کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: درخت کا ، نبی اکرم ﷺ کی نبوت کے بارے میں گواہی دینا
حدیث نمبر: 14085
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ ، فَأَقْبَلَ أَعْرَابِيٌّ فَلَمَّا دَنَا قَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيْنَ تُرِيدُ ؟ " . قَالَ : إِلَى أَهْلِي . قَالَ : " هَلْ لَكَ فِي خَيْرٍ ؟ " . قَالَ : وَمَا هُوَ ؟ قَالَ : " تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " . قَالَ : مَنْ شَاهِدٌ عَلَى مَا تَقُولُ ؟ قَالَ : " هَذِهِ الشَّجَرَةُ " . فَدَعَاهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهِيَ بِشَاطِئِ الْوَادِي فَأَقْبَلَتْ تَخُدُّ الْأَرْضَ خَدًّا ، حَتَّى جَاءَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ فَاسْتَشْهَدَهَا ثَلَاثًا ، فَشَهِدَتْ أَنَّهُ كَمَا قَالَ ، ثُمَّ رَجَعَتْ إِلَى مَنْبَتِهَا وَرَجَعَ الْأَعْرَابِيُّ إِلَى قَوْمِهِ وَقَالَ : إِنْ يَتْبَعُونِي آتِيكَ بِهِمْ وَإِلَّا رَجَعْتُ إِلَيْكَ فَكُنْتُ مَعَكَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى أَيْضًا وَالْبَزَّارُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک سفر کے دوران ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، اسی دوران ایک دیہاتی آیا جب وہ قریب آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : تم کہاں جا رہے ہو ؟ اس نے جواب دیا : اپنے اہل خانہ کی طرف ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم بھلائی میں دلچسپی رکھتے ہو ؟ اس نے دریافت کیا : وہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، اس دیہاتی نے کہا: آپ جو بات کہہ رہے ہیں ، اس پر کون گواہ ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ درخت ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس درخت کو بلایا ، تو وہ وادی کے کنارے پر موجود تھا ، وہ وہاں سے زمین کو چیر کر چلتا ہوا آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کے کھڑا ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے تین مرتبہ گواہی طلب کی ، تو اس نے یہ گواہی دی کہ بات اُسی طرح ہے ، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما رہے ہیں ، پھر وہ واپس اپنے اُگنے کی جگہ کی طرف چلا گیا ، جب وہ دیہاتی اپنی قوم کی طرف واپس جانے لگا ، تو بولا: اگر ان لوگوں نے میری پیروی کی ، تو میں انہیں آپ کے پاس لے کر آؤں گا ، ورنہ میں آپ کے پاس واپس آ جاؤں گا اور پھر آپ کے ساتھ رہوں گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔