کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جانوروں ، درختوں اور دیگر چیزوں کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کے معجزات کا بیان
حدیث نمبر: 14153
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ أَهْلُ بَيْتٍ مِنَ الْأَنْصَارِ لَهُمْ جَمَلٌ يَسْنُونَ عَلَيْهِ ، وَإِنَّهُ اسْتُصْعِبَ عَلَيْهِمْ فَمَنَعَهُمْ ظَهْرَهُ ، وَأَنَّ الْأَنْصَارَ جَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : إِنَّهُ كَانَ لَنَا جَمَلٌ نَسْتَنِي عَلَيْهِ ، وَإِنَّهُ اسْتُصْعِبَ عَلَيْنَا ، وَمَنَعَنَا ظَهْرَهُ ، وَقَدْ عَطِشَ الزَّرْعُ وَالنَّخْلُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَصْحَابِهِ : " قُومُوا " . فَقَامُوا ، فَدَخَلَ الْحَائِطَ وَالْجَمَلُ فِي نَاحِيَتِهِ ، فَمَشَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَحْوَهُ . فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ صَارَ مِثْلَ الْكَلْبِ الْكَلِبِ ، وَإِنَّا نَخَافُ عَلَيْكَ صَوْلَتَهُ . قَالَ : " لَيْسَ عَلَيَّ مِنْهُ بَأْسٌ " . فَلَمَّا نَظَرَ الْجَمَلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقْبَلَ نَحْوَهُ ، حَتَّى خَرَّ سَاجِدًا بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِنَاصِيَتِهِ أَذَلَّ مَا كَانَتْ قَطُّ حَتَّى أَدْخَلَهُ فِي الْعَمَلِ . فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا بَهِيمَةٌ لَا يَعْقِلُ يَسْجُدُ لَكَ ، وَنَحْنُ نَعْقِلُ ; فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَكَ ! قَالَ : " لَا يَصْلُحُ لِبَشَرٍ أَنْ يَسْجُدَ لِبِشْرٍ ، وَلَوْ صَلَحَ لِبَشَرٍ أَنْ يَسْجُدَ لِبَشَرٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا ; لِعِظَمِ حَقِّهِ عَلَيْهَا ، لَوْ كَانَ مِنْ قَدَمِهِ إِلَى مَفْرِقِ رَأْسِهِ قُرْحَةٌ تَنْبَجِسُ بِالْقَيْحِ وَالصَّدِيدِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَتْهُ فَلَحَسَتْهُ مَا أَدَّتْ حَقَّهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ حَفْصِ ابْنِ أَخِي أَنَسٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار کا ایک گھرانہ تھا ، جن کے پاس ایک اونٹ تھا جس پر وہ پانی لاد کر لایا کرتے تھے انہیں اس اونٹ کو ق ابوکرنے میں دشواری پیش آئی ، اس اونٹ نے اپنی پشت پر کچھ لادنے سے روک دیا ، انصار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، انہوں نے عرض کی : ہمارا ایک اونٹ تھا ، جس پر ہم پانی لاد کر لایا کرتے تھے ، اب اس کو ق ابوکرنا ہمارے لئے دشوار ہو گیا ، وہ ہمیں اپنی پشت استعمال کرنے نہیں دیتا ہے جب کہ صورت حال یہ ہے کہ کھیت اور کھجوروں کے درخت پیاسے ہیں ( یعنی انہیں پانی لگانے کی ضرورت ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : تم لوگ اٹھو ، وہ لوگ کھڑے ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ میں تشریف لائے ، وہ اونٹ باغ کے ایک کونے میں موجود تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف چل کر جانے لگے ، تو انصار نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ ایک کتے کی مانند ہو چکا ہے ، ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ یہ آپ کو نقصان پہنچائے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے اس سے کوئی نقصان نہیں ہو گا ، جب اونٹ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ آپ کی طرف چلتا ہوا آیا ، اور آپ کے سامنے سجدے میں گر گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پیشانی کو پکڑا ، تو وہ اتنا فرمانبردار ہو چکا تھا کہ پہلے اتنا فرمانبردار نہیں تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے کام میں داخل کیا ، آپ کے اصحاب نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ جانور جو عقل نہیں رکھتا ، یہ آپ کو سجدہ کر رہا ہے ، ہم تو عقل رکھتے ہیں ، ہم اس بات کا زیادہ حق رکھتے ہیں کہ ہم آپ کو سجدہ کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کسی انسان کے لئے یہ موزوں نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے انسان کو سجدہ کرے ، اگر کسی انسان کے لئے یہ موزوں ہوتا کہ وہ کسی انسان کو سجدہ کرے ، تو میں نے بیوی کو یہ حکم دینا تھا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے ، کیونکہ شوہر کا حق اس عورت پر زیادہ ہے ، یہاں تک کہ اگر اس کی سر کی مانگ سے لے کر اس کے قدموں تک پھوڑے نکلے ہوئے ہوں ، جن میں سے پیپ اور کیچ لہو بہتا ہو ، پھر وہ عورت اپنے شوہر کے پاس آ کر اس کو چاٹ لے ، تو بھی وہ اس شوہر کے حق کو ادا نہیں کر سکتی ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف حفص نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ، جو سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بھتیجا ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف حفص نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ، جو سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بھتیجا ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 14154
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ قَوْمٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ بَعِيرًا لَنَا قَطَّ فِي حَائِطٍ . فَجَاءَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " تَعَالَ " . فَجَاءَ مُطَأْطَأً رَأْسَهُ حَتَّى خَطَمَهُ وَأَعْطَاهُ أَصْحَابَهُ . فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَأَنَّهُ عَلِمَ أَنَّكَ نَبِيٌّ ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَحَدٌ إِلَّا يَعْلَمُ أَنِّي نَبِيٌّ ، إِلَّا كَفَرَةَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارا اونٹ کھل کر باغ میں چلا گیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : تم آگے آؤ ، تو وہ اپنے سر کو جھکا کر آگے آ گیا ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لگام ڈال دی ، اور وہ اونٹ اس کے مالکان کے حوالے کر دیا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا سول اللہ ! یوں لگتا ہے جیسے یہ جانتا ہے کہ آپ اللہ کے نبی ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دونوں کناروں کے درمیان موجود ہر چیز یہ جانتی ہے کہ میں نبی ہوں ، سوائے کافر جنوں اور انسانوں کے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 14155
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ لَهُ فَحْلَانِ فَاغْتَلَمَا ، فَأَدْخَلَهُمَا حَائِطًا فَسَدَّ عَلَيْهِمَا الْبَابَ ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ لَهُ ، وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَاعِدٌ مَعَ نَفَرٍ مِنَ الْأَنْصَارِ . فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنِّي جِئْتُ فِي حَاجَةٍ ، وَإِنَّ فَحْلَيْنِ لِيَ اغْتَلَمَا ، وَإِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا حَائِطًا وَسَدَدْتُ عَلَيْهِمَا الْبَابَ ، فَأُحِبُّ أَنْ تَدْعُوَ لِي أَنْ يُسَخِّرَهُمَا اللَّهُ لِي . فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : " قُومُوا مَعَنَا " . فَذَهَبَ حَتَّى أَتَى الْبَابَ فَقَالَ : " افْتَحْ " . فَأَشْفَقَ الرَّجُلُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " افْتَحْ " . فَفَتَحَ الْبَابَ فَإِذَا أَحَدُ الْفَحْلَيْنِ قَرِيبٌ مِنَ الْبَابِ ، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَجَدَ لَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ائْتِنِي بِشَيْءٍ أَشُدُّ بِرَأْسِهِ وَأُمَكِّنُكَ مِنْهُ " . فَجَاءَ بِخِطَامٍ ، فَشَدَّ رَأْسَهُ وَأَمْكَنَهُ مِنْهُ ، ثُمَّ مَشَى إِلَى أَقْصَى الْحَائِطِ إِلَى الْفَحْلِ الْآخَرِ ، فَلَمَّا رَآهُ وَقَعَ لَهُ سَاجِدًا ، فَقَالَ لِلرَّجُلِ : " ائْتِنِي بِشَيْءٍ أَشُدُّ رَأْسَهُ " . فَشَدَّ رَأْسَهُ وَأَمْكَنَهُ مِنْهُ . ثُمَّ قَالَ : " اذْهَبْ فَإِنَّهُمَا لَا يَعْصِيَانِكَ " . فَلَمَّا رَأَى أَصْحَابُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَلِكَ قَالُوا : هَذَانِ فَحْلَانِ لَا يَعْقِلَانِ سَجَدَا لَكَ ; أَفَلَا نَسْجُدُ لَكَ ؟ قَالَ : " لَا آمُرُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ ، وَلَوْ أَمَرْتُ أَحَدًا يَسْجُدُ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو عَزَّةَ الدَّبَّاغُ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَاسْمُهُ الْحَكَمُ بْنُ طَهْمَانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے دو اونٹ تھے ، اس نے ان دونوں کو ایک باغ میں داخل کیا اور دروازہ بند کر دیا ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اس کا یہ ارادہ تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کے لئے دعا کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کے ہمراہ تشریف فرما تھے ، اس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میں ایک کام کے سلسلے میں آیا ہوں ، میرے دو اونٹ ہیں ، وہ دونوں سرکش ہو گئے ہیں ، میں نے ان دونوں کو باغ میں داخل کیا ہے ، اور دروازہ بند کر دیا ہے ، میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ میرے لئے یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں میرے لئے مسخر کر دے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ تم لوگ ہمارے ساتھ اٹھو ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ، پھر آپ دروازے پر آئے ، آپ نے فرمایا : دروازہ کھولو ! وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اندیشے کا شکار ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم دروازہ کھولو ، اس نے دروازہ کھولا تو دو اونٹوں میں سے ایک دروازے کے قریب موجود تھا ، جب اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو آپ کے سامنے سجدہ کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے پاس کوئی ایسی چیز لے کر آؤ ، جس کے ذریعے میں اس کے سر کو باندھ دوں ، اور اسے تمہارے ق ابومیں دے دوں ، وہ شخص لگام لے کر آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سر کو باندھا اور اس کو ق ابومیں کر لیا ، پھر آپ باغ کے ایک کونے میں تشریف لے گئے ، جہاں دوسرا اونٹ موجود تھا ، جب اس نے آپ کو دیکھا تو وہ بھی سجدے میں چلا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا : تم میرے پاس کوئی چیز لے کر آؤ ، جس کے ذریعے میں اس کے سر کو باندھ دوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سر کو باندھ دیا اور اسے اس شخص کے ق ابومیں دے دیا ، پھر آپ نے فرمایا : تم جاؤ ! یہ دونوں تمہاری نافرمانی نہیں کریں گے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے اس صورت حال کو دیکھا تو انہوں نے عرض کی : یہ دو اونٹ جو عقل نہیں رکھتے ہیں ، انہوں نے آپ کو سجدہ کیا ہے ، کیا ہم آپ کو سجدہ نہ کریں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں کسی کو یہ اجازت نہیں دوں گا کہ وہ کسی دوسرے کو سجدہ کرے ، اگر میں نے کسی کو یہ اجازت دینی ہوتی کہ وہ کسی دوسرے کو سجدہ کرے ، تو میں نے عورت کو یہ ہدایت کرنی تھی کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعزہ دباغ ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس کا نام حکم بن طہمان ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعزہ دباغ ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس کا نام حکم بن طہمان ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14156
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثًا مَا رَآهَا أَحَدٌ قَبَلِي ، وَلَا يَرَاهَا أَحَدٌ بَعْدِي : لَقَدْ خَرَجْتُ مَعَهُ فِي سَفَرٍ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ مَرَرْنَا بِامْرَأَةٍ جَالِسَةٍ مَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا صَبِيٌّ أَصَابَهُ بَلَاءٌ ، وَأَصَابَنَا مِنْهُ بَلَاءٌ يُؤْخَذُ فِي الْيَوْمِ لَا أَدْرِي كَمْ مَرَّةً . قَالَ : " نَاوِلِينِيهِ " . فَحَمَلَتْهُ إِلَيْهِ ، فَحَمَلَهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ وَاسِطَةِ الرَّحْلِ ، ثُمَّ فَغَرَ فَاهُ ، وَنَفَثَ فِيهِ ثَلَاثًا ، وَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ ، أَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، احْبِسْ عَدُوَّ اللَّهِ " . ثُمَّ نَاوَلَهَا إِيَّاهُ ، فَقَالَ : " الْقَيْنَا فِي الرَّجْعَةِ فِي هَذَا الْمَكَانِ فَأَخْبِرِينَا مَا فَعَلَ " . قَالَ : فَذَهَبْنَا وَرَجَعْنَا فَوَجَدْنَاهَا فِي ذَلِكَ الْمَكَانِ مَعَهَا شِيَاهٌ ثَلَاثٌ ، فَقَالَ : " مَا فَعَلَ صَبِيُّكِ ؟ " . فَقَالَتْ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا حَسَسْنَا مِنْهُ شَيْئًا حَتَّى السَّاعَةِ ، فَاجْتَرِرْ هَذِهِ الْغَنَمَ . قَالَ : " انْزِلْ فَخُذْ مِنْهَا وَاحِدَةً وَرُدَّ الْبَقِيَّةَ " . قَالَ : وَخَرَجْتُ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى الْجِنَانِ حَتَّى إِذَا بَرَزْنَا قَالَ : " انْظُرْ وَيْحَكَ هَلْ تَرَى شَيْئًا يُوَارِينِي ؟ " . قُلْتُ : مَا أَرَى شَيْئًا يُوَارِيكَ إِلَّا شَجَرَةً مَا أَرَاهَا تُوَارِيكَ . قَالَ : " فَمَا بِقُرْبِهَا ؟ " . قُلْتُ : شَجَرَةٌ مِثْلُهَا أَوْ قَرِيبٌ مِنْهَا . قَالَ : " اذْهَبْ إِلَيْهِمَا فَقُلْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَجْتَمِعَا بِإِذْنِ اللَّهِ " . قَالَ : فَاجْتَمَعَتَا فَبَرَزَ لِحَاجَتِهِ ، ثُمَّ رَجَعَ قَالَ : " اذْهَبْ إِلَيْهِمَا فَقُلْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَرْجِعَ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا إِلَى مَكَانِهَا " . فَرَجَعَتْ . قَالَ : وَكُنْتُ عِنْدَهُ جَالِسًا ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ جَاءَ جَمَلٌ يُخَبِّبُ حَتَّى ضَرَبَ بِجِرَانِهِ بَيْنَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ ذَرَفَتْ عَيْنَاهُ ، فَقَالَ : " وَيْحَكَ ! انْظُرْ لِمَنْ هَذَا الْجَمَلُ ؟ إِنَّ لَهُ لَشَأْنًا " . فَخَرَجْتُ أَلْتَمِسُ صَاحِبَهُ ، فَوَجَدْتُهُ لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَدَعَوْتُهُ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : " مَا شَأْنُ جَمَلِكَ هَذَا ؟ " . قَالَ : وَمَا شَأْنُهُ ؟ قَالَ : لَا أَدْرِي وَاللَّهِ مَا شَأْنُهُ ؟ عَمِلْنَا عَلَيْهِ ، وَنَضَحْنَا عَلَيْهِ ، حَتَّى عَجَزَ عَنِ السِّقَايَةِ ، فَأْتَمَرْنَا الْبَارِحَةَ أَنْ نَنْحَرَهُ وَنُقَسِّمَ لَحْمَهُ . قَالَ : " لَا تَفْعَلْ هَبْهُ لِي ، أَوْ بِعْنِيهِ " . قَالَ : بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : فَوَسَمَهُ بِمَيْسَمِ الصَّدَقَةِ ، ثُمَّ بَعَثَ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے تین ایسی چیزیں دیکھی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نے نہیں دیکھی ہیں اور نہ میرے بعد کوئی دیکھے گا ، میں آپ کے ساتھ سفر پر جا رہا تھا ، راستے میں کسی جگہ ہم پہنچے تو ہمارا گزر ، ایک بیٹھی ہوئی خاتون کے پاس سے ہوا ، جس کے ساتھ اس کا بچہ موجود تھا ، اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! اس بچے کو بلا لاحق ہو گئی ہے ، اور ہمیں اس کی وجہ سے آزمائش کا سامنا ہے ، اسے دن میں کئی مرتبہ دورہ پڑتا ہے ، مجھے نہیں پتہ کتنی مرتبہ پڑتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے مجھے پکڑاؤ ، اس عورت نے اس بچے کو اٹھا کر آپ کی طرف بڑھایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے اور اپنے پالان کے درمیانی حصے میں رکھا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا منہ کھولا اور اس کے منہ میں تین مرتبہ پھونک ماری اور پھر فرمایا : اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، میں اللہ کا بندہ ہوں ، اے اللہ کے دشمن ! دفع ہو جاؤ ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بچہ اس عورت کو پکڑایا اور فرمایا : واپسی پر ہم سے اسی جگہ ملنا اور ہمیں بتانا کہ اس کا کیا حال ہے ؟ راوی کہتے ہیں : ہم وہاں سے روانہ ہو گئے ، جب ہم واپس آئے ، تو ہم نے اس خاتون کو اسی جگہ پایا ، اس کے پاس تین بکریاں تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارے بچے کا کیا حال ہے ؟ اس نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، اس کے بعد سے لے کر اب تک ہمیں اس کے حوالے سے کوئی چیز محسوس نہیں ہوئی ، آپ یہ بکریاں قبول کریں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مجھ سے ) فرمایا : تم اترو اور اس سے ایک بکری لے لو اور باقی واپس کر دو ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھلے میدان کی طرف نکلا ، یہاں تک کہ جب ہم اس جگہ کے قریب آئے ، جہاں قضائے حاجت کی جاتی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس بات کا جائزہ لو کہ کوئی ایسی چیز نظر آتی ہے ، جو میرے لئے پردہ بن جائے ، میں نے عرض کی : مجھے تو کوئی ایسی چیز نظر نہیں آ رہی ، جو آپ کے لئے پردہ بن جائے ، البتہ ایک درخت ہے جس کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ وہ آپ کے لئے رکاوٹ بن سکتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ تقریباً کتنا بڑا ہے ؟ میں نے جواب دیا : وہ ایک درخت ہے ، اور اس کی مانند ایک اور درخت ہے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس کے قریب ایک اور درخت ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ان دونوں کے پاس جاؤ اور انہیں یہ کہو کہ اللہ کے رسول تم دونوں کو یہ حکم دے رہے ہیں کہ تم دونوں اللہ کے اذن کے تحت اکٹھے ہو جاؤ ، راوی کہتے ہیں : وہ دونوں اکٹھے ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں قضائے حاجت کی ، پھر آپ واپس تشریف لائے آپ نے فرمایا : تم ان دونوں کے پاس جاؤ اور ان سے یہ کہو کہ اللہ کے رسول تمہیں یہ حکم دے رہے ہیں کہ تم دونوں میں سے ہر ایک اپنی جگہ پر واپس چلا جائے ، تو وہ واپس چلے گئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران ایک اونٹ آیا اور اس نے آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی گردن ڈال دی ، پھر اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہونے لگے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس بات کا جائزہ لو کہ یہ کس کا اونٹ ہے ؟ اس کا کوئی مخصوص معاملہ لگتا ہے ، میں اس اونٹ کے مالک کو تلاش کرنے کے لئے نکلا ، تو میں نے اسے پایا کہ وہ انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا ، میں اسے بلا کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے اس اونٹ کا کیا معاملہ ہے ؟ اس نے دریافت کیا : اس کا کیا معاملہ ہے ؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم ! مجھے نہیں معلوم کہ اس کا کیا معاملہ ہے ؟ ہم اسے کام میں استعمال کرتے رہے ہیں اور اس پر پانی لاد کے لاتے رہے ہیں ، یہاں تک کہ یہ پانی لانے کے قابل نہیں رہا ، توکل ہم نے یہ طے کیا کہ ہم اسے قربان کر دیتے ہیں اور اس کا گوشت تقسیم کر لیتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ایسا نہ کرو ! اسے مجھے ہبہ کر دو ، یا یہ مجھے فروخت کر دو ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ آپ کا ہوا ۔ راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر صدقہ کا مخصوص نشان لگوایا اور اسے بھجوا دیا ۔
حدیث نمبر: 14157
وَفِي رِوَايَةٍ : عَنْ يَعْلَى قَالَ : إِنِّي مَا أَظُنُّ أَحَدًا رَأَى مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا دُونَ مَا رَأَيْتُ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ لِصَاحِبِ الْبَعِيرِ : " مَا لِبَعِيرِكَ يَشْكُوكَ ; زَعَمَ أَنَّكَ سَنَأْتَهُ حَتَّى كَبِرَ تُرِيدُ أَنْ تَنْحَرَهُ " . قَالَ : صَدَقْتَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ قَدْ أَرَدْتُ ذَلِكَ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَفْعَلُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یعلی رضی اللہ عنہ سے منقول ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : ” میرا نہیں خیال کہ کسی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے وہ چیز دیکھی ہو گی ، جو میں نے دیکھی ہے ، کسی نے کم ہی دیکھی ہو گی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے
یہ روایت نقل کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے مالک سے کہا: تمہارے اونٹ کا کیا معاملہ ہے کہ وہ تمہاری شکایت کر رہا ہے ، اس کا یہ کہنا ہے کہ تم اس پر پانی لاد کے لاتے رہے ہو ، یہاں تک کہ جب اس اونٹ کی عمر زیادہ ہو گئی ہے ، تو اب تم اسے قربان کرنے کا ارداہ رکھتے ہو ، اس نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ، میں نے یہی ارادہ کیا تھا اور اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، اب میں ایسا نہیں کروں گا ۔
یہ روایت نقل کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے مالک سے کہا: تمہارے اونٹ کا کیا معاملہ ہے کہ وہ تمہاری شکایت کر رہا ہے ، اس کا یہ کہنا ہے کہ تم اس پر پانی لاد کے لاتے رہے ہو ، یہاں تک کہ جب اس اونٹ کی عمر زیادہ ہو گئی ہے ، تو اب تم اسے قربان کرنے کا ارداہ رکھتے ہو ، اس نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ، میں نے یہی ارادہ کیا تھا اور اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، اب میں ایسا نہیں کروں گا ۔
حدیث نمبر: 14158
وَفِي رِوَايَةٍ : ثُمَّ سِرْنَا وَنَزَلْنَا مَنْزِلًا ، فَنَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَتْ شَجَرَةٌ تَشُقُّ الْأَرْضَ حَتَّى غَشِيَتْهُ ، ثُمَّ رَجَعَتْ إِلَى مَكَانِهَا ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ ذَكَرْتُ لَهُ ، فَقَالَ : " هِيَ شَجَرَةٌ اسْتَأْذَنَتْ رَبَّهَا - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ تُسَلِّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَذِنَ لَهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : پھر ہم روانہ ہوئے ، ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے ، تو ایک درخت زمین کو چیرتا ہوا آیا اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ کر دیا ، پھر وہ واپس اپنی جگہ پر چلا گیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے ، تو میں نے آپ کے سامنے یہ ذکر کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس درخت نے اپنے پروردگار سے یہ اجازت مانگی تھی کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرے ، تو پروردگار نے اُسے اجازت دیدی ۔
یہ روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام أحمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام أحمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14159
وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ فِي إِحْدَى رِوَايَاتِهِ : فَمَرَّ عَلَيْهِ بَعِيرٌ مَادٌّ بِجِرَانِهِ يَرْغُو ، فَقَالَ : " عَلَيَّ بِصَاحِبِ هَذَا " . فَجَاءَ فَقَالَ : " هَذَا يَقُولُ نَتَجْتُ عِنْدَهُمْ ، فَاسْتَعْمَلُونِي حَتَّى إِذَا كَبِرْتُ أَرَادُوا أَنْ يَنْحَرُونِي " . ¤ وَقَالَ فِيهَا : " مَا مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يَعْلَمُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، إِلَّا كَفَرَةَ - أَوْ فَسَقَةَ - الْجِنِّ وَالْإِنْسِ " . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی نے اپنی ایک روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک اونٹ گزرا ، جس نے اپنی گردن جھکائی ہوئی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کے مالک کو میرے پاس لے کر آؤ ! وہ آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کہہ رہا ہے کہ میں ان کے ہاں پیدا ہوا ، یہ لوگ مجھے کام میں استعمال کرتے رہے ، یہاں تک کہ جب میں بوڑھا ہو گیا ہوں ، تو انہوں نے یہ ارادہ کر لیا ہے کہ یہ مجھے قربان کر دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہاں موجود ہر چیز یہ بات جانتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ، صرف کافر ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) صرف فاسق جنات اور انسانوں کا معاملہ مختلف ہے ۔ “
حدیث نمبر: 14160
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ - قَالَ وَكِيعٌ مُرَّةَ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ وَلَمْ يَقُلْ لِي مُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا بِهِ لَمَمٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اخْرُجْ عَدُوَّ اللَّهِ أَنَا رَسُولُ اللَّهِ " . قَالَ : فَبَرِئَ . قَالَ : فَأَهْدَتْ إِلَيْهِ كَبْشَيْنِ ، وَشَيْئًا مِنْ سَمْنٍ وَشَيْئًا مِنْ أَقِطٍ . ¤ قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خُذِ الْأَقِطَ وَالسَّمْنَ ، وَأَحَدَ الْكَبْشَيْنِ ، وَرُدَّ عَلَيْهَا الْآخَرَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، اس کے ساتھ اس کا بچہ تھا ، جسے جنون کی شکایت تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ کے دشمن ! تم نکل جاؤ ، میں اللہ کا رسول ہوں ، راوی کہتے ہیں : تو وہ بچہ تندرست ہو گیا ، راوی بیان کرتے ہیں : اس خاتون نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو دنبے تحفے کے طور پر دیے ، تھوڑا سا گھی اور تھوڑا سا پنیر دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم پنیر اور گھی لے لو ! اور دو دنبوں میں سے ایک لے لو ، اور دوسرا اُسے واپس کر دو ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14161
وَبِسَنَدِهِ عَنْ مُرَّةَ قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ ، فَنَزَلَ مَنْزِلًا فَقَالَ : " ائْتِ تِلْكَ الْأَشَايَتَيْنِ ، فَقُلْ لَهُمَا : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَجْتَمِعَا " . فَأَتَيْتُهُمَا فَقُلْتُ لَهُمَا ، فَوَثَبَتْ إِحْدَاهُمَا إِلَى الْأُخْرَى فَاجْتَمَعَتَا ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَتَرَ بِهِمَا ، فَقَضَى حَاجَتَهُ ، ثُمَّ وَثَبَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا إِلَى مَكَانِهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
اسی سند کے ساتھ سیدنا مرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : ” میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہا تھا ، آپ نے ایک جگہ پر پڑاؤ کیا ، آپ نے مجھ سے فرمایا : تم اُن دو چھوٹے درختوں کے پاس جاؤ اور ان دونوں سے یہ کہو : کہ اللہ کے رسول تمہیں یہ حکم دے رہے ہیں کہ تم دونوں اکٹھے ہو جاؤ ، میں ان دو درختوں کے پاس آیا ، میں نے ان دونوں سے یہ بات کی تو ان میں سے ایک دوسرے کی طرف بڑھ گیا اور وہ دونوں اکٹھے ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ، آپ نے ان دونوں کی اوٹ میں قضائے حاجت کی ، پھر ان دونوں ( درختوں ) میں ہر ایک واپس اپنی جگہ پر چلا گیا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے بھی نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے بھی نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 14162
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ سِيَابَةَ قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسِيرٍ لَهُ ، فَأَرَادَ أَنْ يَقْضِيَ حَاجَتَهُ ، فَأَمَرَ وَدْيَتَيْنِ فَانْضَمَّتِ إِحْدَاهُمَا إِلَى الْأُخْرَى ، ثُمَّ أَمَرَهُمَا فَرَجَعَتَا إِلَى مَنَابِتِهِمَا . ¤ وَجَاءَ بَعِيرٌ يَضْرِبُ بِجِرَانِهِ إِلَى الْأَرْضِ ، وَجَرْجَرَ حَتَّى ابْتَلَّ مَا حَوْلَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَتَدْرُونَ مَا يَقُولُ الْبَعِيرُ ؟ إِنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّ صَاحِبَهُ يُرِيدُ نَحْرَهُ " . فَبَعَثَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَوَاهِبُهُ أَنْتَ لِي ؟ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لِي مَالٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ . فَقَالَ : " اسْتَوْصِ بِهِ مَعْرُوفًا " . فَقَالَ : لَا جَرَمَ ، وَلَا أُكْرِمُ مَالًا لِي كَرَامَتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَأَتَى عَلَى قَبْرٍ يُعَذَّبُ صَاحِبُهُ فَقَالَ : " إِنَّهُ يُعَذَّبُ فِي غَيْرِ كَبِيرٍ " . فَأَمَرَ بِجَرِيدَةٍ فَوُضِعَتْ عَلَى قَبْرِهِ ، وَقَالَ : " عَسَى أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُ مَا دَامَتْ رَطْبَةً " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : ثُمَّ أَتَى عَلَى قَبْرَيْنِ . وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یعلی بن سیابہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہا تھا ، آپ نے قضائے حاجت کرنے کا ارادہ کیا تو آپ نے کھجور کے دو چھوٹے درختوں کو حکم دیا ، تو ان میں سے ایک دوسرے کے ساتھ مل گیا ، پھر آپ نے ان دونوں کو حکم دیا ، تو وہ دونوں اپنے اُگنے کی جگہ واپس چلے گئے ۔ اسی طرح ایک اونٹ آیا اور اس نے اپنی گردن زمین پر رکھ دی ، وہ آوازیں نکالنے لگا اور رونے لگا ، یہاں تک کہ اس کے اردگرد کی جگہ تر ہو گئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم لوگ جانتے ہو کہ یہ اونٹ کیا کہہ رہا ہے ؟ اس کا یہ کہنا ہے کہ اس کا مالک اسے ذبح کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مالک کو پیغام بھیج کر بلوایا اور فرمایا : کیا تم یہ اونٹ مجھے ہبہ کرتے ہو ؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ہاں کوئی ایسا مال نہیں ہے ، جو میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر تم اس کے بارے میں بھلائی کی تلقین کو قبول کرو ، اس نے عرض کی : یہ ضروری ہے یا رسول اللہ ! کہ میں اس مال کا احترام کروں ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے ، آپ اس کے پاس تشریف لائے ، اس قبر والے فرد کو عذاب ہو رہا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے ( بظاہر ) کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شاخ کے بارے میں حکم دیا ، وہ اس کی قبر پر رکھ دی گئی ، تو آپ نے فرمایا : ہو سکتا ہے ، جب تک یہ تر رہے گی ( اس وقت تک ) اس شخص کے عذاب میں تخفیف ہو جائے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس تشریف لائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس روایت کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس تشریف لائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس روایت کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 14163
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ حَائِطًا ، فَجَاءَ بَعِيرٌ فَسَجَدَ لَهُ ، فَقَالُوا : نَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَكَ . فَقَالَ : " لَوْ أَمَرْتُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ - وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ طَرَفًا مِنْ آخِرِهِ - وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ میں داخل ہوئے ، ایک اونٹ آیا اور وہ آپ کے سامنے سجدے میں چلا گیا ، لوگوں نے عرض کی : ہم اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ ہم آپ کو سجدہ کریں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر میں نے کسی کو یہ حکم دینا ہوتا کہ وہ کسی دوسرے کو سجدہ کرے ، تو میں نے عورت کو یہ حکم دینا تھا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، امام ترمذی نے اس کا آخری حصہ نقل کیا ہے ، اس روایت کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، امام ترمذی نے اس کا آخری حصہ نقل کیا ہے ، اس روایت کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 14164
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ سَفَرٍ حَتَّى إِذَا دَفَعْنَا إِلَى حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ بَنِي النَّجَّارِ ، إِذَا فِيهِ جَمَلٌ لَا يَدْخُلُ الْحَائِطَ أَحَدٌ إِلَّا شَدَّ عَلَيْهِ قَالَ : فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ حَتَّى أَتَى الْحَائِطَ فَدَعَا الْبَعِيرَ ، فَجَاءَ وَاضِعًا مِشْفَرَهُ إِلَى الْأَرْضِ حَتَّى بَرَكَ بَيْنَ يَدَيْهِ . قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَاتُوا خِطَامًا " . فَخَطَمَهُ وَدَفَعَهُ إِلَى صَاحِبِهِ ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى النَّاسِ فَقَالَ : " إِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِلَّا يَعْلَمُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، إِلَّا عَاصِيَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر سے آ رہے تھے ، یہاں تک کہ بنو نجار کے ایک باغ تک پہنچے ، اس میں ایک اونٹ موجود تھا ، اور کوئی شخص اس باغ میں داخل ہوتا تھا ، تو وہ اونٹ اس پر حملہ کر دیتا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : لوگوں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ، تو آپ اس باغ میں آئے ، آپ نے اونٹ کو بلایا تو وہ آ گیا ، اس نے اپنے ہونٹ زمین پر رکھے ہوئے تھے ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر بیٹھ گیا ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لگام لے کر آؤ ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لگام ڈالی ، اور اسے اس کے مالک کے حوالے کیا ، پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آسمان اور زمین کے درمیان موجود ہر چیز یہ بات جانتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ، صرف نافرمان جنات اور انسانوں کا معاملہ مختلف ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور اس کے بعض راویوں میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور اس کے بعض راویوں میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 14165
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِحَرَّةِ وَاقِمٍ عَرَضَتِ امْرَأَةٌ بَدَوِيَّةٌ بِابْنٍ لَهَا ، فَجَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا ابْنِي قَدْ غَلَبَنِي عَلَيْهِ الشَّيْطَانُ . فَقَالَ : " أَدْنِيهِ مِنِّي " . فَأَدْنَتْهُ مِنْهُ قَالَ : " افْتَحِي فَمَهُ " . فَفَتَحَتْهُ ، فَبَصَقَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ : " اخْسَ عَدُوَّ اللَّهِ وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ " . قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ : " شَأْنَكِ بِابْنِكِ لَيْسَ عَلَيْهِ ، فَلَنْ يَعُودَ إِلَيْهِ شَيْءٌ مِمَّا كَانَ يُصِيبُهُ " . ثُمَّ خَرَجْنَا فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا صَحْرَاءَ دَيْمُومَةَ ، لَيْسَ فِيهَا شَجَرَةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِجَابِرٍ : " يَا جَابِرُ ، انْطَلِقْ فَانْظُرْ لِي مَكَانًا " - يَعْنِي لِلْوُضُوءِ - فَانْطَلَقْتُ فَلَمْ أَجِدْ إِلَّا شَجَرَتَيْنِ مُتَفَرِّقَتَيْنِ ، لَوْ إِنَّهُمَا اجْتَمَعَتَا سَتَرَتَاهُ . فَرَجَعَتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ أَجِدْ إِلَّا شَجَرَتَيْنِ مُتَفَرِّقَتَيْنِ لَوْ أَنَّهُمَا اجْتَمَعَتَا سَتَرَتَاكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " انْطَلِقْ إِلَيْهِمَا فَقُلْ لَهُمَا : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لَكَمَا : اجْتَمِعَا " . فَخَرَجْتُ فَقُلْتُ لَهُمَا ، فَاجْتَمَعَتَا حَتَّى كَأَنَّهُمَا فِي أَصْلٍ وَاحِدٍ ، ثُمَّ رَجَعْتُ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى قَضَى حَاجَتَهُ ، ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ : " ائْتِهِمَا فَقُلْ لَهُمَا : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لَكَمَا : ارْجِعَا كُمَّا أَنْتُمَا " . فَرَجَعَتَا . فَنَزَلْنَا فِي وَادٍ مِنْ أَوْدِيَةِ بَنِي مُحَارِبٍ ، فَعَرَضَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي مُحَارِبٍ يُقَالُ لَهُ : غَوْرَثُ بْنُ الْحَارِثِ ، وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُتَقَلِّدٌ السَّيْفَ . فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، أَعْطِنِي سَيْفَكَ هَذَا ، فَسَلَّهُ وَنَاوَلَهُ إِيَّاهُ ، فَهَزَّهُ وَنَظَرَ إِلَيْهِ سَاعَةً ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ : يَا مُحَمَّدُ مَا يَمْنَعُكَ مِنِّي ؟ قَالَ : " اللَّهُ يَمْنَعُنِي مِنْكَ " . فَارْتَعَدَتْ يَدُهُ حَتَّى سَقَطَ السَّيْفُ مِنْ يَدِهِ ، فَتَنَاوَلَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ : " يَا غَوْرَثُ ، مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي ؟ " . قَالَ : لَا أَحَدَ بِأَبِي أَنْتَ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ اكْفِنَا غَوْرَثَ وَقَوْمَهُ " . ¤ ثُمَّ أَقْبَلْنَا رَاجِعِينَ ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعُشِّ طَيْرٍ يَحْمِلُهُ ، فِيهِ فِرَاخٌ ، وَأَبَوَاهَا يَتْبَعَانِهِ وَيَقَعَانِ عَلَى يَدِ الرَّجُلِ ، فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى مَنْ كَانَ مَعَهُ فَقَالَ : " أَتَعْجَبُونَ بِفِعْلِ هَذَيْنِ الطَّيْرَيْنِ بِفِرَاخِهِمَا ؟ وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ لَلَّهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ هَذَيْنِ الطَّيْرَيْنِ بِفِرَاخِهِمَا " . ثُمَّ أَقْبَلْنَا رَاجِعِينَ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِحَرَّةِ وَاقِمٍ عَرَضَتْ لَنَا الْأَعْرَابِيَّةُ - الَّتِي جَاءَتْ بِابْنِهَا - بِوَطْبٍ مِنْ لَبَنٍ وَشَاةٍ ، فَأَهْدَتْهُ لَهُ . فَقَالَ : " مَا فَعَلَ ابْنُكِ ؟ هَلْ أَصَابَهُ شَيْءٌ مِمَّا كَانَ يُصِيبُهُ ؟ " . قَالَتْ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَصَابَهُ شَيْءٌ مِمَّا كَانَ يُصِيبُهُ . وَقَبِلَ هَدِيَّتَهَا . ¤ وَأَقْبَلْنَا ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِمَهْبِطٍ مِنَ الْحَرَّةِ أَقْبَلَ جَمَلٌ يُرْقِلُ فَقَالَ : " أَتَدْرُونَ مَا قَالَ هَذَا الْجَمَلُ ؟ " . قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " هَذَا جَمَلٌ جَاءَنِي يَسْتَعْدِينِي عَلَى سَيِّدِهِ ; يَزْعُمُ أَنَّهُ كَانَ يَحْرُثُ عَلَيْهِ مُنْذُ سِنِينَ ، حَتَّى إِذَا أَجْرَبَهُ وَأَعْجَفَهُ وَكَبِرَ سِنُّهُ أَرَادَ أَنْ يَنْحَرَهُ ، اذْهَبْ يَا جَابِرُ إِلَى صَاحِبِهِ فَائْتِ بِهِ " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَعْرِفُ صَاحِبَهُ . قَالَ : " إِنَّهُ سَيَدُلُّكَ عَلَيْهِ " . قَالَ : فَخَرَجَ بَيْنَ يَدَيْهِ مُعَنِّقًا حَتَّى وَقَفَ بِي فِي مَجْلِسِ بَنِي خَطْمَةَ ، فَقُلْتُ : أَيْنَ رَبُّ هَذَا الْجَمَلِ ؟ قَالُوا : هَذَا جَمَلُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ ، فَجِئْتُهُ ، فَقُلْتُ : أَجِبْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجَ مَعِي حَتَّى جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " جَمَلُكَ يَسْتَعْدِي عَلَيْكَ ، زَعَمَ أَنَّكَ حَرَثْتَ عَلَيْهِ زَمَانًا حَتَّى أَجَرَبْتَهُ ، وَأَعْجَفَتْهُ وَكَبِرَ سِنُّهِ ، أَرَدْتَ أَنْ تَنْحَرَهُ ؟ " . فَقَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنَّ ذَلِكَ كَذَلِكَ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بِعْنِيهِ " . قَالَ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَابْتَاعَهُ مِنْهُ ، ثُمَّ سَيَّبَهُ فِي الشَّجَرِ حَتَّى نَصَبَ سَنَامًا ، فَكَانَ إِذَا اعْتَلَّ عَلَى بَعْضِ الْمُهَاجِرِينَ أَوِ الْأَنْصَارِ مِنْ نَوَاضِحِهِمْ شَيْءٌ أَعْطَاهُ ايَّاهُ ، فَمَكَثَ بِذَلِكَ زَمَانًا . ¤ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ : كَانَتْ غَزْوَةُ ذَاتِ الرِّقَاعِ تُسَمَّى غَزْوَةَ الْأَعَاجِيبِ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْحَكِيمِ بْنِ سُفْيَانَ ، ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يُجَرِّحْهُ أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم غزوہ ذات الرقاع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے ، جب ہم واقم کی پتھریلی زمین پر پہنچے ، تو ایک دیہاتی عورت اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر سامنے آئی ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! یہ میرا بیٹا ہے ، اس پر شیطان نے غلبہ پا لیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے میرے قریب کرو ، اس عورت نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کا منہ کھولو ، اس عورت نے اس کا منہ کھولا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکے کے منہ میں اپنا لعاب دہن ڈالا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ کے دشمن ! دفع ہو جاؤ ! میں اللہ کا رسول ہوں ، یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، پھر آپ نے فرمایا : اے عورت تم اپنے بیٹے کو سنبھالو ، اب اس پر کچھ نہیں ہے ، اور پہلے جو مصیبت اسے لاحق ہوتی تھی ، اب دوبارہ اس کے پاس نہیں آئے گی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر اس کے بعد ہم نے کھلے صحراء میں ایک جگہ پر پڑاؤ کیا ، وہاں کوئی درخت نہیں تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے جابر ! تم جاؤ اور ہمارے لئے کوئی جگہ تلاش کرو ، یعنی ایسی جگہ جہاں قضائے حاجت کی جا سکے ، راوی کہتے ہیں : میں گیا ، مجھے کوئی ایسی جگہ نہیں ملی ، صرف دو درخت نظر آئے ، جو ایک دوسرے سے دور تھے ، لیکن اگر وہ دونوں اکٹھے ہو جاتے ، تو وہ پردہ بن سکتے تھے ، میں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور عرض کی : اے اللہ کے رسول ! مجھے دو درخت ملے ہیں ، جو ایک دوسرے سے الگ ہیں ، اگر وہ دونوں اکٹھے ہوتے ، تو پھر وہ دونوں آپ کے لئے پردہ کر سکتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ان دونوں کے پاس جاؤ اور ان دونوں سے یہ کہو : کہ اللہ کے رسول تمہیں یہ کہہ رہے ہیں کہ تم دونوں اکٹھے ہو جاؤ ! میں وہاں سے نکلا ، میں نے ان دونوں سے یہ کہا: تو وہ دونوں اکٹھے ہو گئے ، یہاں تک کہ وہ دونوں یوں لگ رہے تھے ، جیسے وہ جڑ سے نکلے ہوں ، میں پھر واپس آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ، آپ نے قضائے حاجت کی ، پھر آپ واپس تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : تم ان دونوں کے پاس جاؤ اور ان دونوں سے یہ کہو کہ اللہ کے رسول تم دونوں کو یہ کہہ رہے ہیں کہ تم دونوں اپنی جگہ پر واپس چلے جاؤ ! تو وہ دونوں واپس چلے گئے ۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے بنو محارب کی ایک وادی میں پڑاؤ کیا ، بنو محارب سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آپ کے سامنے آیا ، اس کا نام غورث بن حارث تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار لٹکائی ہوئی تھی ، اس نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اپنی یہ تلوار تو مجھے دکھائیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تلوار نکالی اور وہ اسے پکڑا دی ، اس نے اس تلوار کو لہرایا اسے ایک نظر دیکھا ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آیا اور بولا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ کو مجھ سے کون بچائے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ مجھے تم سے بچائے گا ، تو اس کے ہاتھ پر کپکپی طاری ہو گئی ، یہاں تک کہ تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تلوار پکڑی اور فرمایا : اے غورث ! تمہیں مجھ سے کون بچائے گا ؟ اس نے کہا: میرے والد آپ پر قربان ہوں ، ایسا کوئی نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! غورث اور اس کی قوم کے حوالے سے ہماری کفایت کر دے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر ہم واپس آ رہے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص پرندے کا گھونسلا اُٹھا کے کے آیا جس میں پرندے کے بچے موجود تھے ، اور اس کے ماں باپ اس شخص کے پیچھے آ رہے تھے ، وہ دونوں ( پرندے ) اس شخص کے ہاتھ پر آ کر بیٹھ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ موجود افراد کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا : اپنے بچوں کے بارے میں ان دو پرندوں کے طرز عمل پر کیا تم حیران نہیں ہو رہے ؟ اس ذات کی قسم ! جس نے مجھے حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لئے اس سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ، جتنے یہ پرندے اپنے بچوں پر رحم کرنے والے ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر جب ہم واپس آ رہے تھے اور واقم کی پتھریلی سرزمین پر پہنچے ، تو ہمارے سامنے وہی دیہاتی عورت آ گئی ، جو اپنے بیٹے کو لے کر آئی تھی ، اس کے پاس ایک مشکیزہ تھا ، جو دودھ کا تھا اور ایک بکری تھی ، وہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے کے طور پر پیش کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارے بیٹے کا کیا حال ہے ؟ اسے جو تکلیف لاحق ہوتی تھی ، کیا پھر کوئی تکلیف لاحق ہوئی ، اس عورت نے جواب دیا : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، جو چیز اسے پہلے لاحق ہوتی تھی ، اس میں سے کچھ بھی اسے دوبارہ لاحق نہیں ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کا تحفہ قبول کر لیا ۔ راوی کہتے ہیں : ہم آ رہے تھے ، جب ہم ” حرہ “ کے مقام پر نیچے اترنے والی جگہ پر پہنچے ، تو ایک اونٹ آیا جو چلتا ہوا آ رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو یہ اونٹ کیا کہہ رہا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ اونٹ میرے پاس آیا ہے ، اور اپنے مالک کے خلاف مجھ سے شکایت کر رہا ہے ، اس کا یہ کہنا ہے کہ اس کا مالک کئی سال تک اس پر کھیتی باڑی کرتا رہا ( یعنی پانی لانے کے لئے استعمال کرتا رہا ) یہاں تک کہ جب یہ خارش زدہ ہو گیا کمزور ہو گیا اور بوڑھا ہو گیا ، تو اس کے مالک نے یہ ارادہ کیا کہ اسے ذبح کر دے ، اے جابر ! تم اس کے مالک کے پاس جاؤ اور اسے لے کر آؤ ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس کے مالک کو نہیں پہچانتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ اونٹ تمہاری رہنمائی کر دے گا ، تو وہ اونٹ تیزی سے چلتا ہوا ، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے آگے چلنے لگا ، یہاں تک کہ وہ بنو خطمہ کی محفل کے پاس آ کر ٹھہر گیا ، میں نے کہا: اس اونٹ کا مالک کہاں ہے ؟ لوگوں نے بتایا : یہ فلاں بن فلاں کا اونٹ ہے ، میں اس کے پاس گیا اور کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ ! وہ شخص میرے ساتھ نکلا ، یہاں تک کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : تمہارے اونٹ نے تمہارے خلاف شکایت کی ہے ، اس کا یہ کہنا ہے تم ایک طویل عرصے تک اس پر کھیتی باڑی کرتے رہے ہو ، یہاں تک کہ جب یہ بوڑھا اور کمزور ہو گیا ، تو تم نے اسے ذبح کرنے کا ارادہ کر لیا ، اس شخص نے کہا: اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، ایسا ہی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے مجھے فروخت کر دو ! اس نے عرض کی ٹھیک ہے یا رسول اللہ ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وہ اونٹ خرید لیا اور پھر اسے ایک درخت میں سائبہ کر دیا ۔ محمد بن طلحہ بیان کرتے ہیں : غزوہ ذات الرقاع کو عجیب و غریب امور والا غزوہ بھی کہتے ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : صحیح میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالحکیم بن سفیان ہے ، ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے ، کسی نے اس پر جرح نہیں کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالحکیم بن سفیان ہے ، ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے ، کسی نے اس پر جرح نہیں کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14166
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ : إِنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ إِلَى مَكَّةَ ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى الْغَائِطِ أَبْعَدَ حَتَّى لَا يَرَاهُ أَحَدٌ . قَالَ : فَبَصَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِشَجَرَتَيْنِ مُتَبَاعِدَتَيْنِ ، فَقَالَ : " يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ، اذْهَبْ إِلَى هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ ، فَقُلْ لَهُمَا : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَجْتَمِعَا لَهُ لِيَتَوَارَى بِكُمَا " . فَمَشَتِ إِحْدَاهُمَا إِلَى الْأُخْرَى ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَاجَتَهُ ، ثُمَّ رَجَعَتَا إِلَى مَكَانِهِمَا . ثُمَّ مَضَى حَتَّى أَتَيْنَا أَزِقَّةَ الْمَدِينَةِ ، فَجَاءَ بَعِيرٌ يَشْتَدُّ حَتَّى سَجَدَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَامَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ صَاحِبُ هَذَا الْبَعِيرِ ؟ " . قَالُوا : فُلَانٌ ، فَقَالَ : " ادْعُوهُ " . فَأَتَوْا بِهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَشْكُوكَ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا الْبَعِيرُ كُنَّا نَسْنُو عَلَيْهِ مُنْذُ عِشْرِينَ سَنَةً ، ثُمَّ أَرَدْنَا نَحْرَهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " شَكَا ذَلِكَ ، بِئْسَمَا جَازَيْتُمُوهُ ; اسْتَعْمَلْتُمُوهُ عِشْرِينَ سَنَةً حَتَّى إِذَا أَرَقَّ عَظْمُهُ ، وَرَقَّ جِلْدُهُ ، أَرَدْتُمْ نَحْرَهُ ؟ بِعْنِيهِ " . قَالَ : بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوُجِّهَ نَحْوَ الظَّهْرِ ، فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَجَدَ لَكَ هَذَا الْبَعِيرُ وَنَحْنُ أَحَقُّ بِالسُّجُودِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ يَسْجُدَ أَحَدٌ لِأَحَدٍ ، لَوْ سَجَدَ أَحَدٌ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا إِنَّهُ قَالَ : فِي غَزْوَةِ حُنَيْنَ . وَزَادَ فِيهِ : ثُمَّ أَصَابَ النَّاسَ عَطَشٌ شَدِيدٌ . فَقَالَ لِي : " يَا عَبْدَ اللَّهِ ، الْتَمِسْ لِي مَاءً " . فَأَتَيْتُهُ بِفَضْلِ مَاءٍ وَجَدْتُهُ فِي إِدَاوَةٍ ، فَأَخَذَهُ فَصَبَّهُ فِي رَكْوَةٍ ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ فِيهَا وَسَمَّى ، فَجَعَلَ الْمَاءُ يَتَحَادَرُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ ، فَشَرِبَ النَّاسُ ، وَتَوَضَّئُوا مَا شَاءُوا . ¤ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَفِي إِسْنَادِ الْأَوْسَطِ : زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ حَدِيثُهُمْ حَسَنٌ ، وَأَسَانِيدُ الطَّرِيقَيْنِ ضَعِيفَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مکہ کی طرف ایک سفر میں ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لئے تشریف لے جاتے تھے ، تو آپ اتنی دور چلے جاتے تھے کہ کوئی آپ کو نہ دیکھ سکے ، راوی کہتے ہیں : دو درختوں کو دیکھا ، جو ایک دوسرے سے دور تھے ، تو آپ نے فرمایا : اے ابن مسعود ! ان دو درختوں کے پاس جاؤ اور ان دونوں سے یہ کہو کہ اللہ کے رسول تمہیں یہ حکم دے رہے ہیں کہ تم دونوں اکٹھے ہو جاؤ ، تاکہ وہ تمہاری اوٹ میں ہو جائیں ، تو ان دو میں سے ایک چلتا ہوا ، دوسرے کے پاس آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قضائے حاجت کی ، پھر وہ دونوں درخت اپنی جگہ واپس چلے گئے ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ کی گلیوں کے پاس پہنچے ، تو ایک اونٹ دوڑتا ہوا آیا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سجدے میں چلا گیا ، پھر وہ آپ کے سامنے کھڑا ہوا ، اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اس اونٹ کا مالک کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا : فلاں شخص ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے بلا کے لاؤ ، اسے لایا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : یہ تمہاری شکایت کر رہا ہے ، اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! اس اونٹ پر ہم پانی لاد کر لاتے رہے ہیں ، بیس سال تک ہم ایسا کرتے رہے ہیں ، اب ہم نے اسے قربان کرنے کا ارادہ کیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس نے یہی شکایت کی ہے ، تم اسے برا بدلہ دے رہے ہو ، تم بیس سال تک اسے کام میں استعمال کرتے رہے ، یہاں تک کہ جب اس کی ہڈیاں کمزور ہو گئیں ، اس کی جلد کمزور ہو گئی ، تو تم نے اسے قربان کرنے کا ارادہ کر لیا ، تم اسے مجھے فروخت کر دو ! اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ آپ کا ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا ، تو اسے اونٹوں کی طرف بھیج دیا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! اس اونٹ نے آپ کو سجدہ کیا ہے ، تو ہم تو سجدہ کرنے کے زیادہ حق دار ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس بات سے اللہ کی پناہ ہے کہ کوئی ایک دوسرے کو سجدہ کرے ، اگر کسی نے کسی دوسرے کو سجدہ کرنا ہوتا ، تو میں عورت کو یہ حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : یہ غزوہ حنین کا واقعہ ہے ۔ اور انہوں نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” پھر لوگوں کو شدید پیاس لاحق ہو گئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے عبداللہ ! میرے لئے پانی تلاش کرو ، تم مجھے ایک برتن میں جو بچا ہوا پانی ملا تھا ، وہ لے کر میں آپ کے پاس آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے کر ایک پیالے میں ڈالا ، پھر آپ نے اپنا دست مبارک اس میں رکھا ، اور بسم اللہ پڑھی ، تو آپ کی انگلیوں کے درمیان میں سے پانی پھوٹنے لگا ، لوگوں نے جتنا چاہا ، پانی پی لیا اور وضو کر لیا ۔
یہ روایت امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، معجم اوسط کی سند میں ایک راوی زمعہ بن صالح ہے ، جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی نقل کردہ حدیث حسن ہوتی ہے ، اس روایت کے دونوں طریق کی اسانید ضعیف ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : یہ غزوہ حنین کا واقعہ ہے ۔ اور انہوں نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” پھر لوگوں کو شدید پیاس لاحق ہو گئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے عبداللہ ! میرے لئے پانی تلاش کرو ، تم مجھے ایک برتن میں جو بچا ہوا پانی ملا تھا ، وہ لے کر میں آپ کے پاس آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے کر ایک پیالے میں ڈالا ، پھر آپ نے اپنا دست مبارک اس میں رکھا ، اور بسم اللہ پڑھی ، تو آپ کی انگلیوں کے درمیان میں سے پانی پھوٹنے لگا ، لوگوں نے جتنا چاہا ، پانی پی لیا اور وضو کر لیا ۔
یہ روایت امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، معجم اوسط کی سند میں ایک راوی زمعہ بن صالح ہے ، جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی نقل کردہ حدیث حسن ہوتی ہے ، اس روایت کے دونوں طریق کی اسانید ضعیف ہیں ۔
حدیث نمبر: 14167
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ ، فَجَاءَ بَعِيرٌ فَسَجَدَ لَهُ ، فَقَالَ أَصْحَابُهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَجَدَ لَكَ الْبَهَائِمُ وَالشَّجَرُ ، فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَكَ . فَقَالَ : " اعْبُدُوا رَبَّكُمْ ، وَأَكْرِمُوا أَخَاكُمْ " . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین اور انصار کے گروہ کے درمیان موجود تھے ، اسی دوران ایک اونٹ آیا اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کیا ، آپ کے اصحاب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جانور اور درخت آپ کو سجدہ کرتے ہیں ، تو ہم تو اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ ہم آپ کو سجدہ کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے پروردگار کی عبادت کرو ، اور اپنے بھائی کا احترام کرو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حدیث نمبر: 14168
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ ذَاتَ يَوْمٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا نَحْنُ بِبَعِيرٍ قَالَ : فَلَمَّا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمَا بِرَأْسِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا يَعْلَى ، انْطَلِقْ إِلَى أَهْلِ هَذَا الْبَعِيرِ فَاشْتَرِهِ مِنْهُمْ ، وَإِنْ لَمْ يَبِيعُوكَ فَقُلْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُوصِيكُمْ بِهِ " . قَالُوا : أَيْمُ اللَّهِ لَقَدْ نَضَحْنَا عَلَيْهِ عِشْرِينَ سَنَةً ، وَإِنْ كُنَّا لَنُرِيدُ أَنْ نَنْحَرَهُ بِالْغَدَاةِ ، فَأَمَّا إِذَا أَوْصَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنَّا لَا نَأْلُوهُ خَيْرًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے ، اسی دوران ایک اونٹ سامنے آیا ، جب اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، تو اس نے اپنا سر اوپر کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے یعلیٰ ! تم اس اونٹ کے مالکان کے پاس جاؤ ، اور ان سے اس اونٹ کو خرید لو ، اگر وہ تمہیں اس کو فروخت نہیں کرتے ، تو تم یہ کہنا کہ اللہ کے رسول تمہیں اس کے بارے میں تلقین کر رہے ہیں ، ان لوگوں نے بتایا : اللہ کی قسم ! ہم بیس سال تک اس پر پانی لاد کر لاتے رہے ہیں ، کل ہم نے اسے قربان کرنے کا ارادہ کر لیا تھا ، لیکن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں تلقین کر دی ہے ، تو اب ہم اس کے حوالے سے بھلائی میں کوتاہی نہیں کریں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 14169
وَبِسَنَدِهِ عَنْ يَعْلَى قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسِيرٍ إِذَا نَحْنُ بِثَلَاثِ أَشَاءَاتٍ مُتَفَرِّقَاتٍ ، فَقَالَ : " يَا يَعْلَى ، اذْهَبْ إِلَى تِلْكَ الْأَشَاءَاتِ فَقُلْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُكُنَّ أَنْ تَجْتَمِعْنَ بِإِذْنِ اللَّهِ " . فَمَشَيْنَ حَتَّى صِرْنَ فِي أَصْلٍ وَاحِدٍ ، فَاسْتَتَرَ بِهِنَّ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا يَعْلَى ، انْطَلِقْ إِلَيْهِنَّ فَأْمُرْهُنَّ أَنْ يَرْجِعْنَ بِإِذْنِ اللَّهِ " . فَمَشَيْنَ حَتَّى رَجَعَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ إِلَى مَوْقِفِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
اسی سند کے ساتھ ، سیدنا یعلیٰ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : ” ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے ، ہمارے سامنے کھجور کے تین چھوٹے درخت آئے ، جو ایک دوسرے سے الگ الگ تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان تینوں درختوں کے پاس جاؤ اور ان سے یہ کہو : کہ تمہیں اللہ کے رسول یہ ہدایت کر رہے ہیں کہ تم اللہ کے حکم کے تحت اکٹھے ہو جاؤ ، تو وہ چلتے ہوئے آئے اور ایک جڑ کی مانند ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قضائے حاجت کے لئے ان کے ذریعے پردہ کر لیا ، پھر آپ نے فرمایا : اے یعلیٰ تم ان کے پاس جاؤ اور انہیں یہ ہدایت کرو کہ وہ اللہ کے حکم کے تحت واپس چلے جائیں ، تو وہ چلتے ہوئے گئے ، یہاں تک کہ ان میں سے ہر ایک اپنی مخصوص جگہ پر واپس چلا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 14170
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : أَرِنِي آيَةً . قَالَ : " اذْهَبْ إِلَى تِلْكَ الشَّجَرَةِ فَادْعُهَا " . فَذَهَبَ إِلَيْهَا فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُوكِ . فَمَالَتْ عَلَى كُلِّ جَانِبٍ مِنْهَا حَتَّى قُلِعَتْ عُرُوقُهَا ، ثُمَّ أَقْبَلَتْ حَتَّى جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ تَرْجِعَ ، فَقَامَ الرَّجُلُ ، فَقَبَّلَ رَأْسَهُ وَيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ ، وَأَسْلَمَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ حِبَّانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: آپ مجھے کوئی نشانی دکھائیے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس درخت کے پاس جاؤ اور اسے بلا کے لاؤ ، وہ شخص اس درخت کے پاس گیا اور بولا: اللہ کے رسول تمہیں بلا رہے ہیں ، تو وہ درخت کبھی ایک طرف جھکتا تھا ، کبھی دوسری طرف جھکتا تھا ، یہاں تک کہ اس نے اپنی تمام جڑیں اکھیڑ لیں ، پھر وہ آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ حکم دیا کہ تم واپس چلے جاؤ ! وہ شخص کھڑا ہوا ، اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور ہاتھوں اور پاؤں کو بوسہ دیا ، اور اسلام قبول کر لیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صالح بن حبان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صالح بن حبان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 14171
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُدَاوِي وَيُعَالِجُ ، فَقَالَ لَهُ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّكَ تَقُولُ أَشْيَاءَ فَهَلْ لَكَ أَنْ أُدَاوِيَكَ ؟ قَالَ : فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ لَهُ : " هَلْ لَكَ أَنْ أُدَاوِيَكَ ؟ " . قَالَ : إِيهِ ، وَعِنْدَهُ نَخْلٌ وَشَجَرٌ . قَالَ : فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِذْقًا مِنْهَا ، فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ ، وَهُوَ يَسْجُدُ ، وَيَرْفَعُ ، وَيَسْجُدُ ، وَيَرْفَعُ ، حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِ ، فَقَامَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ارْجِعْ إِلَى مَكَانِكَ " . فَرَجَعَ إِلَى مَكَانِهِ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَا أُكَذِّبُكَ بِشَيْءٍ تَقُولُهُ بَعْدَهَا أَبَدًا . ثُمَّ قَالَ : " يَا عَامِرُ بْنَ صَعْصَعَةَ ، وَاللَّهِ لَا أُكَذِّبُهُ بِشَيْءٍ يَقُولُهُ بَعْدَهَا أَبَدًا " . قَالَ : وَالْعِذْقُ : النَّخْلَةُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَجَّاجِ الشَّامِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : بنو عامر سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا وہ علاج معالجہ کیا کرتا تھا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ کچھ باتیں کہتے ہیں ، تو کیا آپ اس بات میں دلچپسی رکھتے ہیں کہ میں آپ کا علاج کروں ؟ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوایا اور اس سے فرمایا : کیا تم اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو ؟ کہ میں تمہارا علاج کروں ؟ اس نے کہا: کریں ، اس وقت وہاں ایک درخت اور ایک کھجور کا درخت موجود تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ایک درخت کو بلایا ، تو وہ آپ کی طرف آیا اور اس نے سجدہ کیا ، پھر اس نے سر اٹھایا اور پھر سجدہ کیا ، پھر سر اٹھایا اور سجدہ کیا ، یہاں تک کہ اسی طرح وہ سجدہ کرتا ہوا ، آپ کے پاس پہنچ گیا ، اور آپ کے سامنے آ کے کھڑا ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : تم اپنی جگہ پر واپس چلے جاؤ ، وہ اپنی جگہ واپس چلا گیا ، تو اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم ! اس کے بعد آپ جو بھی بات کہیں گے ، میں کسی بھی چیز کے حوالے سے ، آپ کو جھوٹا قرار نہیں دوں گا ۔ پھر اس شخص نے کہا: اے عامر بن صعصہ ! اللہ کی قسم ! اس کے بعد یہ صاحب جو بھی بات کہیں گے ، میں کسی چیز کے حوالے سے انہیں جھوٹا قرار نہیں دوں گا ۔ راوی کہتے ہیں : عذق سے مراد ، کھجور کا درخت ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ابراہیم بن حجاج شامی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ابراہیم بن حجاج شامی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 14172
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ بِالْحَجُونِ ، فَرَدَّ عَلَيْهِ الْمُشْرِكُونَ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ أَرِنِي آيَةً الْيَوْمَ لَا أُبَالِي مَنْ كَذَّبَنِي بَعْدَهَا " . فَأَتَى فَقِيلَ : ادْعُ شَجَرَةً ، فَأَقْبَلَتْ تَخُطُّ الْأَرْضَ حَتَّى انْتَهَتْ إِلَيْهِ فَسَلَّمَتْ عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَمَرَهَا فَرَجَعَتْ . - قَالَ دَاوُدُ : إِلَى مَنْبَتِهَا . وَقَالَ عَفَّانُ : إِلَى مَوْضِعِهَا - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا أُبَالِي مَنْ كَذَّبَنِي بَعْدَهَا مِنْ قَوْمِي " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَإِسْنَادُ أَبِي يَعْلَى حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حجون کے مقام پر موجود تھے ، مشرکین نے آپ کی بات کو تسلیم نہیں کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی : اے اللہ ! آج مجھے ایسی نشانی دکھا دے کہ اس کے بعد مجھے اس شخص کی کوئی پرواہ نہ ہو ، جو مجھے جھٹلائے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( فرشتہ آیا ) اور آپ سے کہا: گیا : آپ کسی درخت کو بلائیں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا ) تو وہ درخت زمین پر چلتا ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا ، تو وہ واپس چلا گیا ، یہاں داؤد نامی راوی نے یہ لفظ نقل کیے ہیں : اپنے اُگنے کی جگہ واپس چلا گیا ، اور عفان نے یہ لفظ نقل کیے ہیں : اپنی مخصوص جگہ پر واپس چلا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس کے بعد میری قوم کا جو فرد مجھے جھٹلائے گا ، تو میں اس کی کوئی پرواہ نہیں کروں گا ۔ “
یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 14173
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : غَدَوْنَا يَوْمًا غَدَاةً مِنَ الْغَدَوَاتِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى كُنَّا فِي مَجْمَعِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ ، فَبَصُرْنَا بِأَعْرَابِيٍّ آخِذٍ بِخِطَامِ بَعِيرِهِ حَتَّى وَقَفَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ حَوْلُهُ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ . فَرَدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كَيْفَ أَصْبَحْتَ ؟ " . قَالَ : وَرَغَا الْبَعِيرُ ، وَجَاءَ رَجُلٌ كَأَنَّهُ حَرَسِيٌّ ، فَقَالَ الْحَرَسِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا الْأَعْرَابِيُّ سَرَقَ الْبَعِيرَ . قَالَ : فَرَغَا الْبَعِيرُ سَاعَةً ، وَحَنَّ فَأَنْصَتَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْمَعُ رُغَاءَهُ وَحَنِينَهُ ، فَلَمَّا هَدَأَ الْبَعِيرُ أَقْبَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْحَرَسِيِّ فَقَالَ : " انْصَرِفْ عَنْهُ ; فَإِنَّ الْبَعِيرَ شَهِدَ عَلَيْكَ أَنَّكَ كَاذِبٌ " . فَانْصَرَفَ الْحَرَسِيُّ ، وَأَقْبَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْأَعْرَابِيِّ فَقَالَ : " أَيُّ شَيْءٍ قُلْتَ حِينَ جِئْتَنِي ؟ " . قَالَ : قُلْتُ - بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي - : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ حَتَّى لَا تَبْقَى صَلَاةٌ ، اللَّهُمَّ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ حَتَّى لَا تَبْقَى بَرَكَةٌ ، اللَّهُمَّ وَسَلِّمْ عَلَى مُحَمَّدٍ حَتَّى لَا يَبْقَى سَلَامٌ ، اللَّهُمَّ وَارْحَمْ مُحَمَّدًا حَتَّى لَا تَبْقَى رَحْمَةٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ - جَلَّ وَعَزَّ - أَبْدَأَهَا لِي وَالْبَعِيرُ يَنْطِقُ بِعُذْرِهِ ، وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ قَدْ سَدُّوا الْأُفُقَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن ہم صبح کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے ، یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ مختلف راستے ملنے کی جگہ پر پہنچے ، تو وہاں ہمیں ایک دیہاتی نظر آیا ، جس نے اپنے اونٹ کی لگام پکڑی ہوئی تھی ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر ٹھہر گیا ، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد موجود تھے ، اس نے کہا: اے نبی ! آپ پر سلامتی نازل ہو ، اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سلام کا جواب دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا کیا حال ہے ؟ راوی بیان کرتے ہیں : اسی دوران اونٹ آوازیں نکالنے لگا ، پھر ایک شخص آیا جو حرسی لگ رہا تھا ، اس حرسی نے کہا: یا رسول اللہ ! اس دیہاتی نے اونٹ چوری کیا ہے ، راوی کہتے ہیں : وہ اونٹ کچھ دیر آوازیں نکالتا رہا اور روتا رہا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو اس کا رونا اور آوازیں سن رہے تھے ، آپ اسے خاموش کروانے لگے ، جب وہ اونٹ پرسکون ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حرسی کی طرف متوجہ ہوئے اور اس سے فرمایا : اسے چھوڑ دو ! کیونکہ اس اونٹ نے تمہارے خلاف یہ گواہی دی ہے کہ تم جھوٹ بول رہے ہو ، تو وہ حرسی واپس چلا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دیہاتی کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : جب تم میرے پاس واپس آئے تھے ، تو تم نے کیا کہا: تھا ؟ راوی کہتے ہیں : اس نے کہا: میں نے یہ کہا: تھا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، اے اللہ ! تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمت نازل فرما ، یہاں تک کہ رحمت باقی نہ رہے ، اے اللہ ! تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر برکت نازل فرما ، یہاں تک کہ برکت باقی نہ رہے ، اے اللہ ! تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر سلامتی نازل فرما ، یہاں تک کہ سلامتی باقی نہ رہے ، اے اللہ ! تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمت فرما ! یہاں تک کہ رحمت باقی نہ رہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے اسے میرے لئے ظاہر کیا اور اونٹ اپنے عذر کے بارے میں بات چیت کر رہا تھا ، اور فرشتوں نے اسے گھیرا ہوا تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 14174
وَعَنِ الْحَكَمِ بْنِ الْحَارِثِ السُّلَمِيِّ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي السَّلَبِ ، فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ خَلَأَتْ نَاقَتِي وَأَنَا أَضْرِبُهَا ، فَقَالَ : " لَا تَضْرِبْهَا " . وَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " حَلَّ " ، فَقَامَتْ فَسَارَتْ مَعَ النَّاسِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حکم بن حارث سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک کام کے سلسلے میں بھیجا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے ، تو میری اونٹنی رکی ہوئی تھی اور میں اُسے مار رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے نہ مارو ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے کھول دو ( یا اسے چھوڑ دو ! ) تو وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی ، اور دوسرے لوگوں کے ساتھ چلنے لگی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔