کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ( نبی اکرم ﷺ کے ) خصائص کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 13977
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كُتِبَ عَلَيَّ الْنَّحْرُ وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھ پر قربانی لازم قرار دی گئی ہے ، یہ تم پر لازم قرار نہیں دی گئی ہے ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13977
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11803) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (2920)»
حدیث نمبر: 13978
وَفِي رِوَايَةٍ : " أُمِرْتُ بِرَكْعَتَيِ الضُّحَى وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِهَا ، وَأُمِرْتُ بِالضُّحَى وَلَمْ تُكْتَبْ " . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” مجھے چاشت کی دو رکعات ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، تمہیں اس کا حکم نہیں دیا گیا اور مجھے قربانی کا حکم دیا گیا ہے ، اور یہ تم پر لازم قرار نہیں دی گئی ہے ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13978
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (2919 و 2081 و 2918)»
حدیث نمبر: 13979
وَفِي رِوَايَةٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَيْضًا قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " ثَلَاثٌ هُنَّ عَلَيَّ فَرَائِضُ وَهُنَّ لَكُمْ تَطَوُّعٌ : الْوِتْرُ وَالْنَّحْرُ وَصَلَاةُ الضُّحَى " .
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ بات منقول ہے : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تین چیزیں ہیں ، جو میرے لئے فرض ہیں اور تمہارے لئے نفل ہیں ، وتر ، قربانی اور چاشت کی نماز ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13979
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (2050)»
حدیث نمبر: 13980
وَفِي رِوَايَةٍ : " أُمِرْتُ بِرَكْعَتَيِ الضُّحَى وَالْوِتْرِ وَلَمْ تُكْتَبْ " ، رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ بِاخْتِصَارٍ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِي إِسْنَادٍ : " ثَلَاثٌ هُنَّ فَرَائِضُ " ، أَبُو خَبَّابٍ الْكَلْبِيُّ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهَا عِنْدَ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَفِي بَقِيَّةِ أَسَانِيدِهَا جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” مجھے چاشت کی دو رکعات ادا کرنے کا ، اور وتر ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، اور تم پر یہ لازم قرار نہیں دیے گئے ۔ “ یہ تمام روایات امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں ، اور امام بزار نے اس کی مانند روایات اختصار کے ساتھ نقل کی ہیں ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہیں ، اور ان کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” تین چیزیں ہیں ، جو مجھ پر فرض ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ ان کی سند میں ایک راوی ابوجناب کلبی ہے ، اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ، جو امام أحمد کے نقل کردہ ہیں ، وہ صحیح کے رجال ہیں اور ان کی بقیہ اسانید میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13980
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (2065)»
حدیث نمبر: 13981
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثٌ هُنَّ عَلَيَّ فَرِيضَةٌ وَهُمْ لَكُمْ سُنَّةٌ : الْوِتْرُ وَالسِّوَاكُ وَقِيَامُ اللَّيْلِ " ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّنْعَانِيُّ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تین چیزیں مجھ پر فرض ہیں ، اور وہ تمہارے لئے سنت ہیں ، وتر ، مسواک کرنا اور رات کو نوافل ادا کرنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبدالرحمن صنعانی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13981
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
حدیث نمبر: 13982
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعَصْرَ ، ثُمَّ دَخَلَ بَيْتِي فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَلَّيْتَ صَلَاةً لَمْ تَكُنْ تُصَلِّيهَا ؟ قَالَ : " قَدِمَ عَلَيَّ مَالٌ فَشَغَلَنِي ، عَنْ رَكْعَتَيْنِ كُنْتُ أَرْكَعُهُمَا بَعْدَ الظُّهْرِ ، فَصَلَّيْتُهُمَا الْآنَ " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَنَقْضِيهُمَا إِذَا فَاتَتَا ؟ قَالَ : " لَا " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ بِمَعْنَاهُ خَالِيًا عَنْ قَوْلِهَا : أَفَنِقْضِيهُمَا إِذَا فَاتَتْنَا ؟ ، قَالَ : " لَا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز ادا کی ، پھر آپ میرے گھر میں داخل ہوئے ، آپ نے دو رکعت ادا کیں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ایک ایسی نماز ادا کی ہے ، جو آپ پہلے ادا نہیں کرتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے پاس کچھ مال آیا ہوا تھا ( اس کو تقسیم کرنے کی وجہ سے ) مصروفیت کے باعث ، میں یہ دو رکعات ادا نہیں کر سکا ، جنہیں میں ظہر کے بعد ادا کرتا تھا ، تو میں نے اب وہ دونوں ادا کی ہیں ۔ “ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر ہماری یہ رہ جائیں ، تو کیا ہم بھی ان کی قضاء کریں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس مضمون کی ایک روایت مذکور ہے ، جس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” اگر یہ دونوں رہ جائیں ، تو کیا ہم بھی اس کی قضاء کریں ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13982
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7028) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (315/6)»
حدیث نمبر: 13983
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ ( نَافِلَةً لَكَ ) قَالَ : إِنَّمَا كَانَتِ النَّافِلَةُ خَاصَّةٌ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَقَالَ فِيهِ : فِي قَوْلِهِ : ( وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَكَ ) وَقَالَ فِي الْكَبِيرِ : كَانَتْ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَافِلَةً وَلَكُمْ فَضِيلَةً ، وَبَعْضُ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ وَغَيْرِهِ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” تمہارے لئے نفل ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : یہ خاص طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نفل تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، انہوں نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” رات کے وقت تم تہجد پڑھو ! یہ تمہارے لئے نفل ہو گا ۔ “ انہوں نے معجم کبیر میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” کہ یہ نماز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نفل تھی ، اور تمہارے لئے فضیلت ہے ۔ “ امام أحمد کی بعض اسانید اور دیگر حضرات کی بعض اسانید ” حسن “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13983
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8060) أخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (255/5)»
حدیث نمبر: 13984
وَعَنْ مُعَاذَةَ قَالَتْ : سَأَلَتِ امْرَأَةٌ عَائِشَةَ [ وَأَنَا شَاهِدَةٌ ] عَنْ [ وَصْلِ ] صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ لَهَا : أَتَعْمَلِينَ كَعَمَلِهِ ؟ فَإِنَّهُ قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ ، كَانَ عَمَلُهُ لَهُ نَافِلَةً ، رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَفِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤
محمد محی الدین
معاذہ ( نامی خاتون ) بیان کرتی ہیں : ایک خاتون نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا : میں اس وقت وہاں موجود تھی ، اس خاتون نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صوم وصال کے بارے میں دریافت کیا ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اُس سے فرمایا : کیا تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی طرح عمل کرنا چاہتی ہو ؟ اُن کے تو گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت ہو چکی ہے ، اور ان کا عمل ان کے لئے نفل ہوتا تھا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13984
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (250/6)»
حدیث نمبر: 13985
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِ سَأَلَ عَنْهُ ، فَإِنْ قِيلَ : هَدِيَّةٌ أَكَلَ ، وَإِنْ قِيلَ : صَدَقَةٌ قَالَ : " كُلُوا " . وَلَمْ يَأْكُلْ ، رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب آپ کے گھر والوں کے علاوہ کہیں اور سے کھانا لایا جاتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں دریافت کر لیتے ، اگر یہ بتایا جاتا کہ یہ تحفہ ہے ، تو آپ اسے کھا لیتے تھے اور اگر یہ کہا: جاتا : کہ یہ صدقہ ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : ( تم لوگ ) کھا لو ! اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اسے نہیں کھاتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13985
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (406/2)»
حدیث نمبر: 13986
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ فَأَكَلَ مِنْهُ ، بَعَثَ بِفَضْلِهِ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ ، وَكَانَ أَبُو أَيُّوبَ يَضَعُ أَصَابِعَهُ حَيْثُ يَرَى أَصَابِعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأُتِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَصْعَةٍ فَوَجَدَ فِيهَا رِيحَ ثَوْمٍ فَلَمْ يَذُقْهَا ، وَبَعَثَ بِهَا إِلَى أَبِي أَيُّوبَ ، فَنَظَرَ فَلَمْ يَرَ فِيهَا أَثَرَ أَصَابِعِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَذُقْهَا ، فَأَتَاهُ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ أَرَ فِيهَا أَثَرَ أَصَابِعِكَ ، قَالَ : " إِنِّي وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ ثَوْمٍ " ، قَالَ : تَبْعَثُ إِلَيَّ مَا لَمْ تَأْكُلْ ؟ قَالَ : " إِنِّي يَأْتِينِي الْمَلَكُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کھانا آتا تھا ، تو آپ کھا لیتے تھے اور جو بچ جاتا تھا ، وہ آپ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ کو بھجوا دیتے تھے ، سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ اپنی انگلیاں وہاں رکھتے تھے ، جہاں انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے نشان نظر آتے تھے ، ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیالہ لایا گیا ، آپ نے اس میں لہسن کی بو محسوس کی ، تو اسے چکھا بھی نہیں ، اور وہ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ کو بھجوا دیا ، انہوں نے دیکھا کہ اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کا نشان نظر نہیں آ رہا ، تو انہوں نے بھی اسے نہیں چکھا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کی انگلیوں کا نشان اس کھانے میں نہیں دیکھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے اس میں سے لہسن کی بو محسوس ہوئی تھی ، تو سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے عرض کی : وہ آپ نے مجھے بھجوا دیا ، جو آپ نے خود نہیں کھایا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے پاس فرشتہ آتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13986
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (96/5)»
حدیث نمبر: 13987
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ الضَّبِّيِّ أَنَّهُ أَتَى الْبَصْرَةَ وَبِهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ أَمِيرٌ ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَائِمٍ فِي ظِلِّ الْقَصْرِ يَقُولُ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ . لَا يَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ ، فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَقُلْتُ : لَقَدْ أَكْثَرْتَ مِنْ قَوْلِكَ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ! قَالَ : أَمَا وَاللَّهِ إِنْ شِئْتَ لَأَخْبَرْتُكَ ، فَقُلْتُ : أَجَلْ ، فَقَالَ : إِذَنِ اجْلِسْ ، وَقَالَ : إِنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْمَدِينَةِ مِنْ كَذَا وَكَذَا ، وَكَانَ شَيْخَانِ لِلْحَيِّ قَدِ انْطَلَقَ ابْنٌ لَهُمَا فَلَحِقَا بِهِ ، فَقَالَا : إِنَّكَ قَادِمُ الْمَدِينَةِ ، وَإِنَّ ابْنًا لَنَا قَدْ لَحِقَ بِهَذَا الرَّجُلِ ، فَائْتِهِ فَاطْلُبْهُ مِنْهُ ، فَإِنْ أَبَى إِلَّا الْفِدَاءَ فَافْتَدِهِ ، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ شَيْخَيْنِ لِلْحَيِّ قَدْ أَمَرَانِي أَنْ أَطْلُبَ ابْنًا لَهُمَا عِنْدَكَ ، فَقَالَ : " تَعْرِفُهُ ؟ " ، فَقَالَ : أَعْرِفُ نَسَبَهُ ، فَدَعَا الْغُلَامَ فَجَاءَ ، فَقَالَ : " هُوَ ذَا فَائْتِ بِهِ أَبَاهُ " ، قُلْتُ : الْفِدَاءُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " إِنَّهُ لَا يَصْلُحُ لَنَا آلَ مُحَمَّدٍ أَنْ نَأْكُلَ ثَمَنَ أَحَدٍ مِنْ آلِ إِسْمَاعِيلَ " ،[ ثُمَّ ضَرَبَ عَلَى كِتْفِي ] ثُمَّ قَالَ : " لَا أَخْشَى عَلَى قُرَيْشٍ إِلَّا أَنْفُسَهَا " ، قُلْتُ : وَمَا لَهُمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِنْ طَالَ بِكَ عُمْرٌ رَأَيْتَهُمْ هَهُنَا ، حَتَّى تَرَى النَّاسَ بَيْنَهَا كَالْغَنَمِ بَيْنَ الْحَوْضَيْنِ مَرَّةً إِلَى هُنَا وَمَرَّةً إِلَى هُنَا " ، فَأَنَا أَرَى نَاسًا يَسْتَأْذِنُونَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، رَأَيْتُهُمُ الْعَامَ يَسْتَأْذِنُونَ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَذَكَرْتُ قَوْلَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَعِمْرَانُ هَذَا لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عمران بن حصین ضبی کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ بصرہ آئے ، وہاں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما گورنر تھے ، وہاں محل کے سائے میں ایک شخص کھڑا ہوا تھا ، اور یہ کہہ رہا تھا : اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے ، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے ، وہ اس کے علاوہ کچھ نہیں کہہ رہا تھا ، راوی کہتے ہیں : میں اس کے پاس گیا ، میں نے کہا: تم بکثرت یہ بات کہہ رہے ہو ، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے ( اس کی وجہ کیا ہے ؟ ) اس نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر آپ چاہیں ، تو میں آپ کو اس بارے میں بتا دیتا ہوں ، میں نے کہا: ٹھیک ہے ، اس نے کہا: پھر آپ بیٹھ جائیں ، اس نے بتایا : ” ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں فلاں فلاں جگہ سے آیا تھا ، ہمارے قبیلے کے دو بوڑھوں کا لڑکا گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملا تھا ، ان دونوں نے کہا: تم مدینہ منورہ جاؤ ! ہمارا بیٹا ان صاحب سے جا کے مل گیا ہے ، تم ان صاحب کے پاس جاؤ ، اور ان سے اس لڑکے کا مطالبہ کرو ، اگر وہ فدیہ لینا چاہیں ، تو تم انہیں فدیہ بھی دے دینا ، میں مدینہ منورہ آیا ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے قبیلے کے دو بوڑھے افراد نے مجھے یہ ہدایت کی ہے کہ میں ان کے بیٹے کو آپ کے ہاں تلاش کروں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اسے پہچانتے ہو ؟ راوی نے کہا: میں اس کا نسب پہچانتا ہوں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکے کو بلوایا اور وہ آ گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ ہے وہ لڑکا ، تم اسے اس کے باپ کے پاس لے جاؤ ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! اس کا فدیہ کیا ہو گا ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہمارے لئے یعنی آل محمد کے لئے یہ بات درست نہیں ہے کہ ہم اولاد اسماعیل میں سے کسی کی قیمت کھائیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کندھے پر ہاتھ مارا اور فرمایا : مجھے قریش کے بارے میں صرف ان کے اپنے حوالے سے ہی اندیشہ ہے ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! وہ کیوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تمہاری عمر طویل ہوئی ، تو تم اُن ( قریش ) کو دیکھو گے کہ وہ یہاں ( حکمران ) ہوں گے اور تم دوسرے لوگوں کو دیکھو گے کہ وہ اُن کے درمیان یوں ہوں گے ، جیسے کوئی بکری ، دو حوضوں کے درمیان ہوتی ہے ، کبھی وہ اِدھر جاتی ہے ، کبھی اُدھر جاتی ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگ رہے تھے ، اور پھر میں نے اُنہی لوگوں کو دیکھا کہ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگ رہے تھے ، تو مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان یاد آ گیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور عمران نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13987
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (475/3)»
حدیث نمبر: 13988
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنَامُ مُسْتَلْقِيًا حَتَّى يَنْفُخَ ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ ، قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ غَيْرَ قَوْلِهِ : مُسْتَلْقِيًا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَقَالَ : يَنَامُ وَهُوَ سَاجِدٌ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چت لیٹ کر سو رہے تھے ، آپ خراٹے لینے لگے ، پھر آپ اُٹھے اور آپ نے نماز ادا کر لی ، اور دوبارہ وضو نہیں کیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” چت لیٹ کر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” آپ سجدے کی حالت میں سو گئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ امام ابویعلیٰ کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13988
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2437) اخرجه أبو يعلى فى المسند (5224)»
حدیث نمبر: 13989
وَعَنْ رَجُلٍ قَالَ : رَأَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَامَ حَتَّى نَفَخَ ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ، رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے ، یہاں تک کہ آپ خراٹے لینے لگے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی ، اور آپ نے دوبارہ وضو نہیں کیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13989
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (414/3)»
حدیث نمبر: 13990
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ لَا يُصَافِحُ النِّسَاءَ فِي الْبَيْعَةِ ، رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیعت لیتے ہوئے خواتین کے ساتھ مصافحہ نہیں کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13990
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (213/2)»
حدیث نمبر: 13991
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَسْتُ أُصَافِحُ النِّسَاءَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں خواتین کے ساتھ مصافحہ نہیں کرتا ہوں“ ۔
یہ روایت امام أحمد اور طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13991
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (180/24) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (454/6)»