حدیث نمبر: 14081
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : عَدَا الذِّئْبِ عَلَى شَاةٍ فَأَخَذَهَا ، فَطَلَبَهَا الرَّاعِي فَانْتَزَعَهَا مِنْهُ ، فَأَقْعَى الذِّئْبُ عَلَى ذَنَبِهِ فَقَالَ : أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ تَنْزِعُ مِنِّي رِزْقًا سَاقَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيَّ ؟ فَقَالَ : يَا عَجَبًا ذِئْبٌ مُقْعَى عَلَى ذَنَبِهِ يُكَلِّمُنِي بِكَلَامِ الْإِنْسِ ! فَقَالَ الذِّئْبُ : أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَعْجَبَ مِنْ ذَلِكَ ! مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَثْرِبَ يُخْبِرُ النَّاسَ بِأَنْبَاءِ مَا قَدْ سَبَقَ . قَالَ : فَأَقْبَلَ الرَّاعِي يَسُوقُ غَنَمَهُ حَتَّى دَخَلَ الْمَدِينَةَ فَزَوَى إِلَى زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهَا ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنُودِيَ : الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ : " أَخْبِرْهُمْ " . فَأَخْبَرَهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَدَقَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُكَلِّمَ السِّبَاعُ الْإِنْسَ ، وَيُكَلِّمَ الرَّجُلَ عَذَبَةُ سَوْطِهِ وَشِرَاكَ نَعْلِهِ ، وَيُخْبِرُ فَخِذُهُ مَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ بَعْدَهُ " . قُلْتُ : عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ طَرَفٌ مِنْ آخِرِهِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک بھیڑیے نے ایک بکری پر حملہ کر کے اُسے پکڑ لیا ، چرواہا اس کے پیچھے گیا ، اس نے اس بھیڑیے سے اس بکری کو چھٹرا لیا ، تو وہ بھیٹریا اپنی دم کے بل اقصاء کے طور پر بیٹھ گیا اور اس نے چرواہے سے کہا: کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں ہو ؟ تم نے مجھ سے وہ رزق چھین لیا ، جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا تھا ، اُس شخص نے کہا: یہ کیسی حیران کن بات ہے ، ایک بھیڑیا جو اپنی دم کے بل اقعاء کے طور پر بیٹھا ہے ، وہ میرے ساتھ انسانوں کی طرح کلام کر رہا ہے ، تو اس بھیڑیے نے کہا: کیا میں تمہیں اس سے زیادہ حیران کن بات نہ بتاؤں ؟ یثرب میں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں ، جو لوگوں کو پہلے زمانے کی خبریں دیتے ہیں ، راوی کہتے ہیں : پھر وہ چرواہا اپنی بکریوں کو ہانکتے ہوئے آیا اور مدینہ منورہ میں داخل ہوا ، اس نے مدینہ منورہ کے ایک کنارے پر انہیں اکٹھا کیا ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور آپ کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ، اعلان کیا گیا کہ سب لوگ اکٹھے ہو جائیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ نے اُس دیہاتی سے کہا: تم ان لوگوں کو اس بارے میں بتاؤ ، اس نے ان لوگوں کو بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس نے سچ کہا: ہے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے ، قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی ، جب تک جانور انسانوں کے ساتھ بات چیت نہیں کریں گے ، اور آدمی کے ساتھ اس کی چھڑی کا کونا اور اس کے جوتے کا تسمہ بھی کلام کریں گے ، اور اس کا زانوں اُسے بتائے گا کہ اُس کے بعد اس کی بیوی نے کیا کیا ؟ “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا آخری حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 14082
وَفِي رِوَايَةٍ : عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَيْضًا قَالَ : بَيْنَمَا رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ فِي غُنَيْمَةٍ لَهُ يَهُشُّ عَلَيْهِ فِي بَيْدَاءِ ذِي الْحُلَيْفَةِ إِذْ عَدَا عَلَيْهِ الذِّئْبُ فَانْتَزَعَ شَاةً مِنْ غَنَمِهِ ، فَجَهْجَأَهُ الرَّجُلُ يَرْمِي بِالْحِجَارَةِ حَتَّى اسْتَنْقَذَ مِنْهُ شَاتَهُ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ بِاخْتِصَارٍ وَرِجَالُ أَحَدِ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” ایک مرتبہ اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اپنی بکریوں میں موجود تھا ، وہ انہیں لے کر ذوالحلیفہ کے مقام میں جا رہا تھا ، اسی دوران ایک بھیڑیے نے اس پر حملہ کر دیا ، اس نے اس کی بکریوں میں سے ایک بکری کو حاصل کر لیا ، تو اس چرواہے نے اس بھیڑیے کو پتھر مارنے شروع کیے ، یہاں تک کہ اس سے بکری کو چھڑا لیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام أحمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام أحمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14083
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : جَاءَ ذِئْبٌ إِلَى رَاعِي غَنَمٍ فَأَخَذَ مِنْهَا شَاةً ، فَطَلَبَهُ الرَّاعِي حَتَّى انْتَزَعَهَا مِنْهُ . قَالَ : فَصَعِدَ الذِّئْبُ عَلَى تَلٍّ فَأَقْعَى وَاسْتَزْفَرَ وَقَالَ : عَمَدْتَ إِلَى رِزْقٍ رَزَقَنِيهِ اللَّهُ فَانْتَزَعْتَهُ مِنِّي ؟ فَقَالَ الرَّاعِي : بِاللَّهِ إِنْ رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ ذِئْبًا يَتَكَلَّمُ ! ! قَالَ الذِّئْبُ : أَعْجَبُ مِنْ هَذَا رَجُلٌ فِي النَّخَلَاتِ بَيْنَ الْحَرَمَيْنِ يُخْبِرُكُمْ بِمَا مَضَى وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ . وَكَانَ الرَّجُلُ يَهُودِيًّا فَجَاءَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَخَبَّرَهُ وَصَدَّقَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهَا أَمَارَاتٌ مِنْ أَمَارَاتٍ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ ، قَدْ أَوْشَكَ الرَّجُلُ أَنْ يَخْرُجَ فَلَا يَرْجِعُ حَتَّى تُحَدِّثَهُ نَعْلَاهُ وَسَوْطُهُ مَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ بَعْدَهُ " . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک بھیڑیا بکریوں کے چرواہے کے پاس آیا ، اور اس نے اُس کی بکریوں میں سے ایک بکری لے لی ، چرواہا اس کے پیچھے گیا ، اس نے اس بھیڑیے سے اس بکری کو چھٹرا لیا ، راوی کہتے ہیں : تو وہ بھیڑیا ایک ٹیلے پر چڑھا ، اُس نے اپنی دم دونوں ٹانگوں کے درمیان کی اور بولا: تم ایک ایسے رزق کی طرف آئے ، جسے اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا تھا ، اور تم نے اس کو مجھ سے چھین لیا ، تو اس چرواہے نے کہا: اللہ کی قسم ! میں نے آج کے دن کی طرح کی صورت حال کبھی نہیں دیکھی کہ ایک بھیڑیا بات چیت کر رہا ہے ، اُس بھیڑیے نے کہا: اس سے بھی زیادہ حیران کن وہ صاحب ہیں ، جو دو طرف پتھریلی زمین کے درمیان موجود کھجوروں کے درختوں کے درمیان رہتے ہیں ، اور وہ گزرے ہوئے زمانے کے بارے میں ، اور تمہارے بعد جو کچھ ہو گا ، اس کے بارے میں تمہیں بتاتے ہیں ، وہ شخص یہودی تھا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور اس نے اسلام قبول کر لیا ، اور آپ کو اس بارے میں بتایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات کی تصدیق کی اور آپ نے یہ بات ارشاد فرمائی : ” قیامت سے پہلے آنے والی نشانیوں میں ایک نشانی یہ بھی ہے ، عنقریب ایسا ہو گا کہ کوئی شخص جائے گا اور جب وہ واپس آئے گا ، تو اُس کا جوتا ، یا اُس کا کوڑا بتائیں گے کہ اُس کے بعد اس کے گھر والوں نے کیا کیا ؟ “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت صحیح میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت صحیح میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔