کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جس نے آپ ﷺ کے منہ میں سے ، کوئی چیز لے کر کھائی ہو
حدیث نمبر: 14138
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - امْرَأَةٌ بَذِيئَةُ اللِّسَانِ قَدْ عُرِفَ ذَلِكَ مِنْهَا ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ قَدِيدٌ يَأْكُلُهُ ، فَأَخَذَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدِيدَةً فِيهَا عَصَبٌ ، فَأَلْقَاهَا إِلَى فِيهِ ، فَجَعَلَ يَلُوكُهَا مَرَّةً عَلَى جَانِبِهِ هَذَا وَمَرَّةً عَلَى جَانِبِهِ الْآخَرِ ، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَلَا تُطْعِمُنِي ؟ قَالَ : " بَلَى " . فَنَاوَلَهَا مِمَّا بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَتْ : لَا إِلَّا الَّذِي فِي فِيكَ . فَأَخْرَجَهُ فَأَعْطَاهَا فَأَلْقَتْهُ فِي فَمِهَا فَلَمْ تَزَلْ تَلُوكُهُ حَتَّى ابْتَلَعَتْهُ ، فَلَمْ يُعْلَمْ مِنْ تِلْكَ الْمَرْأَةِ بَعْدَ ذَلِكَ الْأَمْرُ الَّذِي كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ الْبَذَاءِ وَالذَّرَابَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طَرِيقٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، جو زبان کی تیز تھی اور یہ چیز اس کے حوالے سے معروف تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے قدید موجود تھا ، جسے آپ کھا رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشت کا ٹکڑا لیا ، اسے اپنے منہ میں رکھا ، پھر ایک مرتبہ آپ نے اس کو چبایا ، ایک مرتبہ ایک طرف سے چبایا ، ایک مرتبہ دوسری طرف سے چبایا ، تو اس خاتون نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کیا آپ کھانے کے لئے مجھے نہیں دیں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آگے جو موجود تھا ، وہ اس کی طرف بڑھایا ، اس خاتون نے عرض کی : جی نہیں ! میں صرف وہ چیز لوں گی ، جو آپ کے منہ میں ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منہ میں سے اُسے نکال کر اس خاتون کو دے دیا ، اس خاتون نے اسے اپنے منہ میں ڈالا ، اور اُسے چبانے لگی ، یہاں تک کہ اسے اس نے منہ میں ڈال لیا ، اس کے بعد اس خاتون کی طرف سے کبھی وہ چیز نہیں سامنے نہیں آئی ، جو زبان کی تیزی اور بدتمیزی اس کی طرف سے معروف تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اس روایت کا ایک اور طریق پہلے گزر چکا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14138
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7903)»