کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: دودھ میں ، نبی اکرم ﷺ کی برکت اور اس بارے میں آپ ﷺ کی نشانی ( یا معجزے ) کا بیان
حدیث نمبر: 14139
عَنِ ابْنَةٍ لِخَبَّابٍ قَالَتْ : خَرَجَ خَبَّابٌ فِي سَرِيَّةٍ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَعَاهَدُنَا حَتَّى كَانَ يَحْلِبُ عَنْزًا لَنَا ، فَكَانَ يَحْلِبُهَا فِي جَفْنَةٍ ، فَكَانَتْ تَمْتَلِئُ حَتَّى تَطْفَحَ . قَالَتْ : فَلَمَّا قَدِمَ خَبَّابٌ حَلَبَهَا ، فَعَادَ حِلَابُهَا إِلَى مَا كَانَ قَالَتْ : فَقُلْنَا لِخَبَّابٍ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَحْلِبُهَا حَتَّى تَمْتَلِئَ جَفْنَتُنَا فَلَمَّا حَلَبْتَهَا نَقَصَ حِلَابُهَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ الْقَائِشِ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی بیان کرتی ہیں : سیدنا خباب رضی اللہ عنہ اس ایک جنگی مہم میں تشریف لے گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری دیکھ بھال کرتے رہے ، یہاں تک کہ آپ ہماری بکری کا دودھ دوہ دیتے تھے ، آپ اسے ایک برتن میں دوہتے تھے ، جو بھر جاتا تھا ، یہاں تک کہ گرنے کے قریب ہوتا تھا ، وہ خاتون بیان کرتی ہیں : سیدنا خباب رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے اس بکری کا دودھ دوہا ، تو وہ اتنا ہی تھا ، جتنا پہلے ہوا کرتا تھا ، وہ خاتون کہتی ہیں : ہم نے سیدنا خباب رضی اللہ عنہ سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو جب اُسے دوہتے تھے ، تو اس سے پورے برتن کو بھر دیتے تھے اور جب آپ اس کو دوہتے ہیں ، تو وہ کم ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عبدالرحمن بن قائش کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عبدالرحمن بن قائش کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 14140
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ النُّعْمَانِ السَّكُونِيِّ قَالَ : انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - مُسْتَخْفِيًا مِنْ قُرَيْشٍ ، فَمَرَّا بِرَاعٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَلْ مِنْ شَاةٍ ضَرَبَهَا الْفَحْلُ ؟ " . قَالَ : لَا وَلَكِنَّ هَا هُنَا شَاةً قَدْ خَلَّفَهَا الْجُهْدُ ، فَقَالَ : " ائْتِنِي بِهَا " . فَأَتَاهُ بِهَا فَمَسَحَ ضَرْعَهَا وَدَعَا بِالْبَرَكَةِ ، فَحَلَبَ فَسَقَى أَبَا بَكْرٍ ، ثُمَّ حَلَبَ فَسَقَى الرَّاعِيَ ، ثُمَّ حَلَبَ فَشَرِبَ ، فَقَالَ لَهُ : بِاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مِثْلَكَ ، مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : " إِنْ أَخْبَرْتُكَ تَكْتُمُ عَلَيَّ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " . قَالَ : الَّذِي تَزْعُمُ قُرَيْشٌ أَنَّهُ صَابِئٌ ؟ قَالَ : " إِنَّهُمْ يَقُولُونَ ذَلِكَ " . قَالَ : فَإِنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، وَأَنَّهُ لَا يَقْدِرُ عَلَى مَا فَعَلْتَ إِلَّا رَسُولٌ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ : أَتْبَعُكَ ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَّا الْيَوْمَ فَلَا ، وَلَكِنْ إِذَا سَمِعْتَ أَنَّا قَدْ ظَهَرْنَا فَائْتِنَا " . فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ مَا ظَهَرَ بِالْمَدِينَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قیس بن نعمان سکونی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ، آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے ، یہ لوگ قریش سے چھپتے ہوئے جا رہے تھے ، ان کا گزر ایک چرواہے کے پاس سے ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا کوئی ایسی بکری ہے ؟ جس کے ساتھ نر جانور نے جفتی کی ہو ، اس نے جواب دیا : جی نہیں ! یہاں پر ایک ایسی بکری ہے ، جو کمزوری کی وجہ سے چل نہیں پا رہی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسی کو میرے پاس لے آؤ ! وہ اس بکری کو آپ کے پاس لے کے آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے تھن پر ہاتھ پھیرا اور برکت کی دعا کی ، پھر آپ نے وہ دودھ دوہ لیا ، آپ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو وہ دودھ پلایا ، پھر آپ نے دودھ دوہ لیا اور چرواہے کو پلایا ، پھر آپ نے دودھ دوہ لیا اور خود پیا ، اس چرواہے نے آپ سے کہا: اللہ کی قسم ! میں نے آپ جیسا فرد نہیں دیکھا ، آپ کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر میں تمہیں بتا دوں ، تو کیا تم اس بات کو چھپا کے رکھو گے ؟ اس نے کہا: جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) جو اللہ کا رسول ہے ، اس نے کہا: آپ وہی صاحب ہیں ، جن کے بارے میں قریش یہ کہتے ہیں کہ وہ بے دین ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ لوگ یہی کہتے ہیں ، اس نے کہا: پھر میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں ، کیونکہ جو کام آپ نے کیا ہے ، وہ کوئی رسول ہی کر سکتا ہے ، پھر اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : کیا میں آپ کے ساتھ آؤں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابھی نہیں ، جب تم یہ سنو کہ ہمیں غلبہ حاصل ہو گیا ہے ، تو تم ہمارے پاس آ جانا ۔ راوی کہتے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ میں غلبہ حاصل کرنے کے بعد وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14141
وَعَنْ أُمِّ مَعْبَدٍ أَنَّهَا قَالَتْ : بَعَثْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِشَاةٍ دَاجِنٍ فَرَدَّهَا وَقَالَ : " ابْغِنِي شَاةً لَا تَحْلِبُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ حِزَامِ بْنِ هِشَامِ بْنِ حُبَيْشٍ وَأَبِيهِ وَكِلَاهُمَا ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام معبد رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک حاملہ بکری بھیجی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا اور فرمایا : ایسی بکری میرے پاس بھیجو ! جو دودھ نہ دیتی ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف حزام بن ہشام بن حبیش کا ، اور اس کے والد کا معاملہ مختلف ہے ، اور یہ دونوں ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف حزام بن ہشام بن حبیش کا ، اور اس کے والد کا معاملہ مختلف ہے ، اور یہ دونوں ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14142
وَعَنْ سَعْدٍ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرَاهُ قَالَ : فِي سَفَرٍ - فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فَقَالَ لِي : " يَا سَعْدُ اذْهَبْ إِلَى تِلْكَ الْعَنْزَةِ فَاحْلِبْهَا " . وَعَهْدِي بِذَلِكَ الْمَكَانِ وَمَا فِيهِ عَنْزٌ ، فَأَتَيْتُهُ فَإِذَا فِيهِ عَنْزٌ حَافِلٌ فَحَلَبْتُهَا قَالَ : لَا أَدْرِي كَمْ مِنْ مَرَّةٍ ، ثُمَّ وَكَّلْتُ بِهَا إِنْسَانًا وَشُغِلْتُ بِالرِّحْلَةِ ، فَذَهَبَتِ الْعَنْزُ ، فَاسْتَبْطَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَيْ سَعْدُ " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الرِّحْلَةَ شَغَلَتْنَا فَذَهَبَتِ الْعَنْزُ . فَقَالَ : " إِنَّ الْعَنْزَ ذَهَبَ بِهَا رَبُّهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أُمِّ مَعْبَدٍ فِي صِفَتِهِ وَفِي الْهِجْرَةِ إِلَى الْمَدِينَةِ مِنْ طُرُقٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ ، جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : ہم سفر کر رہے تھے ، ہم نے ایک جگہ پر پڑاؤ کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے سعد ! تم اس بکری کے پاس جاؤ اور اس کا دودھ دوہ لو ، راوی کہتے ہیں : میں کچھ دیر پہلے اس جگہ سے گزر کے آیا تھا ، وہاں کوئی بکری نہیں تھی ، پھر وہاں آیا تو وہاں ایک بکری موجود تھی ، جو حاملہ تھی ، میں نے اس کا دودھ دوہ لیا ، راوی کہتے ہیں : پھر میں نے یہ کام کسی اور کے سپرد کیا اور خود پالان کی تیاری میں مصروف ہو گیا ، تو اسی دوران بکری چلی گئی ، مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے میں تاخیر ہو گئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے سعد ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں سامان کے حوالے سے مصروف ہو گیا ، تو وہ بکری چلی گئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بکری کو اس کا پروردگار ( یا اس کا مالک ) لے گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے سیدہ ام معبد رضی اللہ عنہا کی حدیث گزر چکی ہے ، جو آپ کے حلیہ کے بارے میں ہے ، اور آپ کے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کے بارے میں ہے ، اور یہ مختلف طرق سے منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے سیدہ ام معبد رضی اللہ عنہا کی حدیث گزر چکی ہے ، جو آپ کے حلیہ کے بارے میں ہے ، اور آپ کے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کے بارے میں ہے ، اور یہ مختلف طرق سے منقول ہے ۔