حدیث نمبر: 14133
عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : صُنِعَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَاةً مَصْلِيَّةً فَأُتِيَ بِهَا فَقَالَ : " يَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ " فَنَاوَلْتُهُ . ثُمَّ قَالَ : " يَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ " فَنَاوَلْتُهُ . ثُمَّ قَالَ : " يَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ لِلشَّاةِ إِلَّا ذِرَاعَانِ ؟ فَقَالَ : " لَوْ سَكَتَّ لَنَاوَلْتَنِي مِنْهَا ذِرَاعًا مَا دَعَوْتُ بِهِ " . قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعْجِبُهُ الذِّرَاعُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھنی ہوئی بکری کا گوشت تیار کیا گیا ، وہ آپ کے پاس لایا گیا ، تو آپ نے فرمایا : اے ابورافع ! مجھے ایک دستی پکڑاؤ ، میں نے آپ کو پکڑا دی ، پھر آپ نے فرمایا : اے ابورافع ! مجھے ایک دستی پکڑاؤ ، میں نے آپ کو پکڑا دی ، پھر آپ نے فرمایا : ابورافع مجھے ایک دستی پکڑاؤ ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بکری میں دو ہی دستیاں ہوتی ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم خاموش رہتے ، تو تم اس میں سے اس وقت تک مجھے دستی پکڑاتے رہتے ، جب تک میں اسے منگواتا رہتا ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دستی کا گوشت پسند تھا ۔
حدیث نمبر: 14134
وَفِي رِوَايَةٍ : أُهْدِيَتْ لَهُ شَاةٌ فَجَعَلَهَا فِي الْقِدْرِ ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا هَذَا يَا أَبَا رَافِعٍ ؟ " . فَقُلْتُ : شَاةٌ أُهْدِيَتْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَطْبُخُهَا فِي الْقِدْرِ . قَالَ : " نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ مِنْ طُرُقٍ وَقَالَ فِي بَعْضِهَا : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أُصْلِيَ لَهُ شَاةً فَصَلَيْتُهَا . وَرَوَاهُ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : انہیں ( یعنی سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کو ) ایک بکری تحفے کے طور پر دی گئی ، انہوں نے اس کا گوشت ہنڈیا میں ڈالا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے ، آپ نے دریافت کیا : اے ابورافع ! یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ بکری کا گوشت ہے ، جو ہمیں تحفے کے طور پر دیا گیا ، ہم اسے ہنڈیا میں پکا رہے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے دستی پکڑاؤ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے مختلف طرق کے حوالے سے نقل کی ہے ، جس کے بعض طرق میں یہ الفاظ ہیں : کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے لئے بکری کا گوشت تیار کروں ، تو میں نے اسے تیار کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام أحمد کی دو اسناد میں سے ایک سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے مختلف طرق کے حوالے سے نقل کی ہے ، جس کے بعض طرق میں یہ الفاظ ہیں : کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے لئے بکری کا گوشت تیار کروں ، تو میں نے اسے تیار کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام أحمد کی دو اسناد میں سے ایک سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 14135
وَعَنْ سَلْمَى امْرَأَةِ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ إِلَى أَبِي رَافِعٍ بِشَاةٍ - وَذَلِكَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فِيمَا أَعْلَمُ - فَصَلَاهَا أَبُو رَافِعٍ وَجَعَلَهَا فِي مِكْتَلٍ ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِهَا فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَاجِعًا مِنَ الْخَنْدَقِ فَقَالَ : " يَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ " . فَنَاوَلْتُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ " . فَنَاوَلْتُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ " . فَنَاوَلْتُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ لِلشَّاةِ إِلَّا ذِرَاعَانِ ؟ فَقَالَ : " لَوْ سَكَتَّ لَنَاوَلْتَنِي مَا سَأَلْتُكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ سلمیٰ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کو ایک بکری بھجوائی ، میرے خیال میں یہ غزوہ خندق کے موقع کی بات ہے ، سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نے اسے پکایا ، پھر اسے ایک برتن میں رکھا ، پھر اسے لے کر روانہ ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان سے ملاقات ہو گئی ، آپ خندق سے واپس تشریف لا رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے دستی پکڑاؤ ! میں نے آپ کو پکڑائی ، پھر آپ نے فرمایا : اے ابورافع ! مجھے دسی پکڑاؤ ، میں نے آپ کو پکڑائی ، میں نے آپ کو پکڑائی ، پھر آپ نے فرمایا : اے ابورافع ! مجھے دستی پکڑاؤ ، میں نے آپ کو پکڑائی ، پھر آپ نے فرمایا : اے ابورافع ! مجھے دستی پکڑاؤ ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بکری میں صرف دو دستیاں ہوتی ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم خاموش رہتے ، تو جب تک میں تم سے منگواتا رہتا ، تم مجھے یہ پکڑاتے رہتے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14136
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهُ طَبَخَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قِدْرًا فِيهَا لَحْمٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَاوِلْنِي ذِرَاعَهَا " . فَنَاوَلْتُهُ ، فَقَالَ : " نَاوِلْنِي ذِرَاعَهَا " . فَنَاوَلْتُهُ ، فَقَالَ : " نَاوِلْنِي ذِرَاعَهَا " . فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ كَمْ لِلشَّاةِ مِنْ ذِرَاعٍ ؟ فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ سَكَتَّ لَأَعْطَيْتَ ذِرَاعًا مَا دَعَوْتُ بِهِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوعبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہنڈیا تیار کی ، جس میں گوشت پکا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے دستی پکڑاؤ ! میں نے آپ کو پکڑا دی ، آپ نے فرمایا : مجھے اس کی دستی پکڑاؤ ، میں نے آپ کو پکڑا دی ، آپ نے فرمایا : مجھے اس کی دستی پکڑاؤ ، انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! بکری کی کتنی دستیاں ہوتی ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اگر تم خاموش رہتے ، تو اس وقت تک تم دستی دیتے رہتے ، جب تک میں اسے طلب کرتا رہتا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف شہر بن حوشب کا معاملہ مختلف ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف شہر بن حوشب کا معاملہ مختلف ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 14137
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ فِي مَجْلِسِ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : حَدَّثَنِي فُلَانٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتِيَ بِطَعَامٍ خُبْزٍ وَلَحْمٍ فَقَالَ : " نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ " . فَنُووِلَ ذِرَاعًا فَأَكَلَهَا ، قَالَ يَحْيَى : لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ هَكَذَا ، ثُمَّ قَالَ : " نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ " . فَنُووِلَ ذِرَاعًا فَأَكَلَهَا ، ثُمَّ قَالَ : " نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا هُمَا ذِرَاعَانِ . فَقَالَ : " وَأَبِيكَ لَوْ سَكَتَّ مَا زِلْتُ أُنَاوَلُ مِنْهُ ذِرَاعًا مَا دَعَوْتُ بِهِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن ابواسحاق بیان کرتے ہیں : بنو غفار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے سالم بن عبداللہ کی محفل میں ، مجھے یہ بات بیان کی کہ فلاں صاحب نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے : ” ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھانے میں روٹی اور گوشت لایا گیا ، آپ نے فرمایا : مجھے دستی پکڑاؤ ، آپ کو دستی پکڑائی گئی ، آپ نے اسے کھا لیا ، یحیی کہتے ہیں : میرے علم کے مطابق انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے دستی پکڑاؤ ، پھر آپ کو دستی پکڑائی گئی ، آپ نے اسے کھا لیا ، پھر آپ نے فرمایا : مجھے دستی پکڑاؤ ، تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! صرف دو ہی دستیاں ہوتی ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے باپ کی قسم ! اگر تم خاموش رہتے ، تو اس میں سے اُس وقت تک دستی لیتے رہتے ، جب تک میں اسے طلب کرتا رہتا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔