حدیث نمبر: 14084
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : بِنَحْوِهِ - يَعْنِي بِنَحْوِ حَدِيثٍ قَبْلَهُ - وَزَادَ فِيهِ : وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى يَوْمًا صَلَاةَ الْغَدَاةِ ثُمَّ قَالَ : " هَذَا الذِّئْبُ وَمَا الذِّئْبُ جَاءَكُمْ يَسْأَلُكُمْ أَنْ تُعْطُوهُ أَوْ تُشْرِكُوهُ فِي أَمْوَالِكُمْ " . فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِحَجَرٍ فَمَرَّ أَوْ وَلَّى وَلَهُ عُوَاءٌ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ : وَهَذَا الَّذِي زَادَهُ جَرِيرٌ لَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاهُ غَيْرَهُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْأَوْبَرِ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کرتے ہیں ، جو اس سے پہلے والی روایت کی مانند ہے ، اور اس میں یہ الفاظ زائد ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ بھیڑیا ہے ، اور یہ بھیڑیا تمہارے پاس اس لئے آیا ہے کہ وہ تم سے یہ درخواست کر رہا ہے کہ تم اسے کچھ دو ، یا تم اپنے اموال میں اسے شریک کرو ، تو ایک شخص نے اسے پتھر مارا ، تو وہ چلا گیا ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ مڑ گیا اور وہ آوازیں نکال رہا تھا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ یہ کہتے ہیں : یہ اضافہ جریر نامی راوی نے نقل کیا ہے ، اس کے علاوہ ہمیں کسی کا علم نہیں ہے کہ کسی نے اسے روایت کیا ہو ، اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف زیاد بن ابواوبر کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ یہ کہتے ہیں : یہ اضافہ جریر نامی راوی نے نقل کیا ہے ، اس کے علاوہ ہمیں کسی کا علم نہیں ہے کہ کسی نے اسے روایت کیا ہو ، اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف زیاد بن ابواوبر کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔