کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: نبی اکرم ﷺ کو دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا جانا
حدیث نمبر: 14247
عَنْ أَبِي مُوَيْهِبَةَ - مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَقَالَ : " يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ ، إِنِّي قَدْ أُمِرْتُ أَنْ أَسْتَغْفِرَ لِأَهْلِ الْبَقِيعِ ، فَانْطَلِقْ مَعِي " . فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ ، فَلَمَّا وَقَفَ بَيْنَ أَظْهُرِهُمْ قَالَ : " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْمَقَابِرِ ، لِيُهْنِكُمْ مَا أَصْبَحْتُمْ فِيهِ مِمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ فِيهِ ، لَوْ تَعْلَمُونَ مَا نَجَّاكُمُ اللَّهُ مِنْهُ : أَقْبَلَتِ الْفِتَنُ كَقِطْعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ ، يَتْبَعُ آخِرُهَا أَوَّلَهَا ، الْآخِرَةُ شَرٌّ مِنَ الْأُولَى " . ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ ، فَقَالَ : " يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ ، إِنِّي قَدْ أُوتِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الدُّنْيَا وَالْخُلْدَ فِيهَا ، ثُمَّ الْجَنَّةَ ، وَخُيِّرْتُ بَيْنَ ذَلِكَ ، وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - وَالْجَنَّةِ " . قَالَ : قُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، فَخُذْ مَفَاتِيحَ الدُّنْيَا وَالْخُلْدَ فِيهَا ، ثُمَّ الْجَنَّةَ . قَالَ : " لَا وَاللَّهِ يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ ، لَقَدِ اخْتَرْتُ لِقَاءَ رَبِّي ، ثُمَّ الْجَنَّةَ " . ¤ ثُمَّ اسْتَغْفَرَ لِأَهْلِ الْبَقِيعِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ . فَبَدَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي وَجَعِهِ الَّذِي قَبَضَهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - حِينَ أَصْبَحَ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام سیدنا ابومویبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نصف رات کے وقت مجھے بھیجا ، آپ نے فرمایا : اے ابومویہبہ ! مجھے یہ حکم دیا گیا ہے میں اہل بقیع کے لئے دعائے مغفرت کروں ، تو تم میرے ساتھ چلو ، میں آپ کے ساتھ روانہ ہوا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان پہنچے تو آپ نے فرمایا : ” اے قبرستان والو ! تم پر سلامتی نازل ہو ، تم لوگ جس صورت حال میں ہو ، اس کے حوالے سے تمہیں مبارک باد ہے ، اس چیز کے مقابلے میں جس میں لوگ مبتلاء ہیں ، اگر تم یہ بات جان لو ! کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے نجات عطا کر دی ہے ، فتنے یوں آئیں گے ، جس طرح تاریک رات کے ٹکڑے ہوتے ہیں اور ان میں بعد والا ، پہلے والے کے پیچھے آ جائے گا ، اور بعد والا پہلے سے زیادہ برا ہو گا ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا : اے ابومویہبہ ! مجھے دنیا کے خزانوں اور ہمیشہ دنیا میں رہنے اور پھر جنت میں چلے جانے کی کنجیاں عطا کی گئیں ، پھر مجھے اس بارے میں ( یعنی دنیا میں ہمیشہ رہنے ) اور پروردگار کی بارگاہ حاضر ہونے ( یعنی ابھی انتقال کر جانے ) اور پھر جنت میں چلے جانے کے درمیان اختیار دیا گیا “ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ دنیا اور اس میں ہمیشہ رہنے اور پھر جنت ( میں چلے جانے ) کی چابیاں حاصل کر لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! اسے ابومویہبہ ! میں اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضری پھر جنت ( میں چلے جانے ) کو اختیار کرتا ہوں ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بقیع کے لئے دعائے مغفرت کی ، پھر آپ واپس تشریف لے گئے ، تو آپ کی اس بیماری کا آغاز ہوا ، جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تھا ۔
حدیث نمبر: 14248
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ أَيْضًا قَالَ : أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى أَهْلِ الْبَقِيعِ ، فَصَلَّى عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَلَمَّا كَانَتِ الثَّالِثَةُ قَالَ : " يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ ، أَسْرِجْ لِي دَابَّتِي " . قَالَ : فَرَكِبَ وَمَشَيْتُ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِمْ ، فَنَزَلَ عَنْ دَابَّتِهِ ، وَأَمْسَكْتُ الدَّابَّةَ . قُلْتُ : فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ الْإِسْنَادَ الْأَوَّلَ : عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ أَبِي مُوَيْهِبَةَ ، وَالثَّانِي : عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مُوَيْهِبَةَ . ¤
محمد محی الدین
ان سے منقول ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا گیا کہ آپ اہل بقیع کے لئے دعائے رحمت کریں ، تو آپ نے رات کے وقت دعائے رحمت کی ، ایسا آپ نے تین مرتبہ کیا ، جب تیسری مرتبہ ہو گئی ، تو آپ نے فرمایا : اے ابومویہبہ ! میرے جانور پر زین رکھو ، راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور آپ تشریف لے گئے ، یہاں تک کہ آپ ان کے پاس پہنچے ، تو آپ سواری سے نیچے اترے ، میں نے سواری کو پکڑ کے رکھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ پہلی سند یہ ہے کہ روایت عبید بن جبیر کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سیدنا ابومویہبہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے ، جبکہ دوسری سند میں یہ ہے کہ عبید بن جبیر کے حوالے سے سیدنا ابومویہبہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ پہلی سند یہ ہے کہ روایت عبید بن جبیر کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سیدنا ابومویہبہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے ، جبکہ دوسری سند میں یہ ہے کہ عبید بن جبیر کے حوالے سے سیدنا ابومویہبہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ۔
حدیث نمبر: 14249
وَعَنْ أَبِي وَاقَدٍ اللِّيثِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُيِّرَ عَبْدٌ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ بَيْنَ الدُّنْيَا وَمُلْكِهَا وَنَعِيمِهَا وَبَيْنَ الْآخِرَةِ ، فَاخْتَارَ الْآخِرَةَ " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : بَلْ نَفْدِيكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَمْوَالِنَا وَأَنْفُسِنَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے کو ، دنیا اس کی بادشاہی ، اس کی نعمتوں اور آخرت کے درمیان اختیار دیا گیا ، تو اس نے آخرت کو اختیار کر لیا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم اپنے اموال اور جانیں آپ کے فدیے میں دے دیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔