کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: پانی سے متعلق ، اور آپ ﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے پانی پھوٹنے سے متعلق آپ ﷺ کے معجزات کا بیان
حدیث نمبر: 14104
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا فَقَالَ : " مَا مِنْ مَاءٍ ؟ " . قَالُوا : لَا فَقَالَ : " هَلْ مِنْ شَنٍّ ؟ " . فَجَاءُوا بِشَنٍّ فَوُضِعَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ ، ثُمَّ فَرَّقَ أَصَابِعَهُ ، فَنَبَعَ الْمَاءُ مِثْلَ عَصَا مُوسَى مِنْ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا بِلَالُ اهْتِفْ بِالنَّاسِ بِالْوُضُوءِ " . فَأَقْبَلُوا يَتَوَضَّئُونَ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَتْ هِمَّةُ ابْنِ مَسْعُودٍ الشُّرْبَ فَلَمَّا تَوَضَّئُوا صَلَّى بِهِمُ الصُّبْحَ ، ثُمَّ قَعَدَ لِلنَّاسِ فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ أَعْجَبُ إِيمَانًا ؟ " . قَالُوا : الْمَلَائِكَةُ . قَالَ : " وَكَيْفَ لَا تُؤْمِنُ الْمَلَائِكَةُ وَهُمْ يُعَايِنُونَ الْأَمْرَ ؟ " . قَالُوا : فَالنَّبِيُّونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " وَكَيْفَ لَا يُؤْمِنُ النَّبِيُّونَ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ عَلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ " . قَالُوا : فَأَصْحَابُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " وَكَيْفَ لَا يُؤْمِنُ أَصْحَابِي وَهُمْ يَرَوْنَ مَا يَرَوْنَ ، وَلَكِنَّ أَعْجَبَ النَّاسِ إِيمَانًا قَوْمٌ يَجِيئُونَ مِنْ بَعْدِي يُؤْمِنُونَ بِي وَلَمْ يَرَوْنِي ، وَيُصَدِّقُونِي وَلَمْ يَرَوْنِي ، أُولَئِكَ إِخْوَانِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ وَأَحْمَدُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَانْفَجَرَ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ عُيُونٌ . وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دن صبح کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا پانی نہیں ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی نہیں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا کوئی مشکیزہ ہے ؟ لوگ ایک مشکیزہ لے کر آئے ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا گیا ، پھر آپ نے اس پر اپنا ہاتھ رکھا ، پھر آپ نے اپنی انگلیوں کو پھیلایا ، تو ان میں سے یوں پانی پھوٹ پڑا ، جس طرح سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے عصا مارنے سے پھوٹا تھا ، وہ پانی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے پھوٹا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے بلال ! لوگوں میں وضو کا اعلان کر دو ! لوگ آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے نکلنے والے پانی سے وضو کرنے لگے ، اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اسے پی بھی لیا ، جب ان لوگوں نے وضو کر لیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صبح کی نماز پڑھائی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے لئے بیٹھ گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے لوگو ! ایمان کے اعتبار سے ، سب سے زیادہ حیرت انگیز کون ہے ؟ لوگوں نے کہا: فرشتے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ کیسے ؟ فرشتے تو ایسی حالت میں ایمان رکھتے ہیں کہ وہ اصل معاملے کا معائنہ کر رہے ہوتے ہیں ، پھر لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! انبیاء ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ کیسے ؟ انبیاء کیوں ایمان نہ لائیں ؟ جبکہ ان پر آسمان سے وحی نازل ہوتی ہے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے اصحاب ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے اصحاب کیوں ایمان نہ لائیں ؟ جبکہ وہ دیکھتے ہیں ، جو دیکھتے ہیں ( یعنی معجزات دیکھتے ہیں ) ایمان کے اعتبار سے ، سب سے زیادہ حیرت انگیز وہ لوگ ہوں گے ، جو میرے بعد آئیں گے اور وہ مجھ پر ایمان رکھیں گے ، حالانکہ انہوں نے مجھے نہیں دیکھا ہوا ہو گا ، اور وہ میری تصدیق کریں گے ، حالانکہ انہوں نے مجھے نہیں دیکھا ہوا ہو گا ، اور وہ لوگ میرے بھائی ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام بزار نے بھی یہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اسے امام أحمد نے بھی نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پانی کے چشمے پھوٹ پڑے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14104
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2415) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12560) أخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (2268 و 2991)»
حدیث نمبر: 14105
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسِيرٍ فَأَتَيْنَا عَلَى رَكِيَّةٍ ذَمَّةٍ - أَيْ قَلِيلَةِ الْمَاءِ - قَالَ : فَنَزَلَ فِيهَا سِتَّةٌ أَنَا سَادِسُهُمْ مَاحَّةً . قَالَ : فَأُدْلِيَتْ إِلَيْنَا دَلْوٌ . قَالَ : وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى شَفَةِ الرَّكِيِّ . قَالَ : فَجَعَلْنَا فِيهَا نِصْفَهَا أَوْ قَرِيبَ ثُلُثَيْهَا ، فَرُفِعَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ الْبَرَاءُ : فَجِئْتُ بِإِنَائِي هَلْ أَجِدُ شَيْئًا أَجْعَلُهُ فِي حَلْقِي فَمَا وَجَدْتُ ، فَرَفَعْتُ الدَّلْوَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَغَمَسَ يَدَهُ فِيهَا فَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ، فَأُعِيدَتْ إِلَيْنَا الدَّلْوُ بِمَا فِيهَا . قَالَ : فَقَدْ رَأَيْتُ آخِرَنَا أُخْرِجَ بِقُوَّةٍ خَشْيَةَ الْغَرَقِ . قَالَ : ثُمَّ سَاحَتْ يَعْنِي جَرَتْ نَهْرًا . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ فِي غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے ، ہم ایک ایسے کنویں کے پاس آئے جس میں پانی کم تھا ، راوی کہتے ہیں : اس میں چھ افراد اترے ، جن میں چھٹا فرد میں تھا ، وہ کنواں خشک تھا ، راوی کہتے ہیں : ہماری طرف ایک ڈول لٹکایا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کنویں کے کنارے پر موجود تھے ، راوی کہتے ہیں : ہم نے اس ڈول کو نصف ، یا دو تہائی کے قریب بھر دیا ، پھر اس ڈول کو اٹھا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لے جایا گیا ، سیدنا براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے اپنے برتن کے ذریعے کوشش کی کہ کاش مجھے کچھ مل جائے ، تاکہ وہ میں اپنے حلق میں ڈالوں ، لیکن مجھے کچھ نہیں ملا ، وہ ڈول نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بلند ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس میں ڈبویا ، پھر جو اللہ کو منظور تھا ، وہ پڑھا ، پھر وہ ڈول ہماری طرف واپس بھیج دیا اور اس میں موجود پانی بھی بھیج دیا ، راوی کہتے ہیں : تو میں نے دیکھا کہ ہم میں سے جو آخری فرد نکلا تھا ، اُسے کپڑے سے پکڑ کر نکالا گیا تھا ، اس اندیشے کے تحت کہ کہیں وہ اُس میں ڈوب نہ جائے ۔ راوی کہتے ہیں : یعنی پھر وہاں سے پانی پھوٹ پڑا تھا ، یعنی نہر جاری ہو گئی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں بہت زیادہ اختصار کے ساتھ ، غزوہ حدیبیہ کے بارے میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14105
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1177) أخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (292/4)»
حدیث نمبر: 14106
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَهَّزَ جَيْشًا إِلَى الْمُشْرِكِينَ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، أَمَرَهُمَا وَالنَّاسَ كُلَّهُمْ قَالَ لَهُمْ : " أَجِدُّوا السَّيْرَ ; فَإِنَّ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ مَاءٌ ، إِنْ سَبَقَ الْمُشْرِكُونَ إِلَى ذَلِكَ الْمَاءِ شَقَّ عَلَى النَّاسِ ، وَعَطِشْتُمْ عَطَشًا شَدِيدًا أَنْتُمْ وَدَوَابُّكُمْ وَرِكَابُكُمْ " . وَتَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي ثَمَانِيَةٍ هُوَ تَاسِعُهُمْ ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : " هَلْ لَكُمْ أَنْ نُعَرِّسَ قَلِيلًا ثُمَّ نَلْحَقَ بِالنَّاسِ ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَعَرَّسُوا فَمَا أَيْقَظَهُمْ إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ . فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ فَقَالَ لَهُمْ : " قُومُوا وَاقْضُوا حَاجَتَكُمْ " . فَفَعَلُوا ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ مَاءٌ ؟ " . قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مِيضَأَةٌ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ . قَالَ : " جِئْ بِهَا " . فَجَاءَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَسَحَهَا بِكَفَّيْهِ ، وَدَعَا بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِهِ : " تَعَالَوْا فَتَوَضَّئُوا " . فَجَاءُوا فَجَعَلَ يَصُبُّ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى تَوَضَّئُوا ، وَأَذَّنَ رَجُلٌ مِنْهُمْ وَأَقَامَ . قَالَ : فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ لِصَاحِبِ الْمِيضَأَةِ : " ازْدَهِرْ بِمِيضَأَتِكَ فَسَيَكُونَ لَهَا نَبَأٌ " . فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ قَبْلَ النَّاسِ ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : " مَا تَرَوْنَ النَّاسَ فَعَلُوا ؟ " . قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " إِنَّ فِيهِمْ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَسَيُرْشِدَانِ النَّاسَ " . فَقَدِمَ النَّاسُ وَقَدْ سَبَقَ الْمُشْرِكُونَ إِلَى ذَلِكَ الْمَاءِ فَشَقَّ عَلَى النَّاسِ وَعَطِشُوا عَطَشًا شَدِيدًا ، وَرِكَابُهُمْ وَدَوَابُّهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيْنَ صَاحِبُ الْمِيضَأَةِ ؟ " . قَالَ : هَا هُوَ ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : جِئْ بِمَيْضَأَتِكَ فَجَاءَ بِهَا وَفِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ فَقَالَ لَهُمْ كُلِّهِمْ : " تَعَالَوْا فَاشْرَبُوا " . فَجَعَلَ يَصُبُّ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى شَرِبُوا كُلُّهُمْ ، وَسَقَوْا دَوَابَّهُمْ وَرِكَابَهُمْ ، وَمَلَئُوا كُلَّ إِدَاوَةٍ وَقِرْبَةٍ وَمَزَادَةٍ ، ثُمَّ نَهَضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ إِلَى الْمُشْرِكِينَ . فَبَعَثَ اللَّهُ رِيحًا فَضَرَبَتْ وُجُوهَ الْمُشْرِكِينَ ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى نَصْرَهُ ، وَأَمْكَنَ مِنْ أَدْبَارِهِمْ ، فَقَتَلُوا مِنْهُمْ مَقْتَلَةً عَظِيمَةً ، وَأَسَرُوا أَسْرَى كَثِيرَةً ، وَاسْتَاقُوا غَنَائِمَ كَثِيرَةً ، وَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالنَّاسُ وَافْرِينَ صَالِحِينَ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمٍ الضَّبِّيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی طرف ایک لشکر بھیجا ، جن میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو امیر مقرر کیا تھا ، اور باقی لوگ بھی تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے فرمایا : تم لوگوں نے تیزی سے سفر کرنا ہے ، کیونکہ تمہارے اور مشرکین کے درمیان ایک پانی کا مقام ہے ، اگر مشرکین پہلے اس مقام تک پہنچ گئے ، تو ( تم ) لوگوں کے لیے یہ بات گراں ہو گی ، اور لوگ بہت شدید پیاس کا شکار ہو جائیں گے ، تم بھی ، تمہارے جانور بھی اور تمہاری سواریاں بھی پیاس کا شکار ہو جائیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ افراد سمیت پیچھے رہ گئے ، نویں فرد آپ تھے ، آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : کیا تم لوگ اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو ؟ کہ ہم رات کے وقت تھوڑی دیر کے لئے پڑاؤ کر لیں ، پھر ہم لوگوں کے ساتھ جا ملیں گے ، لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے ، ان لوگوں نے رات کے وقت پڑاؤ کیا اور پھر وہ لوگ سورج کی تپش سے بیدار ہوئے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب بیدار ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ اُٹھو اور قضائے حاجت کر لو ! ان لوگوں نے ایسا ہی کیا ، پھر وہ واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم میں سے کسی کے پاس پانی ہے ؟ ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایک برتن ہے ، جس میں تھوڑا سا پانی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے لے آؤ ! وہ شخص اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنی دونوں ہتھیلیوں کے ذریعے ہاتھ پھیرا اور برکت کی دعا کی ، پھر آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : آگے آؤ ! اور وضو کر لو ! لوگ آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان پر پانی ڈالنے لگے ، یہاں تک ان لوگوں نے وضو کر لیا ، ان میں سے ایک شخص نے اذان دی اور اقامت کہی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی ، پھر آپ نے اس برتن والے شخص سے فرمایا : تم اپنے برتن کو سنبھال کے رکھنا ، اس کے حوالے سے ایک نمایاں چیز سامنے آئے گی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب لوگوں سے پہلے سوار ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : لوگوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ کہ انہوں نے کیا ، کیا ہو گا ؟ ان لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان میں ابوبکر اور عمر ہیں ، وہ لوگوں کی رہنمائی کر لیں گے ، پھر لوگ آ گئے ، مشرکین پہلے ہی پانی تک پہنچ گئے تھے ، یہ بات لوگوں پر گراں گزری ، وہ شدید پیاس کا شکار تھے ، ان کی سواریاں اور جانور بھی پیاسے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ برتن والا شخص کہاں ہے ؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ یہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنا برتن لے کر آؤ ! وہ لے کر آیا ، اس میں تھوڑا سا پانی موجود تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب لوگوں سے فرمایا : تم لوگ آگے آؤ ! اور پانی پیو ! راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے لئے پانی ڈالنا شروع کیا ، یہاں تک کہ ان سب لوگوں نے پانی پی لیا اور اپنی سواریوں اور جانوروں کو بھی پلا دیا ، اور اپنے پاس موجود ہر برتن ، ہر چھوٹا بڑا مشکیزہ بھی بھر لیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب مشرکین کی طرف روانہ ہوئے ، اللہ تعالیٰ نے ایک ہوا کو بھیجا ، جس نے مشرکین کو پسپا کر دیا ، اللہ تعالیٰ نے اپنی مدد نازل کر دی اور یہ ممکن کر دیا کہ انہیں لوٹا دیا جائے ، مسلمانوں نے ان میں سے بہت سے لوگوں کو قتل کیا ، کئی لوگوں کو قیدی بنایا ، اور ان سے بہت سا مال غنیمت حاصل کیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگ واپس آئے ، تو ان کے پاس بہت سا ساز و سامان تھا اور وہ ٹھیک تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن ضبی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ، دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14106
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4235)»
حدیث نمبر: 14107
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزَاةٍ فَأَصَابَنَا عَطَشٌ شَدِيدٌ ، فَشَكَوْنَا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " هَلْ فَضَلَ مَاءٌ فِي إِدَاوَةٍ ؟ " . فَأَتَاهُ رَجُلٌ بِفَضْلَةِ مَاءٍ فِي إِدَاوَةٍ ، فَحَفَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْأَرْضِ حُفْرَةً وَوَضَعَ عَلَيْهَا نُطْفَةً ، وَوَضَعَ كَفَّهُ عَلَى الْأَرْضِ ، ثُمَّ قَالَ لِصَاحِبِ الْإِدَاوَةِ : " صُبَّ الْمَاءَ عَلَى كَفِّي وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ " . فَفَعَلَ . قَالَ أَبُو لَيْلَى : رَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى رَوِيَ الْقَوْمُ وَسَقُوا رِكَابَهُمْ . وَفِي إِسْنَادِهِ : خَالِدُ بْنُ نَافِعٍ الْأَشْعَرِيُّ ضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَيْسَ بِقَوِيٍّ ، يُكْتَبُ حَدِيثُهُ ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ أَحْمَدُ بْنُ حَسْرٍ ، وَقَدِ كُلَّهُمْ اشْتَهَرَ أَنَّ شُيُوخَهُ ثِقَاتٌ عِنْدَهُ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ وَحَدِيثُ حِبَّانَ بْنِ بُحٍّ الصُّدَائِيِّ فِي كَرَاهِيَةِ الْإِمَارَةِ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن ابولیلی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنگ میں شریک ہوئے ، ہمیں شدید پیاس لاحق ہو گئی ، ہم نے اس کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا کسی برتن میں بچا ہوا پانی ہے ؟ تو ایک صاحب ایک برتن میں بچا ہوا پانی آپ کے پاس لے کر آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین میں گڑھا کھودا ، آپ نے اس پر دسترخوان رکھا ( یا چمڑا رکھا ) پھر آپ نے اپنی ہتھیلی زمین پر رکھی ، اور پھر برتن والے شخص سے فرمایا : اللہ کا نام لے کر ، تم میری ہتھیلی پر پانی بہاؤ ! اس نے ایسا ہی کیا ۔ سیدنا ابولیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پانی پھوٹ پڑا ، یہاں تک کہ سب لوگ سیراب ہو گئے ، اور انہوں نے اپنی سواریوں کو بھی پانی پلا دیا ۔ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن زید اشعری ہے ، جسے امام ابوزرعہ ، ابوداؤد اور نسائی نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : یہ قوی نہیں ہے ، اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، امام أحمد نے اس سے روایت نقل کی ہے ، اور یہ بات مشہور ہے : کہ امام أحمد کے تمام اساتذہ ان کے نزدیک ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں کہتا ہوں : اس سے پہلے سیدنا زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث گزر چکی ہے ، اور سیدنا حبان بن بح صدائی رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث گزر چکی ہے ، جو حکومت کے ناپسندیدہ ہونے سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14107
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9420)»
حدیث نمبر: 14108
وَعَنْ أَبِي رَجَاءٍ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى دَخَلَ حَائِطًا لِبَعْضِ الْأَنْصَارِ ، فَإِذَا هُوَ يَسْنُو فِيهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا تَجْعَلُ لِي إِنْ أَرْوَيْتُ حَائِطَكَ هَذَا ؟ " . قَالَ : إِنِّي أَجْهَدُ أَنْ أَرْوِيهِ فَلَا أُطِيقُ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَجْعَلُ لِي مِائَةَ تَمْرَةٍ أَخْتَارُهَا مِنْ تَمْرِكَ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْغَرْبَ فَمَا لَبِثَ أَنْ أَرَوَاهُ حَتَّى قَالَ الرَّجُلُ : غَرَّقْتَ عَلَيَّ حَائِطِي . فَاخْتَارَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِائَةَ تَمْرَةٍ . قَالَ : فَأَكَلَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى شَبِعُوا ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ مِائَةَ تَمْرَةٍ كَمَا أَخَذَهَا مِنْهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا وَقَدْ ذُكِرَ لِأَبِي عِمْرَانَ تَرْجَمَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورجاء بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ، یہاں تک کہ آپ ایک انصاری کے باغ میں داخل ہوئے ، وہ وہاں پانی لگا رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : اگر میں تمہارے باغ کو پانی لگا دوں ، تو تم مجھے کیا معاوضہ دو گے ؟ اس نے کہا: میں بھرپور کوشش کر رہا ہوں کہ اسے سیراب کر دوں ، لیکن میں اس کی طاقت نہیں رکھتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : تم مجھے ایک سو کھجوریں دے دینا ، جو میں تمہاری کھجوروں میں سے منتخب کر لوں گا ، اُس نے کہا: ٹھیک ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈول لیا اور پھر اس باغ کو سیراب کر دیا ، یہاں تک کہ وہ شخص کہنے لگا : آپ تو میرا باغ ڈبو دیں گے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سو کھجوریں وصول کر لیں ۔ راوی کہتے ہیں : وہ کھجوریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے کھائیں ، یہاں تک کہ وہ سب لوگ سیر ہو گئے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک سو کھجوریں ہی واپس کر دیں ، جس طرح اُس سے لی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، یہ روایت ابوعمران کے حالت کے ضمن میں نقل کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14108
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ اس
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (244/18)»