کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نبی اکرم ﷺ کی امت کو ، آپ کے وصال کے بعد آپ ﷺ کے استغفار مین سے کیا چیز حاصل ہے ؟
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ ، يُبَلِّغُونَ عَنْ أُمَّتِي السَّلَامَ " . قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَيَاتِي خَيْرٌ لَكَمْ تُحْدِثُونَ وَيُحَدَثُ لَكَمْ ، وَوَفَاتِي خَيْرٌ لَكَمْ تُعْرَضُ عَلَيَّ أَعْمَالُكُمْ ، فَمَا رَأَيْتُ مِنْ خَيْرٍ حَمَدَتُ اللَّهَ عَلَيْهِ ، وَمَا رَأَيْتُ مِنْ شَرٍّ اسْتَغْفَرْتُ اللَّهَ لَكَمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو گھومتے پھرتے رہتے ہیں اور وہ میری امت کی طرف سے سلام مجھ تک پہنچاتے ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری زندگی ، تمہارے حق میں بہتر ہے ، تم لوگ بات چیت کر لیتے ہو اور تمہارے ساتھ بات چیت کر لی جاتی ہے ، اور میری وفات بھی تمہارے لئے بہتر ہو گی ، کیونکہ تمہارے اعمال میرے سامنے پیش کیے جائیں گے ، تو میں جو بھلائی کی چیز دیکھوں گا ، اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کروں گا ، اور میں جو برائی کی چیز دیکھوں گا ، تو تمہارے لئے اللہ تعالیٰ سے دعائے مغفرت کروں گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14250
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (845)»