حدیث نمبر: 14252
عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ قَالَ : جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ ، فَوَجَدْتُهُ مَوْعُوكًا ، قَدْ عَصَبَ رَأْسَهُ قَالَ : " خُذْ بِيَدِي يَا فَضْلُ " . فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمِنْبَرِ ، فَجَلَسَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " صِحْ فِي النَّاسِ " . فَصِحْتُ فِي النَّاسِ فَاجْتَمَعَ نَاسٌ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي قَدْ دَنَا مِنِّي حُقُوقٌ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِكُمْ ; فَمَنْ كُنْتُ جَلَدْتُ لَهُ ظَهْرًا فَهَذَا ظَهْرِي فَلْيَسْتَقِدْ مِنْهُ ، أَلَا وَمَنْ كُنْتُ قَدْ شَتَمْتُ لَهُ عِرْضًا فَهَذَا عِرْضِي فَلْيَسْتَقِدْ مِنْهُ ، وَمَنْ كُنْتُ أَخَذْتُ لَهُ مَالًا فَهَذَا مَالِي فَلْيَسْتَقِدْ مِنْهُ ، لَا يَقُولَنَّ رَجُلٌ : إِنِّي أَخْشَى الشَّحْنَاءَ مِنْ قِبَلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَلَا وَإِنَّ الشَّحْنَاءَ لَيْسَتْ مِنْ طَبِيعَتِي وَلَا مِنْ شَأْنِي ، أَلَا وَإِنَّ أَحَبَّكُمُ إِلَيَّ مَنَ أَخَذَ حَقًّا إِنْ كَانَ لَهُ ، أَوْ حَلَّلَنِي ، فَلَقِيتُ اللَّهَ وَأَنَا طَيِّبُ النَّفْسِ ، أَلَا وَإِنِّي لَا أَرَى ذَلِكَ مُغْنِيًا عَنِّي حَتَّى أَقُومَ فِيكُمْ مِرَارًا " . ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ عَادَ إِلَى الْمِنْبَرِ ، فَعَادَ لِمَقَالَتِهِ فِي الشَّحْنَاءِ أَوْ غَيْرِهَا ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَيْءٌ فَلْيَرُدَّهُ ، وَلَا يَقُلْ : فُضُوحُ الدُّنْيَا ، أَلَا وَإِنَّ فُضُوحَ الدُّنْيَا أَيْسَرُ مِنْ فُضُوحِ الْآخِرَةِ " . فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي عِنْدَكَ ثَلَاثَةَ دَرَاهِمَ . قَالَ : " أَمَا إِنَّا لَا نُكَذِّبُ قَائِلًا ، وَلَا نَسْتَحْلِفُهُ ، فَبِمَ صَارَتْ لَكَ عِنْدِي ؟ " . قَالَ : تَذْكُرُ يَوْمَ مَرَّ بِكَ مِسْكِينٌ فَأَمَرْتَنِي أَنْ أَدْفَعَهَا إِلَيْهِ ؟ فَقَالَ : " ادْفَعْهَا إِلَيْهِ يَا فَضْلُ " . ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ آخَرُ قَالَ : عِنْدِي ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ غَلَلْتُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ . قَالَ : " وَلِمَ غَلَلْتَهَا ؟ " . قَالَ : كُنْتُ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا . قَالَ : " خُذْهَا يَا فَضْلُ " . ثُمَّ قَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، مَنْ خَشِيَ مِنْ نَفْسِهِ شَيْئًا فَلْيَقُمْ أَدْعُ لَهُ " . فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ إِنِّي لَكَذَّابٌ ، وَإِنِّي لَمُنَافِقٌ ، وَإِنِّي لَنَؤُومٌ ؟ قَالَ : " اللَّهُمَّ ارْزُقْهُ صِدْقًا ، وَإِيمَانًا ، وَأَذْهِبْ عَنْهُ النَّوْمَ إِذَا أَرَادَ " . ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَكَذَّابٌ ، وَإِنِّي لَمُنَافِقٌ ، وَمَا مِنْ شَيْءٍ مِنَ الْأَشْيَاءِ إِلَّا وَقَدْ أَتَيْتُهُ ! فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : يَا هَذَا فَضَحْتَ نَفْسَكَ ! قَالَ : " مَهْ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، فُضُوحُ الدُّنْيَا أَيْسَرُ مِنْ فُضُوحِ الْآخِرَةِ " . ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ ارْزُقْهُ صِدْقًا ، وَإِيمَانًا ، وَصَيِّرْ أَمْرَهُ إِلَى خَيْرٍ " . ¤ فَكَلَّمَهُمْ عُمَرُ بِكَلِمَةٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عُمَرُ مَعِي ، وَأَنَا مَعَهُ ، وَالْحَقُّ بَعْدِي مَعَ عُمَرَ حَيْثُ كَانَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ : فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي رَجُلٌ جَبَانٌ ، كَثِيرُ النَّوْمِ . قَالَ : فَدَعَا لَهُ . قَالَ الْفَضْلُ : فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَشْجَعَنَا ، وَأَقَلَّنَا نَوْمًا . قَالَ : ثُمَّ أَتَى بَيْتَ عَائِشَةَ ، فَقَالَ لِلنِّسَاءِ مِثْلَ مَا قَالَ لِلرِّجَالِ ، ثُمَّ قَالَ : " وَمَنْ غَلَبَ عَلَيْهِ شَيْءٌ فَلْيَسْأَلْنَا نَدْعُ لَهُ " . قَالَ : فَأَوْمَأَتِ امْرَأَةٌ إِلَى لِسَانِهَا قَالَ : فَدَعَا لَهَا . قَالَ : فَلَرُبَّمَا قَالَتْ لِي : يَا عَائِشَةُ ، أَحْسِنِي صَلَاتَكِ . ¤ وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ، میں نکل کر آپ کے پاس گیا ، تو میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ بیمار ہیں اور آپ نے سر پر پٹی باندھی ہوئی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے فضل ! میرا ہاتھ پکڑ لو ، میں نے آپ کا ہاتھ پکڑا ، یہاں تک کہ آپ منبر کے پاس تشریف لائے ، آپ اس پر تشریف فرما ہوئے ، پھر آپ نے فرمایا : لوگوں کو میرے پاس آنے کے لئے اعلان کر دو ، میں نے لوگوں میں جا کے اعلان کیا تو لوگ اکٹھے ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! تم لوگوں کے درمیان کچھ ایسے امور ہو سکتے ہیں ، جو میرے ذمہ لازم ہو چکے ہوں ، تو جس شخص کی پشت پر میں نے کوڑا مارا ہو ، تو یہ میری پشت موجود ہے ، وہ بدلہ لے ، خبردار ! کسی شخص کو میں نے برا بھلا کہا: ہو ، تو یہ میری عزت موجود ہے ، وہ بدلہ لے ، جس شخص سے میں نے مال لیا ہو ، تو یہ مال موجود ہے ، وہ بدلہ لے ، کوئی بھی شخص یہ ہرگز نہ کہے : کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کسی ناراضگی کا اندیشہ بے ، خبردار ! ناراضگی رکھنا ، میری طبیعت کا حصہ نہیں ہے ، اور نہ ہی میری شان ہے ، خبردار ! تم میں سے میرے نزدیک زیادہ محبوب وہ شخص ہو گا ، جو حق وصول کر لے ، اگر اس کا حق بنتا ہو ، یا پھر یہ ہے کہ وہ مجھے معاف کر دے ، تاکہ جب میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوؤں ، تو میں مطمئن ہوؤں ، خبردار ! میں یہ نہیں سمجھتا کہ یہ چیز میرے لئے کفایت کرے گی ، جب تک میں تمہارے درمیان بار بار کھڑا نہیں ہوتا ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اترے ، پھر آپ نے ظہر کی نماز ادا کی ، پھر آپ منبر پر گئے اور آپ نے وہی بات دہرائی جو ناراضگی کے بارے میں اور دیگر امور کے بارے میں تھی ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! جس شخص کے پاس کوئی چیز ہو ، وہ اسے واپس کر دے اور یہ نہ کہے کہ یہ دنیا کی رسوائی ہے ، خبردار ! دنیا کی رسوائی آخرت کی رسوائی سے زیادہ آسان ہے ، تو ایک صاحب آپ کے سامنے کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے آپ کے ذمہ تیس درہم ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہم کسی بات کرنے والے کو جھوٹا قرار نہیں دیں گے ، اور نہ ہی کسی سے حلف لیں گے ، تم یہ بتاؤ وہ میرے پاس کس حوالے سے آئے تھے ؟ تو اس نے کہا: آپ وہ دن یاد کریں ، جب ایک غریب آدمی آپ کے پاس سے گزرا ، تو آپ نے مجھے یہ ہدایت کی تھی کہ میں اس کو یہ رقم دے دوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے فضل ! تم اسے وہ رقم دے دو ، پھر ایک اور صاحب آپ کے سامنے کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : میرے پاس تین درہم ہیں ، جو میں نے اللہ کی راہ میں خیانت کے طور پر حاصل کیے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم نے وہ خیانت کے طور پر کیوں حاصل کیے تھے ؟ اس نے عرض کی : مجھے ان کی ضرورت تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے فضل ! تم وہ وصول کر لو ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! جس شخص کو اپنی ذات کے حوالے سے کوئی اندیشہ ہو ، وہ کھڑا ہو جائے ، تو میں اس کے لئے دعا کر دوں گا ، تو ایک صاحب کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! میں جھوٹ بہت بولتا ہوں اور میں منافقت بھی کرتا ہوں اور میں سویا بھی رہتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی : اے اللہ ! تو اسے سچائی اور ایمان عطا کر دے اور اس سے نیند کو لے جا ، جب یہ ارادہ کرے ( یعنی یہ جب چاہے ، بیدار ہو سکے ) ۔ پھر ایک اور صاحب کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں جھوٹ بولتا ہوں اور منافقت کرتا ہوں اور جتنے بھی امور ہیں ، میں اُن سب کا ارتکاب کرتا ہوں ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تم نے اپنے آپ کو رسوائی کا شکار کیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابن خطاب رک جاؤ ! دنیا کی رسوائی ، آخرت کی رسوائی سے آسان ہے ، پھر آپ نے دعا کی : ” اے اللہ ! تو اس کو سچائی اور ایمان نصیب کر دے اور اس کے معاملے کو بھلائی کی طرف تبدیل کر دے ۔ “ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے ساتھ کچھ بات چیت کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمر میرے ساتھ ہے ، اور میں اس کے ساتھ ہوں اور میرے بعد حق ، عمر کے ساتھ ہو گا ، یہ جہاں بھی ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، انہوں نے اس کے آخر میں یہ الفاظ بیان کیے ہیں : ” ایک شخص کھڑا ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایک بزدل شخص ہوں ، جو زیادہ تر سویا رہتا ہے ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے دعا کی ، سیدنا فضل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بعد میں ، میں نے اس شخص کو دیکھا کہ وہ ہم سب سے زیادہ بہادر تھا اور ہم سب سے کم سوتا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے ، آپ نے خواتین سے بھی اسی کی مانند بات ارشاد فرمائی ، جو آپ نے مردوں سے فرمائی تھی اور پھر آپ نے فرمایا : جس پر کوئی چیز غالب ہو ، وہ ہم سے کہے ، ہم اس کے لئے دعا کریں گے ، راوی کہتے ہیں : تو ایک خاتون نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کے لئے دعا کی ، راوی بیان کرتے ہیں : حالانکہ اس عورت نے چند مرتبہ مجھ سے یہ کہا: اے عائشہ ! تم نماز اچھے طریقے سے ادا کیا کرو ۔ امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی عطاء بن مسلم ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، امام ابویعلیٰ کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، امام طبرانی کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14252
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6824) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (280/18)»
حدیث نمبر: 14253
وَعَنْ جَابِرٍ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ : ( إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا ) قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَا جِبْرِيلُ ، نَفْسِي قَدْ نُعِيَتْ " . قَالَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - : الْآخِرَةُ خَيْرٌ لَكَ مِنَ الْأُولَى وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى . فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلَالًا أَنْ يُنَادِيَ بِالصَّلَاةِ جَامِعَةً ، فَاجْتَمَعَ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ إِلَى مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى بِالنَّاسِ ، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ خَطَبَ خُطْبَةً وَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ ، وَبَكَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ ، ثُمَّ قَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، أَيُّ نَبِيٍّ كُنْتُ لَكَمْ ؟ " . قَالُوا : جَزَاكَ اللَّهُ مِنْ نَبِيٍّ خَيْرًا ; كُنْتَ لَنَا كَالْأَبِ الرَّحِيمِ ، وَكَالْأَخِ النَّاصِحِ الشَّفِيقِ ، أَدَّيْتَ رِسَالَاتِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَأَبْلَغْتَنَا وَحْيَهُ ، وَدَعَوْتَ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ، فَجَزَاكَ اللَّهُ عَنَّا أَفْضَلَ مَا جَازَى نَبِيًّا عَنْ أُمَّتِهِ . فَقَالَ لَهُمْ : " مَعَاشِرَ الْمُسْلِمِينَ ، أُنَاشِدُكُمْ بِاللَّهِ وَبِحَقِّي عَلَيْكُمْ ، مَنْ كَانَتْ لَهُ قِبَلِي مَظْلِمَةٌ فَلْيَقُمْ فَلْيَقْتَصَّ مِنِّي " فَلَمْ يَقُمْ إِلَيْهِ أَحَدٌ ، فَنَاشَدَهُمُ الثَّانِيَةَ فَلَمْ يَقُمْ إِلَيْهِ أَحَدٌ ، فَنَاشَدَهُمُ الثَّالِثَةَ " مَعَاشِرَ الْمُسْلِمِينَ ، أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَبِحَقِّي عَلَيْكُمْ ، مَنْ كَانَتْ لَهُ قِبَلِي مَظْلِمَةٌ فَلْيَقُمْ فَلْيَقْتَصَّ مِنِّي قَبْلَ الْقِصَاصِ فِي الْقِيَامَةِ " . فَقَامَ مِنْ بَيْنِ الْمُسْلِمِينَ شَيْخٌ كَبِيرٌ يُقَالُ لَهُ : عُكَّاشَةُ ، فَتَخَطَّى الْمُسْلِمِينَ حَتَّى وَقَفَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي لَوْلَا أَنَّكَ نَشَدْتَنَا بِاللَّهِ مَرَّةً بَعْدَ أُخْرَى مَا كُنْتُ بِالَّذِي أَتَقَدَّمُ عَلَى شَيْءٍ مِنْ هَذَا ، كُنْتُ مَعَكَ فِي غَزَاةٍ ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَيْنَا وَنَصَرَ نَبِيَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ فِي الِانْصِرَافِ ، حَاذَتْ نَاقَتِي نَاقَتَكَ ، فَنَزَلْتُ عَنِ النَّاقَةِ ، وَدَنَوْتُ مِنْكَ لِأُقَبِّلَ فَخِذَكَ ، فَرَفَعْتَ الْقَضِيبَ فَضَرَبْتَ خَاصِرَتِي ، وَلَا أَدْرِي أَكَانَ عَمْدًا مِنْكَ أَمْ أَرَدْتَ ضَرْبَ النَّاقَةِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُعِيذُكَ بِجَلَالِ اللَّهِ أَنْ يَتَعَمَّدَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالضَّرْبِ ، يَا بِلَالُ انْطَلِقْ إِلَى بَيْتِ فَاطِمَةَ فَائْتِنِي بِالْقَضِيبِ الْمَمْشُوقِ " . فَخَرَجَ بِلَالٌ مِنَ الْمَسْجِدِ وَيَدُهُ عَلَى أُمِّ رَأْسِهِ ، وَهُوَ يُنَادِي : هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعْطِي الْقِصَاصَ مِنْ نَفْسِهِ . فَقَرَعَ الْبَابَ عَلَى فَاطِمَةَ ، فَقَالَ : يَا بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَاوِلِينِي الْقَضِيبَ الْمَمْشُوقَ . فَقَالَتْ لَهُ فَاطِمَةُ : يَا بِلَالُ ، وَمَا يَصْنَعُ أَبِي بِالْقَضِيبِ ، وَلَيْسَ هَذَا يَوْمَ حَجٍّ وَلَا يَوْمَ غَزَاةٍ ؟ فَقَالَ : يَا فَاطِمَةُ ، مَا أَغْفَلَكِ عَمَّا فِيهِ أَبُوكِ ، رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُوَدِّعُ النَّاسَ وَيُفَارِقُ الدُّنْيَا ، وَيُعْطِي الْقِصَاصَ مِنْ نَفْسِهِ . فَقَالَتْ فَاطِمَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - : يَا بِلَالُ وَمَنْ ذَا الَّذِي تَطِيبُ نَفْسُهُ أَنْ يَقْتَصَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ يَا بِلَالُ ، إِذًا فَقُلْ لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ يَقُومَانِ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ يَقْتَصَّ مِنْهُمَا ، وَلَا يَدَعَانِهِ يَقْتَصُّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ فَرَجَعَ بِلَالٌ إِلَى الْمَسْجِدِ ، وَدَفَعَ الْقَضِيبَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْقَضِيبَ إِلَى عُكَّاشَةَ . فَلَمَّا نَظَرَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - إِلَى ذَلِكَ قَامَا ، وَقَالَا : يَا عُكَّاشَةُ ، هَذَا نَحْنُ بَيْنَ يَدَيْكَ فَاقْتَصَّ مِنَّا ، وَلَا تَقْتَصَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " امْضِ يَا أَبَا بَكْرٍ ، وَأَنْتَ يَا عُمَرُ فَامْضِ ; فَقَدْ عَرَفَ اللَّهُ مَكَانَكُمَا وَمَقَامَكُمَا " . فَقَامَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ : يَا عُكَّاشَةُ ، أَنَا فِي الْحَيَاةِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا تَطِيبُ نَفْسِي أَنْ تَضْرِبَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَهَذَا ظَهْرِي وَبَطْنِي فَاقْتَصَّ مِنِّي بِيَدِكَ ، وَاجْلِدْنِي مِائَةً ، وَلَا تَقْتَصَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عَلِيُّ ، اقْعُدْ ; فَقَدْ عَرَفَ اللَّهُ لَكَ مَقَامَكَ وَنِيَّتَكَ " . وَقَامَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فَقَالَا : يَا عُكَّاشَةُ ، أَلَيْسَ تَعْلَمُ أَنَّا سِبْطَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْقِصَاصُ مِنَّا كَالْقِصَاصِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اقْعُدَا يَا قُرَّةَ عَيْنِي ، لَا نَسِيَ اللَّهُ لَكَمَا هَذَا الْمَقَامَ " . ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عُكَّاشَةُ ، اضْرِبْ إِنْ كُنْتَ ضَارِبًا " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ضَرَبْتَنِي وَأَنَا حَاسِرٌ عَنْ بَطْنِي . فَكَشَفَ عَنْ بَطْنِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصَاحَ الْمُسْلِمُونَ بِالْبُكَاءِ ، وَقَالُوا : أَتُرَى عُكَّاشَةُ ضَارِبٌ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَلَمَّا نَظَرَ عُكَّاشَةُ إِلَى بَيَاضِ بَطْنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَأَنَّهُ الْقَبَاطِيُّ لَمْ يَمْلِكْ أَنْ أَكَبَّ عَلَيْهِ ، فَقَبَّلَ بَطْنَهُ وَهُوَ يَقُولُ : فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ، وَمَنْ تَطِيبُ نَفْسُهُ أَنْ يَقْتَصَّ مِنْكَ ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِمَّا أَنْ تَضْرِبَ ، وَإِمَّا أَنْ تَعْفُوَ " . قَالَ : قَدْ عَفَوْتُ عَنْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَجَاءَ أَنْ يَعْفُوَ اللَّهُ عَنِّي فِي يَوْمِ الْقِيَامَةِ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا الشَّيْخِ " . فَقَامَ الْمُسْلِمُونَ ، فَجَعَلُوا يُقَبِّلُونَ مَا بَيْنَ عَيْنَيْ عُكَّاشَةَ ، وَيَقُولُونَ : طُوبَاكَ ! طُوبَاكَ ; نِلْتَ دَرَجَاتِ الْعُلَا ، وَمُرَافَقَةَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَمَرِضَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ يَوْمِهِ ، فَكَانَ مَرَضُهُ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ يَوْمًا يَعُودُهُ النَّاسُ ، وَكَانَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وُلِدَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ ، وَبُعِثَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ ، وَتُوُفِّيَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ . فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْأَحَدِ ثَقُلَ فِي مَرَضِهِ ، فَأَذَّنَ بِلَالٌ بِالْأَذَانِ ، ثُمَّ وَقَفَ بِالْبَابِ فَنَادَى : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَرَحْمَةُ اللَّهِ أُقِيمُ الصَّلَاةَ ؟ . فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَوْتَ بِلَالٍ ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ : يَا بِلَالُ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْيَوْمَ مَشْغُولٌ بِنَفْسِهِ . فَدَخَلَ بِلَالٌ الْمَسْجِدَ ، فَلَمَّا أَسْفَرَ الصُّبْحُ قَالَ : وَاللَّهِ لَا أُقِيمُهَا ، أَوْ أَسْتَأْذِنُ سَيِّدِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَخَرَجَ بِلَالٌ ، فَقَامَ بِالْبَابِ وَنَادَى : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، الصَّلَاةُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ . فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَوْتَ بِلَالٍ فَقَالَ : " ادْخُلْ يَا بِلَالُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْيَوْمَ مَشْغُولٌ بِنَفْسِهِ ، مُرْ أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ " . فَخَرَجَ وَيَدُهُ عَلَى أُمِّ رَأْسِهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : وَاغَوْثَاهُ بِاللَّهِ ! وَانْقِطَاعَ رَجَاهُ ، وَانْقِصَامَ ظَهَرَاهُ ، لَيْتَنِي لَمْ تَلِدْنِي أُمِّي ، وَإِذْ وَلَدَتْنِي لَمْ أَشْهَدْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَذَا الْيَوْمَ . ثُمَّ قَالَ : يَا أَبَا بَكْرٍ ، أَلَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَكَ أَنْ تُصَلِيَ بِالنَّاسِ . فَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ ، وَكَانَ رَجُلًا رَقِيقًا ، فَلَمَّا رَأَى خُلُوَّ الْمَكَانِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَتَمَالَكْ أَنْ خَرَّ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ ، وَصَاحَ الْمُسْلِمُونَ بِالْبُكَاءِ ، فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ضَجِيجَ النَّاسِ ، فَقَالَ : " مَا هَذِهِ الضَّجَّةُ ؟ " . قَالُوا : ضَجِيجُ الْمُسْلِمِينَ ; لِفَقْدِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، . فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَابْنَ عَبَّاسٍ فَاتَّكَأَ عَلَيْهِمَا ، فَخَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ الْمَلِيحِ فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ ، أَسَتُودِعُكُمُ اللَّهَ ، أَنْتُمْ فِي رَجَاءِ اللَّهِ وَأَمَانَةِ اللَّهِ ، وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَيْكُمْ . مَعَاشِرَ الْمُسْلِمِينَ ، عَلَيْكُمْ بِاتِّقَاءِ اللَّهِ ، وَحِفْظِ طَاعَتِهِ مِنْ بَعْدِي ; فَإِنِّي مُفَارِقُ الدُّنْيَا . هَذَا أَوَّلُ يَوْمٍ مِنْ أَيَّامِ الْآخِرَةِ ، وَآخَرُ يَوْمٍ مِنَ أَيَّامِ الدُّنْيَا " . ¤ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ اشْتَدَّ بِهِ الْأَمْرُ ، وَأَوْحَى اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَى مَلَكِ الْمَوْتِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنِ اهْبِطْ إِلَى حَبِيبِي وَصَفِيِّي مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ ، وَارْفُقْ بِهِ فِي قَبْضِ رُوحِهِ . فَهَبَطَ مَلَكُ الْمَوْتِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَقَفَ بِالْبَابِ شِبْهَ أَعْرَابِيٍّ ، ثُمَّ قَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ بَيْتِ النُّبُوَّةِ ، وَمَعْدِنَ الرِّسَالَةِ ، وَمُخْتَلِفَ الْمَلَائِكَةِ ، أَدْخُلُ ؟ " . فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِفَاطِمَةَ : أَجِيبِي الرَّجُلَ . فَقَالَتْ فَاطِمَةُ : آجَرَكَ اللَّهُ فِي مَمْشَاكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ مَشْغُولٌ بِنَفْسِهِ . فَنَادَى الثَّانِيَةَ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : يَا فَاطِمَةُ أَجِيبِي الرَّجُلَ . فَقَالَتْ فَاطِمَةُ : آجَرَكَ اللَّهُ فِي مَمْشَاكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَشْغُولٌ بِنَفْسِهِ . ثُمَّ نَادَى الثَّالِثَةَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ بَيْتِ النُّبُوَّةِ ، وَمَعْدِنَ الرِّسَالَةِ ، وَمُخْتَلَفَ الْمَلَائِكَةِ ، أَدْخُلُ ؟ فَلَا بُدَّ مِنَ الدُّخُولِ . فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَوْتَ مَلَكِ الْمَوْتِ فَقَالَ : " يَا فَاطِمَةُ مَنْ بِالْبَابِ " . فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ رَجُلًا بِالْبَابِ يَسْتَأْذِنُ فِي الدُّخُولِ ، فَأَجَبْنَاهُ مَرَّةً بَعْدَ أُخْرَى ، فَنَادَى فِي الثَّالِثَةِ صَوْتًا اقْشَعَرَّ مِنْهُ جِلْدِي ، وَارْتَعَدَتْ مِنْهُ فَرَائِصِي . فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا فَاطِمَةُ أَتَدْرِينَ مَنْ بِالْبَابِ ؟ هَذَا هَادِمُ اللَّذَّاتِ ، وَمُفَرِّقُ الْجَمَاعَاتِ ، هَذَا مُرَمِّلُ الْأَزْوَاجِ ، وَمُوتِمُ الْأَوْلَادِ ، وَهَذَا مُخَرِّبُ الدُّورِ ، وَعَامِرُ الْقُبُورِ ، هَذَا مَلَكُ الْمَوْتِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ادْخُلْ يَرْحَمُكَ اللَّهُ يَا مَلَكَ الْمَوْتِ " . فَدَخَلَ مَلَكُ الْمَوْتِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " جِئْتَنِي زَائِرًا أَمْ قَابِضًا ؟ " . قَالَ : جِئْتُكَ زَائِرًا وَقَابِضًا ، وَأَمَرَنِي اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - أَلَّا أَدْخُلَ عَلَيْكَ إِلَّا بِإِذْنِكَ ، وَلَا أَقْبِضَ رُوحَكَ إِلَّا بِإِذْنِكَ ، فَإِنْ أَذِنْتَ ، وَإِلَّا رَجَعْتُ إِلَى رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا مَلَكَ الْمَوْتِ ، أَيْنَ خَلَّفْتَ حَبِيبِي جِبْرِيلَ ؟ " . قَالَ : خَلَّفْتُهُ فِي سَمَاءِ الدُّنْيَا ، وَالْمَلَائِكَةُ يُعَزُّونَهُ فِيكَ . فَمَا كَانَ بِأَسْرَعَ أَنْ أَتَاهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَذَا الرَّحِيلُ مِنَ الدُّنْيَا فَبَشِّرْنِي مَا لِي عِنْدَ اللَّهِ ؟ " . قَالَ : أُبَشِّرُكَ يَا حَبِيبَ اللَّهِ أَنِّي تَرَكْتُ أَبْوَابَ السَّمَاءِ قَدْ فُتِحَتْ ، وَالْمَلَائِكَةُ قَدْ قَامُوا صُفُوفًا صُفُوفًا بِالتَّحِيَّةِ ، وَالرَّيْحَانِ يُحَيُّونَ رُوحَكَ يَا مُحَمَّدُ . قَالَ : " لِوَجْهِ رَبِّي الْحَمْدُ ، فَبَشِّرْنِي يَا جِبْرِيلُ " . قَالَ : أُبَشِّرُكَ أَنَّ أَبْوَابَ الْجِنَانِ قَدْ فُتِحَتْ ، وَأَنْهَارُهَا قَدِ اطَّرَدَتْ ، وَأَشْجَارُهَا قَدْ تَدَلَّتْ ، وَحُورُهَا قَدْ تَزَيَّنَتْ ; لِقُدُومِ رُوحِكَ يَا مُحَمَّدُ . قَالَ : " لِوَجْهِ رَبِّي الْحَمْدُ ، فَبَشِّرْنِي يَا جِبْرِيلُ " . قَالَ : أَنْتَ أَوَّلُ شَافِعٍ ، وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . قَالَ : لِوَجْهِ رَبِّي الْحَمْدُ " . قَالَ جِبْرِيلُ : يَا حَبِيبِي عَمَّ تَسْأَلُنِي ؟ قَالَ : " أَسْأَلُكَ عَنْ غَمِّي وَهَمِّي ، مَنْ لِقُرَّاءِ الْقُرْآنِ مِنْ بَعْدِي ؟ مَنْ لِصُوَّامِ شَهْرِ رَمَضَانَ مِنْ بَعْدِي ؟ مَنْ لِحُجَّاجِ بَيْتِ اللَّهِ الْحَرَامِ مِنْ بَعْدِي ؟ مَنْ لِأُمَّتِي الْمُصْطَفَاةِ مِنْ بَعْدِي ؟ " . قَالَ : أَبْشِرْ يَا حَبِيبَ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ : قَدْ حُرِّمَتِ الْجَنَّةُ عَلَى جَمِيعِ الْأَنْبِيَاءِ وَالْأُمَمِ حَتَّى تَدْخُلَهَا أَنْتَ وَأُمَّتُكَ يَا مُحَمَّدُ . قَالَ : " الْآنَ طَابَتْ نَفْسِي ، ادْنُ يَا مَلَكَ الْمَوْتِ ، فَانْتَهِ إِلَى مَا أُمِرْتَ بِهِ " . ¤ قَالَ عَلِيٌّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذَا أَنْتَ قُبِضْتَ فَمَنْ يُغَسِّلُكَ ؟ وَفِيمَ نُكَفِّنُكَ ؟ وَمَنْ يُصَلِّي عَلَيْكَ ؟ وَمَنْ يُدْخِلُكَ الْقَبْرَ ؟ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عَلِيُّ ، أَمَّا الْغُسْلُ فَاغْسِلْنِي أَنْتَ ، وَالْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ يَصُبُّ عَلَيْكَ الْمَاءَ ، وَجِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - ثَالِثُكُمَا ، فَإِذَا أَنْتُمْ فَرَغْتُمْ مِنْ غُسْلِي فَكَفِّنِي فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ جُدُدٍ ، وَجِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - يَأْتِينِي بِحَنُوطٍ مِنَ الْجَنَّةِ ، فَإِذَا أَنْتُمْ وَضَعْتُمُونِي عَلَى السَّرِيرِ فَضَعُونِي فِي الْمَسْجِدِ وَاخْرُجُوا ، فَإِنَّ أَوَّلَ مَنْ يُصَلِّي عَلَيَّ الرَّبُّ - عَزَّ وَجَلَّ - مِنْ فَوْقِ عَرْشِهِ ، ثُمَّ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - ثُمَّ مِيكَائِيلُ ، ثُمَّ إِسْرَافِيلُ - - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - - ثُمَّ الْمَلَائِكَةُ زُمَرًا زُمَرًا ، ثُمَّ ادْخُلُوا فَقُومُوا صُفُوفًا لَا يَتَقَدَّمُ عَلَيَّ أَحَدٌ " . ¤ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ : الْيَوْمَ الْفِرَاقُ ، فَمَتَى أَلْقَاكَ ؟ قَالَ : " يَا بُنَيَّةُ ، تَلْقَيْنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ الْحَوْضِ ، وَأَنَا أَسْقِي مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ مِنْ أُمَّتِي " . قَالَتْ : فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " تَلْقَيْنِي عِنْدَ الْمِيزَانِ وَأَنَا أَشْفَعُ لِأُمَّتِي " قَالَتْ : فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " تَلْقَيْنِي عِنْدَ الصِّرَاطِ وَأَنَا أُنَادِي : رَبِّ سَلِّمْ أُمَّتِي مِنَ النَّارِ " . فَدَنَا مَلَكُ الْمَوْتِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعَالِجُ قَبْضَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا بَلَغَ الرُّوحُ الرُّكْبَتَيْنِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَوْهِ " . فَلَمَّا بَلَغَ الرُّوحُ السُّرَّةَ نَادَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَاكَرْبَاهُ " . فَقَالَتْ فَاطِمَةُ : كَرْبِي لِكَرْبِكَ يَا أَبَتَاهُ . فَلَمَّا بَلَغَ الرُّوحُ الثَّنْدُؤَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا جِبْرِيلُ ، مَا أَشَدَّ مَرَارَةَ الْمَوْتِ " . فَوَلَّى جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَجْهَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا جِبْرِيلُ ، كَرِهْتَ النَّظَرَ إِلَيَّ ؟ " . فَقَالَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - : يَا حَبِيبِي ، وَمَنْ تُطِيقُ نَفْسُهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْكَ وَأَنْتَ تُعَالِجُ سَكَرَاتِ الْمَوْتِ ؟ فَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَغَسَّلَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَابْنُ عَبَّاسٍ يَصُبُّ عَلَيْهِ الْمَاءَ ، وَجِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - مَعَهُمَا ، فَكُفِّنَ بِثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ جُدُدٍ ، وَحُمِلَ عَلَى سَرِيرٍ ، ثُمَّ أَدْخَلُوهُ الْمَسْجِدَ وَوَضَعُوهُ فِي الْمَسْجِدِ ، وَخَرَجَ النَّاسُ مِنْهُ . فَأَوَّلُ مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ الرَّبُّ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - مِنْ فَوْقِ عَرْشِهِ ، ثُمَّ جِبْرِيلُ ، ثُمَّ مِيكَائِيلُ ، ثُمَّ إِسْرَافِيلُ ، ثُمَّ الْمَلَائِكَةُ زُمَرًا زُمَرًا . قَالَ عَلِيٌّ : لَقَدْ سَمِعْنَا فِي الْمَسْجِدِ هَمْهَمَةً وَلَمْ نَرَ لَهُمْ شَخْصًا ; فَسَمِعْنَا هَاتِفًا يَهْتِفُ وَيَقُولُ : ادْخُلُوا رَحِمَكُمُ اللَّهُ ، فَصَلُّوا عَلَى نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَخَلْنَا ، وَقُمْنَا صُفُوفًا صُفُوفًا كَمَا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَبَّرْنَا بِتَكْبِيرِ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَصَلَّيْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَلَاةِ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، مَا تَقَدَّمَ مِنَّا أَحَدٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَخَلَ الْقَبْرَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَابْنُ عَبَّاسٍ ، وَدُفِنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّاسُ قَالَتْ فَاطِمَةُ لِعَلِيٍّ : يَا أَبَا الْحَسَنِ : دَفَنْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : كَيْفَ طَابَتْ أَنْفُسُكُمُ أَنْ تَحْثُوا التُّرَابَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ أَمَا كَانَ فِي صُدُورِكُمْ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الرَّحْمَةُ ؟ أَمَا كَانَ مُعَلِّمَ الْخَيْرِ ؟ قَالَ : بَلَى يَا فَاطِمَةُ ، وَلَكِنْ أَمْرُ اللَّهِ الَّذِي لَا مَرَدَّ لَهُ . فَجَعَلَتْ تَبْكِي وَتَنْدُبُ ، وَتَقُولُ : يَا أَبَتَاهُ ، الْآنَ انْقَطَعَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَكَانَ جِبْرِيلُ يَأْتِينَا بِالْوَحْيِ مِنَ السَّمَاءِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ إِدْرِيسَ ، وَهُوَ كَذَّابٌ وَضَّاعٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” جب اللہ تعالیٰ کی مدد اور فتح آ گئی اور تم نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اللہ کے دین میں گروہ در گروہ داخل ہو رہے ہیں ، تو تم اپنے پروردگار کی حمد کے ہمراہ پاکی بیان کرو اور اس سے مغفرت طلب کرو ، بے شک وہ بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا ہے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : جب یہ سورت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا : اے جبرائیل ! یہ میرے وصال کی اطلاع دی گئی ہے ، سیدنا جبرائیل نے کہا: ” آخرت آپ کے لئے پہلی والی سے زیادہ بہتر ہے ، اور عنقریب آپ کا پروردگار آپ کو اتنا عطا کرے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اعلان کریں کہ لوگ اکٹھے ہو جائیں ، تو مہاجرین اور انصار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں اکٹھے ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی ، پھر آپ منبر پر چڑھے ، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے بعد ، آپ نے خطبہ ارشاد فرمایا ، جس سے دل لرز گئے اور آنکھیں رونے لگیں ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! میں تمہارے لئے کیسا نبی رہا ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ آپ کو نبی کے طور پر جزائے خیر دے کہ جو نبی آپ ہمارے لئے رہے ہیں ، یوں جیسے ایک مہربان باپ ہوتا ہے ، اور جیسے ایک شفیق خیرخواہ بھائی ہوتا ہے ، آپ نے اللہ تعالیٰ کے پیغام کو ادا کر دیا ، اور اس کی وحی کی ہم تک تبلیغ کر دی ، اور حکمت کے ذریعے اور اچھے وعظ کے ذریعے اپنے پروردگار کے راستے کی طرف دعوت دیدی ، تو اللہ تعالیٰ ہماری طرف سے آپ کو وہ سب سے بہتر جزا عطا کرے ، جو اس نے کسی نبی کو اس کی امت کی طرف سے عطا کی ہو ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے فرمایا : اے مسلمانوں کے گروہ ! میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں اور میرا تم پر جو حق ہے ، اس کے حوالے سے یہ کہتا ہوں کہ جس شخص کے ساتھ میری طرف سے کوئی زیادتی ہوئی ہو ، تو وہ اُٹھے اور وہ بدلہ لے ، لیکن کوئی آپ کے سامنے کھڑا نہیں ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری مرتبہ انہیں واسطہ دیا ، تو کوئی آپ کے سامنے نہیں کھڑا ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ انہیں واسطہ دیتے ہوئے فرمایا : اے مسلمانوں کے گروہ ! میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر اور تم پر اپنے حق کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں کہ جس شخص کے ساتھ میری طرف سے کوئی زیادتی ہوئی ہو ، تو وہ اُٹھے اور وہ مجھ سے بدلہ لے ، اس سے پہلے کہ قیامت کے دن بدلہ دینا پڑے ، راوی کہتے ہیں : تو مسلمانوں کے درمیان ایک بوڑھا عمر رسیدہ شخص کھڑا ہوا ، جس کا نام عکاشہ تھا ، وہ مسلمانوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر ٹھہر گیا ، اس نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں ، اگر آپ نے ایک سے زیادہ مرتبہ ہمیں اللہ کا واسطہ نہ دیا ہوتا ، تو میں نے اس حوالے سے آگے نہیں آنا تھا ، میں آپ کے ساتھ ایک جنگ میں موجود تھا ، جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح نصیب کر دی اور اپنے نبی کی مدد کر دی ، اور جب ہم لوگ واپس آ رہے تھے تو میری اونٹنی آپ کی اونٹنی کے پاس آئی ، میں اپنی اونٹنی سے نیچے اترا اور آگے بڑھا ، تاکہ آپ کے زانوں کو بوسہ دوں ، تو آپ نے چھڑی اٹھائی اور وہ میرے پہلو پر مار دی ، مجھے نہیں معلوم کہ یہ آپ کی طرف سے جان بوجھ کر ہوا تھا ، یا آپ نے اونٹنی کو مارنے کا ارادہ کیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اللہ کے جلال کی تمہیں پناہ دیتا ہوں ، اس بات کے حوالے سے کہ اللہ کے رسول نے تمہیں جان بوجھ کر مارا ہو ، اے بلال ! تم فاطمہ کے گھر جاؤ ، اور وہاں سے وہ چھڑی لے آؤ ، جس کے پتے وغیرہ اتارے گئے ہوں ، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ مسجد سے گزرے ، ان کا ہاتھ ان کے سر پر تھا اور وہ بلند آواز میں یہ کہہ رہے تھے : یہ اللہ کے رسول اپنی طرف سے قصاص دے رہے ہیں ، انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا دروازہ کھٹکھٹایا اور عرض کی : اے اللہ کے رسول کی صاحبزادی ! آپ وہ چھڑی مجھے پکڑا دیں ، جس کے پتے وغیرہ اتارے گئے ہیں ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اے بلال ! میرے والد نے چھڑی کا کیا کرنا ہے ؟ جبکہ یہ کوئی حج کا موقع بھی نہیں ہے ، اور جنگ کا موقع بھی نہیں ہے ، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: اے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ! آپ کے والد جس صورت حال کا شکار ہیں ، آپ کو اس کا پتہ نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے رخصت ہو رہے ہیں ، اور دنیا سے جدا ہونے والے ہیں ، تو وہ اپنی ذات کی طرف سے بدلہ دے رہے ہیں ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے بلال ! وہ کون شخص ہے ؟ جو اللہ کے رسول سے بدلہ لے کر خود کو خوش کرنا چاہتا ہے ، اے بلال ! ایسی صورت میں تم حسن اور حسین سے کہو کہ وہ اس شخص کے سامنے کھڑے ہو جائیں ، اور اس کو بدلہ دیں اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بدلہ نہ لینے دیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہ مسجد میں واپس آئے ، انہوں نے وہ چھڑی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑائی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چھڑی سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ کو دی ، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ صورت حال دیکھی ، تو وہ دونوں کھڑے ہو گئے ، ان دونوں نے کہا: اے عکاشہ ! ہم تمہارے سامنے موجود ہیں ، تم ہم سے بدلہ لے لو ، لیکن تم اللہ کے رسول سے بدلہ نہ لو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا : اے ابوبکر ! تم بیٹھ جاؤ ، اے عمر ! تم بھی بیٹھ جاؤ ، اللہ تعالیٰ تم دونوں کے مکان اور تم دونوں کے مقام سے واقف ہے ، پھر سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، انہوں نے کہا: اے عکاشہ ! میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے زندہ ہوں ، میں اس بات سے مطمئن نہیں ہوؤں گا کہ تم اللہ کے رسول کو ضرب لگاؤ ، یہ میری پشت اور میرا پیٹ حاضر ہے ، تم مجھ سے بدلہ لے لو ، مجھے بھلے ہی ایک سو کوڑے مار دو ، لیکن اللہ کے رسول سے بدلہ نہ لو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے علی ! تم بیٹھ جاؤ ، اللہ تعالیٰ تمہارے مقام اور تمہاری نیت سے واقف ہے ، پھر سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، ان دونوں نے کہا: اے عکاشہ ! کیا آپ یہ بات نہیں جانتے کہ ہم اللہ کے رسول کے نواسے ہیں ، اور ہم سے بدلہ لینا ، اللہ کے رسول سے بدلہ لینے کی مانند ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا : تم دونوں بیٹھ جاؤ ، تم دونوں میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہو ، اللہ تعالیٰ تمہارے اس کھڑے ہونے کو نہیں بھولے گا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عکاشہ ! تم ضرب لگاؤ ، اگر تم نے ضرب لگانی ہے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جب آپ نے مجھے ضرب لگائی تھی ، تو میرے پیٹ پر کپڑا موجود نہیں تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیٹ سے کپڑا ہٹایا ، مسلمان چیخ کر رونے لگے ، لوگوں نے کہا: کیا عکاشہ ، اللہ کے رسول پر ضرب لگائے گا ؟ جب سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ کی سفیدی دیکھی ، جو چاندی کی طرح چمک رہی تھی ، تو وہ جھک گئے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ پر بوسہ دیا اور وہ یہ کہنے لگے : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، کون اس بات سے خوش ہو سکتا ہے کہ وہ آپ سے بدلہ لے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : یا تو تم ضرب لگاؤ ، یا پھر تم معاف کر دو ، تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! میں آپ سے درگزر کرتا ہوں ، اس امید پر کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مجھ سے درگزر کرے گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص جنت میں میرے رفیق کو دیکھنا چاہتا ہو وہ اس بوڑھے کو دیکھ لے ۔ “ تو مسلمان کھڑے ہو گئے اور وہ سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ کی آنکھوں کے درمیان بوسہ دینے لگے اور یہ کہنے لگے : آپ کے لئے مبارک باد ہے ، آپ کے لئے مبارک باد ہے کہ آپ بلند درجات تک پہنچ گئے ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نصیب ہو گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اسی دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے ، آپ کی بیماری اٹھارہ دن تک جاری رہی ، اسی دوران لوگ آپ کی عیادت کرنے کے لئے آتے رہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیر کے دن پیدا ہوئے تھے ، پیر کے دن مبعوث ہوئے تھے اور پیر کے دن آپ کا وصال بھی ہوا ( اس سے پہلے ) جب ہفتے کا دن آیا ، تو آپ کی بیماری میں اضافہ ہو گیا ، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی ، پھر وہ دروازے پر آ کر ٹھہرے اور بلند آواز میں پکار کر کہا: یا رسول اللہ ! آپ پر سلام ہو ، اللہ تعالیٰ کی رحمتیں آپ پر نازل ہوں ، میں نماز کے لئے اقامت کہہ دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی آواز سنی ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے بلال ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ مسجد میں چلے گئے ، جب صبح روشن ہونے لگی ، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! میں اس وقت تک اقامت نہیں کہوں گا ، جب تک میں اللہ کے رسول سے اجازت نہیں لیتا ، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نکلے ، وہ دروازے کے پاس آ کے کھڑے ہوئے ، انہوں نے بلند آواز میں پکار کے کہا: اے اللہ کے رسول ! آپ پر سلامتی نازل ہو ، اور اللہ تعالیٰ کی برکتیں اور اس کی رحمتیں نازل ہوں ، نماز کا وقت ہو گیا ہے ، اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی آواز سنی اور فرمایا : اے بلال ! اندر آ جاؤ ، آج اللہ کے رسول کی طبعیت بہت خراب ہے ، تم ابوبکر سے یہ کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے ، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ باہر نکلے تو انہوں نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھا ہوا تھا اور وہ یہ کہہ رہے تھے : اللہ کی مدد ہی لی جا سکتی ہے ، اور امید منقطع ہو چکی ہے ، اور پشت ٹوٹ چکی ہے ، اے کاش ! میری ماں نے مجھے پیدا ہی نہ کیا ہوتا ، اور اگر پیدا کیا تھا ، تو آج مجھے اللہ کے رسول کی طرف سے یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا ۔ پھر انہوں نے کہا: اے سیدنا ابوبکر ! اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے ، انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھانا شروع کی ، وہ ایک نرم دل شخص تھے ، جب انہوں نے یہ دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ خالی ہے ، تو وہ خود پر ق ابونہیں پا سکے اور وہ بے ہوش ہو کر گر گئے ، مسلمان چیخ کر رونے لگے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی گونج سنائی دی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ گونج کس وجہ سے ہے ؟ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ کی غیر موجودگی کی وجہ سے ، مسلمانوں کے رونے کی وجہ سے ( یہ گونج ) ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کو بلایا ، ان دونوں کے ساتھ ٹیک لگائی اور مسجد تشریف لے گئے ، آپ نے لوگوں کو مختصر رکعات پڑھائیں ، پھر آپ مہربان چہرے کے ساتھ ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا : ” اے مسلمانوں کے گروہ ! میں تمہیں اللہ کے سپرد کرتا ہوں ، تم لوگ اللہ کے فضل اور اس کی امان میں ہو ، میرے بعد اللہ تعالیٰ تم لوگوں کا نگران ہے ، اے مسلمانوں کے گروہ ! تم پر یہ لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو ، اور میرے بعد اس کی اطاعت باقاعدگی سے کرو ، کیونکہ میں دنیا سے جدا ہونے لگا ہوں ، یہ آخرت کے دنوں میں سے پہلا دن ہے ، اور دنیا کے دنوں میں سے آخری دن ہے ۔ راوی کہتے ہیں : جب پیر کا دن آیا ، تو آپ کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی ، اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کی طرف یہ وحی کی کہ تم میرے حبیب کی طرف اتر کے جاؤ ، جو میرے منتخب بندے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، تم خوبصورت ترین شکل میں ان کے پاس جانا اور سب سے زیادہ نرمی سے ان کی روح قبض کرنا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ملک الموت نیچے اترے ، وہ دروازے پر دیہاتی کی شکل میں آ کر کھڑے ہوئے اور پھر یہ بولے : السلام علیکم ، اے نبوت کے گھرانے کے افراد ! رسالت کے معدن والو ! جن کے ہاں فرشتے آتے جاتے رہتے ہیں ، کیا میں اندر آ جاؤں ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: تم اس شخص کو جواب دو ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تمہارے آنے کے حوالے سے اللہ تعالیٰ تمہیں اجر نصیب کرے ، اے اللہ کے بندے ! اللہ کے رسول کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ، اس نے دوسری مرتبہ پکارا ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے فاطمہ ! تم اس شخص کو جواب دو ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے بندے ! تمہارے آمد کے حوالے سے اللہ تعالیٰ تمہیں اجر نصیب کرے ، اللہ کے رسول کی طبیعت خراب ہے ، پھر تیسری مرتبہ انہوں نے بلند آواز میں پکار کر کہا: اے نبوت کے گھر والو ! رسالت کے معدن والو ! فرشتے جن کے ہاں آتے جاتے رہتے ہیں ، کیا میں اندر آ جاؤں ؟ کیونکہ اندر آنا ضروری ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ملک الموت کی آواز سن لی ، تو آپ نے فرمایا : اے فاطمہ ! دروازے پر کون ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! دروازے پر ایک شخص موجود ہے ، جو اندر آنے کی اجازت مانگ رہا ہے ، میں اسے ایک کے بعد دوسری مرتبہ جواب دے چکی ہوں اور اس نے تیسری مرتبہ ایسی آواز میں پکارا ہے ، جس کی وجہ سے میری جلد پر کپکپی طاری ہو گئی ہے ، اور میرے اعضاء کانپ رہے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے فاطمہ ! کیا تم جانتی ہو ؟ دروازے پر کون ہے ؟ یہ لذتوں کو منہدم کرنے والا ، ملنے والوں کو جدا کرنے والا ، بیویوں کو بیوہ کرنے والا ، اولاد کو یتیم کرنے والا ، آبادیوں کو برباد کرنے والا اور قبرستانوں کو آباد کرنے والا ہے ، یہ ملک الموت ہے ، اے ملک الموت ! اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ، تم اندر آ جاؤ ! راوی بیان کرتے ہیں : تو ملک الموت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اندر آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ملک الموت ! تم میرے پاس ملنے کے لئے آئے ہو ؟ یا روح قبض کرنے کے لئے آئے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : میں آپ کے پاس ملنے کے لئے بھی آیا ہوں ، اور روح قبض کرنے کے لئے بھی آیا ہوں ، اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا تھا کہ میں اجازت لیے بغیر آپ کے پاس اندر نہ آؤں ، اور آپ کی اجازت کے بغیر آپ کی روح قبض نہ کروں ، اگر آپ اجازت دیتے ہیں ، تو ٹھیک ہے ، ورنہ میں اپنے پروردگار کی طرف واپس چلا جاؤں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ملک الموت ! تم نے میرے دوست جبرائیل کو کہاں چھوڑا ہے ؟ انہوں نے بتایا : میں نے انہیں آسمان دنیا پر چھوڑا ہے ، اور فرشتے آپ کے بارے میں ان کے ساتھ تعزیت کر رہے ہیں ، پھر فوراً سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے اور آپ کے سرہانے بیٹھ گئے ، آپ نے فرمایا : یہ دنیا سے روانگی کا وقت ہے ، تو تم مجھے خوشخبری سناؤ کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں میرے لئے کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے حبیب ! میں آپ کو یہ خوشخبری سناتا ہوں کہ میں نے آسمان کے دروازے ایسی حالت میں چھوڑے ہیں کہ انہیں کھول دیا گیا ہے ، اور فرشتے صفیں بنا کے کھڑے ہوئے ہیں ، وہ صفیں بنا کر سلام پیش کرنے کے لئے کھڑے ہوئے ہیں ، اور خوشبو لے کر کھڑے ہیں ، جس کے ذریعے اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! وہ آپ کی روح کا استقبال کریں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حمد ، میرے پروردگار کی ذات کے لئے مخصوص ہے ، اے جبرائیل ! مجھے خوشخبری سناؤ ، انہوں نے کہا: میں آپ کو یہ خوشخبری سناتا ہوں کہ جنت کے دروازے کھول دیے گئے ہیں ، اس کی نہریں اس کے درخت ہل رہے ہیں ، ان کی حوریں آراستہ ہو چکی ہیں ، کیونکہ اسے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ کی روح آنے والی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حمد ، میرے پروردگار کی ذات کے لئے مخصوص ہے ، اے جبرائیل ! مجھے خوشخبری سناؤ ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: آپ قیامت کے دن سب سے پہلے شفاعت کرنے والے ہوں گے ، اور پہلے ایسے فرد ہوں گے ، جس کی شفاعت قبول ہو گی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حمد ، میرے پروردگار کے لئے مخصوص ہے ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: اے میرے محبوب ! آپ کس چیز کے بارے میں پوچھنا چاہ رہے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تم سے اپنی پریشانی اور اپنی الجھن کے بارے میں پوچھنا چاہ رہا ہوں کہ میرے بعد قرآن کے عالموں کو کیا ملے گا ؟ میرے بعد رمضان کے روزے رکھنے والوں کو کیا ملے گا ؟ میرے بعد بیت اللہ کا حج کرنے والوں کو کیا ملے گا ؟ اور میرے بعد میری منتخب امت کو کیا ملے گا ؟ تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: اے اللہ کے حبیب ! آپ یہ خوشخبری حاصل کریں کہ اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے : میں نے تمام انبیاء اور ان کی امتوں کے لئے جنت کو اس وقت تک حرام قرار دیا ہے ، جب تک اے سیدنا محمد ! آپ اور آپ کی امت اس میں داخل نہیں ہو جاتے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اب میرا دل مطمئن ہے ، اے ملک الموت تم قریب آ جاؤ ! اور وہ کام کرو ، جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جب آپ کا وصال ہو جائے گا ، تو آپ کو غسل کون دے گا ؟ ہم آپ کو کفن کس چیز میں دیں ؟ آپ کی نماز جنازہ کون پڑھائے گا ؟ اور آپ کو قبر میں کون اتارے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے علی ! جہاں تک غسل کا تعلق ہے ، تو تم نے مجھے غسل دینا ہے ، فضل بن عباس تم پر پانی انڈیلے گا ، اور جبرائیل تمہارے ساتھ تیسرا فرد ہو گا ، جب تم مجھے غسل دے کر فارغ ہو جاؤ ، تو تم مجھے تین نئے کپڑوں میں کفن دینا ، جبرائیل میرے پاس جنت سے خوشبو لگا ہوا لباس لے کے آیا ہے ، جب تم لوگ مجھے چارپائی پر رکھ دو ، تو مجھے مسجد میں رکھ دینا ، اور تم لوگ باہر چلے جانا ، سب سے پہلے میرا پروردگار عرش کے اوپر سے مجھ پر رحمت نازل کرے گا ، جبرائیل ، پھر میکائیل ، پھر اسرافیل دعائے رحمت کریں گے ، پھر فرشتے گروہوں کی شکل میں آئیں گے ، پھر تم لوگ اندر داخل ہونا اور صفوں میں کھڑے ہو جانا ، اور کوئی شخص آگے نہ بڑھے ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : آج جدائی کا دن ہے ، تو میں آپ سے کب ملوں گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم مجھ سے قیامت کے دن حوض کے پاس ملنا ، جہاں میں اپنی امت سے تعلق رکھنے والے حوض پر آنے والے افراد کو پانی پلا رہا ہوؤں گا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر میں وہاں آپ سے نہ مل سکوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر تم میزان کے پاس مجھ سے مل لینا ، جہاں میں اپنی امت کی شفاعت کروں گا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر میں وہاں آپ سے نہ مل پاؤں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم پل صراط پر مجھ سے مل لینا ، جہاں میں یہ پکار کر کہہ رہا ہوؤں گا : اے میرے پروردگار ! میری امت کو جہنم سے بچا کے رکھنا ؟ پھر ملک الموت قریب آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح قبض کرنے لگا ، جب آپ کی روح گھٹنوں تک پہنچی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اوہ ! جب آپ کی روح ناف تک پہنچی ، تو آپ نے فرمایا : ہائے کتنی تکلیف ہے ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : اے ابا جان ! کاش آپ کی جگہ مجھے یہ تکلیف ہوتی ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح سینے تک آئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے جبرائیل ! موت کی شدت کتنی سخت ہوتی ہے ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منہ پھیر لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے جبرائیل ! تم میری طرف دیکھنے کو ناپسند کر رہے ہو ؟ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: اے میرے محبوب ! کون اس بات کی طاقت رکھتا ہے کہ وہ آپ کی طرف اس وقت دیکھے ، جب آپ سکرات الموت کا سامنا کر رہے ہوں ۔ پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ، تو سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے آپ کو غسل دیا ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے پانی ڈال رہے تھے ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام ان دونوں کے ساتھ تھے ، آپ کو تین نئے کپڑوں میں کفن دیا گیا ، پھر آپ کو چارپائی پر رکھا گیا ، پھر آپ کو مسجد میں لایا گیا اور آپ کو مسجد میں رکھ دیا گیا ، لوگ مسجد سے نکل گئے ، سب سے پہلے پروردگار نے عرش کے اوپر سے آپ پر رحمت نازل کی ، پھر جبرائیل ، پھر میکائیل ، پھر اسرافیل اور پھر فرشتے گروہ در گروہ آ کر دعائے رحمت کرتے رہے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہم نے مسجد میں آواز سنی ، لیکن ہمیں کوئی شخص نظر نہیں آیا ، ہم نے کسی ہاتف کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ تم لوگ اندر آ جاؤ ! اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ، اور اپنے نبی کے لئے دعائے رحمت کرو ، تو ہم اندر آئے ، ہم صفوں میں کھڑے ہو گئے ، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا ، تو ہم سیدنا جبرائیل علیہ السلام کی تکبیر کے مطابق تکبیر کہتے رہے ، اور ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام کی اقتداء میں ادا کی ، ہم میں سے کوئی ایک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آگے نہیں بڑھا ، پھر آپ کی قبر میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ، سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے داخل ہوئے اور آپ کو دفن کر دیا گیا ۔ جب لوگ آپ کو دفن کر کے واپس آئے ، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابوالحسن ! آپ لوگوں نے اللہ کے رسول کو دفن کر دیا ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ لوگوں کا دل کیسے ٹھیک رہا کہ آپ نے اللہ کے رسول پر مٹی ڈال دی ؟ کیا آپ کے دلوں میں اللہ کے رسول کے لئے رحمت نہیں تھی ؟ کیا وہ بھلائی کی تعلیم دینے والے نہیں تھے ؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں ! اے فاطمہ ! لیکن اللہ تعالیٰ کے حکم کو واپس نہیں کیا جا سکتا ، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رونے لگیں اور یہ کہنے لگیں : ہائے ابا جان ! اب جبرائیل کی آمد کا سلسلہ ختم ہو گیا ، وہ جبرائیل جو آسمان سے ہمارے لئے وحی لے کے آیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالمنعم بن ادریس ہے ، اور وہ کذاب ہے ، اور حدیث ایجاد کرنے والا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14253
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2676)»
حدیث نمبر: 14254
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ قَالَ : ذَهَبْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي إِلَى عَائِشَةَ فَاسْتَأْذَنَّا عَلَيْهَا ، فَأَلْقَتْ إِلَيْنَا وِسَادَةً ، وَجَذَبَتِ الْحِجَابَ إِلَيْهَا ، فَسَأَلَهَا عَنْ مُبَاشَرَةِ الْحَائِضِ . ثُمَّ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا مَرَّ بِبَابِي رُبَّمَا يُلْقِي الْكَلِمَةَ يَنْفَعُ اللَّهُ بِهَا ، فَمَرَّ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا ، ثُمَّ مَرَّ أَيْضًا فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا . قُلْتُ : يَا جَارِيَةُ ، ضَعِي لِي وِسَادَةً عَلَى الْبَابِ ، وَعَصَبْتُ رَأْسِي ، فَمَرَّ بِي فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، مَا شَأْنُكِ ؟ " . قُلْتُ : أَشْتَكِي رَأْسِي . قَالَ : " أَنَا وَارَأْسَاهُ " . فَذَهَبَ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى جِيءَ بِهِ مَحْمُولًا فِي كِسَاءٍ ، فَدَخَلَ وَبَعَثَ إِلَى النِّسَاءِ فَقَالَ : " إِنِّي قَدِ اشْتَكَيْتُ ، وَإِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَدُورَ بَيْنَكُنَّ ، فَائْذَنَّ لِي فَلْأَكُنْ عِنْدَ عَائِشَةَ " . فَأَذِنَّ لَهُ ، فَكُنْتُ أُوصِبُهُ وَلَمْ أُوصِبْ أَحَدًا قَبْلَهُ ، فَبَيْنَمَا رَأْسُهُ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى مَنْكِبِي إِذْ مَالَ رَأْسُهُ نَحْوَ رَأْسِي ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُرِيدُ مِنْ رَأْسِي حَاجَةً ، فَخَرَجَتْ مِنْ فِيهِ نُطْفَةٌ بَارِدَةٌ فَوَقَعَتْ عَلَى ثُغْرَةِ نَحْرِي ، فَاقْشَعَرَّ لَهَا جِلْدِي ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ غُشِيَ عَلَيْهِ ، فَسَجَّيْتُهُ ثَوْبًا ، فَجَاءَ عُمَرُ ، وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ ، فَاسْتَأْذَنَا ، فَأَذِنْتُ لَهُمَا ، وَجَذَبْتُ الْحِجَابَ ، فَنَظَرَ عُمَرُ إِلَيْهِ فَقَالَ : وَاغَشْيَاهُ ! مَا أَشَدَّ غَشْيَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَامَ ، فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْبَابِ قَالَ الْمُغِيرَةُ لِعُمَرَ : مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : كَذَبْتَ ، بَلْ أَنْتَ رَجُلٌ تَحُوسُكَ فِتْنَةٌ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَمُوتُ حَتَّى يُفْنِيَ اللَّهُ الْمُنَافِقِينَ ، ثُمَّ جَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَرَفَعَ الْحِجَابَ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ : إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ . مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ ، فَحَدَرَ فَاهُ وَقَبَّلَ جَبْهَتَهُ ثُمَّ قَالَ : وَابُنَيَّاهُ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، ثُمَّ حَدَرَ فَاهُ وَقَبَّلَ جَبْهَتَهُ ثُمَّ قَالَ وَاصَفِّيَاهُ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، وَحَدَرَ فَاهُ وَقَبَّلَ جَبْهَتَهُ ، وَقَالَ : وَاخَلِيلَاهُ ، مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَخَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ وَعُمَرُ يَخْطُبُ النَّاسَ وَيَتَكَلَّمُ وَيَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَمُوتُ حَتَّى يُفْنِيَ اللَّهُ الْمُنَافِقِينَ . فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ : ( إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ ) حَتَّى خَتَمَ الْآيَةَ ( وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ ) الْآيَةَ . مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ ، وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ . فَقَالَ عُمَرُ : إِنَّهَا لَفِي كِتَابِ اللَّهِ ! ! ! مَا شَعَرْتُ أَنَّهَا فِي كِتَابِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - . ثُمَّ قَالَ عُمَرُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، هَذَا أَبُو بَكْرٍ ، وَهُوَ ذُو شَيْبَةِ الْمُسْلِمِينَ فَبَايِعُوهُ . فَبَايَعُوهُ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ ، وَغَيْرِهِ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، وَزَادَ : فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ : كَيْفَ تَرَيْنَ ؟ قُلْتُ : غُشِيَ عَلَيْهِ ، فَدَنَا مِنْهُ فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ ، فَقَالَ : يَا غَشْيَاهُ ! مَا أَكُونُ هَذَا الْغَشْيَ ! ثُمَّ كَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ فَعَرَفَ الْمَوْتَ ، فَقَالَ : إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ، ثُمَّ بَكَى فَقُلْتُ : فِي سَبِيلِ اللَّهِ انْقِطَاعُ الْوَحْيِ ، وَدُخُولُجِبْرِيلَ بَيْتِي ، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى صُدْغَيْهِ ، وَوَضَعَ فَاهُ عَلَى جَبْهَتِهِ ، فَبَكَى حَتَّى سَالَتْ دُمُوعُهُ عَلَى وَجْهِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ غَطَّى وَجْهَهُ ، وَخَرَجَ إِلَى النَّاسِ ، وَهُوَ يَبْكِي ، فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ ، هَلْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْكُمْ عَهْدٌ بِوَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالُوا : لَا ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى عُمَرَ فَقَالَ : يَا عُمَرُ ، أَعْنَدَكَ عَهْدٌ بِوَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : لَا . قَالَ : وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ لَقَدْ ذَاقَ طَعْمَ الْمَوْتِ وَقَدْ قَالَ لَهُمْ : " إِنِّي مَيِّتٌ وَإِنَّكُمْ مَيِّتُونَ " . فَضَجَّ النَّاسُ وَبَكَوْا بُكَاءً شَدِيدًا ، ثُمَّ خَلُّوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَهْلِ بَيْتِهِ ، فَغَسَلَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ يَصُبُّ عَلَيْهِ الْمَاءَ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : مَا نَسِيتُ مِنْهُ شَيْئًا لَمْ أَغْسِلْهُ إِلَّا قُلِبَ لِي حَتَّى أَرَى أَحَدًا ، فَأَغْسِلُهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ أَرَى أَحَدًا حَتَّى فَرَغْتُ مِنْهُ ، ثُمَّ كَفَّنُوهُ بِبُرْدٍ يَمَانِيٍّ أَحْمَرَ وَرَيْطَتَيْنِ قَدْ نِيلَ مِنْهُمَا ، ثُمَّ غُسِّلَ ، ثُمَّ أُضْجِعَ عَلَى السَّرِيرِ ، ثُمَّ أَذِنُوا لِلنَّاسِ ; فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَوْجًا فَوْجًا يُصَلُّونَ عَلَيْهِ بِغَيْرِ إِمَامٍ ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ بِالْمَدِينَةِ - حُرٌّ وَلَا عَبْدٌ - إِلَّا صَلَّى عَلَيْهِ . ¤ ثُمَّ تَشَاجَرُوا فِي دَفْنِهِ أَيْنَ يُدْفَنُ ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ : عِنْدَ الْعُودِ الَّذِي كَانَ يُمْسِكُ بِيَدِهِ ، وَتَحْتَ مِنْبَرِهِ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ : فِي الْبَقِيعِ ; حَيْثُ كَانَ يَدْفِنُ مَوْتَاهُ . فَقَالُوا : لَا نَفْعَلُ ذَلِكَ أَبَدًا ، إِذًا لَا يَزَالُ عَبْدُ أَحَدِكُمْ وَوَلِيدَتُهُ قَدْ غَضِبَ عَلَيْهِ مَوْلَاهُ فَيَلُوذُ بِقَبْرِهِ فَتَكُونُ سُنَّةً ، فَاسْتَقَامَ رَأْيُهُمْ عَلَى أَنْ يُدْفَنَ فِي بَيْتِهِ تَحْتَ فِرَاشِهِ حَيْثُ قَبْضُ رُوحِهُ . ¤ فَلَمَّا مَاتَ أَبُو بَكْرٍ دُفِنَ مَعَهُ ، فَلَمَّا حَضَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْمَوْتَ أَوْصَى قَالَ : إِذَا أَنَا مِتُّ فَاحْمِلُونِي إِلَى بَابِ بَيْتِ عَائِشَةَ ، فَقُولُوا لَهَا : هَذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ ، وَيَقُولُ : أَدْخُلُ أَوْ أَخْرُجُ ؟ قَالَ : فَسَكَتَتْ سَاعَةً ، ثُمَّ قَالَتْ : أَدْخِلُوهُ فَادْفِنُوهُ ، أَبُو بَكْرٍ عَنْ يَمِينِهِ وَعُمَرُ عَنْ يَسَارِهِ . قَالَتْ : فَلَمَّا دُفِنَ عُمَرُ أَخَذَتِ الْجِلْبَابَ فَتَجَلْبَبَتْ بِهِ . قَالَ : فَقِيلَ لَهَا : مَا لَكِ وَلِلْجِلْبَابِ ؟ قَالَتْ : كَانَ هَذَا زَوْجِي ، وَهَذَا أَبِي ، فَلَمَّا دُفِنَ عُمَرُ تَجَلْبَبْتُ . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ ، وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى عُوَيْدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
یزید بن بابنوس بیان کرتے ہیں : میں اور میرا ایک ساتھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ، ہم نے ان کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی ، انہوں نے ہمارے لئے تکیہ رکھوایا اور پردہ ڈال دیا ، میرے ساتھی نے ان سے حیض والی عورت کے ساتھ مباشرت کرنے کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب میرے دروازے کے پاس سے گزرتے تھے تو آپ کوئی بات ارشاد فرما دیتے تھے ، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ انہیں نفع عطا کرے ، ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گزرے ، تو آپ نے کوئی بات ارشاد نہیں فرمائی ، پھر آپ گزرے آپ نے کوئی بات ارشاد نہیں فرمائی ، ایسا دو یا تین مرتبہ ہوا ۔ میں نے ( کنیز سے ) کہا: اے لڑکی تم میرے لئے دروازے کے پاس تکیہ رکھ دو ، میں نے سر پر پٹی باندھی ہوئی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے ، آپ نے دریافت کیا : اے عائشہ ! تمہیں کیا ہوا ہے ؟ میں نے عرض کی : میرے سر میں درد کی شکایت ہے ، ہائے سر کا درد ( اس کا بامحاروہ ترجمہ ہو گا ، ہائے میں مر گئی ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ، تھوڑی دیر بعد آپ تشریف لائے ، تو آپ نے چادر اوڑھی ہوئی تھی ، آپ اندر آئے ، آپ نے اپنی دیگر ازواج کو پیغام بھیج کر بلوایا اور فرمایا : میں بیمار ہو گیا ہوں ، اور اب میں یہ استطاعت نہیں رکھتا کہ تم لوگوں کے ہاں جاؤں ، تو تم مجھے اجازت دو کہ میں عائشہ کے ہاں ٹھہر جاؤں ، تو ان خواتین نے آپ کو اجازت پیش کر دی ، میں آپ کی بیماری کے دوران آپ کی دیکھ بھال کرنے لگی ، حالانکہ اس سے پہلے میں نے کبھی کسی بیمار کی دیکھ بھال نہیں کی تھی ، ایک دن آپ کا سر میرے کندھے پر تھا ، اسی دوران آپ کا سر میرے سر کی طرف ڈھلک گیا ، تو مجھے یہ اندازہ ہوا کہ شاید آپ کو میرے سر میں کچھ کرنا ہے ، آپ کے منہ سے ایک ٹھنڈا نطفہ نکلا اور میرے سینے کے اوپر آ کے گرا ، جس سے میری جلد پر کپکپی طاری ہو گئی ، مجھے یہ گمان ہوا کہ شاید آپ پر بے ہوشی طاری ہو رہی ہے ، میں نے آپ پر کپڑا ڈال دیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور مغیرہ بن شعبہ آئے ، ان دونوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، میں نے انہیں اجازت دی ، اور میں نے پردہ کھینچ لیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا اور بولے : یہ تو بے ہوشی ہے ، اللہ کے رسول پر کیسی شدید بے ہوشی طاری ہوئی ہے ، پھر وہ کھڑے ہوئے ، جب وہ دروازے کے پاس پہنچے تو مغیرہ نے کہا: اے عمر ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم جھوٹ بولتے ہو ، تم ایک ایسے شخص ہو کہ آزمائش تم سے مل گئی ہے ، اللہ کے رسول کا انتقال اس وقت تک نہیں ہو گا ، جب تک اللہ تعالیٰ منافقین کو فنا نہیں کر دیتا ، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے ، انہوں نے پردہ ہٹایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا اور پھر کہا: بے شک حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، اور بے شک ہم نے اسی کی طرف لوٹ کے جانا ہے ، اللہ کے رسول کا انتقال ہو گیا ہے ، پھر وہ سرہانے کی طرف سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے کپڑا ہٹایا ، آپ کی پیشانی کو بوسہ دیا اور پھر فرمایا : ہائے افسوس ، پھر انہوں کہا: ہائے نبی پر افسوس ہے ، پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سر اٹھایا ، آپ کے منہ سے کپڑا ہٹایا ، آپ کی پیشانی کو بوسہ دیا اور پھر یہ فرمایا : منتخب شدہ فرد ، پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سر اٹھایا ، آپ کے منہ سے کپڑا ہٹایا اور پھر آپ کی پیشانی کو بوسہ دے کر کہا: ہائے خلیل ! اور افسوس ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ہے ، پھر وہ مسجد کی طرف گئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے اور بات چیت کر رہے تھے ، وہ یہ کہہ رہے تھے کہ اللہ کے رسول کا انتقال اس وقت تک نہیں ہو گا ، جب تک اللہ تعالیٰ منافقین کو ختم نہیں کر دیتا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے گفتگو شروع کی ، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر یہ ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے : ” بے شک تم میت ہو ، اور وہ لوگ بھی میت ہیں ۔ “ انہوں نے یہ آیت پوری پڑھی ، پھر یہ آیت پڑھی : ” محمد صرف رسول ہیں ، اس سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں ، اگر وہ مر جائیں یا قتل ہو جائیں ، تو کیا تم ایڑیوں کے بل گھوم جاؤ گے ؟ “ ۔ ( پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا ، تو اللہ تعالیٰ زندہ ہے ، اسے موت نہیں آئے گی ، اور جو شخص سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا ، تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : یہ آیت اللہ کی کتاب میں موجود تھی ، لیکن مجھے یہ خیال ہی نہیں آیا کہ یہ اللہ کی کتاب میں موجود ہے ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے لوگو ! یہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں ، یہ مسلمانوں کے بزرگ ہیں ، تم ان کی بیعت کر لو ، تم ان کی بیعت کر لو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ اور دیگر کتابوں میں اس روایت کا ایک حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اندر آئے ، انہوں نے دریافت کیا : تمہارا کیا خیال ہے ؟ میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے قریب آئے ، آپ کے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور پھر بولے : ہائے کیسی بے ہوشی ہے ، کاش یہ بے ہوشی مجھ پر طاری ہوتی ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور انہیں آپ کی موت کا اندازہ ہو گیا ، تو انہوں نے کہا: بے شک حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، اور بے شک ہم نے اسی کی طرف لوٹ کے جانا ہے ، پھر وہ رونے لگے ، میں نے کہا: اللہ کی راہ میں وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام کا میرے گھر آنا منقطع ہو گیا ، پھر انہوں نے اپنا ہاتھ اپنی کنپٹی پر رکھا اور اپنی پیشانی پر رکھا اور رونے لگے ، یہاں تک کہ ان کے آنسو بہتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر آئے ، پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ ڈھانپ دیا ، اور لوگوں کے پاس تشریف لے گئے جبکہ وہ رور ہے تھے ۔ انہوں نے فرمایا : اے مسلمانوں کے گروہ ! کیا تمہیں پتہ ہے کہ اللہ کے رسول کا انتقال ہو گیا ہے ؟ لوگوں نے کہا: جی نہیں ! پھر وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے ، اور بولے : اے عمر ! کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے حوالے سے تمہارے پاس کوئی عہد ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! پھر وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے : اے عمر ! کیا تمہارے پاس اللہ کے رسول کے حوالے سے کوئی عہد ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، انہوں نے موت کا ذائقہ چکھ لیا ہے ، اور انہوں نے لوگوں سے کہا: کہ میں مرنے والا ہوں ، اور بیشک تم لوگ بھی مرنے والے ہو ، تو لوگ چیخ و پکار کرنے لگے اور شدید روئے ، پھر لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے گھر والوں کے لئے چھوڑ دیا ۔ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے آپ کو غسل دیا ، سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ پانی ڈال رہے تھے ، یہاں تک کہ جب اس سے فارغ ہوئے ، تو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سرخ یمنی چادر میں کفن دیا اور دو چادروں میں دیا ، جو اس میں سے لی گئیں تھیں ، ان دونوں کو دھویا گیا ، پھر آپ کو پلنگ پر لٹا دیا گیا ، پھر لوگوں کو اندر آنے کی اجازت دی گئی ، لوگ گروہوں کی شکل میں اندر آنے لگے ، اور کسی امام کے بغیر آپ کے لئے دعائے رحمت کرنے لگے ، یہاں تک کہ مدینہ منورہ میں کوئی بھی آزاد یا غلام ایسا نہیں رہا ، جس نے آپ کی نماز جنازہ ادا نہ کی ہو ( یا آپ کے لئے دعائے رحمت نہ کی ہو ) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کرنے کے بارے میں لوگوں کے درمیان اختلاف ہوا کہ آپ کو کہاں دفن کیا جائے ؟ کسی نے کہا: اس لکڑی کے پاس ، جس کو آپ اپنے ہاتھ میں پکڑتے تھے یا آپ کے منبر کے نیچے موجود ہے ، کسی نے کہا: آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا جائے ، جہاں آپ اپنے مرحومین کو دفن کرتے تھے ، کچھ لوگوں نے کہا: ہم ایسا نہیں کریں گے ، کیونکہ پھر ایسا ہو گا کہ کسی غلام یا کنیز کا آقا اس پر غصے ہو گا ، تو وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کی پناہ لے گا ، اور یہ چیز معمول بن جائے گی ، پھر ان لوگوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے گھر میں ، آپ کے بستر کے نیچے ہی دفن کیا جائے ، جہاں آپ کی روح قبض ہوئی تھی ۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ، تو انہیں آپ کے ساتھ دفن کیا گیا ، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا آخری وقت قریب آیا ، تو انہوں نے یہ وصیت کی : کہ جب میں مر جاؤں ، تو میری میت اٹھا کے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے دروازے کے پاس لے جانا ، اور ان سے یہ کہنا کہ یہ عمر بن خطاب آپ کو سلام کہہ رہا ہے ، اور یہ کہہ رہا ہے کہ کیا میں اندر آ جاؤں ؟ یا باہر چلا جاؤں ؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کچھ دیر خاموش رہیں ، پھر انہوں نے فرمایا : انہیں اندر داخل کرو اور انہیں ان کے ساتھ دفن کر دو ( راوی بیان کرتے ہیں : ) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف ہیں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ کے بائیں طرف ہیں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو وہاں دفن کر دیا گیا ، تو میں ( حجرے میں داخل ہوتے وقت ) چادر اوڑھ لیا کرتی تھی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا گیا : آپ چادر کیوں اوڑھتی تھیں ؟ تو انہوں نے فرمایا : پہلے وہاں میرے شوہر تھے ، اور ایک میرے والد تھے ، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دفن کر دیا گیا ، تو میں نے چادر اوڑھنا شروع کر دی ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ، امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی عوید بن ابوعمران ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، بعض حضرات نے یہ کہا: ہے : یہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14254
درجۂ حدیث محدثین: إسنادُ أحمد صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (438/6)»
حدیث نمبر: 14255
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ : أَوَّلُ مَا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ ، فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ حَتَّى أُغْمِيَ عَلَيْهِ ، فَتَشَاوَرَ نِسَاؤُهُ فِي لَدِّهِ فَلَدُّوهُ ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ : " مَا هَذَا ؟ " فَقُلْنَا : هَذَا فِعْلُ نِسَاءٍ جِئْنَ مِنْ هَاهُنَا . وَأَشَارَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ ، وَكَانَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ فِيهِنَّ . قَالُوا : كُنَّا نَتَّهِمُ بِكَ ذَاتَ الْجَنْبِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، . قَالَ : " إِنَّ ذَلِكَ لَدَاءٌ مَا كَانَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لِيَقْذِفَنِي بِهِ ، لَا يَبْقَيَنَّ فِي الْبَيْتِ أَحَدٌ لَا يَلِدُّ إِلَّا عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " . يَعْنِي الْعَبَّاسَ قَالَتْ : لَقَدِ الْتَدَّتْ مَيْمُونَةُ يَوْمَئِذٍ وَإِنَّهَا لَصَائِمَةٌ لِعَزِيمَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ الْعَبَّاسِ فِي كِتَابِ الْخِلَافَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا آغاز سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ہوا ، آپ کی بیماری شدید ہو گئی ، تو آپ پر بے ہوشی طاری ہو جاتی تھی ، آپ کی ازواج نے باہمی مشورے سے یہ طے کیا کہ آپ کے منہ میں دوائی ٹپکائی جائے ، انہوں نے آپ کے منہ میں دوا ٹپکائی ، جب آپ کو ہوش آیا تو آپ نے فرمایا : یہ کس نے کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : یہ ان خواتین نے کیا ہے جو اس طرف سے آئی ہیں ، انہوں نے حبشہ کی سرزمین کی طرف اشارہ کیا ، سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بھی ان خواتین میں شامل تھیں ، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہمیں آپ کے بارے میں یہ اندیشہ تھا کہ کہیں آپ کو ذات الجنب کی شکایت نہ ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ ایک ایسی بیماری ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس میں مبتلا نہیں کرے گا ، اب گھر میں موجود شخص کے منہ میں دوائی ٹپکائی جائے ، البتہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کا معاملہ مختلف ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تھے ۔ راوی خاتون بیان کرتی ہیں : تو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے بھی اس دن اپنے منہ میں دوا ٹپکائی ، حالانکہ وہ روزہ رکھے ہوئے تھیں ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تاکید کی وجہ سے ایسا کیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کتاب الخلافہ میں گزر چکی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14255
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (346/3)»
حدیث نمبر: 14256
وَعَنْ جَابِرٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا عِنْدَ مَوْتِهِ بِصَحِيفَةٍ لِيَكْتُبَ فِيهَا كِتَابًا لَا يَضِلُّونَ بَعْدَهُ أَبَدًا . قَالَ : فَخَالَفَ عَلَيْهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حَتَّى رَفَضَهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال کے قریب ایک صحیفہ منگوایا ، تاکہ اس میں کچھ ایسی چیز لکھ دیں کہ جس کے بعد لوگ کبھی گمراہ نہ ہوں ، راوی کہتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں مختلف بات کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پرے کر دیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14256
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14257
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : لَمَّا مَرِضَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " ادْعُوا لِي بِصَحِيفَةٍ وَدَوَاةٍ أَكْتُبْ لَكَمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّونَ بَعْدِي أَبَدًا " . فَكَرِهْنَا ذَلِكَ أَشَدَّ الْكَرَاهَةِ ، ثُمَّ قَالَ : " ادْعُوا لِي بِصَحِيفَةٍ أَكْتُبْ لَكَمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا " . فَقَالَ النِّسْوَةُ مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ : أَلَا يَسْمَعُونَ مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقُلْتُ : إِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ ، إِذَا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَصَرْتُنَّ أَعْيُنَكُنَّ ، وَإِذَا صَحَّ رَكِبْتُنَّ رَقَبَتَهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعُوهُنَّ ; فَإِنَّهُنَّ خَيْرٌ مِنْكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْجَعْفَرِيُّ قَالَ الْعُقَيْلِيُّ : فِي حَدِيثِهِ نَظَرٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے ، تو آپ نے فرمایا : میرے پاس ایک صحیفہ اور دوات لے کر آؤ ، تاکہ میں تمہارے لئے ایسی تحریر لکھ دوں ، کہ تم میرے بعد کبھی گمراہ نہیں ہو گے ، راوی کہتے ہیں : تو ہمیں یہ بات بہت گراں گزری ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے پاس صحیفہ لے کر آؤ ، تاکہ میں تمہارے لئے ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہیں ہو گے ، تو پردے کے پیچھے سے خواتین نے کہا: کیا یہ لوگ وہ بات نہیں سن رہے ؟ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما رہے ہیں ، تو میں نے کہا: تم لوگ سیدنا یوسف علیہ السلام کے زمانے کی خواتین کی طرح ہو ، جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تھے ، تو تم نے اپنی آنکھیں نچوڑ لی تھیں ، تو اب جب وہ تندرست ہو رہے ہیں ، تو تم ان کی گردن پر سوار ہو رہی ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان کو رہنے دو ! کیونکہ یہ تم لوگوں سے بہتر ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جعفر بن ابراہیم جعفری ہے ، عقیلی کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ روایت میں غور و فکر کی گنجائش ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اس کے بعض راویوں میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14257
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14258
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : لَأَنْ أَحْلِفَ تِسْعًا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُتِلَ قَتْلًا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْلِفَ وَاحِدَةً أَنَّهُ لَمْ يُقْتَلْ ; وَذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - جَعَلَهُ نَبِيًّا وَاتَّخَذَهُ شَهِيدًا . ؟ قَالَ الْأَعْمَشُ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ : كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ الْيَهُودَ سَمُّوهُ وَأَبَا بَكْرٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نو مرتبہ یہ قسم اٹھاؤں کہ اللہ کے رسول کو قتل کیا گیا تھا ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو گا کہ میں ایک مرتبہ یہ قسم اٹھاؤں کہ آپ کو قتل نہیں گیا ، اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبی بھی بنایا اور اس نے آپ کو شہید کے مرتبے پر بھی فائز کیا ۔ اعمش کہتے ہیں : میں نے اس بات کا تذکرہ ابراہیم نخعی سے کیا ، تو انہوں نے فرمایا : لوگ یہ سمجھتے تھے کہ یہودیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو زہر دیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14258
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (4139 و 3873)»
حدیث نمبر: 14259
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ذات الجنب کی بیماری سے ہوا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14259
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (4843)»
حدیث نمبر: 14260
وَعَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ - وَهِيَ أُمُّ وَلَدِ الْعَبَّاسِ أُخْتُ مَيْمُونَةَ - قَالَتْ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَرَضِهِ ، فَجَعَلْتُ أَبْكِي ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ : " مَا يُبْكِيكِ ؟ " . قَالَتْ : خِفْنَا عَلَيْكَ ، وَلَا نَدْرِي مَا نَلْقَى مِنَ النَّاسِ بَعْدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَنْتُمُ الْمُسْتَضْعَفُونَ بَعْدِي " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا ، جو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی اُم ولد ہیں ، اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی بہن ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے دوران آپ کے پاس آئی ، میں رونے لگی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر دیکھا اور دریافت کیا : تم کیوں رو رہی ہو ؟ میں نے عرض کی : ہمیں آپ کے حوالے سے اندیشہ ہے ، ہمیں نہیں پتہ یا رسول اللہ ! آپ کے بعد ہمیں لوگوں کے حوالے سے کس صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میرے بعد کمزور ہو گے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے ، جسے ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14260
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (339/6)»
حدیث نمبر: 14261
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : لَمَّا كَانَ قَبْلَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ إِكْرَامًا لَكَ ، وَتَفْضِيلًا لَكَ ، وَخَاصَّةً لَكَ ، أَسْأَلُكَ عَمَّا هُوَ أَعْلَمُ بِهِ مِنْكَ ، يَقُولُ : كَيْفَ تَجِدُكَ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَجِدُنِي يَا جِبْرِيلُ مَغْمُومًا ، وَأَجِدُنِي يَا جِبْرِيلُ مَكْرُوبًا " . فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّالِثُ هَبَطَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَهَبَطَ مَلَكُ الْمَوْتِ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَهَبَطَ مَعَهُمَا مَلَكٌ فِي الْهَوَاءِ يُقَالُ لَهُ : إِسْمَاعِيلُ ، عَلَى سَبْعِينَ أَلْفِ مَلَكٍ لَيْسَ فِيهِمْ مَلَكٌ إِلَّا عَلَى سَبْعِينَ أَلْفِ مَلَكٍ ، يُشَيِّعُهُمْ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ إِكْرَامًا لَكَ ، وَتَفْضِيلًا لَكَ ، وَخَاصَّةً لَكَ ، أَسْأَلُكَ عَمَّا هُوَ أَعْلَمُ بِهِ مِنْكَ ، يَقُولُ : كَيْفَ تَجِدُكَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " أَجِدُنِي يَا جِبْرِيلُ مَغْمُومًا ، وَأَجِدُنِي يَا جِبْرِيلُ مَكْرُوبًا " . قَالَ : فَاسْتَأْذَنَ مَلَكُ الْمَوْتِ عَلَى الْبَابِ ، فَقَالَ جِبْرِيلُ : يَا مُحَمَّدُ ، هَذَا مَلَكُ الْمَوْتِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْكَ ، وَمَا اسْتَأْذَنَ عَلَى آدَمِيٍّ قَبِلَكَ ، وَلَا يَسْتَأْذِنُ عَلَى آدَمِيٍّ بَعْدَكَ . ¤ فَقَالَ : " ائْذَنْ لَهُ " . فَأَذِنَ لَهُ جِبْرِيلُ ، فَأَقْبَلَ حَتَّى وَقَفَ بَيْنَ يَدَيْهِ . فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ ، وَأَمَرَنِي أَنْ أُطِيعَكَ فِيمَا أَمَرْتَنِي بِهِ ، إِنْ تَأْمُرْنِي أَنْ أَقْبِضَ نَفْسَكَ قَبَضْتُهَا ، وَإِنْ كَرِهْتَ تَرَكْتُهَا ؟ قَالَ : " وَتَفْعَلُ يَا مَلَكَ الْمَوْتِ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ أَنْ أُطِيعَكَ فِيمَا أَمَرْتَنِي بِهِ . فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - : إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدِ اشْتَاقَ إِلَى لِقَائِكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " امْضِ لِمَا أُمِرْتَ بِهِ " . فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ : هَذَا آخِرُ وَطْأَتِي فِي الْأَرْضِ ، إِنَّمَا كُنْتَ حَاجَتِي فِي الدُّنْيَا . ¤ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَاءَتِ التَّعْزِيَةُ ، جَاءَ آتٍ يَسْمَعُونَ حِسَّهُ وَلَا يَرَوْنَ شَخْصَهُ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ، إِنَّ فِي اللَّهِ عَزَاءً مِنْ كُلِّ مُصِيبَةٍ ، وَخَلَفًا مِنْ كُلِّ هَالِكٍ ، وَدَرْكًا مِنْ كُلِّ فَائِتٍ ، فَبِاللَّهِ فَثِقُوا ، وَإِيَّاهُ فَارْجُوا ; فَإِنَّ الْمُصَابَ مَنْ حُرِمَ الثَّوَابَ ، وَالسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ الْقَدَّاحُ ، وَهُوَ ذَاهِبُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن حسین رضی اللہ عنہ ( یعنی امام زین العابدین ) بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور بولے : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کی عزت افزائی کے لئے اور آپ کی فضیلت کے اظہار کے لئے اور بطور خاص آپ کے لئے ، آپ کے پاس بھیجا ہے ، تاکہ میں آپ سے اس چیز کے بارے میں دریافت کروں ، جس کے بارے میں پروردگار آپ سے بھی زیادہ بہتر جانتا ہے ، اس نے یہ فرمایا ہے : آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے جبرائیل ! میں اپنے آپ کو پریشان محسوس کر رہا ہوں ، اے جبرائیل ! میں خود کو مشکل میں محسوس کر رہا ہوں ، جب تیسرا دن آیا ، تو سیدنا جبرائیل نازل ہوئے اور ان کے ساتھ ملک الموت نازل ہوئے ، اور ان دونوں کے ساتھ ایک فرشتہ تھا ، جو ہوا میں تھا ، اس کا نام اسماعیل تھا ، وہ ستر ہزار فرشتوں کے ساتھ تھا ، اس میں سے ہر ایک فرشتے کے ساتھ مزید ستر ہزار فرشتے تھے ، وہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ آئے تھے ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اللہ تعالیٰ نے آپ کی عزت افزائی کے لئے آپ کی فضیلت کے اظہار کے لئے بطور خاص آپ کی طرف مجھے بھیجا ہے ، تاکہ میں آپ سے اس چیز کے بارے میں دریافت کروں ، جس کے بارے میں پروردگار آپ سے بھی زیادہ بہتر جانتا ہے ، وہ یہ فرما رہا ہے : آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے جبرائیل ! میں خود کو غمگین محسوس کر رہا ہوں ، اے جبرائیل ! میں خود کو پریشان محسوس کر رہا ہوں ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر ملک الموت نے دروازے پر اندر آنے کی اجازت مانگی ، سیدنا جبرائیل نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) یہ ملک الموت ہے ، یہ آپ سے اجازت مانگ رہا ہے ، اس نے آپ سے پہلے کسی شخص سے اجازت نہیں مانگی ، اور یہ آپ کے بعد بھی کبھی کسی سے اجازت نہیں مانگے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے اجازت دے دو ! سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے اسے اجازت دی وہ آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کے ٹھہر گیا ، اس نے عرض کی : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے ، اس نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ آپ مجھے جو حکم دیں گے میں اس کے بارے میں آپ کی اطاعت کروں گا ، اگر آپ مجھے یہ حکم دیتے ہیں کہ میں آپ کی جان قبض کر لوں ، تو میں اسے قبض کر لوں گا ، اور اگر آپ اسے ناپسند کرتے ہیں تو میں اسے چھوڑ دوں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے ملک الموت کیا تم ایسا ہی کرو گے ؟ اس نے کہا: جی ہاں ، مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے کہ آپ مجھے جو ہدایت کریں گے اس کے بارے میں ، میں آپ کی اطاعت کروں گا ، سیدنا جبرائیل نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ تعالیٰ آپ سے ملاقات کا مشتاق ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس چیز کو جاری کرو جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے ، تو سیدنا جبرائیل نے ان سے کہا: یہ میرا زمین پر آخری مرتبہ آنا ہے ، دنیا میں مجھے آپ سے ہی کام تھا ۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ، تو ایک تعزیت کرنے والی کوئی چیز آئی تھی ، اس کی آمد کا تو پتہ چلتا تھا ، اس کی آہٹ کا احساس ہوتا تھا ، لیکن اس کا وجود نظر نہیں آتا تھا ، اس نے کہا: آپ پر سلام ہو ، اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں ، ہر جان نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے ، بے شک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ہر مصیبت کا بدلہ ہو سکتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ، ہر ہلاک ہونے والے کا بدلہ مل سکتا ہے ، اور ہر فوت ہونے والے کی جگہ بدل مل سکتا ہے ، تو تم لوگ اللہ تعالیٰ پر یقین رکھو ، اور اس سے ثواب کی امید رکھو ، کیونکہ مصیبت زدہ وہ شخص ہوتا ہے ، جو ثواب سے محروم رہے ، تم پر سلام ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن میمون قداح ہے ، اور وہ ذاہب الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14261
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2890)»
حدیث نمبر: 14262
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَاتَ مِنَ اللَّحْمِ الَّذِي كَانَتِ الْيَهُودِيَّةُ سَمَّتْهُ ، فَانْقَطَعَ أَبْهَرُهُ مِنَ السُّمِّ عَلَى رَأْسِ السَّنَةِ . كَانَ يَقُولُ : " مَا زِلْتُ أَجِدُ مِنْهُ حِسًّا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال اس گوشت کو کھانے کی وجہ سے ہوا تھا ، جس میں یہودی عورت نے زہر ملایا تھا ، اس کی وجہ سے ایک سال تک آپ کو گلا کٹتا ہوا محسوس ہوتا تھا ، آپ یہ فرماتے تھے : مجھے مسلسل اس کی تکلیف محسوس ہوتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14262
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11503)»
حدیث نمبر: 14263
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : مَا مَرَّتْ عَلَيَّ لَيْلَةٌ مِثْلُ لَيْلَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عَائِشَةُ هَلْ طَلَعَ الْفَجْرُ ؟ " . فَأَقُولُ : لَا ، حَتَّى أَذَّنَ بِلَالٌ بِالْفَجْرِ ، ثُمَّ جَاءَ بِلَالٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا هَذَا ؟ " . فَقُلْتُ : هَذَا بِلَالٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مُرِي أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : مجھ پر کوئی رات ایسی نہیں گزری ، جو اس رات کی مانند تھی ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے عائشہ ! کیا صبح صادق ہو گئی ہے ؟ میں نے جواب دیا : جی نہیں ! یہاں تک کہ بلال رضی اللہ عنہ نے فجر کی اذان دی ، پھر بلال رضی اللہ عنہ آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کون ہے ؟ میں نے عرض کی : یہ بلال ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے بلال ! ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14263
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (849)»
حدیث نمبر: 14264
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ ، وَهُوَ يَمُدُّ يَدَهُ ، وَهُوَ يَقُولُ : " يَا جِبْرِيلُ ، أَيْنَ أَنْتَ ؟ " . ثُمَّ يَقْبِضُهَا وَيَبْسُطُهَا ، فَفَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا ، وَهُوَ يَقُولُ : " يَا جِبْرِيلُ اشْفَعْ لِي عِنْدَ رَبِّي يُهَوِّنْ عَلَيَّ الْمَوْتَ " . فَذَكَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ : لَقَدْ سَمِعْتُ مَا لَمْ تَسْمَعْ أُذُنٌ مِنْ جِبْرِيلَ ، وَهُوَ يَقُولُ : " لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضُمَيْرَةَ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا ، تو آپ نے ہاتھ کو بڑھا کر یہ فرمایا : جبرائیل تم کہاں تھے ؟ پھر آپ نے ہاتھ کو بند کر لیا اور پھر اسے پھیلایا ، ایسا چند مرتبہ کیا اور آپ یہی فرما رہے تھے : اے جبرائیل ! میرے پروردگار کی بارگاہ میں میری سفارش کرو کہ وہ مجھ پر موت کو آسان کر دے ۔ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات ذکر کی : کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے وہ بات سنی تھی جو آپ نے نہیں سنی ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے اس وقت یہ کہا: تھا : میں حاضر ہوں ، میں حاضر ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ بن ضمیرہ ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14264
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 14265
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَرَضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ ، فَاسْتَأْذَنَ وَرَأْسُهُ فِي حِجْرِ عَلِيٍّ - رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ - فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ . فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : ارْجِعْ فَإِنَّا مَشَاغِيلُ عَنْكَ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَدْرِي مَنْ هَذَا يَا أَبَا الْحَسَنِ ؟ هَذَا مَلَكُ الْمَوْتِ ، ادْخُلْ رَاشِدًا " . فَلَمَّا دَخَلَ قَالَ : إِنَّ رَبَّكَ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ . قَالَ : " أَيْنَ جِبْرِيلُ ؟ " . قَالَ : لَيْسَ هُوَ قَرِيبٌ مِنِّي ، الْآنَ يَأْتِي . فَخَرَجَ مَلَكُ الْمَوْتِ حَتَّى نَزَلَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ وَهُوَ قَائِمٌ بِالْبَابِ : مَا أَخْرَجَكَ يَا مَلَكَ الْمَوْتِ ؟ قَالَ : الْتَمَسَكَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَلَمَّا جَلَسَا قَالَ جِبْرِيلُ : سَلَامٌ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، هَذَا وَدَاعٌ مِنِّي وَمِنْكَ . ¤ فَبَلَغَنِي أَنَّ مَلَكَ الْمَوْتِ لَمْ يُسَلِّمْ عَلَى أَهْلِ بَيْتٍ قَبْلَهُ ، وَلَا يُسَلِّمُ بَعْدَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ملک الموت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیماری کے دوران آیا ، جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا ، تو اس نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی گود میں تھا ، اس نے کہا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تم واپس چلے جاؤ ! کیونکہ ہم ابھی تم سے ملنے کے حوالے سے مصروف ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابوالحسن ! کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون ہے ؟ یہ ملک الموت ہے ( پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ) تم کامیابی کے ساتھ اندر آ جاؤ ، جب وہ اندر آئے ، تو اس نے کہا: آپ کے پروردگار نے آپ کو سلام کہا: ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : جبرائیل کہاں ہے ؟ انہوں نے کہا: وہ میرے قریب نہیں ہیں ، ابھی وہ آ جاتے ہیں ، پھر ملک الموت باہر چلا گیا ، یہاں تک کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے دروازے پر کھڑے ہو کر ان سے دریافت کیا : اے ملک الموت تم باہر کیوں آ گئے ہو ؟ اس نے کہا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں طلب کر رہے ہیں ، جب وہ دونوں بیٹھ گئے ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: اے ابوالقاسم ! آپ پر سلام ہو ، یہ میری طرف سے اور آپ کی طرف سے الوداعی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ ملک الموت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی کو سلام نہیں کیا ، اور آپ کے بعد بھی وہ کسی کو سلام نہیں کرے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مختار بن نافع ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14265
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12708)»
حدیث نمبر: 14266
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَقُلَ وَعِنْدَهُ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ إِذْ دَخَلَ عَلِيٌّ ، فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَفَعَ رَأْسَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " ادْنُ مِنِّي ، ادْنُ مِنِّي " . فَأَسْنَدَهُ إِلَيْهِ ، فَلَمْ يَزَلْ عِنْدَهُ حَتَّى تُوَفِّيَ ، فَلَمَّا قُضِيَ قَامَ عَلِيٌّ وَأَغْلَقَ الْبَابَ ، وَجَاءَ الْعَبَّاسُ وَمَعَهُ بَنُو عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَامُوا عَلَى الْبَابِ ، فَجَعَلَ عَلِيٌّ يَقُولُ : بِأَبِي أَنْتَ طِبْتَ حَيًّا وَطِبْتَ مَيِّتًا ، وَسَطَعَتْ رِيحٌ طَيِّبَةٌ لَمْ يَجِدُوا مَثَلَهَا ، فَقَالَ : إِيهًا دَعْ حَنِينًا كَحَنِينِ الْمَرْأَةِ ، وَأَقْبِلُوا عَلَى صَاحِبِكُمْ . قَالَ عَلِيٌّ : أَدْخِلُوا عَلَيَّ الْفَضْلَ بْنَ الْعَبَّاسِ . فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ : نَشَدْنَاكُمْ بِاللَّهِ وَنَصِيبِنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَأَدْخَلُوا رَجُلًا مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ : أَوْسُ بْنُ خَوْلِيٍّ يَحْمِلُ جَرَّةً بِإِحْدَى يَدَيْهِ ، فَسَمِعُوا صَوْتًا فِي الْبَيْتِ : لَا تُجَرِّدُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاغْسِلُوهُ كَمَا هُوَ فِي قَمِيصِهِ ، فَغَسَلَهُ عَلِيٌّ يُدْخِلُ يَدَهُ مِنْ تَحْتِ الْقَمِيصِ ، وَالْفَضْلُ يُمْسِكُ الثَّوْبَ عَنْهُ ، وَالْأَنْصَارِيُّ يَنْقُلُ الْمَاءَ ، وَعَلَى يَدِ عَلِيٍّ خِرْقَةٌ يُدْخِلُ يَدَهُ تَحْتَ الْقَمِيصِ . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَةَ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ عَلَى ضَعْفِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری شدید ہو گئی ، آپ کے پاس سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا موجود تھیں ، اسی دوران سیدنا علی رضی اللہ عنہ اندر آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں دیکھا تو آپ نے سر اٹھایا اور فرمایا : میرے قریب آ جاؤ ! میرے قریب آ جاؤ ! انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹیک دی اس کے بعد وہ مسلسل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہے ، یہاں تک کہ آپ کا وصال ہو گیا ، جب ایسا ہو گیا ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اُٹھے ، انہوں نے دروازہ بند کیا ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آئے ، ان کے ساتھ جناب عبدالمطلب کی اولاد کے افراد تھے ، وہ لوگ دروازے پر کھڑے ہو گئے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ کہنا شروع کیا : میرے والد آپ پر قربان ہوں ، آپ زندگی میں بھی پاکیزہ تھے ، اور مرنے کے بعد بھی پاکیزہ ہیں ، آپ کی طرف سے پاکیزہ خوشبو اوپر گئی ہے ، ان لوگوں نے اس کی مانند کبھی کوئی چیز نہیں پائی تھی ، پھر انہوں نے کہا: ارے عورتوں کی طرح رونا چھوڑو اور اپنے آقا کی طرف متوجہ ہو جاؤ ، پھر فضل بن عباس کو میرے پاس بھیجو ، انصار نے کہا: ہم آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتے ہیں ، اور اللہ کے رسول کی بارگاہ میں ہمیں جو قرب حاصل تھا ، اس کا واسطہ دے کر یہ کہتے ہیں کہ ہم میں سے بھی ایک شخص کو اندر لے جائیں ، ان صاحب کا نام سیدنا اوس بن خولی رضی اللہ عنہ تھا ، انہوں نے مٹکے کو ایک طرف سے اٹھایا ہوا تھا ، انہوں نے گھر میں یہ آواز سنی کہ تم لوگ اللہ کے رسول کے کپڑے نہ اتارو ، اور تم انہیں کپڑوں میں ہی غسل دے دو ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قمیص کے اندر ہاتھ داخل کر کے آپ کو غسل دیا ، سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کپڑے کو تھامے ہوئے تھے ، اور انصاری شخص پانی منتقل کر رہا تھا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ایک کپڑا تھا ، جسے وہ قمیص کے نیچے اپنے ہاتھ کے ساتھ داخل کر رہے تھے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے ، اور وہ ضعیف ہونے کے باوجود حسن الحدیث ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14266
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (629)»
حدیث نمبر: 14267
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : أَوْصَانِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ لَا يَغْسِلَهُ أَحَدٌ غَيْرِي " فَإِنَّهُ لَا يَرَى عَوْرَتِي أَحَدٌ إِلَّا طُمِسَتْ عَيْنَاهُ " . قَالَ عَلِيٌّ : فَكَانَ الْعَبَّاسُ وَأُسَامَةُ ، يُنَاوِلَانِي الْمَاءَ مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ بِلَالٍ قَالَ الْبُخَارِيُّ : فِيهِ نَظَرٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا ، وَفِيهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ تلقین کی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے علاوہ اور کوئی غسل نہ دے ، آپ نے فرمایا تھا : جو شخص بھی میری شرمگاہ کو دیکھے گا ، اس کی بینائی ختم ہو جائے گی ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ مجھے پردے کے پیچھے سے پانی پکڑا رہے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن بلال ہے ، بخاری کہتے ہیں : اس میں غور و فکر کی گنجائش ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اس راوی کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14267
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (848)»
حدیث نمبر: 14268
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا تُقْبَضُ نَفْسُهُ ، ثُمَّ يَرَى الثَّوَابَ ، ثُمَّ تُرَدُّ إِلَيْهِ فَتُخَيَّرُ بَيْنَ أَنْ تُرَدَّ إِلَيْهِ إِلَى أَنْ يَلْحَقَ " . ¤ فَكُنْتُ قَدْ حَفِظْتُ ذَلِكَ مِنْهُ ، فَإِنِّي لَمُسْنِدَتُهُ إِلَى صَدْرِي فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ حَتَّى مَالَتْ عُنُقُهُ ، فَقُلْتُ : قَدْ قُضِيَ . قَالَتْ : فَعَرَفْتُ الَّذِي قَالَ . قَالَتْ : فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ حَتَّى ارْتَفَعَ وَنَظَرَ ، قُلْتُ : إِذًا لَا يَخْتَارُنَا ، فَقَالَ : مَعَ الرَّفِيقِ الْأَعْلَى فِي الْجَنَّةِ مَعَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ إِلَى آخَرِ الْآيَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر نبی کی جان قبض ہوتی ہے ، پھر وہ ثواب دیکھتا ہے ، پھر وہ جان اس کی طرف لوٹا دی جاتی ہے ، پھر اسے یہ اختیار دیا جاتا ہے کہ یا تو اس جان کو لوٹا دیا جائے ، یا پھر یہ ہے کہ وہ آگے چلا جائے ۔ “ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : تو میں نے یہ بات یاد رکھی ہوئی تھی ، ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی ، میں آپ کی طرف دیکھ رہی تھی ، اس دوران آپ کی گردن ڈھلک گئی ، میں نے سوچا شاید آپ کا انتقال ہو گیا ہے ، لیکن پھر مجھے وہ بات یاد آ گئی ، جو آپ نے ارشاد فرمائی تھی ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا ، آپ اُٹھے ، آپ نے نظر کی ، میں نے کہا: ایسی صورت میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اختیار نہیں کریں گے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں جنت میں رفیق اعلیٰ کا ساتھ چاہتا ہوں ، ان لوگوں کا ساتھ جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ، جن کا تعلق انبیاء اور صدیقین سے ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ یہ آیت کے آخر تک تلاوت کیا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14268
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (74/6)»
حدیث نمبر: 14269
وَفِي رِوَايَةٍ : " الرَّفِيقِ الْأَعْلَى الْأَسْعَدِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، إِلَّا أَنَّهَا قَالَتْ : قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي . قَالَتْ : وَظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيَرُدُّ اللَّهُ عَلَيْهِ رُوحَهُ . قَالَتْ : وَكَذَلِكَ يَفْعَلُ بِالْأَنْبِيَاءِ ، فَتَحَرَّكَ فَقُلْتُ : إِنْ خُيِّرْتَ الْيَوْمَ فَلَنْ تَخْتَارَنَا . ¤ وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” وہ رفیق اعلیٰ جو سب سے زیادہ سعادت والا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال میری گردن اور سینے کے درمیان ہوا تھا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میرا یہ گمان تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کی روح کو آپ کی طرف واپس کرے گا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انبیاء کرام کے ساتھ اسی طرح ہوتا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرکت کی ، تو میں نے سوچا کہ اگر آج آپ کو اختیار دیا بھی گیا ، تو آپ ہمیں اختیار نہیں کریں گے ۔ امام أحمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14269
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (120/6)»
حدیث نمبر: 14270
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : مَاتَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا خَرَجَتْ نَفْسُهُ مَا شَمَمْتُ رَائِحَةً قَطُّ أَطْيَبَ مِنْهَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا ، اور جب آپ کی جان نکلی ، تو میں نے اس سے زیادہ پاکیزہ خوشبو کبھی نہیں سونگھی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14270
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (851)»
حدیث نمبر: 14271
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِتْرًا ، وَفَتَحَ بَابًا فِي مَرَضِهِ ، فَنَظَرَ إِلَى النَّاسِ يُصَلُّونَ خَلَفَ أَبِي بَكْرٍ ، فَسُرَّ بِذَلِكَ وَقَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ ، إِنَّهُ لَمْ يَمُتْ نَبِيٌّ حَتَّى يَؤُمَّهُ رَجُلٌ مِنْ أُمَّتِهِ " . ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، مَنْ أُصِيبَ مِنْكُمْ بِمُصِيبَةٍ مِنْ بَعْدِي فَلْيَتَعَزَّ بِمُصِيبَتِهِ بِي عَنْ مُصِيبَتِهِ الَّتِي تُصِيبُهُ ; فَإِنَّهُ لَنْ يُصَابَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي مِنْ بَعْدِي بِمِثْلِ مُصِيبَتِهِ بِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ - وَالِدُ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ - وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کے دوران پردہ ہٹایا اور دروازہ کھولا اور لوگوں کی طرف دیکھا ، جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز ادا کر رہے تھے ، آپ اس بات پر خوش ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا : ” ہر طرح کی حمد ، اللہ تعالیٰ کے مخصوص ہے ، کسی بھی نبی کا انتقال اس وقت تک نہیں ہوا جب تک اس کی امت کے کسی فرد نے اس کی امامت نہیں کی ۔ “ پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے لوگو ! میرے بعد جس کسی کو جس مصیبت کا سامنا کرنا پڑے ، تو وہ میری مصیبت کے حوالے سے اپنی اس مصیبت میں خود کو دلاسہ دے ، جو مصیبت اسے لاحق ہو گی ، کیونکہ میرے بعد میری امت کو میری جدائی جیسی مصیبت کبھی لاحق نہیں ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن جعفر ہے ، جو علی بن مدینی کا والد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14271
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14272
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : أُغْمِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي حِجْرِ عَائِشَةَ ، فَأَفَاقَ وَهِيَ تَمْسَحُ صَدْرَهُ ، وَتَدْعُو لَهُ بِالشِّفَاءِ قَالَ : " لَا . وَلَكِنْ أَسْأَلُ اللَّهَ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى الْأَسْعَدَ ، جِبْرِيلَ ، وَمِيكَائِيلَ ، وَإِسْرَافِيلَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہوئی ، آپ اس وقت سیدہ عائشتہ رضی اللہ عنہا کی گود میں تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش آیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا آپ کے سینے پر ہاتھ پھیر رہی تھیں اور آپ کے لئے شفاء کی دعا کر رہی تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ میں اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ سعادت مند رفیق اعلیٰ ، جبرائیل ، میکائیل اور اسرافیل کا سوال کرتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلام جمحی ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14272
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14273
عَنْ أَبِي عَسِيبٍ - أَوْ أَبِي عَسِيمٍ - قَالَ بَهْزٌ : شَهِدَ الصَّلَاةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالُوا : كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْهِ ؟ قَالَ : ادْخُلُوا أَرْسَالًا أَرْسَالًا . قَالَ : فَكَانُوا يَدْخُلُونَ مِنْ هَذَا الْبَابِ فَيُصَلُّونَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ يَخْرُجُونَ مِنَ الْبَابِ الْآخَرِ . قَالَ : فَلَمَّا وُضِعَ فِي لَحْدِهِ قَالَ الْمُغِيرَةُ : قَدْ بَقِيَ مِنْ رِجْلَيْهِ شَيْءٌ لَمْ يُصْلِحُوهُ قَالُوا : فَادْخُلْ فَأَصْلِحْهُ ، فَدَخَلَ وَأَدْخَلَ يَدَهُ فَغَمَسَ قَدَمَيْهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : أَهِيلُوا عَلَيْهِ التُّرَابَ . فَأَهَالُوا عَلَيْهِ حَتَّى بَلَغَ أَنْصَافَ سَاقَيْهِ ، ثُمَّ خَرَجَ فَكَانَ يَقُولُ : أَنَا أَحْدَثُكُمْ عَهْدًا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوعسیب رضی اللہ عنہ ، یا شاید سیدنا ابوعسیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بہز نامی راوی کہتے ہیں : انہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جنازے میں شریک ہونے کا شرف حاصل ہے ، لوگوں نے یہ کہا: کہ ہم آپ کی نماز جنازہ کیسے ادا کریں ؟ تو انہوں نے کہا: تم لوگ ٹولیوں کی شکل میں اندر داخل ہو جاؤ ، پھر وہ لوگ اس دروازے سے داخل ہوتے تھے ، آپ کے لئے دعائے رحمت کرتے تھے ، پھر دوسرے دروازے سے نکل جاتے تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لحد میں رکھا گیا ، تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کے پاؤں میں سے کوئی چیز باقی رہ گئی ہے ، جس کو انہوں نے ٹھیک نہیں کیا ، لوگوں نے کہا: آپ اندر جائیں اور اسے ٹھیک کر دیں ، وہ اندر گئے ، انہوں نے اپنا ہاتھ داخل کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کو چھوا اور بولے : اس پر مٹی ڈالو ! انہوں نے وہاں پر مٹی ڈالی ، یہاں تک کہ وہ آپ کی نصف پنڈلیوں تک پہنچ گئے ، پھر وہ باہر آ گئے اور انہوں نے یہ کہا: کہ تم سب کے مقابلے میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے آخری ملاقات میری ہوئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14273
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (81/5)»
حدیث نمبر: 14274
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كُنْتُ أَدْخُلُ بَيْتِي الَّذِي فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبِي ، فَأَضَعُ ثَوْبِي وَأَقُولُ : إِنَّمَا هُوَ زَوْجِي وَأَبِي ، فَلَمَّا دُفِنَ عُمَرُ مَعَهُمْ ، فَوَاللَّهِ مَا دَخَلْتُهُ إِلَّا وَأَنَا مَشْدُودَةٌ عَلَيَّ ثِيَابِي حَيَاءً مِنْ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں اپنے گھر کے اس حصے میں داخل ہوتی تھی ، جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک تھی اور میرے والد کی قبر تھی ، تو میں سر پر چادر نہیں لیتی تھی اور یہ کہتی تھی : ایک میرے شوہر ہیں اور ایک میرے والد ہیں ، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ دفن کیا گیا ، تو اللہ کی قسم ! میں جب بھی اس حصے میں داخل ہوتی تھی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے حیاء کی وجہ سے چادر اوڑھ کر رکھتی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14274
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (202/6)»
حدیث نمبر: 14275
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : دَخَلَ قَبْرَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعَبَّاسُ ، وَعَلِيٌّ ، وَالْفَضْلُ ، وَشَقَّ لَحَدَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَهُوَ الَّذِي شَقَّ قُبُورَ الشُّهَدَاءِ يَوْمَ أُحُدٍ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَةَ أَطْوَلَ مِنْ هَذَا ، وَلَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْعَبَّاسِ ، وَلَا الَّذِي شَقَّ لَحْدَهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ أَيُّوبَ بْنِ مَنْصُورٍ ، وَقَدْ وَهِمْ فِي حَدِيثٍ رَوَاهُ لَهُ أَبُو دَاوُدَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک میں سیدنا عباس ، سیدنا علی اور سیدنا فضل رضی اللہ عنہم داخل ہوئے تھے ، انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے آپ کی لحد تیار کی تھی ، یہ وہی شخص تھا ، جس نے غزوہ احد کے موقع پر شہداء کی قبریں تیار کی تھیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابن ماجہ نے اس سے زیادہ طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے ، اور نہ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی لحد تیار کرنے والے شخص کا ذکر ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد ایوب بن منصور کے حوالے سے نقل کی ہے ، اسے اس حدیث میں وہم ہوا ہے ، جو روایت امام ابوداؤد نے اس کے حوالے سے نقل کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14275
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (855)»
حدیث نمبر: 14276
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ أَبُو بَكْرٍ فِي نَاحِيَةٍ بِالْمَدِينَةِ قَالَ : فَدَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعَ فَاهُ عَلَى جَبِينِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَ يُقَبِّلُهُ وَيَقُولُ : بِأَبِي وَأُمِّي طِبْتَ حَيًّا وَمَيِّتًا . فَلَمَّا خَرَجَ مَرَّ عُمَرُ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ - وَهُوَ يَقُولُ : وَاللَّهِ مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا يَمُوتُ حَتَّى يَقْتُلَ الْمُنَافِقِينَ . قَالَ : وَقَدْ كَانُوا اسْتَبْشَرُوا بِمَوْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَفَعُوا رُؤُوسِهِمْ ، فَمَرَّ بِهِ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ : أَيُّهَا الرَّجُلُ أَرْبِعْ عَلَى نَفْسِكَ ; فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ مَاتَ ، أَلَمْ تَسْمَعِ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ : ( إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ ) ( وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ أَفَإِنْ مِتَّ فَهُمُ الْخَالِدُونَ ) ؟ . قَالَ : وَأَتَى الْمِنْبَرَ ، فَصَعِدَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنْ كَانَ مُحَمَّدٌ إِلَهَكُمُ الَّذِي تَعْبُدُونَ فَإِنَّ إِلَهَكُمْ قَدْ مَاتَ ، وَإِنْ كَانَ إِلَهُكُمُ الَّذِي فِي السَّمَاءِ فَإِنَّ إِلَهَكُمْ حَيٌّ لَا يَمُوتُ . ثُمَّ تَلَا : ( وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ) الْآيَةَ . ¤ ثُمَّ نَزَلَ وَقَدِ اسْتَبْشَرَ الْمُؤْمِنُونَ بِذَلِكَ ، وَاشْتَدَّ فَرَحُهُمْ ، وَأَخَذَ الْمُنَافِقُونَ الْكَآبَةَ . ¤ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَكَأَنَّمَا كَانَتْ عَلَى وُجُوهِنَا أَغْطِيَةٌ فَكُشِفَتْ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ عَلِيِّ بْنِ الْمُنْذِرِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کے نواحی علاقے میں تھے ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، انہوں نے اپنے منہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر رکھا اور آپ کو بوسہ دینے لگے اور یہ کہنے لگے کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ زندگی اور موت ، ہر حال میں پاکیزہ ہیں ، جب وہ باہر نکلے تو وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے ، جو یہ کہہ رہے تھے : اللہ کی قسم ! اللہ کے رسول کا انتقال نہیں ہوا ، اور آپ کا انتقال اس وقت تک نہیں ہو گا ، جب تک آپ منافقین کو قتل نہیں کر دیتے ، وہ یہ کہہ رہے تھے : منافقین ، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کی وجہ سے خوشخبری حاصل کریں گے ، اور اپنے سر اٹھا لیں گے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے اور بولے : اے شخص ! اپنے آپ پر ق ابورکھو ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا ہے ، کیا تم نے اللہ تعالیٰ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے : ” بے شک تم میت ہو اور بے شک وہ لوگ بھی میت ہیں ۔ “ اور ہم نے تم سے پہلے کسی بشر کے لئے ہمیشہ رہنا نہیں رکھا ، اگر تم مر جاؤ ، تو کیا وہ لوگ ہمیشہ رہیں گے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ منبر کے پاس آئے ، وہ منبر پر چڑھے ، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی ، اور پھر یہ بات ارشاد فرمائی : ” اے لوگو ! اگر سیدنا محمد تمہارے معبود تھے ، جن کی تم عبادت کرتے تھے ، تو تمہارے معبود کا انتقال ہو گیا ہے ، اور اگر تمہارا معبود وہ ہے ، جو آسمان میں ہے ، تو تمہارا معبود زندہ ہے ، اسے موت نہیں آئے گی “ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ” محمد صرف رسول ہیں ، ان سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ پھر وہ منبر سے نیچے اتر آئے ، مسلمانوں نے اس بات کے حوالے سے اطمینان حاصل کیا اور ان کی تسلی ہو گئی اور منافقین کی پریشانی میں اضافہ ہو گیا ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : اس ذات قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، یوں لگتا ہے جیسے ہمارے چہروں پر پردہ تھا ، اور وہ ہٹا دیا گیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف علی بن منذر کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14276
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (852)»
حدیث نمبر: 14277
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَيُعَزِّي النَّاسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا مِنْ بَعْدِي تَعْزِيَةَ نَبِيٍّ " . ¤ وَكَانَ النَّاسُ يَقُولُونَ : مَا هَذَا ؟ فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَقِيَ بَعْضُنَا بَعْضًا يُعَزِّي بَعْضُهُمْ بَعْضًا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيِّ ، وَوَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب میرے بعد لوگ ایک دوسرے کے ساتھ ، نبی کے حوالے سے تعزیت کریں گے ۔ “ لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا : اس سے مراد کیا ہے ؟ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ، تو لوگ ایک دوسرے سے ملتے تھے اور ایک دوسرے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے تعزیت کرتے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف موسیٰ بن یعقوب زمعی کا معاملہ مختلف ہے ، ایک جماعت نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14277
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7547) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5757)»
حدیث نمبر: 14278
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : مَا عَدَا وَارَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي التُّرَابِ ، فَأَنْكَرْنَا قُلُوبَنَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مٹی میں دفن کر دیا ، تو ہمیں اپنے دلوں کی حالت تبدیل محسوس ہونے لگی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14278
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (852)»
حدیث نمبر: 14279
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : رَأَيْتُ كَأَنَّ ثَلَاثَةَ أَقْمَارٍ سَقَطْنَ فِي حِجْرِي ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِنْ صَدَقَتْ رُؤْيَاكِ دُفِنَ فِي بَيْتِكِ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ ثَلَاثَةٌ . فَلَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ : خَيْرُ أَقْمَارِكِ يَا عَائِشَةُ . وَدُفِنَ فِي بَيْتِهَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ مَرْفُوعًا أَنَّهَا قَصَّتْهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَّهُ أَوَّلَهُ بِهَذَا فِي بَابِ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا ، وَفِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے خواب میں دیکھا کہ تین چاند اتر کر میری گود میں آ گئے ہیں ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تمہارا خواب سچ ثابت ہوا ، تو تمہارے گھر میں اہل زمین کے تین بہترین لوگ دفن ہوں گے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اے عائشہ ! یہ تمہارے چاندوں میں سب سے بہتر ہیں ، ( راوی بیان کرتے ہیں : ) پھر ( بعد میں ) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی ان کے گھر میں دفن کیا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، یہ انہوں نے معجم اوسط میں بھی نقل کی ہے ، معجم کبیر کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے یہ مرفوع حدیث گزر چکی ہے : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ خواب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا تھا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعبیر بیان کی تھی ، یہ خوابوں کی تعبیر سے متعلق باب میں گزری ہے ، اور اس کی سند میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14279
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14280
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ : قَالَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ تَرْثِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ¤ لَهْفَ نَفْسِي وَبِتُّ كَالْمَسْلُوبِ أَرْقُبُ اللَّيْلَ فِعْلَةَ الْمَحْرُوبِ مِنْ هُمُومٍ وَحَسْرَةٍ أَرَّقَتْنِي ¤ لَيْتَ أَنِّي سُقِيتُهَا بِشَعُوبِ حِينَ قَالُوا إِنَّ الرَّسُولَ قَدْ أَمْسَى ¤ وَافَقَتْهُ مَنِيَّةُ الْمَكْتُوبِ حِينَ جِئْنَا لِآلِ بَيْتِ مُحَمَّدٍ ¤ فَأَشَابَ الْقَذَالَ مِنِّي مَشِيبُ حِيَنَ رَيْنَا بِيُوتَهُ مُوحِشَاتٍ ¤ لَيْسَ فِيهِنَّ بَعْدُ عَيْشُ غَرِيبِ فَعَرَانِي لِذَاكَ حُزْنٌ طَوِيلٌ ¤ خَالَطَ الْقَلْبَ فَهْوَ كَالْمَرْعُوبِ . ¤ وَقَالَتْ أَيْضًا : ¤ أَلَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُنْتَ رَخَاءَنَا وَكُنْتَ بِنَا بَرًّا وَلَمْ تَكُ جَافِيَا ¤ وَكَانَ بِنَا بَرًّا رَحِيمًا نَبِيُّنَا لِيَبْكِ عَلَيْكَ الْيَوْمَ مَنْ كَانَ بَاكِيَا ¤ لَعَمْرِي مَا أَبْكِي النَّبِيَّ لِمَوْتِهِ وَلَكِنْ لِهَرْجٍ كَانَ بَعْدَكَ آتِيَا ¤ كَأَنَّ عَلَى قَلْبِي لِفَقْدِ مُحَمَّدٍ وَمِنْ حُبِّهِ مِنْ بَعْدِ ذَاكَ الْمَكَاوِيَا ¤ أَفَاطِمُ صَلَّى اللَّهُ رَبُّ مُحَمَّدٍ عَلَى جَدَثٍ أَمْسَى بِيَثْرِبَ ثَاوِيَا ¤ أَرَى حَسَنًا أَيْتَمْتَهُ وَتَرَكْتَهُ يَبْكِي وَيَدْعُو جَدَّهُ الْيَوْمَ نَائِيَا ¤ فِدًى لِرَسُولِ اللَّهِ أُمِّي وَخَالَتِي وَعَمِّي وَنَفْسِي قَصْرُهُ وَعِيَالِيَا ¤ صَبَرْتَ وَبَلَّغْتَ الرِّسَالَةَ صَادِقًا وَمِتَّ صَلِيبَ الدِّينِ أَبْلَجَ صَافِيَا ¤ فَلَوْ أَنَّ رَبَّ الْعَرْشِ أَبْقَاكَ بَيْنَنَا سَعِدْنَا وَلَكِنْ أَمْرُهُ كَانَ مَاضِيَا ¤ عَلَيْكَ مِنَ اللَّهِ السَّلَامُ تَحِيَّةً وَأُدْخِلْتَ جَنَّاتٍ مِنَ الْعَدْنِ رَاضِيَا ¤ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بیان کرتے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی جان ) سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مرثیہ کہتے ہوئے یہ اشعار کہے ہیں : ” میری جان غمگین ہے ، اور میں نے یوں رات گزاری ہے ، جیسے کسی کی کوئی چیز چھین لی گئی ہو ، میں رات بھر جاگتی رہی ہوں ، جیسے وہ شخص کام کرتا ہے ، جو جنگ کا شکار ہوا ہو ، پریشانیوں اور حسرت کی وجہ سے میری حالت خراب ہو گئی ، افسوس کہ مجھے یہ پریشانیاں اس وقت ملی ہیں ، جب موت کی اطلاع ملی ، جب لوگوں نے یہ کہا: کل شام تقدیر کے لکھے ہوئے کے مطابق موت ، رسول تک آ گئی ، جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کے پاس آئے ، تو سر کے پچھلے حصے کے بال بھی سفید ہو چکے تھے ، جب ہم نے ان کے گھروں کو دیکھا کہ ان میں وحشت ہے ، اور ان کے بعد ان گھروں میں ایسی زندگی ہے ، جو نامانوس ہے ، تو اس وجہ سے مجھے طویل غم درپیش ہو گیا ، جو دل کے ساتھ یوں گھل مل گیا ، جیسے وہ مرغوب کی مانند ہو “ انہوں نے یہ بھی کہا: ” یا رسول اللہ ! آپ ہماری سہولت تھے اور آپ ہم پر مہربانی کرنے والے تھے ، اور آپ پہلو تہی کرنے والے نہیں تھے ، ہمارے نبی ہم پر مہربان تھے ، رحم کرنے والے تھے ، تو آج کے دن ہر رونے والے کو آپ پر رونا چاہیے ، مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے ، میں نبی کی موت پر نہیں رو رہی ہوں ، بلکہ اس پریشانی پر رو رہی ہوں ، جو آپ کے بعد آئے گی ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر موجودگی پر میرا دل یوں ہے کہ ان کی محبت کی وجہ سے وہ داغ لگانے والا گرم آلہ بن گیا ہے ، اے فاطمہ ! سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پروردگار ، اللہ تعالیٰ ، ان پر درود نازل کرے ، جنہوں نے یثرب میں ( آخری ) ٹھکانہ بنا لیا ہے ، میں نے حسن کو دیکھا ہے کہ آپ نے اسے یتیم کر کے چھوڑا ہے ، اور وہ رو رہا ہے ، اور اپنے نانا کو بلا رہا ہے ، میری ماں ، میری خالہ ، میری پھوپھی اور میں ، اللہ کے رسول پر فدا ہو جائیں ، آپ نے صبر سے کام لیا اور سچائی کے ساتھ رسالت کی تبلیغ کر دی ، اور آپ کا انتقال ایسی حالت میں ہوا ، کہ دین مضبوط واضح اور صاف ہے ، اگر آپ کا پروردگار ، آپ کو ہمارے درمیان باقی رہنے دیتا ، تو یہ ہماری خوش نصیبی ہوتی ، لیکن اس کا فیصلہ پورا ہو کر رہتا ہے ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر سلام ہو ، جو تحیت کے طور پر ہو ، اور آپ کو ایسی حالت میں ” جنت عدن “ میں داخل کیا جائے ، کہ آپ راضی ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14280
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (203/20)»
حدیث نمبر: 14281
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ قَالَ : لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَتْ صَفِيَّةُ تَلْمَعُ بِرِدَائِهَا ، وَهِيَ تَقُولُ : ¤ قَدْ كَانَ بَعْدَكَ أَنْبَاءٌ وَهَنْبَثَةٌ لَوْ كُنْتَ شَاهِدَهَا لَمْ يَكْثُرِ الْخُطَبُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ مُحَمَّدًا لَمْ يُدْرِكْ صَفِيَّةَ . ¤
محمد محی الدین
امام محمد بن علی بن حسین رحمہ اللہ ( یعنی امام باقر رحمہ اللہ ) بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا ، تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنی چادر کو اوڑھ کر نکلیں اور وہ یہ کہہ رہی تھیں : ” آپ کے بعد ایسی خبریں اور مشکلات آ گئی ہیں کہ اگر آپ ان کے پاس موجود ہوتے تو زیادہ پریشانی نہیں ہونی تھی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، تاہم امام محمد ( یعنی امام باقر ) نامی راوی نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14281
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (31/24)»
حدیث نمبر: 14282
وَعَنْ غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ : إِنِّي لَأَذْكُرُ مَا قَالَهُ أَبِي عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ مَاتَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ أَلَا لِيَ الْوَيْلُ عَلَى مُحَمَّدِ قَدْ كُنْتُ فِي حَيَاتِهِ بِمَرْصَدِ أَنَامُ لَيْلِي آمِنًا إِلَى الْغَدِ ¤ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ بِشْرِ بْنِ آدَمَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا غنیمم بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے یاد آتا ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تھا ، تو اس دن میرے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا کہا: تھا ( انہوں نے یہ اشعار کہے تھے : ) ” خبردار ! سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ، میرے لئے بربادی ہے ، آپ کی زندگی میں ، میں ایک گھات میں تھا اور میں رات بھر صبح ہونے تک سویا رہتا تھا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف بشر بن آدم کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14282
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (854)»