کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جو نبی اکرم ﷺ کے بارے میں سنتا ہے ، اور آپ پر ایمان نہیں لاتا
حدیث نمبر: 13960
عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَلَا يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ لَا يُؤْمِنُ بِي ، إِلَّا كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ " ، فَقُلْتُ : مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا فِي كِتَابِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَقَرَأْتُ فَوَجَدْتُ ( وَمَنْ يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الْأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ ) ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس اُمت کا ( جو بھی فرد ) یا جو یہودی ، یا جو عیسائی شخص ، میرے بارے میں سنتا ہے ، اور مجھ پر ایمان نہیں لاتا ، وہ اہل جہنم میں سے ہو گا ۔ “ راوی کہتے ہیں : میں نے سوچا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو بات ارشاد فرماتے ہیں ، وہ اللہ کی کتاب میں بھی ہوتی ہے ، میں نے قرآن پڑھا ، تو اس میں یہ آیت پائی : ” گروہوں میں سے جو شخص ان کا انکار کرے گا ، تو اُس کے ساتھ جہنم کا وعدہ ہے ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13960
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (16) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (396/4)»
حدیث نمبر: 13961
وَفِي رِوَايَةٍ : " فَلَمْ يُؤْمِنْ بِي لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ فِي الرِّوَايَتَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَالْبَزَّارُ أَيْضًا بِاخْتِصَارٍ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت کے یہ الفاظ ہیں : ” اور وہ مجھ پر ایمان نہ لائے ، وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، دونوں روایات میں امام أحمد نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اور امام أحمد کے رجال ” صحیح “ ہیں ، امام بزار نے بھی اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13961
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (396/4)»
حدیث نمبر: 13962
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَلَا يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ [ وَمَاتَ ] وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ ، إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ " ، قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ وَلَفْظُهُ : " لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ " ، رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے ، اس امت کا جو بھی فرد ، میرے بارے میں سنے ، یا جو یہودی یا عیسائی سنے ، اور وہ ایسی حالت میں مر جائے کہ وہ اس چیز پر ایمان نہ لایا ہو ، جس کے ہمراہ مجھے مبعوث کیا گیا ہے ، تو وہ شخص اہل جہنم میں سے ہو گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں یہ روایت مذکور ہے ، اور اس کے الفاظ یہ ہیں : ” اس اُمت سے تعلق رکھنے والا ، جو بھی یہودی ، یا عیسائی شخص میرے بارے میں سنے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13962
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (317/2)»