کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نبی اکرم ﷺ اور آپ ﷺ کی پیروی کرنے والوں کی مثال
حدیث نمبر: 13957
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاهُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ مَلَكَانِ ، فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رِجْلَيْهِ وَالْآخَرُ عِنْدَ رَأْسِهِ ، فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رِجْلَيْهِ لِلَّذِي عِنْدَ رَأْسِهِ : اضْرِبْ مَثَلَ هَذَا وَمَثَلَ أُمَّتِهِ ، فَقَالَ : إِنَّ مَثَلَ هَذَا وَمَثَلَ أُمَّتِهِ كَمَثَلِ قَوْمٍ سَفْرٍ انْتَهَوْا إِلَى رَأْسِ مَفَازَةٍ ، فَلَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ مِنَ الزَّادِ مَا يَقْطَعُونَ بِهِ الْمَفَازَةَ وَلَا مَا يَرْجِعُونَ بِهِ ، فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ أَتَاهُمْ رَجُلٌ فِي حُلَّةٍ حِبَرَةٍ فَقَالَ أَرَأَيْتُمْ إِنْ وَرَدْتُ بِكُمْ رِيَاضًا مُعْشِبَةً وَحِيَاضًا رُوَاءً ، أَتَتَّبِعُونِي ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، فَانْطَلَقَ بِهِمْ فَأَوْرَدَهُمْ رِيَاضًا مُعْشِبَةً وَحِيَاضًا رُوَاءً ، فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا وَسَمِنُوا ، فَقَالَ لَهُمْ أَلَمْ أَلْقَكُمْ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ فَجَعَلْتُمْ لِي إِنْ أُورِدْكُمْ رِيَاضًا مُعْشِبَةً وَحِيَاضًا رُوَاءً أَنْ تَتَّبِعُونِي ؟ قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : فَإِنَّ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ رِيَاضًا هِيَ أَعْشَبُ مِنْ هَذِهِ وَحِيَاضًا أَرْوَى مِنْ هَذِهِ فَاتَّبِعُونِي ، قَالَ : فَقَامَتْ طَائِفَةٌ قَالَتْ : صَدَقَ وَاللَّهِ ، لَنَتَّبِعَنَّهُ ، وَقَالَتْ طَائِفَةٌ : قَدْ رَضِينَا بِهَذَا نُقِيمُ عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں دیکھا کہ دو فرشتے آپ کے پاس آئے ، ان میں سے ایک آپ کی پائینتی بیٹھ گیا اور دوسرا آپ کے سرہانے بیٹھ گیا ، جو فرشتہ آپ کی پائینتی بیٹھا ہوا تھا ، اس نے سرہانے موجود فرشتے سے کہا: تم ان کی اور ان کی امت کی مثال بیان کرو ! تو اس نے کہا: ان کی اور ان کی امت کی مثال سفر کرنے والے لوگوں کی مانند ہے جو کسی ویرانے میں ایک جگہ پر پہنچتے ہیں ، ان کے پاس زاد سفر نہیں ہوتا ، جس کی مدد سے وہ اس ویرانے کو پار کر سکیں ، اور نہ ہی وہ اس جگہ سے واپس جا سکتے ہیں ، ابھی وہ اسی حالت میں ہوتے ہیں کہ اُن کے پاس ایک شخص آتا ہے ، جس نے یمنی چادر کا حلہ پہنا ہوا ہوتا ہے ، وہ یہ کہتا ہے : اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ کہ اگر میں تم لوگوں کو سرسبز و شاداب باغات اور دیدہ زیب حوضوں میں لے جاؤں ؟ تو کیا تم لوگ میری پیروی کر لو گے ؟ وہ جواب دیتے ہیں : جی ہاں ! وہ اُن کو ساتھ لے کر سرسبز و شاداب باغات میں اور دیدہ زیب حوضوں میں جاتا ہے ، وہ لوگ وہاں کھاتے پیتے ہیں ، موٹے ہو جاتے ہیں ، پھر وہ شخص ان سے کہتا ہے : جب میں نے تمہارے ساتھ ملاقات کی تھی ، تو تمہاری ایک مخصوص حالت تھی ، اور تم نے میرے ساتھ یہ طے کیا تھا کہ میں تم لوگوں کو سرسبز و شاداب باغات اور حوضوں میں لے جاؤں گا ، اور پھر تم لوگ پیروی کر لو گے ، تو وہ لوگ کہتے ہیں : ٹھیک ہے ، تو وہ شخص کہتا ہے : آگے ایسے باغات ہیں ، جو ان سے زیادہ سرسبز و شاداب ہیں ، اور ایسے حوض ہیں ، جو ان سے زیادہ اچھے ہیں ، تو تم لوگ میری پیروی کرو ! تو ایک گروہ یہ کہتا ہے : اللہ کی قسم ! یہ ٹھیک کہہ رہے ہیں ، ہم ان کی پیروی کریں گے ، اور ایک گروہ کہتا ہے : ہم اسی پر راضی ہیں ، اور ہم یہیں رہیں گے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13957
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2407) أخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (2402)»
حدیث نمبر: 13958
وَعَنْ رَبِيعَةَ الْجَرْشِيِّ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتِيَ فَقِيلَ لَهُ : لِتَنَمْ عَيْنُكَ ، وَلْتَسْمَعْ أُذُنُكَ ، وَلْيَعْقِلْ قَلْبُكَ قَالَ : فَنَامَتْ عَيْنِي ، وَسَمِعَتْ أُذُنِي ، وَعَقَلَ قَلْبِي ، قَالَ : فَقِيلَ لَهُ : سَيِّدٌ بَنَى دَارًا ، وَصَنَعَ مَأْدُبَةً ، وَأَرْسَلَ دَاعِيًا ، فَمَنْ أَجَابَ الدَّاعِيَ دَخَلَ الدَّارَ وَأَكَلَ مِنَ الْمَأْدُبَةِ وَرَضِيَ عَلَيْهِ السَّيِّدُ ، وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّاعِيَ لَمْ يَدْخُلِ الدَّارَ وَلَمْ يَنَلْ مِنَ الْمَأْدُبَةِ وَسَخِطَ عَلَيْهِ السَّيِّدُ وَالسَّيِّدُ هُوَ اللَّهُ ، وَالدَّاعِي مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْمَأْدُبَةُ الْجَنَّةُ ، قَالَ : وَذَكَرَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ربیعہ جرشی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ؛ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فرشتہ آیا اور آپ سے کہا: گیا : آپ کی آنکھیں سو رہی ہیں ، لیکن آپ کے کان سن رہے ہیں ، اور آپ کا دل سمجھ رہا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری آنکھیں سو رہی ہیں ، میرے کان سن رہے ہیں ، اور میرا دل سمجھ رہا ہے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا: گیا : ایک سردار نے ایک گھر بنایا اور ایک دسترخوان تیار کیا اور ایک دعوت دینے والے کو بھیجا ، تو جس شخص نے دعوت دینے والے کی بات کو قبول کیا ، وہ گھر میں آ جائے گا اور دسترخوان سے کھائے گا ، اور سردار اس سے راضی ہو جائے گا ، اور جس شخص نے دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول نہیں کیا ، وہ گھر میں نہیں آئے گا اور دسترخوان سے کچھ حاصل نہیں کر پائے گا ، اور سردار اس پر ناراض ہو جائے گا ، تو سردار ، اللہ تعالیٰ ہے ، اور دعوت دینے والے ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور دسترخوان جنت ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ، راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری روایت نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے حسن سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13958
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4597)»
حدیث نمبر: 13959
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : اسْتَبَقَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا مَكَانَ كَذَا وَكَذَا فَخَطَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خُطَّةً فَقَالَ : " كُنْ بَيْنَ ظَهْرَيْ هَذِهِ لَا تَخْرُجْ مِنْهَا ، فَإِنَّكَ إِنْ خَرَجْتَ مِنْهَا هَلَكْتَ " ، قَالَ : فَكُنْتُ فِيهَا ، قَالَ : فَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَقَّ أَوْ أَبْعَدَ شَيْئًا - أَوْ كَمَا قَالَ - ثُمَّ إِنَّهُ ذَكَرَ هَنِينًا كَأَنَّهُمُ الزُّطُّ - قَالَ [ عَفَّانٌ ]أَوْ كَمَا قَالَ عَفَّانُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ - لَيْسَ عَلَيْهِمْ ثِيَابٌ وَلَا أَرَى سَوْآتِهِمْ طِوَالًا قَلِيلٌ لَحْمُهُمْ ، قَالَ : فَأَتَوْا فَجَعَلُوا يَرْكَبُونَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ عَلَيْهِمْ ، قَالَ : وَجَعَلُوا يَأْتُونَ فَيَخِيلُونَ [ أَوْ يَمِيلُونَ ] حَوْلِي وَيَعْتَرِضُونَ [ لِي ] ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَأُرْعِبْتُ مِنْهُمْ رُعْبًا شَدِيدًا ، قَالَ : فَجَلَسْتُ أَوْ كَمَا قَالَ - فَلَمَّا انْشَقَّ عَمُودُ الصُّبْحِ جَعَلُوا يَذْهَبُونَ - أَوْ كَمَا قَالَ - ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاءَ ثَقِيلًا وَجِعًا أَوْ يَكَادُ أَنْ يَكُونَ وَجِعًا مِمَّا رَكِبُوهُ ، قَالَ : " إِنِّي أَجِدُنِي ثَقِيلًا " - أَوْ كَمَا قَالَ - [ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ فِي حِجْرِي ، أَوْ كَمَا قَالَ ] قَالَ : ثُمَّ إِنَّ هَنِينًا أَتَوْا عَلَيْهِمْ ثِيَابٌ بِيضٌ طِوَالٌ - أَوْ كَمَا قَالَ - وَقَدْ أَغْفَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَأُرْعِبْتُ أَشَدَّ مِمَّا أُرْعِبْتُ فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى - قَالَ عَارِمٌ فِي حَدِيثِهِ : فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : هَلُمَّ فَلْنَضْرِبْ لَهُ مَثَلًا - أَوْ كَمَا قَالُوا - قَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : اضْرِبُوا لَهُمْ مَثَلًا وَنُئَوِّلُ نَحْنُ أَوْ نَضْرِبُ نَحْنُ وَتُأَوِّلُونَ أَنْتُمْ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : مَثَلُهُ كَمَثَلِ سَيِّدٍ بَنَى بُنْيَانًا حَصِينًا ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى النَّاسِ بِطَعَامٍ - أَوْ كَمَا قَالَ - فَمَنْ لَمْ يَأْتِ طَعَامَهُ - أَوْ قَالَ - لَمْ يَتْبَعْهُ ، عُذِّبَ عَذَابًا شَدِيدًا - أَوْ كَمَا قَالَ الْآخَرُونَ - أَمَّا السَّيِّدُ فَهُوَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ، وَأَمَّا الْبُنْيَانُ فَهُوَ الْإِسْلَامُ ، وَالطَّعَامُ الْجَنَّةُ ، وَهُوَ الدَّاعِي ، فَمَنِ اتَّبَعَهُ كَانَ فِي الْجَنَّةِ . قَالَ عَارِمٌ فِي حَدِيثِهِ : - أَوْ كَمَا قَالُوا - وَمَنْ لَمْ يَتْبَعْهُ عُذِّبَ - أَوْ كَمَا قَالَ - ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا رَأَيْتَ يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ ؟ " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : رَأَيْتُ كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا خَفِيَ عَلَيَّ شَيْءٌ مِمَّا قَالُوا " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُمْ نَفَرٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ - أَوْ قَالَ - هُمْ مِنَ الْمَلَائِكَةِ أَوْ كَمَا شَاءَ اللَّهُ " ، قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ وَرِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ عَمْرٍو الْبِكَالِيِّ ، وَذَكَرَهُ الْعِجْلِيُّ فِي ثِقَاتِ التَّابِعِينَ وَابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ فِي الصَّحَابَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ساتھ چلنے کے لئے کہا: راوی کہتے ہیں : ہم روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم فلاں مقام پر پہنچ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے زمین پر ایک لکیر لگا دی ، اور فرمایا : تم نے اس سے پیچھے رہنا ہے ، تم نے اس سے آگے نہیں نکلنا ، اگر تم اس سے آگے نکلے ، تو تم ہلاکت کا شکار ہو جاؤ گے ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اس کے اندر رہا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دور تشریف لے گئے ، جتنی دور کوئی کنکری پھینکنے پر جاتی ہے ، یا شاید اس سے کچھ زیادہ دور چلے گئے ، راوی کہتے ہیں : پھر انہوں نے کچھ افراد کو دیکھا ۔ یہاں عفان نامی راوی کو شک ہے ۔ ان کے جسم پر کوئی کپڑے نہیں تھے اور ان کی شرمگاہ بھی مجھے دکھائی نہیں دے رہی تھی ، وہ طویل القامت لوگ تھے اور ان کا گوشت نہیں تھا ، وہ لوگ آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد اکٹھے ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سامنے تلاوت کرنے لگے ، پھر وہ میرے پاس آتے تھے اور میرے اردگرد گھومتے تھے میرے سامنے آتے تھے ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اُن سے بہت زیادہ خوف زدہ ہو گیا ، لیکن میں بیٹھا رہا ، جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا ، جب صبح صادق کا وقت ہوا ، تو وہ لوگ جانے لگے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ بوجھل اور تکلیف کا شکار تھے ۔ راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : قریب تھا کہ آپ تکلیف کا شکار ہو جاتے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگ آپ کے پاس رہے تھے ، آپ نے فرمایا : مجھے بوجھل پن محسوس ہو رہا ہے ، یا جس طرح بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، پھر آپ نے اپنا سر مبارک میری گود میں رکھا ، یا جس طرح بھی راوی نے بیان کیا ، پھر انہوں نے کہا: کچھ لوگ آئے تھے ، جن کے جسم پر لباس پر سفید کپڑے تھے اور وہ طویل القامت تھے یا جس طرح بھی انہوں نے بیان کیا ، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو چکے تھے ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں پہلی مرتبہ جتنا پریشان ہوا تھا ، اس سے زیادہ پریشان ہو گیا ، یہاں عارم نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: ان کو بھلائی عطا کی گئی ہے ، یا جس طرح بھی انہوں نے کہا: کہ ان کی دونوں آنکھیں سوتی ہیں ، راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ان کی آنکھ سوتی ہے ، پھر اس نے دوسرے سے کہا: آؤ ہم ان کے لئے مثال بیان کرتے ہیں ، یا جس طرح بھی اس نے کہا: پھر انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: ان کے لئے مثال بیان کرو ، ہم اس کی وضاحت کریں گے ، یا یہ ہے کہ ہم مثال بیان کرتے ہیں ، اور تم اس کی وضاحت کر دینا ، پھر انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: ” ان کی مثال اس طرح ہے ، جیسے ایک سردار ایک قلعہ بناتا ہے ، اور پھر وہ لوگوں کو کھانے کی دعوت دیتا ہے ، تو جو شخص اس کھانے میں نہیں آتا ، راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : وہ اس کی پیروی نہیں کرتا ، اُسے زبردست عذاب دیا جائے گا ، یا جس طرح بھی انہوں نے کہا: تو دوسروں نے کہا: جہاں تک سردار کا تعلق ہے ، تو اس سے مراد تمام جہانوں کا پروردگار ہے ، جہاں تک عمارت کا تعلق ہے ، تو اس سے مراد اسلام ہے ، اور کھانے سے مراد ، جنت ہے ، اور یہ صاحب ، دعوت دینے والے ہیں ، جو شخص ان کی پیروی کر لے گا ، وہ جنت میں جائے گا ، یہاں عارم نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں ، یا جس طرح بھی انہوں نے کہا: اور جو ان کی پیروی نہیں کرے گا ، اُسے عذاب دیا جائے گا ، یا جس طرح بھی انہوں نے کہا: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو گئے ، آپ نے فرمایا : اے ابن ام عبد ! تم نے کیا دیکھا ؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں نے یہ یہ چیز دیکھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : انہوں نے جو جو باتیں کی تھیں ، وہ مجھ سے پوشیدہ نہیں رہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ فرشتوں کا گروہ تھا ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) یہ فرشتے تھے ، یا جو بھی اللہ کو منظور تھا ( وہ آپ نے فرمایا ) ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عمرو بقالی کا معاملہ مختلف ہے ، عجلی نے اس کا ذکر ثقہ تابعین میں کیا ہے ، اور ابن حبان اور دیگر حضرات نے اس کا ذکر صحابہ کرام میں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13959
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (3788)»