کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نبی اکرم ﷺ کا پیغام ہر شخص تک پہنچ جائے گا
عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَيَبْلُغُ هَذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ ، وَلَا يَتْرُكُ اللَّهُ بَيْتَ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ هَذَا الدِّينَ بِعِزِّ عَزِيزٍ أَوْ بِذُلِّ ذَلِيلٍ عِزًّا يُعِزُّ اللَّهُ بِهِ الْإِسْلَامَ وَذُلًّا يُذِلُّ اللَّهُ بِهِ الْكُفْرَ " ، وَكَانَ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ يَقُولُ : قَدْ عَرَفْتُ ذَلِكَ فِي أَهْلِ بَيْتِي ، قَدْ أَصَابَ مَنْ أَسْلَمَ مِنْهُمُ الْخَيْرُ وَالشَّرَفُ وَالْعِزُّ ، وَلَقَدْ أَصَابَ مَنْ كَانَ مِنْهُمْ كَافِرًا الذُّلُّ وَالصَّغَارُ وَالْجِزْيَةُ ، رَوَاهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْجِهَادِ وَالْمَغَازِي . ¤
محمد محی الدین
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” یہ معاملہ ضرور وہاں تک پہنچے گا ، جہاں تک رات اور دن پہنچتے ہیں ، اور اللہ تعالیٰ کوئی بھی کچا یا پکا گھر نہیں چھوڑے گا ، مگر یہ کہ اُس میں اس دین کو داخل کر دے گا ، خواہ کسی کو عزت حاصل ہو ، یا کسی کو ذلت حاصل ہو ، عزت والا وہ ہو گا ، جسے اللہ تعالیٰ اسلام کے ذریعے عزت عطا کرے ، اور ذلت والا وہ ہو گا ، جسے اللہ تعالیٰ کفر کے ذریعے ذلیل رکھے گا ۔ “ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے خود اپنے خاندان میں یہ بات جان لی ، اُن میں سے جو لوگ مسلمان ہوئے تھے انہیں بھلائی شرف اور عزت نصیب ہوا ، اور جو کافر رہے تھے ، انہیں ذلت ، ہلکا پن اور جزیہ دینا نصیب ہوا ۔
یہ روایت امام أحمد اور دیگر حضرات نے نقل کی ہے ، اس سے پہلے یہ جہاد اور مغازی سے متعلق کتاب میں گزر چکی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13964
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (103/4)»
وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ ، بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ ثَنَّى بِفَاطِمَةَ ثُمَّ تَلَقَّى أَزْوَاجَهُ ، فَقَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَتَى فَاطِمَةَ ، فَتَلَقَّتْهُ عَلَى بَابِ الْبَيْتِ فَجَعَلَتْ تَلْثُمُ فَاهُ وَعَيْنَيْهِ وَتَبْكِي ، فَقَالَ : " مَا يُبْكِيكِ ؟ " فَقَالَتْ : أَرَاكَ شَعِثًا نَصِبًا [ قَدِ ] اخْلَوْلَقَتْ ثِيَابُكَ ، فَقَالَ لَهَا : " لَا تَبْكِي فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - بَعَثَ أَبَاكِ بِأَمْرٍ لَا يُبْقِي عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ بَيْتَ مَدَرٍ [ وَلَا حَجَرٍ ] وَلَا وَبَرٍ وَلَا شَعْرٍ ، إِلَّا أَدْخَلَ اللَّهُ بِهِ عِزًّا أَوْ ذُلًّا ، حَتَّى يَبْلُغَ حَيْثُ بَلَغَ اللَّيْلُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ أَبُو فَرْوَةَ وَهُوَ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ مَعَ ضَعْفٍ كَثِيرٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے تشریف لاتے تھے ، تو سب سے پہلے مسجد میں آ کر وہاں دو رکعت ادا کرتے تھے ، پھر آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاتے تھے ، پھر اپنی ازواج سے ملاقات کرتے تھے ، ایک مرتبہ آپ سفر سے تشریف لائے ، آپ نے دو رکعت ادا کیں ، پھر آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ، گھر کے دروازے پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے ملاقات کی ، تو انہوں نے روتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گال اور آنکھوں پر بوسہ دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم کیوں رو رہی ہو ؟ انہوں نے عرض کی : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور آپ تھکاوٹ کا شکار ہیں ، آپ کا لباس پرانا ہو رہا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نہ روؤ ! کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کو ایک ایسی چیز کے ہمراہ مبعوث کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ روئے زمین پر کوئی کچا یا پکا گھر یا خیمہ ایسا نہیں رہنے دے گا ، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس ( گھر ) میں اس ( دین ) کے ذریعے عزت یا ذلت کو داخل کر دے گا ، یہاں تک کہ یہ دین وہاں تک پہنچ جائے گا ، جہاں تک رات پہنچتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سنان ابوفروہ ہے ، اور وہ مقارب الحدیث ہے اگرچہ اس میں بہت زیادہ ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13965
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف