حدیث نمبر: 14146
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ بِوَلَدِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لَهُ لَمَمًا ، وَإِنَّهُ يَأْخُذُهُ عِنْدَ طَعَامِنَا فَيُفْسِدُ عَلَيْنَا طَعَامَنَا . فَمَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَدْرَهُ وَدَعَا لَهُ ، فَثَعَّ ثَعَّةً ، فَخَرَجَ مِنْ فِيهِ مِثْلُ الْجَرْوِ الْأَسْوَدِ فَشُفِيَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک خاتون اپنے بچے کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس پر جن آنے کی شکایت ہے ، وہ ہمارے اناج میں سے کچھ لیتا ہے ، اور اسے خراب کر دیتا ہے ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا ، اور اس کے لئے دعا کر دی ، تو اس نے قے کر دی ، اس کے منہ سے کالے پلے کی طرح کی کوئی چیز نکلی ، تو وہ تندرست ہو گیا ۔
حدیث نمبر: 14147
وَفِي رِوَايَةٍ : فَثَعَّ ثَعَّةً يَعْنِي : سَعَلَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ فَرَقَدٌ السَّبَخِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَالْعِجْلِيُّ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُمَا . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : لفظ ” ثعہ “ کا مطلب یہ ہے : اُسے کھانسی آئی ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فرقد سبخی ہے ، جسے یحیی بن معین اور عجلی نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فرقد سبخی ہے ، جسے یحیی بن معین اور عجلی نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 14148
وَعَنِ الْوَازِعِ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْأَشَجَّ : الْمُنْذِرَ بْنَ ابْنِ عَاصِمٍ ، أَوْ عَامِرَ بْنَ الْمُنْذِرِ ، وَمَعَهُمْ رَجُلٌ مُصَابٌ ، فَانْتَهَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَأَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَثَبُوا عَنْ رَوَاحِلِهِمْ ، فَقَبَّلُوا يَدَهُ ، ثُمَّ نَزَلَ الْأَشَجُّ فَعَقَلَ رَوَاحِلَهُمْ ، وَأَخْرَجَ عَيْبَتَهُ فَفَتَحَهَا ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَشُجُّ ، إِنَّ فِيكَ خَلَّتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ : الْحِلْمُ ، وَالْأَنَاةُ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَا أَتَخَلَّقُهُمَا ، أَوْ جَبَلَنِي اللَّهُ عَلَيْهِمَا ؟ قَالَ : " بَلْ جَبَلَكَ اللَّهُ عَلَيْهِمَا " . قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَبَلَنِي عَلَى خَلَّتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ . فَقَالَ الْوَازِعُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ مَعِي خَالًا مُصَابًا ، فَادْعُ اللَّهَ لَهُ . قَالَ : " أَيْنَ هُوَ ؟ ائْتِنِي بِهِ " . قَالَ : فَصَنَعَتُ بِهِ مِثْلَ مَا صَنَعَ الْأَشَجُّ : أَلْبَسْتُهُ ثَوْبَيْهِ فَأَتَيْتُهُ ، فَأَخَذَ طَائِفَةً مِنْ رِدَائِهِ فَرَفَعَهَا حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطِهِ ، ثُمَّ ضَرَبَ بِظَهْرِهِ . قَالَ : " اخْرُجْ عَدُوَّ اللَّهِ " . فَوَلَّى وَجْهَهُ وَهُوَ يَنْظُرُ نَظَرَ رَجُلٍ صَحِيحٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ هِنْدُ بِنْتُ الْوَازِعِ وَلَمْ أَعْرِفْهَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا وازع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میرے ساتھ اشج بن منذر بن عاصم تھے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) عامر بن منذر تھے ، ان کے ساتھ ایک ایسا فرد تھا ، جسے جنون لاحق تھا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، جب ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، تو اپنی سواریوں سے اچھل کر اترے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دست بوسی کی ، پھر اشج نیچے اترے ، انہوں نے ان لوگوں کی سواریوں کو باندھا ، اپنا تھیلا نکالا ، اُسے کھولا ( اور لباس تبدیل کر کے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو سلام کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اشج ! تمہارے اندر دو خصوصیات پائی جاتی ہیں ، ان دونوں کو اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول پسند کرتے ہیں ۔ ” حلم “ ( یعنی بردباری ) اور ” اناۃ “ ( یعنی جلدبازی نہ کرنا ) انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ میں نے ازخود اختیار کی ہیں ؟ یا اللہ تعالیٰ نے میری جبلت میں شامل کی ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری جبلت میں شامل کی ہیں ، تو انہوں نے عرض کی : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے میری جبلت میں دو ایسی عادات ڈالی ہیں ، جنہیں اللہ اور اس کا رسول پسند کرتے ہیں ، سیدنا وازع رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ! ہمارے ساتھ ایک رشتہ دار ہے ، جس پر جن آیا ہوا ہے ، تو آپ اس کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ کہاں ہے ؟ اسے میرے پاس لے کر آؤ ! راوی کہتے ہیں : میں نے اس آدمی کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا ، جو طرز عمل سیدنا اشج رضی اللہ عنہ نے اختیار کیا تھا ، میں نے اسے عمدہ لباس پہنایا ، پھر میں اسے لے کر آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر پکڑی اور اسے بلند کیا ، یہاں تک کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغل کی سفیدی نظر آنے لگی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پشت پر ہاتھ مارا ، اور فرمایا : اے اللہ کے دشمن ! نکل جاؤ ، تو وہ منہ پھیر کر چلا گیا اور پھر وہ شخص صحیح طور پر دیکھنے لگا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک خاتون ہند بنت وازع ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک خاتون ہند بنت وازع ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14149
وَعَنْ أُمِّ أَبَانَ بِنْتِ الْوَازِعِ ، عَنْ أَبِيهَا : إِنَّ جَدَّهَا الْوَازِعَ انْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَانْطَلَقَ مَعَهُ بِابْنٍ لَهُ مَجْنُونٍ ، أَوِ ابْنِ أُخْتٍ لَهُ . قَالَ جَدِّي : فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ مَعِي ابْنَ أَخٍ لِي - أَوِ ابْنَ أُخْتٍ لِي - مَجْنُونًا ، آتِيكَ بِهِ فَتَدْعُو اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَهُ . قَالَ : " ائْتِنِي بِهِ " . فَانْطَلَقْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ فِي الرِّكَابِ ، فَأَطْلَقْتُ عَنْهُ ، وَأَلْقَيْتُ عَلَيْهِ ثِيَابَ السَّفَرِ ، وَأَلْبَسْتُهُ ثَوْبَيْنِ حَسَنَيْنِ ، وَأَخَذْتُ بِيَدِهِ حَتَّى انْتَهَيْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " ادْنُهِ مِنِّي ، وَاجْعَلْ ظَهْرَهُ مِمَّا يَلِينِي " . قَالَ : فَأَخَذَ بِمَجَامِعِ ثَوْبِهِ مِنْ أَعْلَاهُ وَأَسْفَلِهِ ، فَجَعَلَ يَضْرِبُ ظَهْرَهُ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبِطَيْهِ ، وَيَقُولُ : " اخْرُجْ عَدُوَّ اللَّهِ ! اخْرُجْ عَدُوَّ اللَّهِ ! " . فَأَقْبَلَ يَنْظُرُ نَظَرَ الصَّحِيحِ لَيْسَ نَظَرَهُ الْأَوَّلَ ، ثُمَّ أَقْعَدَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَدَعَا لَهُ فَمَسَحَ وَجْهَهُ ، فَلَمْ يَكُنْ فِي الْوَفْدِ أَحَدٌ بَعْدَ دَعْوَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُفَضَّلُ عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأُمُّ أَبَانٍ ، لَمْ يَرْوِ عَنْهَا غَيْرُ مَطَرٍ . ¤
محمد محی الدین
سیده ام ابان بنت وازع رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتی ہیں : ان کے دادا سیدنا وازع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے ، ان کے ساتھ ان کا ایک بیٹا تھا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) ان کا ایک بھانجا تھا ، جو جنون کا شکار تھا میرے دادا کہتے ہیں جب ہم لوگ مدینہ منورہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ساتھ میرا ایک بھتیجا ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) میرا ایک بھانجا ہے ، جسے جنون لاحق ہے ، میں اسے آپ کے پاس لے کر آیا ہوں ، آپ اللہ تعالیٰ سے اس کے لئے دعا کیجئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے میرے پاس لے کر آؤ ، راوی کہتے ہیں میں اس لڑکے کی طرف گیا جو سواروں میں موجود تھا ، میں نے اسے چھڑوایا ، اس کے سفر والے لباس کو اتروا کر اسے دو عمدہ کپڑے پہنائے ، پھر اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے میرے قریب کرو اور اس کی پشت میری طرف کر دو ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے گریبان کی طرف سے اوپر کی طرف سے اور نیچے کی طرف سے اسے پکڑا اور اس کی پشت پر ہاتھ مارا یہاں تک کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی نظر آ گئی ، آپ نے فرمایا : اے اللہ کے دشمن ! نکل جا ، اے اللہ کے دشمن ! نکل جا ، تو اس لڑکے نے صحیح طور پر دیکھنا شروع کر دیا ، اور اس کی آنکھیں پہلے جیسے نہیں رہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے سامنے بٹھایا ، اس کے لئے دعا کی ، اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے بعد اس وفد میں شامل کوئی ایسا فرد نہیں تھا ، جو اس لڑکے پر فضیلت رکھتا ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ام ابان نامی خاتون سے مطر کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ام ابان نامی خاتون سے مطر کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے ۔
حدیث نمبر: 14150
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ : شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نِسْيَانَ الْقُرْآنِ ، فَضَرَبَ صَدْرِي بِيَدِهِ ، فَقَالَ : " يَا شَيْطَانُ ، اخْرُجْ مِنْ صَدْرِ عُثْمَانَ " . فَمَا نَسِيتُ مِنْهُ شَيْئًا بَعْدُ أَحْبَبْتُ أَنْ أَذْكُرَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ بِشْرٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَفِي أَحَادِيثَ نَحْوُ هَذَا الْمَعْنَى ، فِي أَثْنَائِهَا فِي مَوَاضِعِهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قرآن بھول جانے کی شکایت کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے سینے پر مارا اور فرمایا : اے شیطان ! عثمان کے سینے سے نکل جا ! راوی کہتے ہیں : تو اس کے بعد میں نے جس بھی آیت کو یاد کرنے کی کوشش کی ، اس میں سے میں کسی کو نہیں بھولا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن بشر ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس مفہوم سے تعلق رکھنے والی کچھ احادیث کتاب کے دوران مختلف مقامات پر آئیں ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن بشر ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس مفہوم سے تعلق رکھنے والی کچھ احادیث کتاب کے دوران مختلف مقامات پر آئیں ہیں ۔