کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: کھانے کے بارے میں ، نبی اکرم ﷺ کا معجزہ ، اور اس میں آپ کی برکت کا بیان
حدیث نمبر: 14109
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فِيهِمْ رَهْطٌ كُلُّهُمْ يَأْكُلُ الْجَذَعَةَ وَيَشْرَبُ الْفَرَقَ قَالَ : فَصَنَعَ لَهُمْ مُدًّا مِنْ طَعَامٍ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ، وَبَقِيَ الطَّعَامُ كَمَا هُوَ كَأَنَّهُ لَمْ يُمَسَّ ، ثُمَّ دَعَا بِغَمْرٍ فَشَرِبُوا حَتَّى شَبِعُوا ، وَبَقِيَ الشَّرَابُ كَأَنَّهُ لَمْ يُمَسَّ وَلَمْ يُشْرَبْ ، فَقَالَ : " يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، إِنِّي بُعِثْتُ إِلَيْكُمْ خَاصَّةً وَإِلَى النَّاسِ بِعَامَّةٍ ، وَقَدْ رَأَيْتُمْ مِنْ هَذِهِ الْآيَةِ مَا رَأَيْتُمْ ، فَأَيُّكُمْ يُبَايِعُنِي عَلَى أَنْ يَكُونَ أَخِي وَصَاحِبِي ؟ " . قَالَ : فَلَمْ يَقُمْ إِلَيْهِ أَحَدٌ . قَالَ : فَقُمْتُ إِلَيْهِ وَكُنْتُ أَصْغَرَ الْقَوْمِ . فَقَالَ : " اجْلِسْ " . ثَلَاثَ مَرَّاتٍ كُلُّ ذَلِكَ أَقْوَمُ إِلَيْهِ ، فَيَقُولُ لِيَ : " اجْلِسْ " حَتَّى إِذَا كَانَ فِي الثَّالِثَةِ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى يَدِي . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب ابوطالب کی اولاد کو جمع کیا ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں ) بلایا ، ان میں سے کچھ ایسے لوگ تھے ، جو بکری کا پورا بچہ کھا جاتے تھے ، اور ایک بڑا ڈول پانی کا پی جاتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے ایک مد اناج کے ذریعے کھانا پکایا ، انہوں نے وہ کھا لیا ، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے ، پھر بھی کھانا اسی طرح رہ گیا تھا ، جس طرح پہلے تھا ، یوں جیسے اسے ہاتھ ہی نہ لگا ہو ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پانی کا ) چھوٹا پیالہ منگوایا ، ان لوگوں نے اسے پیا ، یہاں تک کہ وہ سیراب ہو گئے اور مشروب پھر بھی اس طرح بچ گیا ، جیسے اسے ہاتھ بھی نہ لگایا گیا ہو ، یا اسے پیا بھی نہ گیا ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اولاد عبدالمطلب ! مجھے خصوصی طور پر تمہاری طرف اور عمومی طور پر لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے ، تم نے یہ نشانی ( یعنی معجزہ ) دیکھ لیا ہے ، جو دیکھا ہے ، تو تم میں سے کون میری اس بات پر بیعت کرے گا ؟ کہ وہ میرا بھائی اور میرا ساتھی بنے گا ؟ راوی کہتے ہیں : تو کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا نہیں ہوا ، میں آپ کے سامنے کھڑا ہوا ، حالانکہ میں اُن سب میں کمسن تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! ایسا تین مرتبہ ہوا ، ہر مرتبہ میں ہی کھڑا ہوتا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے فرماتے تھے : تم بیٹھ جاؤ ! یہاں تک کہ جب تیسری مرتبہ ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھ دیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14109
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1371)»
حدیث نمبر: 14110
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : ( وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ ) قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عَلِيُّ ، اصْنَعْ رِجْلَ شَاةٍ بِصَاعٍ مِنْ طَعَامٍ ، وَاجْمَعْ لِي بَنِي هَاشِمٍ " . وَهُمْ يَوْمَئِذٍ أَرْبَعُونَ رَجُلًا أَوْ أَرْبَعُونَ غَيْرَ رَجُلٍ . قَالَ : فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالطَّعَامِ فَوَضَعَهُ بَيْنَهُمْ ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ، وَإِنَّ مِنْهُمْ لَمَنْ يَأْكُلُ الْجَذَعَةَ بِإِدَامِهَا ، ثُمَّ تَنَاوَلَ الْقَدَحَ فَشَرِبُوا مِنْهُ حَتَّى رَوَوْا - يَعْنِي مِنَ اللَّبَنِ - فَقَالَ بَعْضُهُمْ : مَا رَأَيْنَا كَالسِّحْرِ ، يَرَوْنَ أَنَّهُ أَبُو لَهَبٍ الَّذِي قَالَهُ . فَقَالَ : " يَا عَلِيُّ اصْنَعْ ، رِجْلَ شَاةٍ بِصَاعٍ مِنْ طَعَامٍ وَأَعْدِدْ قَعْبًا مِنْ لَبَنٍ " . قَالَ : فَفَعَلْتُ ، فَأَكَلُوا كَمَا أَكَلُوا فِي الْيَوْمِ الْأَوَّلِ ، وَشَرِبُوا كَمَا شَرِبُوا فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى ، وَفَضَلَ كَمَا فَضَلَ فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى ، فَقَالَ : مَا رَأَيْنَا كَالْيَوْمِ فِي السِّحْرِ . فَقَالَ : " يَا عَلِيُّ اصْنَعْ رِجْلَ شَاةٍ بِصَاعٍ مِنْ طَعَامٍ وَأَعْدِدْ قَعْبًا مِنْ لَبَنٍ " . فَفَعَلْتُ . فَقَالَ : " يَا عَلِيُّ اجْمَعْ لِي بَنِي هَاشِمٍ " . فَجَمَعْتُهُمْ فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا فَبَدَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَيُّكُمْ يَقْضِي عَنِّي دَيْنِي ؟ " . قَالَ : فَسَكَتَ ، وَسَكَتَ الْقَوْمُ ، فَأَعَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَنْطِقَ فَقُلْتُ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ : " أَنْتَ يَا عَلِيُّ ، أَنْتَ يَا عَلِيُّ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ أَيْضًا ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَرِيكٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ” اور تم اپنے قریبی رشتے داروں کو ڈراؤ ! “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے علی ! ایک صاع اناج کے ذریعے بکری کی ٹانگ پکاؤ ، اور بنو ہاشم کو میرے لئے اکٹھا کر دو ، جن کی تعداد اس وقت چالیس تھی ، یا چالیس سے ایک آدھ فرد کم تھا ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا منگوایا اور وہ ان کے سامنے رکھا ، انہوں نے اسے کھایا اور وہ سیر ہو گئے ، حالانکہ ان میں ایسا فرد بھی تھا ، جو سالن سمیت پورا جذعہ کھا جاتا تھا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ آگے کیا ، انہوں نے اس میں سے پی لیا ، یہاں تک کہ وہ سیراب ہو گئے ، راوی کہتے ہیں : یعنی دودھ پی کر سیراب ہو گئے ، ان میں سے بعض نے کہا: ہم نے اس طرح کا جادو کبھی نہیں دیکھا ، راویوں کا خیال ہے : یہ بات ابولہب نے کہی تھی ، ( اگلے دن ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے علی ! ایک صاع اناج کے ہمراہ بکری کی ٹانگ پکڑاؤ ، اور دودھ کا پیالہ پکڑاؤ ، راوی کہتے ہیں : ان لوگوں نے کھانا کھا لیا ، جس طرح پہلے دن کھایا تھا ، اور اسی طرح پی لیا ، جس طرح پہلی مرتبہ پیا تھا اور پھر بھی وہ کھانا اسی طرح بچ گیا ، جس طرح پہلی مرتبہ بچا تھا ، تو انہوں نے یہی کہا: کہ ہم نے آج کی طرح کا جادو نہیں دیکھا ( پھر ایک دن ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے علی ! اناج کے ایک صاع کے ہمراہ بکری کی ایک ٹانگ پکڑاؤ ، اور دودھ کا برتن تیار کرو ، تو میں نے ایسا ہی کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے علی ! بنو ہاشم کو میرے لئے اکٹھا کرو ، میں نے انہیں اکٹھا کیا ، انہوں نے کھایا اور پیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور آپ نے فرمایا : ” تم میں سے کون میری طرف سے میرا قرض ادا کرے گا ؟ راوی کہتے ہیں : تو میں خاموش رہا ، لوگ بھی خاموش رہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات دہرائی ، تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کروں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے علی ! تم کرو گے ، اے علی ! تم کرو گے ، اے علی ! تم کرو گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، امام أحمد نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، امام أحمد کے رجال اور بزار کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف شریک کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14110
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (2418 و 2417) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1992) أخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (2111/1)»
حدیث نمبر: 14111
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ : صَنَعْتُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبِي بَكْرٍ طَعَامًا قَدْرَ مَا يَكْفِيهِمَا ، فَأَتَيْتُهُمَا بِهِ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اذْهَبْ فَادْعُ لِي ثَلَاثِينَ مِنْ أَشْرَافِ الْأَنْصَارِ " . فَشَقَّ عَلَيَّ ذَلِكَ وَقُلْتُ : مَا عِنْدِي شَيْءٌ أَزِيدُهُ . فَكَأَنِّي تَغَفَّلْتُ فَقَالَ : " اذْهَبْ فَائْتِنِي بِثَلَاثِينَ مِنْ أَشْرَافِ الْأَنْصَارِ " . فَدَعَوْتُهُمْ فَجَاءُوا فَقَالَ : " اطْعَمُوا " . فَأَكَلُوا حَتَّى صَدَرُوا ، ثُمَّ شَهِدُوا أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ ، ثُمَّ بَايَعُوهُ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجُوا . ثُمَّ قَالَ : " اذْهَبْ فَادْعُ لِي سِتِّينَ مِنْ أَشْرَافِ الْأَنْصَارِ " . قَالَ أَبُو أَيُّوبَ : وَاللَّهِ لَأَنَا بِالسِّتِّينَ أَجْوَدُ مِنِّي بِالثَّلَاثِينَ . قَالَ : فَدَعَوْتُهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَوَقَّفُوا " . فَأَكَلُوا حَتَّى صَدَرُوا ثُمَّ شَهِدُوا أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ بَايَعُوهُ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجُوا . ثُمَّ قَالَ : " اذْهَبْ فَادْعُ لِي تِسْعِينَ مِنَ الْأَنْصَارِ " . فَلَأَنَا أَجْوَدُ بِالتِّسْعِينَ وَالسِّتِّينَ مِنِّي بِالثَّلَاثِينَ . قَالَ : فَدَعَوْتُهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى صَدَرُوا ثُمَّ شَهِدُوا أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ بَايَعُوهُ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجُوا . فَأَكَلَ مِنْ طَعَامِي ذَلِكَ مِائَةٌ وَثَمَانُونَ رَجُلًا كُلُّهُمْ مِنَ الْأَنْصَارِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لئے اتنا کھانا تیار کیا ، جو ان دونوں کو کافی ہو جاتا ، میں ان دونوں حضرات کے پاس اُسے لے کر آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : تم جاؤ اور انصار کے معززین کو میرے پاس لے کر آؤ ! مجھ پر یہ بات گراں گزری ، میں نے عرض کی : میرے پاس اس سے زیادہ اور کچھ نہیں ہے ، میں نے اس بارے میں عدم توجہ کا اظہار کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جاؤ ! اور میرے پاس انصار کے معززین میں سے تیس افراد کو لے کر آؤ ، میں ان حضرات کو بلا کے لایا ، وہ آ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ کھانا کھاؤ ! ان لوگوں نے کھانا کھا لیا ، یہاں تک کہ وہ چلے گئے ، انہوں نے اس بات کی گواہی دی کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، پھر انہوں نے جانے سے پہلے آپ کی بیعت کی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جاؤ اور انصار کے معززین میں سے میرے پاس ساٹھ افراد کو بلا کے لاؤ ! سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! تیس کے مقابلے میں ساٹھ کو بلانا میرے لئے اور مشکل تھا ، بہرحال میں انہیں بلا کے لے آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ ٹھہر جاؤ ! پھر ان لوگوں نے کھانا کھایا ، یہاں تک کہ جب وہ واپس جانے لگے ، تو انہوں نے اس بات کی گواہی دی کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، انہوں نے جانے سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت بھی کی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جاؤ اور میرے پاس نوے انصار کو بلا کے لاؤ ! راوی کہتے ہیں : تیس کے مقابلے میں نوے اور ساٹھ کو بلانا میرے لئے زیادہ مشکل تھا ، میں نے انہیں بلایا ، انہوں نے کھانا کھایا ، یہاں تک کہ وہ فارغ ہو گئے ، پھر انہوں نے اس بات کی گواہی دی کہ آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، پھر انہوں نے جانے سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی ۔ راوی کہتے ہیں : تو ایک سو اسّی افراد نے میرا کھانا کھایا ، اُن سب کا تعلق انصار سے تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14111
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (4090)»
حدیث نمبر: 14112
وَعَنْ أَبِي حُبَيْشٍ الْغِفَارِيِّ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ تِهَامَةَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِفُسْطَاطٍ جَاءَهُ الصَّحَابَةُ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جَهَدَنَا الْجُوعُ فَائْذَنْ لَنَا فِي الظَّهْرِ نَأْكُلُهُ . قَالَ : " نَعَمْ " . فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَاذَا صَنَعْتَ ؟ أَمَرْتَ النَّاسَ أَنْ يَنْحَرُوا الظَّهْرَ فَعَلَى مَا يَرْكَبُونَ ؟ قَالَ : " فَمَا تَرَى يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ؟ " . قَالَ : أَرَى أَنْ تَأْمُرَهُمْ أَنْ يَأْتُوا بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ فَتَجْمَعَهُ فِي تَوْرٍ ، ثُمَّ تَدْعُو اللَّهَ لَهُمْ . فَأَمَرَهُمْ ، فَجَعَلُوا فَضْلَ أَزْوَادِهِمْ فِي ثَوْبٍ ثُمَّ دَعَا لَهُمْ . ثُمَّ قَالَ : " ائْتُوا بِأَوْعِيَتِكُمْ " . فَمَلَأَ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ وِعَاءَهُ . ثُمَّ أَمَرَ بِالرَّحِيلِ ، فَلَمَّا جَاوَزَ وَانْتَظَرُوا فَنَزَلُوا ، فَنَزَلَ وَنَزَلُوا مَعَهُ ، فَشَرِبَ مِنْ مَاءِ السَّمَاءِ ، فَجَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ فَجَلَسَ اثْنَانِ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَذَهَبَ الْآخَرُ مُعْرِضًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنِ النَّفَرِ الثَّلَاثَةِ ؟ أَمَّا وَاحِدٌ فَاسْتَحْيَا مِنَ اللَّهِ فَاسْتَحْيَا اللَّهُ مِنْهُ ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَأَقْبَلَ تَائِبًا فَتَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَأَعْرَضَ فَأَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَزَادَ فَقَالَ : " مَا تَرَى يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ؟ " . قَالَ : أَرَى أَنْ تَأْمُرَهُمْ وَأَنْتَ أَفْضَلُ رَأْيًا . وَزَادَ أَيْضًا : وَنَزَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَزَلُوا مَعَهُ ، وَشَرِبُوا مِنَ الْمَاءِ هُمْ وَالْكُرَاعُ ، ثُمَّ خَطَبَهُمْ فِي ثَلَاثَةِ نَفَرٍ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوحبیش غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ غزوہ تہامہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، یہاں تک کہ جب ہم لوگ عسفان کے مقام پر پہنچے ، تو صحابہ کرام آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمیں بھوک کے حوالے سے پریشانی کا سامنا ہے ، آپ ہمیں سواریوں کے بارے میں اجازت دیجئے کہ ہم انہیں ( ذبح کر کے ، ان کا گوشت ) کھا لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے ، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں پتہ چلا ، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! یہ آپ کیا کر رہے ہیں ؟ آپ نے لوگوں کو یہ اجازت دے دی ہے کہ وہ سواریاں ذبح کر لیں ؟ تو پھر وہ سواری کس پر کریں گے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابن خطاب ! پھر تمہاری کیا رائے ہے ؟ انہوں نے عرض کی : میرا یہ خیال ہے کہ آپ لوگوں کو یہ ہدایت کریں کہ اُن کے پاس زاد سفر میں سے جو کچھ بچا ہوا ہے ، وہ لے آئیں ، پھر آپ اسے ایک کپڑے میں جمع کر کے اللہ تعالیٰ سے اس کے لئے دعا کریں ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا ، انہوں نے بچا ہوا زاد سفر ایک کپڑے میں ڈالا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے دعا کی ، پھر آپ نے فرمایا : اپنے برتن لے آؤ ! تو ان میں سے ہر ایک فرد نے اپنا برتن بھر لیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روانگی کا حکم دیا ، جب وہ لوگ آگے گئے ، تو بارش شروع ہو گئی ، ان لوگوں نے پڑاؤ کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا ، آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی پڑاؤ کیا ، لوگوں نے آسمان سے نازل ہونے والا پانی پیا ، پھر تین افراد آئے ، دو افراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھ گئے ، اور تیسرا فرد منہ پھیر کے چلا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں تمہیں ان تین افراد کے بارے میں بتاؤں ؟ ان میں سے ایک شخص نے اللہ تعالیٰ سے حیاء کی ، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی حیاء کو قبول کیا ، ان میں سے دوسرا شخص توبہ کرنے والے کے طور پر آیا ، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی توبہ کو قبول کیا ، اور تیسرا شخص ، اُس نے منہ پھیر لیا ، تو اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے اعراض کیا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” اے ابن خطاب ! تمہاری کیا رائے ہے ؟ انہوں نے عرض کی : میرا یہ خیال ہے کہ آپ لوگوں کو یہ ہدایت کر دیں ، ویسے آپ کی رائے بہتر ہے ۔ “ اور اس روایت میں انہوں نے یہ الفاظ بھی زائد نقل کیے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا اور آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی پڑاؤ کیا اور لوگوں نے پانی پیا ، جبکہ وہ تھیلی میں پانی لینے والے تھے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خطبہ دیتے ہوئے تین افراد کا ذکر کیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری روایت ذکر کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14112
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2419)»
حدیث نمبر: 14113
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزَاةٍ فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الْعَدُوَّ قَدْ حَضَرَ وَهُمْ شِبَاعٌ وَالنَّاسُ جِيَاعٌ ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ : أَلَا نَنْحَرُ نَوَاضِحَنَا فَنُطْعِمُهَا النَّاسَ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلُ طَعَامٍ فَلْيَجِئْ بِهِ " . فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالْمُدِّ وَالصَّاعِ وَأَكْثَرَ وَأَقَلَّ ، فَكَانَ جَمِيعُ مَا فِي الْجَيْشِ بِضْعَةً وَعِشْرِينَ صَاعًا ، فَجَلَسَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى جَنْبِهِ وَدَعَا بِالْبَرَكَةِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خُذُوا وَلَا تَنْتَهِبُوا " . فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَأْخُذُ فِي جِرَابِهِ وَفِي غِرَارَتِهِ ، وَأَخَذُوا فِي أَوْعِيَتِهِمْ ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَرْبُطُ كُمَّ قَمِيصِهِ فَيَمْلَأَهُ ، فَفَرَغُوا وَالطَّعَامُ كَمَا هُوَ ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، لَا يَأْتِي بِهَا عَبْدٌ مُحِقٌّ إِلَّا وَقَاهُ اللَّهُ حَرَّ النَّارِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَبِي عَمْرَةَ فِي الْإِيمَانِ فِي أَوَّلِ بَابٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنگ میں حصہ لے رہے تھے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! دشمن قریب آ چکا ہے ، وہ لوگ سیر ہوں گے اور ہم لوگ بھوکے ہوں گے ، انصار نے کہا: کیا ہم اپنی اونٹنیوں کو ذبح نہ کر لیں ؟ اس طرح ہم لوگوں کو کھانا کھلا دیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص کے پاس اضافی کھانا موجود ہو ، وہ اسے لے آئے ، تو کوئی شخص ایک مد لے آیا ، کوئی ایک صاع لے آیا ، کوئی اس سے زیادہ ، یا اس سے کم لے کے آیا ، لشکر میں جو کچھ بھی تھا ، وہ سارا ملا کے بیس صاع سے کچھ زیادہ بنا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ایک طرف بیٹھ گئے ، آپ نے برکت کی دعا کی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ لینا شروع کرو ! لیکن لوٹ مار نہ کرنا ، تو کوئی شخص اپنے تھیلے میں بھر لیتا تھا ، کوئی شخص برتن میں بھر لیتا تھا ، یہاں تک کہ ان لوگوں نے وہ سامان اپنے برتنوں میں ڈال لیا ، یہاں تک کہ ایک شخص نے اپنی قمیص کی آستین کو باندھا اور اسے بھر لیا ، جب وہ لوگ یہ لے کر فارغ ہوئے ، تو وہ کھانا اُسی طرح تھا ، جیسے پہلے تھا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں ہے ، جو بھی بندہ اس کلمے کے ہمراہ آئے گا ، جبکہ وہ اس پر حقیقی طور پر ایمان رکھتا ہو ، تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی گرمی سے بچا لے گا“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ عمری ہے ، جسے عجلی نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے کتاب الایمان میں ، پہلے باب میں ، سیدنا ابوعمرہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث گزر چکی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14113
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (230)»
حدیث نمبر: 14114
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ قَالَ : قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَرْبَعِمِائَةٍ مِنْ مُزَيْنَةَ ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأَمْرِهِ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لَنَا طَعَامٌ نَتَزَوَّدُهُ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعُمَرَ : " زَوِّدْهُمْ " . فَقَالَ : مَا عِنْدِي إِلَّا فَاضِلَةً مِنْ تَمْرٍ ، وَمَا أَرَاهُ يُغْنِي عَنْهُمْ شَيْئًا . قَالَ : " انْطَلِقْ فَزَوِّدْهُمْ " . فَانْطَلَقَ بِنَا إِلَى عِلِّيَّةٍ ، فَإِذَا فِيهَا تَمْرٌ مِثْلَ الْبَكْرِ الْأَوْرَقِ . فَقَالَ : خُذُوا ، فَأَخَذَ الْقَوْمُ حَاجَتَهُمْ ، قَالَ : وَكُنْتُ مِنْ آخِرِ الْقَوْمِ ، قَالَ : فَالْتَفَتُّ وَمَا أَفْقِدُ مَوْضِعَ تَمْرَةٍ ، وَقَدِ احْتَمَلَ مِنْهُ أَرْبَعُمِائَةَ رَجُلٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ مزینہ قبیلے کے چار سو افراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے بارے میں ہدایت کی ، تو حاضرین میں سے کسی نے کہا: یا رسول اللہ ! ہمارے پاس اتنا اناج نہیں ہے کہ ہم انہیں زاد راہ کے طور پر دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم انہیں زادراہ کے لئے دو ! انہوں نے عرض کی : میرے پاس تو صرف بچی ہوئی کھجوریں ہیں ، اور میرے خیال میں وہ ان کے کام نہیں آ سکیں گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جاؤ اور انہیں دو ! تو وہ ہمیں ساتھ لے کر ایک بالاخانہ کی طرف گئے ، وہاں اتنی کھجوریں تھیں ، جتنا جوان خاکستری اونٹ ہوتا ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم لوگ لے لو ! تو تمام لوگوں نے اپنی اپنی ضرورت کے مطابق لینا شروع کیا ، میں لینے والوں میں آخری فرد تھا ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے غور کیا تو مجھے کھجوروں کی جگہ پر کوئی چیز کم محسوس نہیں ہوئی ، حالانکہ وہاں سے چار سو افراد نے کھجوریں لی تھیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14114
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 14115
وَعَنْ دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْخَثْعَمِيِّ قَالَ : أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ وَأَرْبَعُمِائَةٍ نَسْأَلُهُ الطَّعَامَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعُمَرَ : " قُمْ فَأَعْطِهِمْ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا عِنْدِي إِلَّا مَا يَقِيظُنِي وَالصِّبْيَةَ - قَالَ وَكِيعٌ : الْقَيْظُ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ - قَالَ : " قُمْ فَأَعْطِهِمْ " . قَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَمْعًا وَطَاعَةً . قَالَ : فَقَامَ عُمَرُ وَقُمْنَا مَعَهُ فَصَعِدَ بِنَا إِلَى غُرْفَةٍ لَهُ ، فَأَخْرَجَ الْمِفْتَاحَ مِنْ حُجْرَتِهِ فَفَتَحَ الْبَابَ . قَالَ دُكَيْنٌ : فَإِذَا فِي الْغُرْفَةِ مِنَ التَّمْرِ شَبِيهٌ بِالْفَصِيلِ الرَّابِضِ . قَالَ : شَأْنُكُمْ . قَالَ : فَأَخَذَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا حَاجَتَهُ مَا شَاءَ . قَالَ : فَالْتَفَتُّ وَإِنِّي لَمِنْ آخِرِهِمْ فَكَأَنَّا لَمْ نُرْزَأْ مِنْهُ تَمْرَةً . قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ طَرَفًا . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا دکین بن سعید خثعمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ہم چار سو چالیس افراد تھے ، ہم نے آپ سے اناج مانگا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم اُٹھو اور انہیں ادائیگی کرو ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ میرے پاس صرف اتنی کھجوریں ہیں ، جو میرے لئے اور بچوں کے لئے کچھ عرصے کے لئے کافی ہوں گی ، وکیع نامی راوی کہتے ہیں : عربوں کے محاور ے میں لفظ ” قیظ “ کا مطلب چار ماہ ہوتا ہے ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اُٹھو اور انہیں ادائیگی کرو ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ کا حکم مانتا ہوں ، راوی کہتے ہیں : پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اٹھے ، ان کے ساتھ ہم بھی اُٹھے ، وہ ہمیں لے کر اپنے بالاخانے پر چڑھ گئے ، انہوں نے اپنے پہلو میں سے چابی نکالی اور دروازہ کھول دیا ، سیدنا دکین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اس کمرے میں اتنی کھجوریں ہوں گی ، جو کم عمر اونٹ کی مانند ہوں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ لے لو ! راوی کہتے ہیں : ہم میں سے ہر ایک شخص نے اپنی حاجت کے مطابق جتنی چاہیں اتنی کھجوریں لے لیں ، راوی کہتے ہیں : جب میں نے توجہ کی ، تو میں ان لوگوں میں لینے والے آخری افراد میں سے تھا ، اور گویا ہم نے ان کھجوروں میں کوئی کمی نہیں کی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14115
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4207) أخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (174/4)»
حدیث نمبر: 14116
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ : كُنْتُ فِي أَهْلِ الصُّفَّةِ فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا بِقُرْصٍ فَكَسَرَهُ فِي الصُّفَّةِ ، وَصَنَعَ فِيهَا مَاءً سُخْنًا ، ثُمَّ صَنَعَ فِيهَا وَدَكًا ثُمَّ سَفْسَفَهَا ، ثُمَّ لَبَّقَهَا ثُمَّ صَنَعَهَا ثُمَّ قَالَ : " اذْهَبْ فَائْتِنِي بِعَشَرَةٍ أَنْتَ عَاشِرُهُمْ " . فَجِئْتُ بِهِمْ فَقَالَ : " كُلُوا وَكُلُوا مِنْ أَسْفَلِهَا وَلَا تَأْكُلُوا مِنْ أَعْلَاهَا ; فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ فِي أَعْلَاهَا " . فَأَكَلُوا مِنْهَا حَتَّى شَبِعُوا . قُلْتُ : عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ طَرَفٌ مِنْ آخِرِهِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اہل صفہ میں شامل تھا ، ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روٹی منگوائی ، آپ نے اسے پیالے میں توڑا ، آپ نے اس میں گرم پانی ڈالا ، پھر آپ نے اس میں چربی تیار کی ، پھر آپ نے اسے کوٹنا شروع کیا ، اور پھر آپ نے اس کا ثرید تیار کر دیا ، اور اسے زمین سے بلند کر دیا ، پھر آپ نے فرمایا : تم جاؤ اور میرے پاس دس افراد کو لے کے آؤ ، تم ان میں سے دسویں فرد ہو ، میں ان کو لے کے آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ کھاؤ اور تم اس کے نیچے والے حصے سے کھانا ، تم اس کے اوپر والے حصے سے نہ کھانا ، کیونکہ برکت اس کے اوپر والے حصے میں نازل ہو گی ، تو ان لوگوں نے اس میں سے کھا لیا ، یہاں تک کہ وہ لوگ سیر ہو گئے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس کا آخری حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14116
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (4901/4)»
حدیث نمبر: 14117
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ أَيْضًا قَالَ : كُنْتُ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ ، فَشَكَا أَصْحَابِي الْجُوعَ فَقَالُوا : يَا وَاثِلَةَ ، اذْهَبْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَطْعِمْ لَنَا . فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَصْحَابِي شَكَوُا الْجُوعَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَائِشَةَ : " هَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَيْءٍ ؟ " . قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا عِنْدِي إِلَّا فُتَاتُ خُبْزٍ . قَالَ : " فَأْتِنِي بِهِ " . فَجَاءَتْ بِجِرَابٍ ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِصَحْفَةٍ فَأَفْرَغَ الْخُبْزَ فِي الصَّحْفَةِ ، ثُمَّ جَعَلَ يُصْلِحُ الثَّرِيدَ بِيَدِهِ ، وَهُوَ يَرْبُو حَتَّى امْتَلَأَتِ الصَّحْفَةُ ، فَقَالَ : " يَا وَاثِلَةُ ، اذْهَبْ فَجِئْ بِعَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِي وَأَنْتَ عَاشِرُهُمْ " . فَذَهَبْتُ فَجِئْتُ بِعَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِي وَأَنَا عَاشِرُهُمْ ، فَقَالَ : " اجْلِسُوا وَخُذُوا بِاسْمِ اللَّهِ ، خُذُوا مِنْ حَوَالَيْهَا وَلَا تَأْخُذُوا مِنْ أَعْلَاهَا ; فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ مِنْ أَعْلَاهَا " . فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ، ثُمَّ قَامُوا وَفِي الصَّحْفَةِ مِثْلَ مَا كَانَ فِيهَا ، ثُمَّ جَعَلَ يُصْلِحُهَا بِيَدِهِ ، وَهِيَ تَرْبُو حَتَّى امْتَلَأَتْ . قَالَ : " يَا وَاثِلَةُ ، اذْهَبْ فَجِئْ بِعَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِكَ " . فَجِئْتُ بِعَشَرَةٍ فَقَالَ : " اجْلِسُوا " فَجَلَسُوا ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ قَامُوا فَقَالَ : " اذْهَبْ فَجِئْ بِعَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِكَ " . فَذَهَبْتُ فَجِئْتُ بِعَشَرَةٍ فَفَعَلُوا مِثْلَ ذَلِكَ . قَالَ : " هَلْ بَقِيَ مِنْ أَحَدٍ ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ عَشْرٌ . قَالَ : " اذْهَبْ فَجِئْ بِهِمْ " . فَذَهَبْتُ فَجِئْتُ بِهِمْ فَقَالَ : " اجْلِسُوا " . فَجَلَسُوا ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ قَامُوا ، وَبَقِيَ فِي الصَّحْفَةِ مِثْلُ مَا كَانَ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا وَاثِلَةُ اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى عَائِشَةَ " . - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا .
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اصحاب صفہ میں سے ایک تھا ، میرے ساتھیوں نے بھوک کی شکایت کی ، انہوں نے کہا: اے واثلہ ! تم اللہ کے رسول کے پاس جاؤ اور ہمارے لئے کھانے کے لئے کچھ لے کے آؤ ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ساتھیوں نے بھوک کی شکایت کی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے پاس صرف روٹی کے چند ٹکڑے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے پاس وہی لے آؤ ، وہ ایک تھیلا لے کر آئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ منگوایا ، آپ نے روٹیاں پیالے میں ڈالیں ، پھر آپ اپنے دست مبارک کے ذریعے ثرید بنانے لگے ، وہ کھانا بڑھنا شروع ہوا ، یہاں تک کہ وہ پیالہ بھر گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے واثلہ ! تم جاؤ اور میرے اصحاب میں سے دس افراد کو لے آؤ ، تم ان میں سے دسویں فرد ہو ، میں گیا اور میں اپنے ساتھیوں میں سے دس افراد کو لے آیا ، جن کے ساتھ میں دسواں فرد تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ بیٹھو اور تم لوگ اللہ کا نام لے کر کھانا شروع کرو ، اور تم اس کے اطراف سے کھانا اور اس کے اوپر والے حصے کی طرف سے نہ کھانا ، کیونکہ برکت اس کے اوپر والے حصے کی طرف نازل ہوتی ہے ، تو ان لوگوں نے کھانا شروع کیا ، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے ، اور پھر وہ اٹھ گئے ، جبکہ پیالے میں اتنا کھانا موجود تھا جتنا پہلے موجود تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پھر اپنے دست مبارک کے ذریعے اسے ٹھیک کرنے لگے ، یہاں تک کہ وہ بڑھنا شروع ہوا ، یہاں تک کہ وہ پیالہ بھر گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے واثلہ ! تم جاؤ اور اپنے ساتھیوں میں سے دس افراد کو لے آؤ ، تو میں دس افراد کو لے آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ بیٹھو ، وہ لوگ بیٹھے ، ان لوگوں نے کھانا کھایا ، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے اور کھڑے ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جاؤ اور اپنے ساتھیوں میں سے دس افراد کو میرے پاس لے آؤ ، میں پھر گیا ، میں دس افراد کو لے آیا ، انہوں نے بھی ایسا ہی کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا کوئی باقی رہ گیا ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ، دس افراد رہ گئے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جاؤ اور انہیں لے آؤ ، میں گیا اور انہیں لے آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ بیٹھو ، وہ لوگ بیٹھ گئے ، انہوں نے کھانا شروع کیا ، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے پھر وہ اٹھ کھڑے ہوئے ، تو پیالے میں اتنا ہی کھانا موجود تھا ، جتنا پہلے تھا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اے واثلہ ! اسے عائشہ کے پاس لے جاؤ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14117
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (86/22)»
حدیث نمبر: 14118
وَفِي رِوَايَةٍ : كُنْتُ فِي الصُّفَّةِ وَهُمْ عِشْرُونَ رَجُلًا . فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : قَالُوا : هَا هُنَا كِسْرَةٌ وَشَيْءٌ مِنْ لَبَنٍ . رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں صفہ میں تھا وہ لوگ بیس افراد تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت نقل کی ہے تاہم اس میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ گھر والوں نے بتایا کہ یہاں روٹی کا ٹکڑا ہے ، اور تھوڑا سا دودھ ہے ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14118
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (90/22)»
حدیث نمبر: 14119
وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ : دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْجُوعَ ، فَخَرَجْتُ حَتَّى أَتَيْتُ أُمَّ سُلَيْمٍ - وَهِيَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - كَانَتْ تَحْتَ مَالِكِ بْنِ أَبِي أَنَسٍ فَقُلْتُ : يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ، إِنِّي عَرَفْتُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْجُوعَ ، فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَيْءٍ ؟ فَقَالَتْ : عِنْدِي شَيْءٌ ، وَأَشَارَتْ بِكَفِّهَا . فَقُلْتُ لَهَا : اصْنَعِي وَانْعَمِي . فَأَرْسَلْتُ أَنَسًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : سَارِّهِ فِي أُذُنِهِ وَادْعُهُ . فَلَمَّا أَقْبَلَ أَنَسٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَرْسَلَكَ أَبُوكَ يَدْعُونَا يَا بُنَيَّ ؟ " . قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَصْحَابِهِ : " اذْهَبُوا بِاسْمِ اللَّهِ " . قَالَ : فَأَدْبَرَ أَنَسٌ يَشْتَدُّ حَتَّى أَتَى أَبَا طَلْحَةَ فَقَالَ : هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَتَاكَ فِي النَّاسِ . قَالَ : فَخَرَجْتُ حَتَّى لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ الْبَابِ عَلَى مُسْتَرَاحِ الدَّرَجَةِ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَاذَا صَنَعْتَ بِنَا ؟ إِنَّمَا عَرَفْتُ فِي وَجْهِكَ الْجُوعَ فَصَنَعْنَا لَكَ شَيْئًا تَأْكُلُهُ . قَالَ : " ادْخُلْ وَأَبْشِرْ " . قَالَ : فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَمَعَهَا فِي الصَّحْفَةِ بِيَدِهِ ، ثُمَّ أَصْلَحَهَا فَقَالَ : " هَلْ مِنْ ؟ " . كَأَنَّهُ يَعْنِي الْأُدْمَ ، قَالَ : فَأَتَوْهُ بِعُكَّتِهِمْ فِيهَا شَيْءٌ ، أَوْ لَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ . فَقَالَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِهِ ، فَأَسْكَبَ مِنْهَا السَّمْنَ ثُمَّ قَالَ : " أَدْخِلْ عَلَيَّ عَشَرَةً عَشَرَةً " . فَأَكَلُوا كُلُّهُمْ فَشَبِعُوا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْفَضْلِ الَّذِي فَضَلَ : " كُلُوا أَنْتُمْ وَعِيَالُكُمْ " . فَأَكَلُوا وَشَبِعُوا . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ وَزَادَ : وَهُمْ زُهَاءُ مِائَةٍ . وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں مسجد میں داخل ہوا ، مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر بھوک کے آثار نظر آئے ، تو میں سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس آیا ، راوی کہتے ہیں : وہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں ، یہ پہلے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے والد مالک کی اہلیہ تھیں ( پھر انہوں نے سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے شادی کر لی تھی ) میں نے کہا: اے ام سلیم مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر بھوک کے آثار کا اندازہ ہوا ہے ، کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ، انہوں نے کہا: میرے پاس تھوڑی سی چیز ہے ، انہوں نے اپنی ہتھیلی کے ذریعے اشارہ کر کے کہا: ، تو میں نے ان سے کہا: تم اسے ہی تیار کرو اور اچھی طرح تیار کرنا ، پھر میں نے انس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ، میں نے کہا: تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کان میں سرگوشی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دے دو ، جب سیدنا انس رضی اللہ عنہ آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ شخص کوئی بھلائی لے کے آیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے ہمارے بیٹے ! کیا تمہارے باپ نے تمہیں بھیجا ہے ، اور اس نے ہماری دعوت کی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ اللہ کا نام لے کر چل پڑو ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ جلدی سے چلتے ہوئے سیدنا ابوطلہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگوں سمیت آپ کے پاس آ رہے ہیں ، راوی کہتے ہیں : میری ملاقات دروازے کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ آپ نے ہمارے ساتھ کیا کیا ہے ، مجھے تو آپ کے چہرے پر بھوک کے آثار محسوس ہوئے تھے ، تو ہم نے تو آپ کے لئے کھانا تیار کیا تھا ، تاکہ آپ کچھ کھا لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اندر چلو اور خوشخبری حاصل کرو ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا لیا ، آپ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اسے ایک پیالے میں ڈالا ، پھر آپ اسے ٹھیک کرنے لگے ، پھر آپ نے دریافت کیا : کیا کچھ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد سالن تھی ، تو وہ لوگ اپنی کپی لے آئے ، جس میں تھوڑی سی چیز موجود تھی ، یا شاید کچھ بھی نہیں تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اس میں سے گھی نچوڑا ، پھر آپ نے فرمایا : دس دس آدمیوں کو میرے پاس اندر لاتے رہو ، وہ سب لوگ کھانا کھاتے رہے ، اور سیر ہوتے رہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اضافی بچ جانے والے کھانے کے بارے میں یہ فرمایا کہ اسے تم لوگ اور تمہارے عیال کھا لیں ، تو انہوں نے بھی کھا لیا اور وہ بھی سیر ہو گئے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” ان لوگوں کی تعداد ایک سو کے قریب تھی “ ان دونوں روایات کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14119
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابر يعلى فى المسند (1426) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4729)»
حدیث نمبر: 14120
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا فَوَجَدْتُهُ جَالِسًا مَعَ أَصْحَابِهِ يُحَدِّثُهُمْ وَقَدْ عَصَبَ بَطْنَهُ عَلَى حَجَرٍ ، فَقُلْتُ لِبَعْضِ أَصْحَابِهِ : لِمَ عَصَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَطْنَهُ ؟ فَقَالَ : مِنَ الْجُوعِ . فَذَهَبْتُ إِلَى أَبِي طَلْحَةَ - وَهُوَ زَوْجُ أُمِّ سُلَيْمٍ بِنْتِ مِلْحَانَ - فَقُلْتُ : يَا أَبَتَاهُ ، قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ عَصَبَ بَطْنَهُ بِعِصَابَةٍ ، فَسَأَلَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ فَقَالَ : " مِنَ الْجُوعِ " . فَدَخَلَ أَبُو طَلْحَةَ عَلَى أُمِّي فَقَالَ : هَلْ مِنْ شَيْءٍ ؟ فَقَالَتْ : عِنْدِي كِسَرٌ مِنْ خُبْزٍ وَتَمْرَاتٍ ، فَإِنْ جَاءَنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَشْبَعْنَاهُ ، وَإِنْ جَاءَ مَعَهُ أَحَدٌ قَلَّ عَنْهُمْ . فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ : اذْهَبْ يَا أَنَسُ فَقُمْ قَرِيبًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا قَامَ فَدَعْهُ حَتَّى يَتَفَرَّقَ وَمَنْ تَبِعَهُ ، حَتَّى إِذَا قَامَ عَلَى عَتَبَةِ بَابِهِ فَقُلْ : أَبِي يَدْعُوكَ ، فَفَعَلْتُ ذَلِكَ ، فَلَمَّا قُلْتُ : أَبِي يَدْعُوكَ ، قَالَ لِأَصْحَابِهِ : " يَا هَؤُلَاءِ تَعَالَوْا " . ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَشَدَّهَا ، وَأَقْبَلَ بِأَصْحَابِهِ حَتَّى دَنَوْا مِنْ بَيْتِنَا ، أَرْسَلَ يَدِي ، فَدَخَلْتُ وَأَنَا حَزِينٌ لِكَثْرَةِ مَنْ جَاءَ مَعَهُ فَقُلْتُ : يَا أَبَتَاهُ ، قَدْ قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّذِي قُلْتُ لِي فَدَعَا أَصْحَابَهُ فَقَدْ جَاءَكَ بِهِمْ . فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا أَرْسَلْتُ أَنَسًا يَدْعُوكَ وَحْدَكَ وَلَمْ يَكُنْ عِنْدِي مَا يُشْبِعُ مَنْ أَرَى . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ادْخُلْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيُشْبِعُهُمْ بِمَا عِنْدَكَ " . فَدَخَلَ مَعِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " اجْمَعُوا مَا عِنْدَكُمْ ثُمَّ قَرِّبُوهُ " . وَجَلَسَ مَنْ كَانَ مَعَهُ بِالسُّدَّةِ ، وَقَرَّبْتُ مَا كَانَ عِنْدَنَا مِنْ خُبْزٍ وَتَمْرٍ فَجَعَلْنَاهُ عَلَى حَصِيرِنَا ، فَدَعَا فِيهِ بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ قَالَ : " أَدْخِلْ عَلَيَّ ثَمَانِيَةً " . فَأَدْخَلْتُ عَلَيْهِ ثَمَانِيَةً ، وَجَعَلَ كَفَّهُ فَوْقَ الطَّعَامِ فَقَالَ : " كُلُوا وَسَمُّوا اللَّهَ " . فَأَكَلُوا مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ حَتَّى شَبِعُوا ، ثُمَّ أَمَرَنِي فَأَدْخَلْتُ ثَمَانِيَةً ، فَمَا زَالَ ذَلِكَ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهِ ثَمَانُونَ رَجُلًا ، كُلُّهُمْ يَأْكُلُ حَتَّى يَشْبَعَ ، ثُمَّ دَعَانِي وَدَعَا أُمِّي وَأَبَا طَلْحَةَ فَقَالَ : " كُلُوا " . فَأَكَلْنَا حَتَّى شَبِعْنَا ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَهُ فَقَالَ : " يَا أُمَّ سُلَيْمٍ أَيْنَ هَذَا مِنْ طَعَامِكِ حِينَ قَدَّمْتِيهِ ؟ " . قَالَتْ : بِأَبِي وَأُمِّي لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُهُمْ يَأْكُلُونَ لَقُلْتُ : مَا نَقَصَ مِنْ طَعَامِنَا شَيْءٌ . قُلْتُ : لِأَنَسٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ کو اپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھے ہوئے پایا ، آپ لوگوں کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ، آپ نے اپنے پیٹ پر پتھر رکھ کر پٹی باندھی ہوئی تھی ، میں نے آپ کے اصحاب میں سے کسی سے دریافت کیا ، آپ نے اپنے پیٹ پر پٹی کیوں باندھی ہوئی ہے ، اس نے جواب دیا : بھوک کی وجہ سے ، میں سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا ، وہ سیدہ ام سلیم بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے شوہر تھے ، میں نے کہا: اے ابا جان ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ نے پیٹ پر پٹی باندھی ہوئی ہے ، میں نے آپ کے اصحاب میں سے کسی سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے بتایا کہ یہ بھوک کی وجہ سے ہے ، تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ میری والدہ کے پاس آئے اور انہوں نے دریافت کیا : کیا کوئی چیز ہے ، تو اس خاتون نے کہا: میرے پاس روٹی کے کچھ ٹکڑے ہیں اور کچھ کھجوریں ہیں ، اب اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لے آتے ہیں ، تو ہم آپ کو کھانا کھلا سکیں گے ، لیکن اگر کوئی آپ کے ساتھ آ گیا ، تو پھر کھانا کم ہو جائے گا ، سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے انس ! تم جاؤ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کھڑے ہو جانا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھیں گے تو تم اتنا انتظار کرنا کہ لوگ ادھر ادھر ہو جائیں اور جو شخص آپ کے پیچھے آتا ہے وہ بھی ادھر ادھر ہو جائے ، یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دروازے کی چوکھٹ پر کھڑے ہوں گے تو تم یہ کہنا کہ میرے والد نے آپ کو بلایا ہے ، راوی کہتے ہیں ، تو میں نے ایسا ہی کیا ، جب میں نے یہ عرض کی کہ میرے والد نے آپ کو بلایا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : اے لوگو ! تم بھی آ جاؤ ، راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر اسے مضبوطی سے پکڑ لیا ، آپ اپنے اصحاب کے ساتھ آئے ، یہاں تک کہ جب آپ ہمارے گھر کے قریب پہنچے تو آپ نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا ، میں پریشانی کے عالم میں گھر میں داخل ہوا ، پریشانی اس وجہ سے تھی کہ آپ کے ساتھ آنے والے لوگوں کی تعداد زیادہ تھی ، میں نے کہا: اے ابا جان ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہی بات کی تھی ، جو آپ نے مجھ سے کہی تھی ، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو بھی دعوت دے دی اور وہ ان لوگوں کے ساتھ آپ کے پاس آ رہے ہیں ، سیدنا ابوطلحہ نکل کر آپ کی طرف گئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے انس کو صرف آپ کے لئے دعوت دینے کے لئے بھیجا تھا ، میرے پاس اتنا کھانا نہیں ہے کہ جس کے ذریعے یہ لوگ سیر ہو سکیں ، جنہیں میں دیکھ رہا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اندر چلو ، اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اس چیز کے ذریعے سیراب کر دے گا ، جو تمہارے پاس ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ اندر آئے ، آپ نے فرمایا : تمہارے پاس جو کچھ ہے اس کو اکٹھا کرو اور پھر اسے پیش کرو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آنے والے افراد باہر بیٹھ گئے ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : ہمارے ہاں جو کچھ موجود تھا ، روٹیاں تھیں اور کھجوریں تھیں ، وہ میں نے پیش کیں ، وہ ہم نے اپنی چٹائی پر رکھ دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں برکت کی دعا کی ، پھر آپ نے فرمایا : آٹھ افراد کو میرے پاس اندر لے کے آؤ ، میں آٹھ افراد کو اندر لے کے آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی کھانے کے اوپر رکھ لی ، آپ نے فرمایا : تم لوگ اللہ کا نام لے کے کھانا شروع کرو ، تو ان لوگوں نے کھانا شروع کیا ، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا ، میں مزید آٹھ افراد کو لے آیا ، ایسا ہوتا رہا ، یہاں تک کہ اسّی افراد اندر آ گئے ، ان سب نے کھانا کھا لیا ، یہاں تک کہ وہ سب سیر ہو گئے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا ، میری والدہ کو بلایا اور سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو بلایا ، آپ نے فرمایا : تم لوگ بھی کھاؤ ، ہم نے بھی کھانا کھایا ، یہاں تک کہ ہم بھی سیر ہو گئے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اٹھایا اور فرمایا : اے ام سلیم ! جب تم نے کھانا پیش کیا تھا ، اب اس کے مقابلے میں تمہارے کھانے میں کیا فرق آیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، اگر میں نے ان لوگوں کو کھاتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا ، تو میں نے یہی کہنا تھا کہ ہمارے کھانے میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث صحیح میں مذکور ہے جو اس سیاق کے بغیر ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسامہ بن زید بن اسلم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14120
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (109/25)»
حدیث نمبر: 14121
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : أَتَى أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ أُمَّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَأَبُو طَلْحَةَ رَابُّهُ فَقَالَ : عِنْدَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ شَيْءٌ ؟ فَإِنِّي مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُقْرِئُ أَصْحَابَ الصُّفَّةِ سُورَةَ النِّسَاءِ ، وَقَدْ رَبَطَ عَلَى بَطْنِهِ حَجَرًا مِنَ الْجُوعِ ! فَقَالَتْ : عِنْدِي شَيْءٌ مِنْ شَعِيرٍ فَطَحَنَتْهُ . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ : فَانْطَلَقُوا يَوْمَئِذٍ وَهُمْ ثَمَانُونَ رَجُلًا ، فَأَمْسَكَ بِيَدِي ، فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنَ الدَّارِ نَزَعْتُ يَدِي مِنْ يَدِهِ ، فَجَعَلَ أَبُو طَلْحَةَ يَطْلُبُنِي فِي الدَّارِ وَيَرْمِينِي بِالْحِجَارَةِ وَيَقُولُ : فَضَحْتَنِي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ إِنَّهُ خَرَجَ إِلَيْهِ فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ فَأَمَرَهُمْ فَجَلَسُوا ثُمَّ دَخَلَ ، فَأَتَيْنَاهُ بِالْقُرْصِ فَقَالَ : " هَلْ مِنْ أُدْمٍ ؟ " . فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ كَانَ عِنْدَنَا نِحْيٌ قَدْ عَصَرْتُهُ أَنَا وَأَبُو طَلْحَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَلُمُّوا فَإِنَّ عَصْرَ الثَّلَاثَةِ أَبْلَغُ مِنْ عَصْرِ الِاثْنَيْنِ " . فَأَتَى بِهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَصَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَهُمَا بِيَدِهِ ، ثُمَّ دَعَا فِيهِ بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ قَالَ : " ادْعُوَا لِي عَشَرَةً " . فَأَكَلُوا حَتَّى تَجَشَّئُوا شِبَعًا . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے ، جو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں اور سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے سوتیلے والد تھے ، انہوں نے کہا: اے ام سلیم ! کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا تھا ، آپ اصحاب صفہ کو سورت نساء کی تعلیم دے رہے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھا ہوا تھا ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : میرے پاس تھوڑے سے جو ہیں ، میں انہیں پیس لیتی ہوں ، راوی کہتے ہیں اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : تو وہ لوگ اس وقت روانہ ہوئے ، ان کی تعداد اسّی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا ، جب میں گھر کے قریب ہوا ، تو میں نے اپنا ہاتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے چھڑایا ، گھر میں سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ میرے پیچھے آنے لگے ، وہ مجھے پتھر مار رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے : تم اللہ کے رسول کے سامنے مجھے شرمندہ کروا دو گے ، پھر وہ نکل کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گئے اور آپ کو صورت حال کے بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ بیٹھ جائیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لے گئے ، ہم روٹی کے ٹکڑے آپ کے پاس لے آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا سالن ہے ؟ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ہمارے پاس ایک برتن ہے ، جس میں سے میں اور سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نچوڑ چکے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہی لے کر آؤ ! اگر تین افراد نچوڑ لیں ، تو وہ دو کے نچوڑنے کے مقابلے میں زیادہ بلیغ ہوتا ہے ، وہ ان کے پاس اس برتن کو لے کر آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اسے نچوڑا ، اور پھر اس میں برکت کی دعا کی ، پھر آپ نے فرمایا : دس افراد کو میرے پاس بلا کے لاؤ ! تو ان لوگوں نے کھانا کھایا ، یہاں تک کہ وہ سیر ہو کر ڈکار لینے لگے ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو صیح میں اس سیاق کے بغیر مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14121
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (106/25)»
حدیث نمبر: 14122
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : صَنَعَتْ أُمِّي طَعَامًا وَقَالَتِ : اذْهَبْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَادْعُهُ . فَجِئْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَارَرْتُهُ فَقُلْتُ : إِنَّ أُمِّي قَدْ صَنَعَتْ شَيْئًا . فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : " قُومُوا " . فَقَامَ مَعَهُ خَمْسُونَ رَجُلًا ، فَجَلَسَ عَلَى الْبَابِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَدْخِلْ عَشَرَةً عَشَرَةً " . فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا وَفَضَلَ نَحْوُ مَا كَانَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میری والدہ نے کھانا تیار کیا ، انہوں نے مجھ سے کہا: تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں جاؤ اور انہیں بلا لاؤ ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، میں نے آپ کے ساتھ سرگوشی میں بات جیت کی ، میں عرض کی : میری والدہ نے کچھ تیار کیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : تم لوگ اٹھو ، تو آپ کے ساتھ پچاس افراد اٹھ کھڑے ہوئے ، وہ دروازے پر بیٹھ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دس دس افراد کو اندر آنے کے لئے کہو ، وہ لوگ کھانا کھاتے رہے اور سیر ہوتے رہے ، پھر بھی کھانا اتنا بچ گیا ، جتنا پہلے تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14122
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 14123
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اجْمَعْ لِي أَصْحَابَكَ " . فَجَعَلْتُ أَتْبَعُهُمْ فِي الْمَسْجِدِ رَجُلًا رَجُلًا أُوقِظُهُمْ ، فَأَتَيْنَا بَابَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَخَلْنَا ، فَوُضِعَتْ بَيْنَ أَيْدِينَا صَحْفَةٌ صَنِيعُ قَدْرِ مُدَّيْ شَعِيرٍ ، فَقَالَ لَنَا : " كُلُوا بِسْمِ اللَّهِ " . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ وُضِعَتِ الصَّحْفَةُ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا فِي آلِ مُحَمَّدٍ شَيْءٌ غَيْرَ مَا تَرَوْنَهُ " . فَأَكَلْنَا حَتَّى شَبِعْنَا وَفِيهَا مِنْهُ بَقِيَّةٌ ، وَكُنَّا مَا بَيْنَ السَّبْعِينَ إِلَى الثَّمَانِينَ . فَقُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ : مِثْلُ أَيْشِ كَانَتْ حِينَ فَرَغْتُمْ مِنْهَا ؟ فَقَالَ : مِثْلُهَا حِينَ وُضِعَتْ إِلَّا أَنَّ فِيهَا أَثَرَ الْأَصَابِعِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اپنے ساتھیوں کو میرے پاس اکٹھا کرو ، تو میں ان لوگوں کے پیچھے مسجد میں گیا ، اور ایک ایک فرد کو بیدار کرنے لگا ، پھر ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر آئے ، پھر ہم اندر آئے ، ہمارے سامنے ایک پیالہ رکھا گیا ، جس میں تقریباً دو مد جو سے پکا ہوا کھانا ہو گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : تم لوگ اللہ کا نام لے کر کھانا شروع کرو ، جب وہ برتن رکھا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے ، محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے گھر والوں کے پاس ، اس کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا ، جو تم دیکھ رہے ہو ۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے کھانا کھایا ، یہاں تک کہ ہم سیر ہو گئے اور پھر بھی کھانا بچ گیا ، حالانکہ ہم اس وقت ستر سے لے کر اسّی کے لگ بھگ افراد تھے ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : جب آپ کھانا کر فارغ ہوئے تو اس کا کیا عالم تھا ؟ انہوں نے فرمایا : وہ اتنا ہی تھا ، جتنا اس وقت تھا جب اسے رکھا گیا تھا ، البتہ یہ ہے اس میں انگلیوں کے نشان نظر آ رہے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14123
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 14124
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : أَخْطَأَنِي الْعَشَاءُ ذَاتَ لَيْلَةٍ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَخْطَأَنِي أَنْ يَدْعُوَنِي أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِنَا ، فَصَلَّيْتُ الْعِشَاءَ ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ أَنَامَ فَلَمْ أَقْدِرْ ، ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ فَلَمْ أَقْدِرْ ، فَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَ حُجْرَةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَيْتُهُ فَإِذَا هُوَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي ، فَصَلَّى ثُمَّ اسْتَنَدَ إِلَى السَّارِيَةِ الَّتِي كَانَ يُصَلِّي إِلَيْهَا فَقَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ أَبُو هُرَيْرَةَ ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : " أَخَطَأَكَ الْعَشَاءُ مَعَنَا اللَّيْلَةَ ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : " انْطَلِقْ إِلَى الْمَنْزِلِ فَقُلْ : هَلُمُّوا الطَّعَامَ الَّذِي عِنْدَكُمْ " . فَأَعْطَوْنِي صَحْفَةً فِيهَا عَصِيدَةٌ بِتَمْرٍ ، فَأَتَيْتُ بِهَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعْتُهَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ : " ادْعُ أَهْلَ الْمَسْجِدِ " . فَقُلْتُ فِي نَفْسِي : الْوَيْلُ لِي مِمَّا أَرَى مِنْ قِلَّةِ الطَّعَامِ ، وَالْوَيْلُ لِي مِنَ الْمَعْصِيَةِ ، فَآتِي الرَّجُلَ وَهُوَ نَائِمٌ فَأُوقِظُهُ وَأَقُولُ : أَجِبْ ، وَآتِي الرَّجُلَ وَهُوَ يُصَلِّي فَأَقُولُ : أَجِبْ حَتَّى اجْتَمَعُوا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعَ أَصَابِعَهُ فِيهَا وَغَمَزَ نَوَاحِيَهَا وَقَالَ : " كُلُوا بِسْمِ اللَّهِ " . فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ، وَأَكَلْتُ حَتَّى شَبِعْتُ ، قَالَ : " خُذْهَا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَارْدُدْهَا إِلَى آلِ مُحَمَّدٍ ، فَمَا فِي آلِ مُحَمَّدٍ طَعَامٌ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ غَيْرُ هَذِهِ ، أَهْدَاهَا إِلَيْنَا رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ " . فَأَخَذْتُ الصَّحْفَةَ فَرَفَعْتُهَا ، فَإِذَا هِيَ كَهَيْئَتِهَا حِينَ وَضَعْتُهَا إِلَّا أَنَّ فِيهَا آثَارَ أَصَابِعِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک رات میں عشاء کی نماز ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا نہیں کر سکا ، اور یہ بھی نہیں ہو سکا کہ میرے ساتھیوں میں سے کوئی مجھے بلا لیتا ، میں نے عشاء کی نماز ادا کی ، پھر میں نے سونے کا ارادہ کیا ، تو میں سو نہیں پایا ، پھر میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں نفل پڑھتا ہوں ، لیکن میں یہ بھی نہیں کر سکا ، وہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کے پاس مجھے کوئی شخص نظر آیا ، میں اس کے پاس آیا ، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے ، جو نماز ادا کر رہے تھے ، آپ نماز ادا کر رہے تھے ، پھر آپ نے اس ستون کے ساتھ ٹیک لگا لی ، جس کی طرف رخ کر کے آپ نماز ادا کرتے تھے ، آپ نے فرمایا : کون ہے ؟ کیا ابوہریرہ ہو ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آج تم نے عشاء کی نماز ہمارے ساتھ ادا نہیں کی ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم گھر جاؤ اور یہ کہو : تم لوگوں کے پاس جو کھانا ہے ، وہ دے دو ، تو ان لوگوں نے مجھے ایک پیالہ دیا ، جس میں کھجور کا عصیدہ تھا ، میں اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، وہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مسجد میں موجود افراد کو بلا کر لاؤ ، میں نے دل میں سوچا کہ میرے لئے بربادی ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ کھانا کم تھا اور میرے لئے اس حوالے سے بھی بربادی ہے اگر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی نافرمانی کروں ، تو میں ایک شخص کے پاس آیا وہ سویا ہوا تھا ، میں نے اسے بیدار کیا ، میں نے اسے کہا: تم بلانے پر جاؤ ، پھر ایک اور شخص کے پاس آیا ، وہ نماز پڑھ رہا تھا ، میں نے کہا: تم بلانے پر جاؤ ، یہاں تک کہ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھے ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں اس کھانے میں رکھیں اور اس کے اطراف کو ہلایا جلایا ، پھر آپ نے فرمایا : اللہ کا نام لے کر کھانا شروع کرو ، ان لوگوں نے کھانا کھایا ، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے ، میں نے بھی کھانا کھایا ، یہاں تک کہ میں بھی سیر ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابوہریرہ ! تم اسے لو اور اسے آل محمد کے پاس واپس چھوڑ آؤ ! کیونکہ آل محمد کے پاس اس کے علاوہ کوئی ایسا کھانا نہیں ہے ، جسے کوئی جاندار کھا سکے ، یہ کھانا بھی انصار سے تعلق رکھنے والے ایک فرد نے ہمیں تحفے کے طور پر بھجوایا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : تو میں نے وہ پیالہ لیا ، اسے اٹھایا تو یہ اسی طرح تھا ، جیسے اس وقت تھا جب میں نے اسے رکھا تھا ، البتہ اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے نشان موجود تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14124
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 14125
وَعَنْ صَفِيَّةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي يَوْمٍ فَقَالَ : " أَعِنْدَكِ شَيْءٌ يَا بِنْتَ حُيَيٍّ فَإِنِّي جَائِعٌ ؟ " . فَقُلْتُ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِلَّا مُدَّيْنِ مِنْ طَحِينٍ . قَالَ : " فَاسْخِتِيهِ " . قَالَتْ : فَجَعَلْتُهُ فِي الْقِدْرِ وَأَنْضَجْتُهُ فَقُلْتُ : قَدْ نَضِجَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " أَتَعْلَمِينَ فِي نِحْيِ بِنْتِأَبِي بَكْرٍ شَيْئًا ؟ " . فَقُلْتُ : مَا أَدْرِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَذَهَبَ هُوَ بِنَفْسِهِ حَتَّى أَتَى بَيْتَهَا فَقَالَ : " فِي نِحْيِكِ يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ شَيْءٌ ؟ " . فَقَالَتْ : لَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ إِلَّا قَلِيلٌ ، فَجَاءَ بِهِ هُوَ بِنَفْسِهِ ، فَعَصَرَ حَافَّتَيْهِ فِي الْقِدْرِ ، حَتَّى رَأَيْتُ الَّذِي يَخْرُجُ فَوَضَعَ يَدَهُ فَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ ادْعِي أَخَوَاتِكِ ; فَإِنِّي أَعْلَمُ أَنَّهُنَّ يَجِدْنَ مِثْلَ مَا أَجِدُ " . فَدَعَوْتُهُنَّ فَأَكَلْنَا حَتَّى شَبِعْنَا ، ثُمَّ جَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَدَخَلَ ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَدَخَلَ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ . قَالَتْ : فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا وَفَضَلَ عَنْهُمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حُدَيْجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : اے حیی کی صاحبزادی ! کیا تمہارے پاس کوئی ایسی چیز ہے ( جسے کھایا جا سکے ) کیونکہ مجھے بھوک لگی ہے ، میں نے عرض کی : اللہ کی قسم ! نہیں ہے یا رسول اللہ ! صرف آٹے کے دو مد ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے ہی تیار کرو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ، میں نے اسے ہنڈیا میں ڈالا اور اسے پکانے لگی میں نے کہا: یا رسول اللہ یہ پک گیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم یہ بات جانتی ہو کہ ابوبکر کی بیٹی کے برتن میں کوئی چیز ہو گی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے نہیں معلوم پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود تشریف لے گئے یہاں تک کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے ، آپ نے فرمایا : اے ابوبکر کی بیٹی ! کیا تمہارے برتن میں کوئی چیز ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : اس میں کچھ نہیں ہے ، صرف معمولی سا کچھ گھی ہو گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود اسے لے کے آئے ، آپ نے اس کے دو کناروں کو ہنڈیا میں نچوڑا ، یہاں تک کہ میں نے اس چیز کو دیکھا ، جو نکل رہی تھی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک رکھا اور فرمایا : اللہ کا نام لے کر اپنی بہنوں کو بلا کے لاؤ ، کیونکہ مجھے یہ پتہ ہے کہ انہیں بھی وہی صورت حال محسوس ہو رہی ہو گی جو مجھے محسوس ہو رہی ہے ، تو میں دیگر ازواج مطہرات کو لے کے آئی ، ہم نے کھانا کھایا ، یہاں تک کہ ہم سیر ہو گئیں ، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے ، وہ اندر آئے ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے ، وہ اندر آئے ، پھر ایک اور صاحب آئے ، سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ، تو ان سب لوگوں نے کھانا کھایا ، یہاں تک کہ وہ سب لوگ سیر ہو گئے اور پھر بھی کھانا بچ گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حدیج بن معاویہ ہے ، جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14125
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14126
وَعَنْ أُمِّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَتْ : كَانَتْ لَنَا شَاةٌ فَجَمَعْتُ مِنْ سَمْنِهَا فِي عُكَّةٍ فَمَلَأْتُ الْعُكَّةَ ، ثُمَّ بَعَثْتُ بِهَا مَعَ رَبِيبَةٍ فَقُلْتُ : يَا رَبِيبَةُ ، أَبْلِغِي هَذِهِ الْعُكَّةَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْتَدِمُ بِهَا . فَانْطَلَقَتْ رَبِيبَةُ حَتَّى أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عُكَّةُ سَمْنٍ بَعَثَتْ بِهَا إِلَيْكَ أُمُّ سُلَيْمٍ . فَقَالَ : " فَرِّغُوا لَهَا عُكَّتَهَا " . فَفُرِّغَتِ الْعُكَّةُ ، فَدُفِعَتْ إِلَيْهَا ، فَانْطَلَقْتُ ، فَجَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ فَرَأَتِ الْعُكَّةَ مُمْتَلِئَةً تَقْطُرُ ، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ : يَا رَبِيبَةُ ، أَلَيْسَ قَدْ أَمَرْتُكِ أَنْ تَنْطَلِقِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَتْ : قَدْ فَعَلْتُ فَإِنْ لَمْ تُصَدِّقِينِي فَانْطَلِقِي فَسَلِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَانْطَلَقَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ وَمَعَهَا رَبِيبَةُ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي بَعَثْتُ إِلَيْكَ مَعَهَا بِعُكَّةٍ فِيهَا سَمْنٌ . فَقَالَ : " قَدْ فَعَلَتْ ، قَدْ جَاءَتْ بِهَا " . فَقَالَتْ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ إِنَّهَا لَمُمْتَلِئَةٌ تَقْطُرُ سَمْنًا . قَالَ : فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَتَعْجَبِينَ إِنْ كَانَ اللَّهُ أَطْعَمَكِ كَمَا أَطْعَمْتِ نَبِيَّهُ ؟ كُلِي وَأَطْعِمِي " . قَالَتْ : فَجِئْتُ الْبَيْتَ فَقَسَّمْتُ فِي قَعْبٍ لَنَا كَذَا وَكَذَا ، وَتَرَكْتُ فِيهَا مَا ائْتَدَمْنَا بِهِ شَهْرًا أَوْ شَهْرَيْنِ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : زَيْنَبُ بَدَلَ رَبِيبَةَ . وَفِي إِسْنَادِهِمَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ التَّرْجَمِيُّ وَهُوَ الْيَشْكُرِيُّ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده ام انس بن مالک رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہماری ایک بکری تھی ، میں نے اس کے گھی کو کپی میں اکٹھا کیا اور اسے بھر دیا ، پھر میں نے ربیبہ کے ہاتھ وہ بھجوایا ، میں نے کہا: اے ربیبہ اس برتن کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دو تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس گھی کو سالن کے طور پر استعمال کریں ، ربیبہ گئی ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ گھی کا برتن ہے جو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے آپ کو بھجوایا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کا برتن اسے خالی کر کے دے دو ، وہ برتن خالی کر دیا گیا اور مجھے دیا گیا ، میں روانہ ہوئی ، جب سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا آئیں اور انہوں نے برتن کو دیکھا کہ وہ بھرا ہوا ہے ، اور اس میں سے قطرے ٹپک رہے ہیں ، تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: اے ربیبہ ! کیا میں نے تمہیں یہ ہدایت نہیں کی تھی کہ تم اسے اللہ کے رسول کے پاس لے جاؤ ، تو ربیبہ نے کہا: میں نے ایسا کیا تھا ، اگر آپ مجھے سچا نہیں سمجھتی ہیں تو آپ خود جائیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کر لیں ، تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا گئیں ، ان کے ساتھ ربیبہ بھی تھیں ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اس لڑکی کے ہمراہ آپ کی طرف گھی کا برتن بھیجا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس نے ایسا کر دیا تھا ، وہ اس کو لے آئی تھی ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو ہدایت اور دین حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، وہ برتن تو بھرا ہوا ہے ، اور اس میں سے گھی کے قطرے ٹپک رہے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : کیا تم اس بات پر حیران ہو رہی ہو کہ اللہ تعالیٰ نے وہ تمہیں کھانے کے لئے دیا ہے ، جس طرح تم نے اس کے نبی کو کھانا دیا تھا ، تم اس میں سے کھاؤ اور دوسروں کو بھی کھلاؤ ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں گھر واپس آئی ، میں نے اسے اپنے اتنے اتنے برتنوں میں تقسیم کیا اور پھر بھی اس برتن میں اتنا باقی بچ گیا کہ ہم ایک ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) دو ماہ تک اسے سالن کے طور پر استعمال کرتے رہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم ربیبہ کی جگہ خاتون کا نام زینب نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زیاد بن برجمی ہے ، اور وہ یشکری ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14126
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (4213) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (120/25)»
حدیث نمبر: 14127
وَعَنْ أُمِّ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيَّةِ أَنَّهَا جَاءَتْ بِعُكَّةِ سَمْنٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلَالًا فَعَصَرَهَا ، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَيْهَا فَرَجَعَتْ فَإِذَا هِيَ مُمْتَلِئَةٌ ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : نَزَلَ فِيَّ شَيْءٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَ : " وَمَا ذَلِكَ يَا أُمَّ مَالِكٍ ؟ " . فَقَالَتْ : لِمَ رَدَدْتَ هَدِيَّتِي ؟ فَدَعَا بِلَالًا فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ عَصَرْتُهَا حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَنِيئًا لَكِ يَا أُمِّ مَالِكٍ ، عَجَّلَ اللَّهُ ثَوَابَهَا " . ثُمَّ عَلَّمَهَا فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ سُبْحَانَ اللَّهِ عَشْرًا ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَشْرًا ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ عَشْرًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیده ام مالک انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : وہ گھی کا برتن لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ، انہوں نے اسے نچوڑ لیا ، پھر انہوں نے وہ برتن اس خاتون کو واپس کیا ، جب وہ خاتون واپس گئیں تو وہ برتن بھرا ہوا تھا ، پھر وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئیں اور عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میرے بارے میں کوئی حکم نازل ہو گیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا ہوا ؟ اے اُم مالک ! انہوں نے عرض کی : آپ نے میرا تحفہ واپس کیوں کر دیا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا ، انہوں نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں نے اسے اتنا نچوڑا تھا کہ مجھے شرم آنے لگی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ام مالک ! تمہیں مبارک باد ہو ! یہ برکت ہے ، جس کو اللہ تعالیٰ نے جلدی ثواب کے طور پر دیا ہے ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو یہ تعلیم دی کہ ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سبحان اللہ ، دس مرتبہ الحمد للہ اور دس مرتبہ اللہ اکبر پڑھنا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اور ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اور اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14127
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (145/25)»
حدیث نمبر: 14128
وَعَنْ أُمِّ أَوْسٍ الْبَهْزِيَّةِ أَنَّهَا مَلَأَتْ سَمْنًا لَهَا فَجَعَلَتْهُ فِي عُكَّةٍ ، ثُمَّ أَهْدَتْهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَبِلَهُ وَأَخَذَ مَا فِيهَا ، وَدَعَا لَهَا بِالْبَرَكَةِ فَرَدُّوهَا إِلَيْهَا وَهِيَ مَمْلُوءَةٌ سَمْنًا ، فَظَنَّتْ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَقْبَلْهَا ، فَجَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَهَا صُرَاخٌ فَقَالَ : " أَخْبِرُوهَا بِالْقِصَّةِ " . فَأَكَلَتْ مِنْهُ بَقِيَّةَ عُمْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوِلَايَةِ أَبِي بَكْرٍ وَوِلَايَةِ عُمَرَ وَوِلَايَةِ عُثْمَانَ حَتَّى كَانَ بَيْنَ عَلِيٍّ وَمُعَاوِيَةَ مَا كَانَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عِصْمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیده ام اوس بہزیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے گھی اکٹھا کیا اور اسے ایک برتن میں ڈالا ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحفے کے طور پر پیش کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول کیا اور اس میں جو کچھ موجود تھا اسے لے لیا ، پھر آپ نے اس خاتون کے لئے برکت کی دعا کی اور وہ برتن اس خاتون کو واپس کیا ، تو وہ گھی سے بھرا ہوا تھا ، وہ خاتون یہ سمجھیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شاید اسے قبول نہیں کیا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ، وہ رو رہی تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے ساری صورت حال بتاؤ ، تو اس خاتون نے اس گھی کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی باقی زندگی میں ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پورے عہد خلافت میں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں کھایا ، یہاں تک کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان لڑائی ہوئی ، تو وہ اس وقت تک بھی بچا رہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عصمہ بن سلیمان ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14128
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (151/25)»
حدیث نمبر: 14129
وَعَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : كَانَ طَعَامُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدُورُ عَلَى يَدَيْ أَصْحَابِهِ هَذَا لَيْلَةً وَهَذَا لَيْلَةً . قَالَ : فَدَارَ عَلَيَّ لَيْلَةً فَصَنَعْتُ طَعَامَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَرَكْتُ النِّحْيَ ، وَلَمْ أُوكِهِ ، وَذَهَبْتُ بِالطَّعَامِ إِلَيْهِ ، فَتَحَرَّكَ فَأُهْرِيقَ مَا فِيهِ ، فَقُلْتُ : أَعَلَى يَدَيَّ أُهْرِيقَ طَعَامُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ادْنُهُ " . فَقُلْتُ : لَا أَسْتَطِيعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَرَجَعْتُ مَكَانِي فَإِذَا النِّحْيُ يَقُولُ : قَبْ قَبْ فَقُلْتُ : مَهْ قَدْ أُهْرِيقَ فَضْلَةٌ فَضَلَتْ فِيهِ ، فَجِئْتُ أَنْظُرُهُ ، فَوَجَدْتُهُ قَدْ مُلِئَ إِلَى ثَدْيَيْهِ ، فَأَخَذْتُهُ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ : " إِنَّكَ لَوْ تَرَكْتَهُ لَمُلِئَ إِلَى فِيهِ ثُمَّ أُوكِيَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طَرِيقٌ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَفِيهَا : " لَوْ تَرَكْتَهُ لَسَالَ وَادِيًا سَمْنًا " . وَرِجَالُ الطَّرِيقِ الَّتِي هُنَا وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا کھانا آپ کے اصحاب کے ہاتھوں میں گھومتا تھا ، ایک رات ایک کی ذمہ داری ہوتی تھی ، ایک رات ایک کی ذمہ داری ہوتی تھی ۔ راوی کہتے ہیں : ایک رات میرے ذمہ باری تھی ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کھانا تیار کیا ، میں نے گھی کے برتن کو ایسے ہی چھوڑ دیا ، اس کا منہ بند نہیں کیا ، میں کھانا لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گیا ، پیچھے سے برتن میں حرکت ہوئی اور اس میں جو گھی موجود تھا ، وہ بہہ گیا ، میں نے کہا: کیا میرے ہاتھوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے کا گھی بہہ گیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے لے کر آؤ ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا ، جب میں اپنی جگہ واپس آیا تو وہاں گھی کا برتن موجود تھا ، جو کہہ رہا تھا : قب قب ، تو میں نے کہا: ٹھہر جاؤ ، جو اضافی تھا وہ بہہ گیا ہے ، اور پھر بھی اس میں بچ گیا ہے ، پھر میں نے اس کا جائزہ لیا تو میں نے اس کو پایا کہ وہ سینے تک بھرا ہوا تھا ، میں نے اسے لیا اور اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم اسے ایسے ہی رہنے دیتے تو اس نے منہ تک بھر جانا تھا اور پھر اس کا منہ بند ہو جانا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کا ایک طریق غزوہ تبوک سے متعلق باب میں گزر چکا ہے ، اور اس میں ایک بات مذکور ہے کہ اگر تم اسے ایسے ہی رہنے دیتے تو نشیبی حصے میں گھی بہہ رہا ہوتا ۔ اس طریق کے رجال ، جو یہاں ہیں ، ان کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14129
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2991)»
حدیث نمبر: 14130
وَعَنْ مَسْعُودِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ : بَعَثْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَاةً ثُمَّ ذَهَبْتُ فِي حَاجَةٍ ، فَرَدَّ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَطْرَهَا . فَرَجَعْتُ إِلَى أُمِّ خُنَاسٍ زَوْجَتِهِ فَإِذَا عِنْدَهَا لَحْمٌ فَقُلْتُ : يَا أُمَّ خُنَاسٍ مَا هَذَا اللَّحْمُ ؟ قَالَتْ : رَدَّهُ إِلَيْنَا خَلِيلُكَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الشَّاةِ الَّتِي بَعَثْتَ بِهَا إِلَيْهِ . قَالَ : مَا لَكِ لَا تُطْعِمِيهِ عِيَالَكَ ؟ قَالَتْ : هَذَا سُؤْرُهُمْ وَكُلُّهُمْ قَدْ أَطْعَمْتُ ، وَكَانُوا يَذْبَحُونَ الشَّاتَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ وَلَا تُجْزِئُ عَنْهُمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مسعود بن خالد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایک بکری بھجوائی ، پھر کسی کام کے سلسلے میں چلا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نصف حصہ ان لوگوں کو واپس بھجوا دیا ، جب میں اُم خناس کے پاس واپس آیا ، راوی کہتے ہیں ، یعنی اپنی اہلیہ کے پاس واپس آیا ، تو ان کے پاس گوشت موجود تھا ، میں نے کہا: اے ام خناس ! یہ گوشت کہاں سے آیا ہے ، اس نے کہا: یہ آپ کے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بکری میں سے ہمیں بھیجا ہے ، جو آپ نے ان کی طرف بھجوائی تھی ، تو سیدنا مسعود بن خالد نے کہا: پھر تم نے اس کو اپنے گھر والوں کو کیوں نہیں کھلایا ؟ تو اس خاتون نے کہا: یہ ان لوگوں کا بچایا ہوا ہے ، ان سب لوگوں کو میں کھانا کھلا چکی ہوں ( راوی کہتے ہیں ) حالانکہ وہ اتنے افراد تھے کہ اگر ان کے لئے دو یا تین بکریاں بھی ذبح کی جاتیں ، تو وہ ان کے لئے کفایت نہیں کرتی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14130
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (335/20)»
حدیث نمبر: 14131
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ لَهُ ضَيْفًا ، فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِنِصْفِ وَسْقٍ مِنْ شَعِيرٍ فَأَكَلُوا مِنْهُ حِينًا ، ثُمَّ أَخَذَهُ يَوْمًا فَكَالَهُ لِيَنْظُرَ كَمْ بَقِيَ ؟ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ فَنِيَ فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ : " كِلْتُمُوهُ ؟ أَمَا إِنَّكَ لَوْ لَمْ تَكِلْهُ لَبَقِيَ كَذَا وَكَذَا " . أَوْ قَالَ : " عُمْرَكُمْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مہمان کا ذکر کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جو کا نصف وسق دینے کا حکم دیا ، ان لوگوں نے اس میں سے کھانا شروع کیا ، وہ ایک عرصے تک اس کو کھاتے رہے ، پھر ایک دن انہوں نے اسے لیا اور اسے ماپا ، تاکہ اس بات کا جائزہ لیں کہ کتنا باقی بچا ہے ؟ تو تھوڑے ہی عرصے بعد وہ ختم ہو گیا ، تو وہ صاحب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم نے اسے ماپ لیا تھا ؟ اگر تم اسے نہ ماپتے ، تو وہ اتنے اتنے عرصے تک باقی رہنا تھا ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) تمہاری زندگی بھر باقی رہنا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14131
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2420)»
حدیث نمبر: 14132
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِيَسْأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ ، فَدَخَلَ يَطْلُبُ لَهُ فَأَصَابَ لُقْمَةً فِي بَعْضِ حُجَرِهِ فَأَخْرَجَهَا فَفَتَّهَا أَجْزَاءً ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ : " كُلْ يَا أَعْرَابِيُّ " . فَأَكَلَ الْأَعْرَابِيُّ وَفَضَلَتْ مِنْهُ فَضْلَةٌ ، فَجَعَلَ الْأَعْرَابِيُّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَنْظُرُ إِلَيْهِ وَيَقُولُ : إِنَّكَ لَرَجُلٌ صَالِحٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَسْلِمْ " . فَجَعَلَ يَأْبَى الْإِسْلَامَ وَيَقُولُ : إِنَّكَ لَرَجُلٌ صَالِحٌ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ السَّرِيُّ بْنُ عَاصِمٍ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، تاکہ آپ سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کرے ( یا آپ سے کوئی مانگے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لئے کوئی چیز لینے کے لئے گھر آئے ، تو آپ کو اپنے ایک حجرے میں ایک لقمہ ملا ، آپ نے اسے لیا ، آپ نے اسے اجزاء میں تقسیم کیا ، پھر آپ نے اپنا دست مبارک اس پر رکھا اور پھر فرمایا : اے دیہاتی تم کھاؤ ، تو اس دیہاتی نے کھا لیا اور پھر بھی اس میں سے کھانا بچ گیا ، وہ دیہاتی سر اٹھا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھتا تھا ، اور یہ کہتا تھا : آپ ایک نیک آدمی ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسلام قبول کر لو ، لیکن اس نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا ، اور یہی کہتا رہا : کہ آپ ایک نیک آدمی ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سری بن عاصم ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14132
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2421)»