کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: نبی اکرم ﷺ کی دعا کے بارے میں اور آپ ﷺ کے اس دعا میں ایک شرط عائد کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 13992
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَّخِذُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَا تُخْلِفُنِيهِ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ أَوْ سَبَبْتُهُ - أَوْ قَالَ : - لَعَنْتُهُ ، أَوْ جَلَدْتُهُ ، فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَصَلَاةً وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے اللہ ! میں تیری بارگاہ میں یہ عہد لیتا ہوں ، جس کی تو خلاف ورزی نہیں کرے گا ، میں ایک انسان ہوں میں ، جس بھی مؤمن شخص کو اذیت پہنچاؤں ، یا اُسے برا کہہ دوں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) جس پر میں لعنت کروں ، یا اسے کوڑے لگاؤں ، تو تو اس چیز کو اس شخص کے لئے پاکیزگی ، رحمت اور قربت کا ذریعہ بنا دینا ، جس کی وجہ سے تو قیامت کے دن اُسے اپنی بارگاہ کا قرب نصیب کرے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 13993
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَفَعَ إِلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ رَجُلًا وَقَالَ لَهَا : " احْتَفِظِي بِهِ " ، فَغَفَلَتْ حَفْصَةُ وَمَضَى الرَّجُلُ ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا حَفْصَةُ ، مَا فَعَلَ الرَّجُلُ ؟ " ، قَالَتْ : غَفَلْتُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَخَرَجَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَطَعَ اللَّهُ يَدَكِ " ، فَقَالَتْ بِيَدِهَا : هَكَذَا فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا شَأْنُكِ يَا حَفْصَةُ ؟ " ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُلْتَ قَبْلُ [ لِي ] كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : " ضَعِي يَدَكِ ، فَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَيُّمَا إِنْسَانٍ مِنْ أُمَّتِي دَعَوْتُ عَلَيْهِ أَنْ يَجْعَلَهَا لَهُ مَغْفِرَةً " ، رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما کو ایک شخص دیا اور ان سے فرمایا : تم اس کا خیال رکھنا ، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا اس سے غافل ہوئیں اور وہ شخص چلا گیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، تو آپ نے دریافت کیا : اے حفصہ ! اس شخص کا کیا حال ہے ؟ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس سے غافل ہوئی تو وہ چلا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھ کاٹ دے ، انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا ( یا اپنے ہاتھ اوپر کر لیے ) ، پھر بعد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے حفصہ ! تمہیں کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے پہلے میرے بارے میں یہ یہ بات ارشاد فرمائی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنا ہاتھ نیچے کر لو ! میں نے اپنے پروردگار سے یہ دعا مانگی ہے ، کہ اپنی امت کے جس بھی فرد کے خلاف ، میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں ، تو اُس دعا کو اس شخص کے لئے مغفرت کا باعث بنا دے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 13994
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : إِنَّ أَمْدَادَ الْعَرَبِ كَثُرُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى غَمُّوهُ ، وَقَامَ إِلَيْهِ الْمُهَاجِرُونَ يُفَرِّجُونَ عَنْهُ ، حَتَّى قَامَ عَلَى عَتَبَةِ عَائِشَةَ فَأَرْهَقُوهُ ، فَأَسْلَمَ رِدَاءَهُ فِي أَيْدِيهِمْ وَوَثَبَ عَنِ الْعَتَبَةِ فَدَخَلَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ الْعَنْهُمْ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلَكَ الْقَوْمُ ، قَالَ : " كَلَّا - [ وَاللَّهِ ] - يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ ، إِنِّي اشْتَرَطْتُ عَلَى رَبِّي شَرْطًا لَا خُلْفَ لَهُ ، قُلْتُ : إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَضِيقُ بِمَا يَضِيقُ بِهِ الْبَشَرُ ، فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ بَدَرَتْ إِلَيْهِ مِنِّي بَادِرَةٌ فَاجْعَلْهَا لَهُ كَفَّارَةً " ، قُلْتُ : لِعَائِشَةَ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، إِلَّا أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ لَمْ يُدْرِكْ عَائِشَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : عربوں کے وفود بکثرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، یہاں تک کہ آپ پریشانی کا شکار ہو گئے ، مہاجرین اُٹھ کر آپ کے پاس آئے اور ان لوگوں کو آپ سے پرے کیا ، یہاں تک کہ آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی چوکھٹ کے پاس کھڑے ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے ہاتھوں سے اپنی چادر چھڑوائی اور جلدی سے چوکھٹ پار کر کے اندر داخل ہو گئے ، پھر آپ نے فرمایا : اے اللہ ! تو ان پر لعنت کر ! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ لوگ ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہرگز نہیں ! اللہ کی قسم ! اے ابوبکر کی بیٹی ! میں نے ، اپنے پروردگار کے ساتھ یہ شرط طے کی ہے ، جس کی خلاف ورزی نہیں ہو گی ، میں نے یہ کہا: ہے : کہ میں ایک انسان ہوں ، میں اُسی طرح تنگی کا شکار ہو جاتا ہوں ، جس طرح کوئی انسان تنگی کا شکار ہوتا ہے ، تو مؤمنین میں سے جس کی طرف سے جلدبازی میں کوئی چیز چلی جائے تو اُس چیز کو اُس شخص کے لئے کفارہ بنا دینا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت صحیح میں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے منقول ہے ، تاہم وہ اس سیاق کے بغیر ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس روایت کی سند حسن ہے ، البتہ محمد بن جعفر بن زبیر نامی راوی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس روایت کی سند حسن ہے ، البتہ محمد بن جعفر بن زبیر نامی راوی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 13995
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ لَنَا : " إِنِّي أَتَغَيَّظُ عَلَيْكُمْ وَأَعْذُرُكُمْ ، ثُمَّ أَدْعُو اللَّهَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ : اللَّهُمَّ مَا لَعَنْتُهُمْ أَوْ سَبَبْتُهُمْ أَوْ تَغَيَّظْتُ عَلَيْهِمْ ، فَاجْعَلْهُ لَهُمْ بَرَكَةً وَرَحْمَةً وَمَغْفِرَةً وَصَلَاةً ، فَإِنَّهُمْ أَهْلِي وَأَنَا لَهُمْ نَاصِحٌ " ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے یہ فرماتے تھے : ” میں تم پر غصے ہوتا ہوں ، پھر میں تم لوگوں سے معذرت بھی کر لیتا ہوں ، پھر میں اللہ تعالیٰ سے اپنے اور اس کے درمیان معاملے کے حوالے سے دعا کرتا ہوں ، کہ اے اللہ ! جس پر میں نے لعنت کی ہو ، یا جس کو برا کہا: ہو ، یا جس پر غصے کا اظہار کیا ہو ، تو اُس چیز کو ان کے لئے برکت ، رحمت ، مغفرت اور فضل کا باعث بنا دے ، کیونکہ یہ لوگ میرے اہل ہیں اور میں ان کا خیرخواہ ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 13996
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اللَّهُمَّ مَنْ لَعَنْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ثُمَّ دَخَلَ فِي الْإِسْلَامِ ، فَاجْعَلْ ذَلِكَ قُرْبَةً لَهُ إِلَيْكَ " ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ حَالِ أَبِي السَّوَّارِ فِي مَنَاقِبِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اے اللہ ! میں نے زمانہ جاہلیت میں ، جس پر لعنت کی ہو اور پھر وہ مسلمان ہو گیا ہو ، تو تُو اس چیز کو اس شخص کے لئے اپنی بارگاہ میں مقرب ہونے کا باعث بنا دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد شاذ کونی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوسوار رضی اللہ عنہ کی حالت کے بارے میں حدیث اُن کے مناقب سے متعلق باب میں آگے آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد شاذ کونی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوسوار رضی اللہ عنہ کی حالت کے بارے میں حدیث اُن کے مناقب سے متعلق باب میں آگے آئے گی ۔
حدیث نمبر: 13997
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ وَأَرْضَى كَمَا يَرْضَى الْبَشَرُ ، فَمَنْ لَعَنْتُهُ مِنْ أَحَدٍ مِنْ أُمَّتِي فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَرَحْمَةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے اللہ ! بے شک میں ایک انسان ہوں ، میں اُسی طرح غصے میں آ جاتا ہوں ، جس طرح ایک انسان غصے میں آ جاتا ہے ، اور میں بھی اُسی طرح راضی ہو جاتا ہوں ، جس طرح کوئی انسان راضی ہوتا ہے ، تو اپنی امت کے جس فرد پر میں نے لعنت کی ہو ، تو اُس ( لعنت ) کو اُس شخص کے لئے پاکیزگی اور رحمت کا باعث بنا دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن ضحاک ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن ضحاک ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 13998
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خَثَيَمٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ ، فَوَجَدْتُهُ طَيِّبَ النَّفْسِ فَقُلْتُ : يَا أَبَا الطُّفَيْلِ ، أَخْبِرْنِي عَنِ النَّفَرِ الَّذِينَ لَعَنَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَهَمَّ أَنْ يُخْبِرَنِي ، فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ سَوْدَةُ : مَهْ يَا أَبَا الطُّفَيْلِ ، أَمَا بَلَغَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، فَأَيُّمَا عَبْدٍ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ دَعَوْتُ عَلَيْهِ بِدَعْوَةٍ فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَرَحْمَةً " ؟ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالله بن عثمان بن خثیم بیان کرتے ہیں : میں سیدنا ابوطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے ان کے مزاج کو خوشگوار پایا ، تو میں نے کہا: اے سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ ! آپ مجھے ان لوگوں کے بارے میں بتائیے جن پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی تھی ، وہ مجھے اُن کے بارے میں بتانے ہی والے تھے کہ اُن کی اہلیہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے ابوطفیل ! رک جائیے ! کیا آپ کو یہ بات پتہ نہیں چلی ہے ؟ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے اللہ ! میں ایک انسان ہوں ، مؤمنین میں سے جس شخص کے خلاف میں دعا کر دوں ، تو تُو اس کو اس شخص کے لئے پاکیزگی اور رحمت کا باعث بنا دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، امام أحمد نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اور ان کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، امام أحمد نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اور ان کی سند حسن ہے ۔