کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جنات کے وفد کا آنا اور ان کا نبی اکرم ﷺ کی فرمانبرداری کرنا
حدیث نمبر: 14143
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَكَّةَ وَهُوَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ إِذْ قَالَ : " لِيَقُمْ مَعِيَ رَجُلٌ مِنْكُمْ ، وَلَا يُقُومَنَّ مَعِي رَجُلٌ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْغِشِّ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ " . قَالَ : فَقُمْتُ مَعَهُ فَأَخَذْتُ الْإِدَاوَةَ وَلَا أَحْسَبُهَا إِلَّا مَاءً ، فَخَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى إِذْ كُنَّا بِأَعْلَى مَكَّةَ رَأَيْتُ أَسْوِدَةً مُجْتَمِعَةً قَالَ : فَخَطَّ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطًّا ثُمَّ قَالَ : " قُمْ هَهُنَا حَتَّى آتِيَكَ " . فَقُمْتُ وَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْهِمْ فَرَأَيْتُهُمْ يَثُورُونَ إِلَيْهِ . قَالَ : فَسَمَرَ مَعَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلًا طَوِيلًا ، حَتَّى جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِي : " مَا زِلْتَ قَائِمًا يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ؟ " . قُلْتُ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوَلَمْ تَقُلْ لِي : قُمْ حَتَّى آتِيَكَ ؟ قَالَ : ثُمَّ قَالَ لِي : " هَلْ مَعَكَ مِنْ وَضُوءٍ ؟ " . قَالَ : فَقُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : فَفَتَحْتُ الْإِدَاوَةَ فَإِذَا هُوَ نَبِيذٌ . قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ لَقَدْ أَخَذْتُ الْإِدَاوَةَ وَلَا أَحْسَبُهَا إِلَّا مَاءً فَإِذَا هُوَ نَبِيذٌ . قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ثَمَرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ " . قَالَ : ثُمَّ تَوَضَّأَ مِنْهَا . فَلَمَّا قَامَ يُصَلِّي أَدْرَكَهُ شَخْصَانِ مِنْهُمْ ، فَقَالَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا نُحِبُّ أَنْ تَؤُمَّنَا فِي صَلَاتِنَا ، قَالَ : فَصَفَّهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَلْفَهُ ثُمَّ صَلَّى بِنَا ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : " هَؤُلَاءِ جِنُّ نَصِيبِينَ ، جَاءُونِي يَخْتَصِمُونَ فِي أُمُورٍ كَانَتْ بَيْنَهُمْ ، وَقَدْ سَأَلُونِي الزَّادَ فَزَوَّدْتُهُمْ " . قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : وَهَلْ عِنْدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَيْءٌ تُزَوِّدُهُمْ إِيَّاهُ ؟ قَالَ : " قَدْ زَوَّدْتُهُمُ الرَّجْعَةَ وَمَا وَجَدُوا مِنْ رَوْثٍ وَجَدُوهُ شَعِيرًا ، وَمَا وَجَدُوا مِنْ عَظْمٍ وَجَدُوهُ كَاسِيًا " . قَالَ : فَعِنْدَ ذَلِكَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أَنْ يُسْتَطَابَ بِالْعَظْمِ وَالرَّوْثِ . قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ بِاخْتِصَارٍ . وَرَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو زَيْدٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ میں موجود تھے ، آپ اپنے چند اصحاب کے درمیان موجود تھے ، اسی دوران آپ نے فرمایا : تم میں کوئی ایک شخص اٹھ کر میرے ساتھ چلے اور میرے ساتھ کوئی ایسا شخص ہرگز نہ جائے ، جس کے دل میں ذرے کے وزن جتنی کھوٹ ہو ، راوی کہتے ہیں : تو میں آپ کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا ، میں نے ایک برتن لے لیا ، میرا یہ خیال تھا کہ اس میں پانی موجود ہو گا ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوا ، یہاں تک کہ ہم مکہ کے بالائی علاقے میں پہنچے ، تو میں نے وہاں کچھ وجود دیکھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے ایک لکیر لگائی اور پھر فرمایا : تم نے یہاں ٹھہرنا ہے جب تک میں تمہارے پاس نہیں آ جاتا ، تو میں کھڑا ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس تشریف لے گئے ، میں نے ان لوگوں کو دیکھا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات بھر خاصی دیر تک ان کے ساتھ بات چیت کرتے رہے ، یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ، تو آپ نے مجھ سے دریافت کیا : اے ابن مسعود ! تم اس وقت سے کھڑے ہوئے ہو ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! کیا آپ نے مجھ سے یہ نہیں فرمایا تھا کہ جب تک میں تمہارے پاس نہیں آ جاتا ، تم کھڑے رہو ، راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس وضو کا پانی ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! راوی کہتے ہیں جب میں نے برتن کو کھولا تو اس میں نبیذ موجود تھی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! میں نے تو یہ برتن اس لئے لیا تھا کہ میرا خیال تھا کہ اس میں پانی ہو گا ، لیکن اس میں تو نبیذ موجود ہے ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کھجور پاکیزہ چیز ہے ، اور پانی پاک کرنے والا ہے ، راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وضو کر لیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر نماز ادا کر رہے تھے ، تو ان میں سے دو افراد آپ کے پاس آئے ، ان دونوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہماری یہ خواہش ہے کہ آپ نماز میں ہماری امامت کریں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اپنے پیچھے کھڑا کر لیا ، پھر آپ نے ہمیں نماز پڑھائی ، جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ، تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ کون تھے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ نصیبین سے تعلق رکھنے والے جنات تھے جو میرے پاس آئے تھے ، یہ مختلف امور کے بارے میں مقدمہ لے کے آئے تھے ، جو ان کے درمیان چل رہا تھا ، انہوں نے مجھ سے زاد راہ کے بارے میں دریافت کیا ، تو ( یا انہوں نے مجھ سے زاد راہ مانگا ، تو وہ ) میں نے انہیں دے دیا ، راوی کہتے ہیں : میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ کے پاس کوئی ایسی چیز ہے ؟ جو آپ نے انہیں زاد راہ کے طور پر دی ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے انہیں زاد راہ میں ہڈی دی ہے ، اور جو مینگنی انہیں ملے گی ، وہ دی ہے کہ انہیں وہ جو کی شکل میں ہو گی ، اور جو ہڈی ملے گی ، وہ ہڈی گوشت والی ملے گی ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( انسانوں کو ) اس موقع پر یہ منع کر دیا کہ ہڈی یا مینگنی کے ذریعے استنجاء کیا جائے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ،
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوزید ہے ، جو عمرو بن حریث کا آزاد کردہ غلام ہے ، اور وہ مجہول ہے ۔
یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ،
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوزید ہے ، جو عمرو بن حریث کا آزاد کردہ غلام ہے ، اور وہ مجہول ہے ۔
حدیث نمبر: 14144
وَعَنْهُ قَالَ : أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنِّي قَدْ أُمِرْتُ أَنْ أَقْرَأَ عَلَى إِخْوَانِكُمْ مِنَ الْجِنِّ فَلْيَقُمْ مَعِيَ رَجُلٌ ، وَلَا يَقُمْ رَجُلٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ كِبْرٍ " . فَقُمْتُ مَعَهُ فَأَخَذْتُ الْإِدَاوَةَ فِيهَا نَبِيذٌ ، فَانْطَلَقْتُ فَلَمَّا بَرَزَ خَطَّ لِي خَطًّا وَقَالَ : " لَا تَخْرُجْ مِنْهُ ، فَإِنَّكَ إِنْ خَرَجْتَ مِنْهُ لَمْ تَرَنِي وَلَا أَرَاكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . قَالَ : فَانْطَلَقَ وَتَوَارَى عَنِّي حَتَّى لَمْ أَرَهُ ، فَلَمَّا سَطَعَ الْفَجْرُ أَقْبَلَ فَقَالَ لِي : " أَرَاكَ قَائِمًا ؟ " . فَقُلْتُ : مَا قَعَدْتُ ، فَقَالَ : " مَا عَلَيْكَ لَوْ فَعَلْتَ ؟ " . قُلْتُ : خَشِيتُ أَنْ أَخْرُجَ مِنْهُ . قَالَ : " أَمَا إِنَّكَ لَوْ خَرَجْتَ مِنْهُ لَمْ تَرَنِي وَلَمْ أَرَكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، هَلْ مَعَكَ وَضُوءٌ ؟ " . قُلْتُ : لَا . قَالَ : " مَا هَذِهِ الْإِدَاوَةُ " . قُلْتُ : فِيهَا نَبِيذٌ . قَالَ : " تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ " . فَتَوَضَّأَ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلَانِ مِنَ الْجِنِّ فَسَأَلَاهُ الطَّعَامَ قَالَ : " أَلَمْ آمُرْ لَكُمَا وَلِقَوْمِكُمَا بِمَا يُصْلِحُكُمْ ؟ " . قَالَا : بَلَى ، وَلَكِنْ أَحْبَبْنَا أَنْ يَشْهَدَ بَعْضُنَا مَعَكَ الصَّلَاةَ . قَالَ : " فَمَنْ أَنْتُمَا ؟ " . قَالَا : نَحْنُ مِنْ أَهْلِ نَصِيبِينَ ، قَالَ : " قَدْ أَفْلَحَ هَذَانِ وَأَفْلَحَ قَوْمُهُمَا " . فَأَمَرَ لَهُمَا بِالرَّوْثِ وَالْعِظَامِ طَعَامًا وَلَحْمًا . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو زَيْدٍ وَقَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ أَيْضًا وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
اُن کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے جنات بھائیوں کے سامنے تلاوت کروں ، تو میرے ساتھ کوئی شخص اُٹھ کر چلے اور کوئی ایسا شخص نہ اُٹھے ، جس کے دل میں رائی کے دانے جتنا تکبر ہو ، راوی کہتے ہیں : تو میں آپ کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا ، میں نے ایک برتن لے لیا ، جس میں نبیذ موجود تھی ، میں روانہ ہوا ، جب ہم اس مقام پر پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے ایک لکیر کھینچی اور مجھ سے فرمایا : تم اس سے باہر نہ جانا ، کیونکہ اگر تم اس سے باہر گئے ، تو قیامت کے دن تک نہ تم مجھے دیکھ سکو گے ، نہ میں تمہیں دیکھ سکوں گا ، راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ، اور میری نگاہوں سے اوجھل ہو گئے ، یہاں تک کہ میں آپ کو دیکھ نہیں سکتا تھا ، جب صبح صادق کا وقت ہوا ، تو آپ تشریف لائے ، آپ نے مجھ سے فرمایا : میں تمہیں کھڑا ہوا دیکھ رہا ہوں ، میں نے عرض کی : میں بیٹھا ہی نہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم پر کیا حرج تھا کہ اگر تم ایسا کر لیتے ؟ میں نے عرض کی : مجھے یہ اندیشہ تھا کہ کہیں میں اس سے نکل نہ جاؤں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم اس سے نکل جاتے ، تو قیامت کے دن تک نہ تم نے مجھے دیکھنا تھا ، اور نہ میں نے تمہیں دیکھنا تھا ، کیا تمہارے پاس وضو کا پانی ہے ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اس برتن میں کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : اس میں نبیذ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کھجور پاکیزہ ہوتی ہے ، اور پانی پاک ہوتا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور نماز ادا کی ، جب آپ نے نماز ادا کی تو جنات میں سے دو افراد آپ کے پاس آئے ، انہوں نے آپ سے کھانا مانگا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں نے تم دونوں کے لئے اور تم دونوں کی قوم کے لئے اس چیز کا حکم نہیں دیا ہے ؟ جو تمہارے لئے موزوں ہو ، ان دونوں نے عرض کی : جی ہاں ! لیکن ہماری یہ خواہش تھی کہ ہم میں سے بعض لوگ آپ کی اقتداء میں نماز میں شریک ہوتے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم دونوں کون ہو ؟ ان دونوں نے بتایا : ہم نصیبین سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ دونوں کامیاب ہو گئے ، اور ان دونوں کی قوم کامیاب ہو گئی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے بارے میں مینگنی اور ہڈی کا حکم دیا کہ وہ کھانا اور گوشت بن جائیں گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوزید اور ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوزید اور ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 14145
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَيْضًا قَالَ : اسْتَتْبَعَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةَ الْجِنِّ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ حَتَّى بَلَغْنَا أَعْلَى مَكَّةَ فَخَطَّ لِي خَطًّا وَقَالَ : " لَا تَبْرَحْ " . ثُمَّ انْصَاعَ فِي أَجْبَالِ الْجِنِّ ، فَرَأَيْتُ الرِّجَالَ يَنْحَدِرُونَ عَلَيْهِ مِنْ رُءُوسِ الْجِبَالِ ، حَتَّى حَالُوا بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَاخْتَرَطْتُ السَّيْفَ وَقُلْتُ : لَأَضْرِبَنَّ حَتَّى أَسْتَنْقِذَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَهُ : " لَا تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ " . قَالَ : فَلَمْ أَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى أَضَاءَ الْفَجْرُ ، فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا قَائِمٌ فَقَالَ : " مَا زِلْتَ عَلَى حَالِكَ ؟ " . قُلْتُ : لَوْ لَبِثْتَ شَهْرًا مَا بَرِحْتُ حَتَّى تَأْتِيَنِي ، ثُمَّ أَخْبَرْتُهُ بِمَا أَرَدْتُ أَنْ أَصْنَعَ فَقَالَ : " لَوْ خَرَجْتَ مَا الْتَقَيْنَا أَنَا وَأَنْتَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ثُمَّ شَبَّكَ أَصَابِعَهُ فِي أَصَابِعِي ثُمَّ قَالَ : " إِنِّي وُعِدْتُ أَنْ يُؤْمِنَ بِي الْإِنْسُ وَالْجِنُّ ، فَأَمَّا الْإِنْسُ فَقَدْ آمَنَتْ بِي وَأَمَّا الْجِنُّ فَقَدْ رَأَيْتَ " . قَالَ : " وَمَا أَظُنُّ أَجَلِي إِلَّا قَدِ اقْتَرَبَ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَسْتَخْلِفُ أَبَا بَكْرٍ ؟ فَأَعْرَضَ عَنِّي ، فَرَأَيْتُ أَنَّهُ لَمْ يُوَافِقْهُ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَسْتَخْلِفُ عُمَرَ ؟ فَأَعْرَضَ عَنِّي ، فَرَأَيْتُ أَنَّهُ لَمْ يُوَافِقْهُ . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَسْتَخْلِفُ عَلِيًّا ؟ قَالَ : " ذَاكَ وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنْ بَايَعْتُمُوهُ وَأَطَعْتُمُوهُ أَدْخَلَكُمُ الْجَنَّةَ أَكْتَعِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جنات سے ملاقات کی رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ساتھ چلنے کے لئے کہا: ، تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہو گیا ، یہاں تک کہ ہم مکہ کے بالائی حصے میں پہنچ گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے ایک لکیر لگا دی اور فرمایا : یہیں رہنا ، پھر آپ جنات کی طرف تشریف لے گئے ، میں نے کچھ افراد کو دیکھا کہ وہ پہاڑوں کے سروں سے اتر کر آپ کی طرف آ رہے ہیں ، یہاں تک کہ وہ لوگ میرے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان حائل ہو گئے ، میں نے تلوار نکالی اور سوچا کہ میں اس کے ذریعے ضرور ضرب لگاؤں گا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بچا لوں گا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مجھے یاد آ گیا کہ جب تک میں تمہارے پاس نہیں آتا ، تم نے یہیں رہنا ہے ، راوی کہتے ہیں : مسلسل اسی طرح کی صورت حال رہی ، یہاں تک کہ جب صبح صادق ہونے لگی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ، میں اس وقت کھڑا ہوا تھا ، آپ نے فرمایا : تم مسلسل اسی حالت میں رہے ہو ؟ میں نے عرض کی : اگر ایک ماہ بھی گزر جاتا ، تو میں نے ایسے ہی رہنا تھا ، جب تک آپ میرے پاس تشریف نہیں لے آتے ، پھر میں نے آپ کو بتایا کہ جو میں نے کرنے کا ارادہ کیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم اس سے باہر نکل جاتے ، تو قیامت کے دن تک میری اور تمہاری ملاقات نہ ہو پاتی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں میری انگلیوں میں داخل کیں اور پھر فرمایا : میرے ساتھ وعدہ کیا گیا کہ انسان اور جنات مجھ پر ایمان لائیں گے ، جہاں تک انسانوں کا تعلق ہے ، تو وہ مجھ پر ایمان لا رہے ہیں ، اور جہاں تک جنات کا تعلق ہے ، تو وہ تم دیکھ رہے ہو ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرا خیال ہے کہ میرا وقت قریب آ چکا ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جانشین مقرر نہیں کرتے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے منہ پھیر لیا ، تو مجھے یہ لگا کہ شاید یہ موزوں نہیں ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جانشین مقرر نہیں کرتے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے منہ پھیر لیا ، مجھے اندازہ ہوا کہ یہ بھی آپ کے نزدیک موزوں نہیں ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو جانشین مقرر نہیں کرتے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، وہ ایسا فرد ہے کہ اگر تم اس کی بیعت کر لو گے ، اور اس کی اطاعت کرو گے ، تو وہ تم سب کو جنت میں داخل کروا دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلیٰ اسلمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلیٰ اسلمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔