَقُلْنَا : فَمَنْ يُصَلِّي عَلَيْكَ مِنَّا ؟ فَبَكَيْنَا ، وَبَكَى ، وَقَالَ : " مَهْلًا ، غَفَرَ اللَّهُ لَكَمْ ، وَجَازَاكُمْ عَنْ نَبِيِّكِمْ خَيْرًا ، إِذَا غَسَّلْتُمُونِي وَوَضَعْتُمُونِي عَلَى سَرِيرِي فِي بَيْتِي هَذَا عَلَى شَفِيرِ قَبْرِي فَاخْرُجُوا عَنِّي سَاعَةً ; فَإِنَّ أَوَّلَ مَنْ يُصَلِّي عَلَيَّ خَلِيلِي وَجَلِيسِي جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ مِيكَائِيلُ ، ثُمَّ إِسْرَافِيلُ ، ثُمَّ مَلَكُ الْمَوْتِ مَعَ جُنُودِهِ ، ثُمَّ الْمَلَائِكَةُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمْ بِأَجْمَعِهَا ، ثُمَّ ادْخُلُوا عَلَيَّ فَوْجًا فَوْجًا ، فَصَلُّوا عَلَيَّ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ، وَلَا تُؤْذُونِي بِبَاكِيَةٍ - أَحْسَبُهُ قَالَ : - وَلَا صَارِخَةٍ ، وَلَا رَانَّةٍ ، وَلْيَبْدَأْ بِالصَّلَاةِ عَلَيَّ رِجَالُ أَهْلِ بَيْتِي ، ثُمَّ أَنْتُمْ بَعْدُ ، وَأَقْرِئُوا أَنْفُسَكُمْ مِنِّي السَّلَامَ ، وَمَنْ غَابَ مِنْ إِخْوَانِي فَأَقْرِئُوهُ مِنِّي السَّلَامَ ، وَمَنْ دَخَلَ مَعَكُمْ فِي دِينِكُمْ بَعْدِي فَإِنِّي أُشْهِدُكُمُ أَنِّي أَقْرَأُ السَّلَامَ - أَحْسَبُهُ قَالَ : - عَلَيْهِ ، وَعَلَى كُلِّ مَنْ تَابَعَنِي عَلَى دِينِي ، مِنْ يَوْمِي هَذَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَنْ يُدْخِلُكَ قَبْرَكَ مِنَّا ؟ قَالَ : " رِجَالُ أَهْلِ بَيْتِي ، مَعَ مَلَائِكَةٍ كَثِيرَةٍ يَرَوْنَكُمْ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَقَالَ : رُوِيَ هَذَا عَنْ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ ، وَالْأَسَانِيدُ عَنْ مُرَّةَ مُتَقَارِبَةٌ . وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ لَمْ يَسْمَعْ هَذَا مِنْ مُرَّةَ ، إِنَّمَا أُخْبِرَهُ عَنْ مُرَّةَ ، وَلَا نَعْلَمُ رَوَاهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ غَيْرَ مُرَّةَ ، قُلْتُ : رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَمُرَةَ الْأَحْمَسِيُّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرٍ . وَذَكَرَ فِي إِسْنَادِهِ ضُعَفَاءَ مِنْهُمْ : أَشْعَثُ بْنُ طَابَقٍ . قَالَ الْأَزْدِيُّ : لَا يَصِحُّ حَدِيثُهُ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہمیں ہمارے حبیب اور نبی کے وصال کی اطلاع دی گئی ، میرے باپ اور میری جان ، ان کے فدیے میں دیدیے جائیں ، یہ آپ کے وصال سے چھ دن پہلے بتایا گیا ، جب جدائی کا وقت قریب آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں جمع کیا ، آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگوں کو خوش آمدید ہے ! اللہ تعالیٰ تمہیں زندگی دے ، اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے ، اللہ تعالیٰ تمہیں پناہ دے ، اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے ، اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت پر ثابت رکھے ، اللہ تعالیٰ تمہیں رزق نصیب کرے ، اللہ تعالیٰ تمہیں توفیق عطا کرے ، اللہ تعالیٰ تمہیں سلامت رکھے ، اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال قبول کرے ، میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہوں ، اور اللہ تعالیٰ سے تمہارے لئے دعا کرتا ہوں ، اور اسے تمہارا نگہبان بناتا ہوں ، بے شک میں تمہیں ڈرانے والا تھا ، جو واضح طور پر ڈراتا ہے ، تم اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف اس کے بندوں یا اس کے شہروں میں کوئی زیادتی نہ کرنا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے اور تم لوگوں سے یہ فرمایا ہے : ” وہ آخرت کا گھر ہے ، جسے ہم نے ان لوگوں کے لئے بنایا ہے ، جو زمین میں بالادستی ( یعنی تکبر ) اور فساد کا ارادہ نہیں کرتے اور اچھا انجام پرہیزگاروں کے لئے ہے ۔ “ اور اس نے یہ بھی فرمایا ہے : ” کیا جہنم تکبر کرنے والوں کا ٹھکانہ نہیں ہے ۔ “ پھر آپ نے فرمایا : موت کا وقت قریب آ گیا ہے ، اور لوٹ کے اللہ تعالیٰ کی طرف جانا ہے ، اور سدرۃ المنتہیٰ کی طرف اور جنت الماویٰ کی طرف جانا ہے ، اور بھرپور پیالے کی طرف اور رفیق اعلیٰ کی طرف جانا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایسی صورت میں آپ کو غسل کون دے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے اہل بیت سے تعلق رکھنے والے افراد ، جو درجہ بدرجہ قریبی ہوں ، ہم نے عرض کی : ہم آپ کو کفن کسی چیز میں دیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے انہی کپڑوں میں ، اگر تم چاہو ، یا پھر یمنی کپڑوں میں ، یا پھر مضر کے سفید لباس میں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی : ہم میں سے کون آپ کی نماز جنازہ ادا کرے گا ؟ ہم رونے لگے ، آپ بھی رونے لگے ، آپ نے فرمایا : ٹھہر جاؤ ! اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کرے اور تمہیں تمہارے نبی کی طرف سے جزائے خیر دے ، جب تم مجھے غسل دے دو ! اور مجھے میرے پلنگ پر رکھ دو ، اور مجھے اس گھر میں رکھنا اور وہ پلنگ میری قبر کے کنارے رکھ دینا ، پھر تم میرے پاس سے کچھ دیر کے لئے نکل جانا ، کیونکہ سب سے پہلے میری نماز جنازہ میرا ساتھی اور میرا ہمنشین جبرائیل ادا کرے گا ، پھر میکائیل ، پھر اسرافیل ، پھر ملک الموت ، اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ادا کرے گا ، پھر تمام فرشتے ادا کریں گے ، پھر تم لوگ گروہوں کی شکل میں میرے پاس آنا ، مجھ پر درود بھیجنا اور سلام بھیجنا اور کسی رونے والے کے ذریعے تم مجھے اذیت نہ پہنچانا ، کوئی عورت چیخے نہیں ، کوئی واویلا نہ کرے ، میرے گھر کے افراد کے مرد مجھ پر درود بھیجنے کا آغاز کریں گے اور اس کے بعد تم لوگ کرنا اور میری طرف سے تم لوگ اپنے اوپر سلام بھیجنا ، میرے جو بھائی یہاں موجود نہیں ہیں ، انہیں سلام پہنچا دینا اور جو شخص تمہارے ساتھ تمہارے دین میں میرے بعد داخل ہو ، تو میں تم لوگوں کو گواہ بنا کر کہہ رہا ہوں کہ میں اسے سلام بھیج رہا ہوں اور ہر اس شخص کو ، جو آج کے اس دن سے لے کر قیامت تک میرے دین کے حوالے سے میری پیروی کرے گا ۔ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کو ہم میں سے کون قبر میں داخل کرے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے اہل بیت کے مرد کریں گے ، ان کے ساتھ بہت سے فرشتے ہوں گے ، وہ تمہیں دیکھ رہے ہوں گے ، لیکن تم انہیں نہیں دیکھ پا رہے ہو گے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ یہ کہتے ہیں : یہ روایت مرہ کے حوالے سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور سند کے ساتھ بھی منقول ہے ، اور مرہ سے منقول اسانید متقارب ہیں ، عبدالرحمن نامی راوی نے یہ روایت مرہ سے نہیں سنی ہے ، انہوں نے اسے مرہ کے حوالے سے بیان کیا ہے ، لیکن ہمارے علم کے مطابق مرہ کے علاوہ اور کسی نے اسے سیدنا عبداللہ رحمہ اللہ سے نقل نہیں کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف محمد بن اسماعیل بن سمرہ احمسی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال سے ایک ماہ پہلے ایسا ہوا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی سند میں ضعیف راویوں کا ذکر کیا ہے ، جن میں سے ایک اشعث بن طابق ہے ، ازدی کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث مستند نہیں ہوتی ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ یہ کہتے ہیں : یہ روایت مرہ کے حوالے سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور سند کے ساتھ بھی منقول ہے ، اور مرہ سے منقول اسانید متقارب ہیں ، عبدالرحمن نامی راوی نے یہ روایت مرہ سے نہیں سنی ہے ، انہوں نے اسے مرہ کے حوالے سے بیان کیا ہے ، لیکن ہمارے علم کے مطابق مرہ کے علاوہ اور کسی نے اسے سیدنا عبداللہ رحمہ اللہ سے نقل نہیں کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف محمد بن اسماعیل بن سمرہ احمسی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال سے ایک ماہ پہلے ایسا ہوا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی سند میں ضعیف راویوں کا ذکر کیا ہے ، جن میں سے ایک اشعث بن طابق ہے ، ازدی کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث مستند نہیں ہوتی ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔