کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے اونٹ کے بارے میں حدیث کا بیان
حدیث نمبر: 14175
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : فَقَدْتُ جَمَلِي لَيْلَةً ، فَمَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَشُدُّ لِعَائِشَةَ ، فَقَالَ لِي : " مَا لَكَ يَا جَابِرُ ؟ " . فَقُلْتُ : فَقَدْتُ جَمَلِي أَوْ ذَهَبَ جَمَلِي فِي لَيْلَةٍ ظَلْمَاءَ . قَالَ : فَقَالَ لِي : " هَذَا جَمَلُكَ اذْهَبْ فَخُذْهُ " . قَالَ : فَذَهَبْتُ نَحْوَ مَا قَالَ لِي فَلَمْ أَجِدْهُ ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ : بِأَبِي وَأُمِّي يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا وَجَدْتُهُ . قَالَ : فَقَالَ لِي : " هَذَا جَمَلُكَ اذْهَبْ فَخُذْهُ " . قَالَ : فَذَهَبْتُ نَحْوَ مَا قَالَ لِي فَلَمْ أَجِدْهُ ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ : بِأَبِي وَأُمِّي يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، لَا وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُهُ . قَالَ : فَقَالَ لِي : " عَلَى رَسْلِكَ " . حَتَّى إِذَا فَرَغَ أَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقَ بِي حَتَّى أَتَيْنَا الْجَمَلَ ، فَدَفَعَهُ إِلَيَّ فَقَالَ : " هَذَا جَمَلُكَ " . قَالَ : وَقَدْ سَارَ النَّاسُ قَالَ : فَبَيْنَا أَنَا أَسِيرُ عَلَى جَمَلِي فِي عُقْبَتِي وَكَانَ جَمَلِي فِيهِ قِطَافٌ . ¤ قَالَ : فَقُلْتُ : يَا لَهْفَ أُمِّي أَنْ يَكُونَ لِي إِلَّا جَمَلٌ قَطُوفٌ . قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدِي يَسِيرُ . قَالَ : فَسَمِعَ مَا قُلْتُ . قَالَ : فَلَحِقَ بِي فَقَالَ : " مَا قُلْتَ يَا جَابِرُ قَبْلُ ؟ قَالَ : فَنَسِيتُ مَا قُلْتُ . قَالَ : قُلْتُ : مَا قُلْتُ شَيْئًا يَا نَبِيَّ اللَّهِ . قَالَ : فَذَكَرْتُ مَا قُلْتُ . قَالَ : قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ : لَهْفَ أُمِّي أَنْ يَكُونَ لِي إِلَّا جَمَلٌ قَطُوفٌ . قَالَ : فَضَرَبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَجُزَ الْجُمَلِ بِسَوْطٍ أَوْ بِسَوْطِي قَالَ : فَانْطَلَقَ أَوْضَعَ أَوْ أَسْرَعَ جَمَلٍ رَكِبْتُهُ قَطُّ ، هُوَ يُنَازِعُنِي خِطَامَهُ . قَالَ : فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنْتَ بَائِعِي جَمَلَكَ هَذَا ؟ " . قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : " بِكَمْ ؟ " . قُلْتُ : بِأُوقِيَّةٍ . قَالَ : " بَخٍ بَخٍ كَمْ فِي أُوقِيَّةٍ مِنْ نَاضِحٍ وَنَاضِحٍ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا بِالْمَدِينَةِ نَاضِحٌ أُحِبُّ أَنَّهُ لَنَا مَكَانَهُ . قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَدْ أَخَذْتُهُ بِأُوقِيَّةٍ " . قَالَ : فَنَزَلْتُ عَنِ الرَّحْلِ إِلَى الْأَرْضِ . قَالَ : قَالَ : " مَا شَأْنُكَ ؟ " . قَالَ : قُلْتُ : جَمَلُكَ . قَالَ لِي : " ارْكَبْ جَمَلَكَ " . قَالَ : قُلْتُ : مَا هُوَ بِجَمَلِي وَلَكِنَّهُ جَمَلُكَ . - قَالَ : كُنَّا نُرَاجِعُهُ فِي الْأَمْرِ مَرَّتَيْنِ ، فَإِذَا أَمَرَنَا الثَّالِثَةَ لَمْ نُرَاجِعْهُ - . قَالَ : فَرَكِبْتُ الْجَمَلَ حَتَّى أَتَيْتُ عَمَّتِي بِالْمَدِينَةِ . قَالَ : وَقُلْتُ لَهَا : أَلَمْ تَرَيْ أَنِّي بِعْتُ نَاضِحَنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأُوقِيَّةٍ ؟ قَالَ : فَمَا رَأَيْتُهَا أَعْجَبَهَا ذَاكَ . قَالَ : وَكَانَ نَاضِحًا فَارِهًا . قَالَ : ثُمَّ أَخَذْتُ شَيْئًا مِنْ خَيْطٍ فَأَوْخَزْتُهُ إِيَّاهُ ، ثُمَّ أَخَذْتُ بِخِطَامِهِ فَقُدْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُقَاوِمًا رَجُلًا يُكَلِّمُهُ ، قُلْتُ : دُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ جَمَلَكَ . فَأَخَذَ بِخِطَامِهِ ، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا قَالَ : " زِنْ لِجَابِرٍ أُوقِيَّةً وَأَوْفِهِ " . فَانْطَلَقْتُ مَعَ بِلَالٍ فَوَزَنَ لِي أُوقِيَّةً ، وَأَوْفَى لِيَ الْوَزْنَ . قَالَ : فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ قَائِمٌ يُحَدِّثُ ذَاكَ الرَّجُلَ ، قُلْتُ : قَدْ وَزَنَ لِي أُوقِيَّةً وَأَوْفَانِي . ¤ قَالَ : فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ ذَهَبْتُ إِلَى بَيْتِي وَلَا أَشْعُرُ ، فَنَادَى : " أَيْنَ جَابِرٌ ؟ " . قَالُوا : ذَهَبَ إِلَى أَهْلِهِ . قَالَ : " أَدْرِكْهُ فَائْتِنِي بِهِ " . فَأَتَى رَسُولُهُ يَسْعَى قَالَ : يَا جَابِرُ ، يَدْعُوكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : فَأَتَيْتُ قَالَ : " خُذْ جَمَلَكَ " . قَالَ : قُلْتُ : مَا هُوَ جَمَلِي إِنَّمَا هُوَ جَمَلُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ! قَالَ : " خُذْ جَمَلَكَ " . قَالَ : قُلْتُ : مَا هُوَ جَمَلِي إِنَّمَا هُوَ جَمَلُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، . قَالَ : " خُذْ جَمَلَكَ " . فَأَخَذْتُهُ ، فَقَالَ : " لَعَمْرِي مَا نَفَعْنَاكَ لِتَنْزِلَ عَنْهُ " . قَالَ : فَجِئْتُ إِلَى عَمَّتِي بِالنَّاضِحِ مَعِي وَالْأُوقِيَّةِ . فَقُلْتُ لَهَا : مَا تَرَيْنَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْطَانِي أُوقِيَّةً ، وَرَدَّ عَلَيَّ الْجَمَلَ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ نُبَيْحٍ الْعَنْزِيِّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ جَابِرٍ فِي قَضَاءِ دَيْنِ أَبِيهِ بِغَيْرِ قِصَّةِ الصَّحِيحِ فِي قَضَاءِ الدَّيْنِ عَنِ الْمَيِّتِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک رات میرا اونٹ گم ہو گیا ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا ، آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لئے پالان باندھ رہے تھے ، آپ نے مجھ سے دریافت کیا : اے جابر ! کیا ہوا ہے ؟ میں نے عرض کی : میرا اونٹ گم ہو گیا ہے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) میرا اونٹ چلا گیا ہے ، یہ ایک تاریک رات تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ادھر تمہارا اونٹ ہو گا ، تم جاؤ اور اسے لے لو ! راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جس طرف کے بارے میں بتایا تھا ، میں اس طرف گیا ، لیکن مجھے اونٹ نہیں ملا ، میں آپ کے پاس واپس آیا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، وہ اونٹ مجھے نہیں ملا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ادھر تمہارا اونٹ ہو گا تم جاؤ اور اسے لے لو ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس سمت کے بارے میں مجھے بتایا تھا ، میں ادھر گیا ، لیکن مجھے نہیں ملا ، میں واپس آیا ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، اللہ کی قسم ! وہ مجھے نہیں ملا ، راوی بیان کرتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : تم ٹھہر جاؤ ، یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کام سے فارغ ہوئے ، تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ساتھ لے کے چلے اور اونٹ کے پاس آ گئے ، وہ آپ نے میرے حوالے کیا اور فرمایا : یہ رہا تمہارا اونٹ ، راوی کہتے ہیں ، ہم روانہ ہوئے ، میں اپنے اونٹ پر چل رہا تھا اور لوگوں سے پیچھے تھا ، میرے اونٹ کو چلنے میں دشواری پیش آ رہی تھی وہ بہت چھوٹے قدم اٹھا رہا تھا ، میں نے کہا: ہائے میری ماں ، میرے پاس تو ایک ایسا اونٹ ہے جو چھوٹے قدم اٹھاتا ہے ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے کچھ پیچھے تھے ، آپ نے میری بات سن لی ، آپ میرے پاس آئے ، آپ نے فرمایا : اے جابر ! ابھی تم نے تھوڑی دیر پہلے کیا کہا: ہے ؟ راوی کہتے ہیں ، میں نے جو بات کہی تھی ، وہ میں بھول چکا تھا ، میں نے کہا: اے اللہ کے نبی ! میں نے کچھ نہیں کہا: ، پھر مجھے وہ بات یاد آ گئی ، جو میں نے کہی تھی ، تو میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میں نے یہ کہا: تھا کہ ہائے میری ماں ! میرے پاس وہ اونٹ ہے ، جو چھوٹے قدم اٹھاتا ہے ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھڑی کے ذریعے ( راوی کو شک ہے ) میری چھڑی کے ذریعے اونٹ کی پشت پر مارا ، راوی کہتے ہیں : تو وہ سب سے زیادہ تیز چلنے لگا ، اتنا تیز وہ بھی نہیں چلا تھا ، جب سے میں اس پر سوار ہوا تھا ، یہاں تک کہ مجھے اس کی لگام کھینچنی پڑ رہی تھی ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : تم اپنا اونٹ مجھے فروخت کرو گے ؟ میں نے عرض کی : ٹھیک ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کتنے کے عوض میں ؟ میں نے عرض کی : ایک اوقیہ کے عوض میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بہت خوب ، بہت خوب ، ایک اوقیہ کے عوض میں اونٹ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مدینہ میں کوئی ایسا اونٹ نہیں ہے کہ جس کے بارے میں مجھے یہ پسند ہو کہ اس کی جگہ ہمیں وہ مل جائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں ایک اوقیہ کے عوض میں اسے لیتا ہوں ، راوی کہتے ہیں : میں پالان سے اتر کر زمین پر آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا بات ہے ؟ میں نے عرض کی : یہ آپ کا اونٹ ہو گیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے اونٹ پر سوار ہو جاؤ ، میں نے عرض کی : یہ میرا اونٹ نہیں ہے ، بلکہ یہ آپ کا اونٹ ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : ہم دو مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نظرثانی کی درخواست کرتے تھے ، جب آپ تیسری مرتبہ ہمیں حکم دیدیتے تھے ، تو پھر ہم نظرثانی کی درخواست نہیں کرتے تھے ، راوی کہتے ہیں : میں اس اونٹ پر سوار ہوا یہاں تک کہ میں مدینہ منورہ میں موجود اپنی پھوپھی کے پاس آیا ، میں نے ان سے کہا: کیا آپ کو پتہ ہے میں نے ایک اوقیہ کے عوض میں اپنا یہ اونٹ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فروخت کر دیا ہے ؟ راوی کہتے ہیں مجھے لگا کہ یہ بات انہیں اچھی نہیں لگی ، کیونکہ وہ ایک مناسب اونٹ تھا ، راوی کہتے ہیں پھر میں نے کچھ پتے لئے ، وہ اس اونٹ کو کھلائے ، پھر میں نے اس کی لگام پکڑی اور اسے لے کر چلتا ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا کہ آپ ایک جگہ پر ٹھہرے ہوئے کسی شخص کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اپنا اونٹ لے لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی لگام پکڑی اور اور پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ جابر کو ایک اوقیہ وزن کر کے دو ، اور پورا وزن دینا ، میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ گیا ، انہوں نے مجھے ایک اوقیہ وزن کر کے دیا ، اور پورا وزن دیا ، پھر میں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، تو آپ اسی شخص کے ساتھ کھڑے بات چیت کر رہے تھے ، میں نے کہا: انہوں نے مجھے وزن کر کے پورا ایک اوقیہ ادا کر دیا ہے ، راوی کہتے ہیں اسی دوران میں اپنے گھر کی طرف واپس آ گیا ، مجھے پتہ نہیں چلا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : جابر کہاں ہے ؟ لوگوں نے بتایا وہ اپنے گھر چلا گیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کے پاس جاؤ اور اسے میرے پاس واپس لے کر آؤ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد دوڑتا ہوا آیا اور اس نے کہا: اے جابر ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں بلا رہے ہیں ، راوی کہتے ہیں : میں آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنا اونٹ لے لو ، میں نے عرض کی یہ میرا اونٹ نہیں ہے ، یا رسول اللہ یہ آپ کا اونٹ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنا اونٹ لے لو ! میں نے عرض کی : یہ میرا اونٹ نہیں ہے ، یا رسول اللہ ! یہ آپ کا اونٹ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنا اونٹ لے لو ! تو میں نے اسے لے لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے ! ہم نے تمہیں اس لئے نفع نہیں دیا تھا تاکہ تم اس سے اتر جاؤ ( یا اس سے الگ ہو جاؤ ) ۔ “ راوی کہتے ہیں : پھر میں اپنی پھوپھی کے پاس اپنے ساتھ اونٹ لے کر آیا اور ایک اوقیہ لے کر آیا اور میں نے ان سے کہا: آپ نے دیکھا ، اللہ کے رسول نے مجھے ایک اوقیہ بھی دیدیا اور میرا اونٹ بھی واپس کر دیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت صحیح میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، تاہم نبیح عنزی کا معاملہ مختلف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے والد کے قرض کی ادائیگی والی حدیث ، جو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے نقل کی ہے ، وہ گزر چکی ہے ، اس میں ” صحیح “ والا واقعہ مذکور نہیں ہے ، اور وہ میت کی طرف سے قرض ادا کرنے سے متعلق باب میں گزری ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14175
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (358/3)»