کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نبی اکرم ﷺ کو جو علم عطا کیا گیا ، اس کا بیان
حدیث نمبر: 13968
عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أُوتِيتُ مَفَاتِيحَ كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا الْخَمْسُ : ( إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ ) ، قُلْتُ : لِابْنِ عُمَرَ فِي الصَّحِيحِ : " مَفَاتِيحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ " ، رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے ہر چیز کی کنجیاں عطا کر دی گئی ہیں ، البتہ پانچ چیزوں کا معاملہ مختلف ہے ( جن کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے : ) ” بے شک اللہ تعالیٰ کے پاس ہی قیامت کا علم ہے ، اور وہ بارش نازل کرتا ہے ، اور وہ جانتا ہے جو رحموں میں ہوتا ہے ، اور کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا ؟ اور کوئی یہ نہیں جانتا کہ وہ کس سرزمین پر مرے گا ، بے شک اللہ تعالیٰ علم والا خبر والا ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث صحیح میں مذکور ہے ، جس میں یہ ذکر ہے کہ غیب کی کنجیاں پانچ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13968
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13346) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (4766)»
حدیث نمبر: 13969
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : أُوتِيَ نَبِيُّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَفَاتِيحَ كُلِّ شَيْءٍ غَيْرَ الْخَمْسِ : ( إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ ) . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر چیز کی کنجیاں عطا کی گئیں ، صرف پانچ چیزوں کا معاملہ مختلف ہے ( جن کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے : ) ” بے شک اللہ تعالیٰ کے پاس قیامت کا علم ہے ، وہ بارش نازل کرتا ہے ، اور جو رحموں میں ہے اسے جانتا ہے ، اور کوئی جان یہ نہیں جانتی کہ وہ کل کیا کمائے گی ؟ اور کوئی یہ نہیں جانتی کہ وہ کون سی سرزمین پر مرے گی ؟ بے شک اللہ تعالیٰ علم رکھنے والا ، خبر رکھنے والا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13969
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (5153) أخرجه الطيراني فى المعجم الصغير (445/1)»
حدیث نمبر: 13970
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُوتِيتُ فَوَاتِحَ الْكَلِمِ وَخَوَاتِمَهُ " ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلِّمْنَا مِمَّا عَلَّمَكَ اللَّهُ ، فَعَلَّمَنَا [ التَّشَهُّدَ ] . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ الْوَاسِطِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے افتتاحی اور اختتامی کلمات عطا کیے گئے ہیں ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو علم عطا کیا ہے ، اس میں سے ہمیں بھی تعلیم دیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تشہد کے کلمات سکھائے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق واسطی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13970
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7238)»
حدیث نمبر: 13971
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : لَقَدْ تَرَكْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا يُحَرِّكُ طَائِرٌ جَنَاحَيْهِ فِي السَّمَاءِ إِلَّا ذَكَّرَنَا مِنْهُ عِلْمًا ، رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَزَادَ : فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا بَقِيَ شَيْءٌ يُقَرِّبُ مِنَ الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُ مِنَ النَّارِ إِلَّا وَقَدْ بُيِّنَ لَكُمْ " . وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئِ وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ مَنْ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسی حالت میں چھوڑا کہ آسمان میں جو پرندہ اپنے پروں کو حرکت دیتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کے حوالے سے بھی علم ذکر کر دیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو بھی چیز جنت کے قریب کر سکتی ہے ، اور جہنم سے دور کر سکتی ہے ، ان میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہی ، مگر یہ کہ وہ تمہارے سامنے بیان کر دی گئی ہے ۔ “ طبرانی کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن یزید مقری کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، امام أحمد کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13971
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (147) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1647) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير 153/4»
حدیث نمبر: 13972
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّهُ قَالَ : قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُقَامًا خَبَّرَنَا بِمَا يَكُونُ فِي أُمَّتِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَعَاهُ مَنْ وَعَاهُ وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے آپ نے ہمیں ان امور کے بارے میں بتایا ، جو قیامت تک آپ کی اُمت میں رونما ہونا تھے ، جس نے اسے محفوظ رکھنا تھا ، اس نے محفوظ کیا اور جس نے اسے بھولنا تھا ، وہ اسے بھول گیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عمر بن ابراہیم بن محمد کا معاملہ مختلف ہے ، اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13972
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (254/4)»
حدیث نمبر: 13973
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : لَقَدْ تَرَكْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا فِي السَّمَاءِ طَائِرٌ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا ذَكَّرَنَا مِنْهُ عِلْمًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسی حالت میں چھوڑا ، کہ آسمان میں جو بھی پرندہ اپنے پروں کے ذریعے اُڑتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے اُس کے بارے میں علم ذکر کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13973
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (5109)»
حدیث نمبر: 13974
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : عَقَلْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَلْفَ مَثَلٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ہزار باتیں ( یا مثالیں ) یاد رکھی ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13974
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 13975
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَدِّثُنَا عَامَّةَ لَيْلِهِ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، لَا يَقُومُ إِلَّا إِلَى عُظْمِ صَلَاةٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں رات کا زیادہ تر حصہ بنی اسرائیل کے بارے میں بتاتے رہے ، اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف فرض نماز ادا کرنے کے لئے اُٹھے تھے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13975
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (437/4)»
حدیث نمبر: 13976
وَفِي رِوَايَةٍ : يَعْنِي : الْفَرِيضَةَ الْمَكْتُوبَةَ ، رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : اس سے مراد فرض نماز ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13976
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔