حدیث نمبر: 13901
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : مَرَّ يَهُودِيٌّ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُحَدِّثُ أَصْحَابَهُ ، قَالَ : فَقَالَتْ قُرَيْشٌ : يَا يَهُودِيُّ ، إِنَّ هَذَا يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ ؟ قَالَ : لَأَسْأَلَنَّهُ عَنْ شَيْءٍ لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا نَبِيٌّ ، قَالَ : فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ ثُمَّ قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، مِمَّ يُخْلَقُ الْإِنْسَانُ ؟ قَالَ : " يَا يَهُودِيُّ ، مِنْ كُلٍّ يُخْلَقُ ، مِنْ نُطْفَةِ الرَّجُلِ وَمِنْ نُطْفَةِ الْمَرْأَةِ ، فَأَمَّا نُطْفَةُ الرَّجُلِ فَنُطْفَةٌ غَلِيظَةٌ مِنْهَا الْعَظْمُ وَالْعَصَبُ ، وَأَمَّا نُطْفَةُ الْمَرْأَةِ فَنُطْفَةٌ رَقِيقَةٌ مِنْهَا اللَّحْمُ وَالدَّمُ " . فَقَامَ الْيَهُودِيُّ فَقَالَ : هَكَذَا كَانَ يَقُولُ مَنْ قَبْلَكَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ وَفِي أَحَدِ إِسْنَادَيْهِ عَامِرُ بْنُ مُدْرِكٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَفِي إِسْنَادِ الْجَمَاعَةِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک یہودی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا ، آپ اس وقت اپنے اصحاب کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ، قریش نے کہا: اے یہودی ! ان صاحب کا یہ کہنا ہے کہ یہ نبی ہیں ، تو اس یہودی نے کہا: میں ان سے ایک ایسی چیز کے بارے میں سوال کروں گا ، جس کا علم صرف کسی نبی کو ہو سکتا ہے ، پھر وہ شخص آیا اور بیٹھ گیا ، اس نے کہا: اے سیدنا محمد ! انسان کی تخلیق کس چیز سے ہوئی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے یہودی ! ہر شخص کو مرد کے نطفے اور عورت کے نطفے سے پیدا کیا جاتا ہے ، جہاں تک مرد کے نطفے کا تعلق ہے ، تو وہ گاڑھا نطفہ ہوتا ہے ، اس کے ذریعے ہڈیاں اور پٹھے بنتے ہیں ، جہاں تک عورت کے نطفے کا تعلق ہے ، تو وہ پتلا ہوتا ہے ، اس سے گوشت اور خون بنتا ہے ۔ “ تو یہودی کھڑا ہو گیا اور بولا: آپ سے پہلے کے ( انبیاء ) بھی اسی طرح بیان کیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اور امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان کی دو اسناد میں سے ایک سند میں ایک راوی عامر بن مدرک ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور راویوں کی جماعت میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اور امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان کی دو اسناد میں سے ایک سند میں ایک راوی عامر بن مدرک ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور راویوں کی جماعت میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حدیث نمبر: 13902
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَقْبَلَتِ الْيَهُودُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، إِنَّا نَسْأَلُكَ عَنْ خَمْسَةِ أَشْيَاءَ ، فَإِنْ أَنْبَأْتَنَا بِهِنَّ عَرَفْنَا أَنَّكَ نَبِيٌّ وَاتَّبَعْنَاكَ ، فَأَخَذَ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ إِسْرَائِيلُ عَلَى بَنِيهِ إِذْ قَالُوا : ( اللَّهُ عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيلٌ ) قَالَ : " هَاتُوا " ، [ قَالُوا : أَخْبِرْنَا عَنْ عَلَامَةِ النَّبِيِّ ؟ قَالَ : " تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ " ] قَالُوا : خَبِّرْنَا كَيْفَ تُؤَنِّثُ الْمَرْأَةُ وَكَيْفَ تُذَكِّرُ ؟ قَالَ : " يَلْتَقِي الْمَاآنِ ، فَإِذَا عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ أَذْكَرَتْ ، وَإِذَا عَلَا مَاءُ الْمَرْأَةِ مَاءَ الرَّجُلِ أَنَّثَتْ " ، قَالُوا : أَخْبِرْنَا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ ؟ قَالَ : " كَانَ يَشْتَكِي عِرْقَ النَّسَا ، فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا يُلَائِمُهُ إِلَّا أَلْبَانَ كَذَا وَكَذَا - قَالَ بَعْضُهُمْ : يَعْنِي الْإِبِلَ - فَحَرَّمَ لُحُومَهَا " ، قَالُوا : صَدَقْتَ ، قَالُوا : أَخْبِرْنَا مَا هَذَا الرَّعْدُ ؟ قَالَ : " مَلَكٌ مِنْ مَلَائِكَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مُوَكَّلٌ بِالسَّحَابِ ، بِيَدِهِ ، أَوْ فِي يَدِهِ مِخْرَاقٌ مِنْ نَارٍ يَزْجُرُ بِهِ السَّحَابَ ، يَسُوقُهُ حَيْثُ أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " ، قَالُوا : فَمَا هَذَا الصَّوْتُ الَّذِي نَسْمَعُ ؟ قَالَ : " صَوْتُهُ " ، قَالُوا : صَدَقْتَ إِنَّمَا بَقِيَتْ وَاحِدَةٌ ، إِنَّمَا نُبَايِعُكَ إِنْ أَخْبَرْتَنَا [ بِهَا فَ ] أَنَّهُ لَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا لَهُ مَنْ يَأْتِيهِ بِالْخَبَرِ ، فَأَخْبِرْنَا عَنْ صَاحِبِكَ ؟ قَالَ : " جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ " ، قَالُوا : جِبْرِيلُ ! ذَلِكَ الَّذِي يَنْزِلُ بِالْعَذَابِ وَالْحَرْبِ وَالْقِتَالِ وَهُوَ عَدُوُّنَا ، لَوْ قُلْتَ : مِيكَائِيلُ الَّذِي يَنْزِلُ بِالرَّحْمَةِ وَالنَّبَاتِ وَالْقَطْرِ لَكَانَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : ( قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ ) الْآيَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : کچھ یہودی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : اے ابوالقاسم ! ہم آپ سے پانچ چیزوں کے بارے میں دریافت کرنا چاہتے ہیں ، اگر آپ نے ہمیں ان چیزوں کے بارے میں بتا دیا ، تو ہمیں پتہ چل جائے گا کہ آپ نبی ہیں ، اور ہم آپ کی پیروی کر لیں گے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے وہ عہد لیا ، جو سیدنا اسرائیل ( یعنی سیدنا یعقوب علیہ السلام ) نے اپنے بیٹوں سے لیا تھا ، جب انہوں نے یہ کہا: تھا : کہ جو ہم کہہ رہے ہیں ، اس بارے میں اللہ تعالیٰ گواہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ سوال پیش کرو ! انہوں نے کہا: آپ ہمیں نبی کی علامت کے بارے میں بتائیے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کی آنکھیں سو جاتی ہیں لیکن اس کا دل نہیں سوتا ہے ، انہوں نے کہا: آپ ہمیں یہ بتائیے کہ مؤنث کیسے پیدا ہوتی ہے ؟ اور مذکر کیسے پیدا ہوتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دونوں کا نطفہ ملتا ہے ، جب مرد کا نطفہ عورت کے نطفے پر غالب آ جائے ، تو بیٹا ہوتا ہے اور جب عورت کا نطفہ مرد کے نطفے پر غالب آ جائے تو بیٹی ہوتی ہے ۔ “ ان لوگوں نے کہا: آپ ہمیں یہ بتائیے کہ سیدنا اسرائیل علیہ السلام ( یعنی سیدنا یعقوب علیہ السلام نے ) اپنے لئے کیا چیز حرام قرار دی تھی ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : انہیں عرق النساء کی شکایت ہو گئی تھی ، تو اس کے لئے انہیں صرف فلاں فلاں چیز کا دودھ موافق ہوا ، راوی کہتے ہیں : یعنی اونٹنیوں کا دودھ ، تو انہوں نے ان کا گوشت حرام قرار دے دیا ، ان لوگوں نے کہا: آپ نے ٹھیک کہا: ہے ، پھر انہوں نے کہا: آپ ہمیں گرج چمک کے بارے میں بتائیے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے ، جو بادل پر مقرر ہے ، اس کے ہاتھ میں آگ کا بنا ہوا کوڑا ہوتا ہے ، جس کے ذریعے وہ بادل کو ڈانٹتا ہے ، اور اس کے ذریعے اسے وہاں لے کر جاتا ہے جہاں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہوا ہو ، انہوں نے کہا: پھر وہ آواز کیا ہوتی ہے ؟ جو ہم سنتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ اس فرشتے کی آواز ہوتی ہے ، تو انہوں نے کہا: آپ نے ٹھیک کہا: ہے ، اب ایک چیز باقی رہ گئی ہے ، ہم آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیں گے ، اگر آپ نے ہمیں اس کے بارے میں بھی بتا دیا ، ہر نبی کے لئے کوئی نہ کوئی ایسا فرشتہ ہوتا ہے ، جو اس کے پاس اطلاعات لے کر آتا ہے ، تو آپ ہمیں اپنے متعلقہ فرشتے کے بارے میں بتائیے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ جبرائیل ہے ، ان لوگوں نے کہا: جبرائیل ، وہ تو عذاب ، جنگ اور لڑائی لے کر نازل ہوتا ہے ، وہ تو ہمارا دشمن ہے ، اگر آپ میکائیل کہہ دیتے ، جو رحمت ، نباتات اور بارش لے کر نازل ہوتا ہے ، تو ٹھیک ہونا تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” تم یہ فرما دو ! کہ جو شخص جبرائیل کا دشمن ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
حدیث نمبر: 13903
وَفِي رِوَايَةٍ : كُلَّمَا أَخْبَرَهُمْ بِشَيْءٍ فَصَدَّقُوهُ قَالَ : " اللَّهُمَّ اشْهَدْ " ، وَقَالَ فِيهَا : " أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ هَذَا النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ ؟ " ، قَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، وَقَالَ أَيْضًا : " فَإِنَّ وَلِيِّي جِبْرِيلُ وَلَمْ يَبْعَثِ اللَّهُ نَبِيًّا قَطُّ إِلَّا وَهُوَ وَلِيُّهُ " ، قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں جس کسی چیز کے بارے میں بتاتے ، تو وہ لوگ آپ کی تصدیق کر دیتے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : اے اللہ ! تو گواہ ہو جا ۔ “ اور اس روایت میں یہ الفاظ ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تم لوگوں کو اُس اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں ، جس نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی تھی ، کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو ؟ کہ امی نبی ، اُن کی آنکھیں سو جاتی ہیں ، لیکن دل نہیں سوتا ہے ، انہوں نے کہا: اللہ جانتا ہے ، جی ہاں ! اور اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرا ساتھی جبرائیل ہے ، اللہ تعالیٰ نے جس بھی نبی کو مبعوث کیا ، اس کا متعلقہ فرشتہ جبرائیل ہی ہوتا تھا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13904
وَعَنِ الْفَلَتَانِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ : كُنَّا قُعُودًا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَخَصَ بَصَرُهُ إِلَى رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ : " يَا فُلَانُ " ، فَقَالَ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : وَلَا يُنَازِعُهُ الْكَلَامَ إِلَّا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " ، قَالَ : لَا ، قَالَ : " أَتَقْرَأُ التَّوْرَاةَ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ وَالْإِنْجِيلَ ، قَالَ : " وَالْقُرْآنَ ؟ " ، قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَشَاءُ لَقَرَأْتُهُ ، قَالَ : ثُمَّ نَاشَدَهُ : " هَلْ تَجِدُنِي فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ ؟ " ، قَالَ : أَجِدُ مِثْلَكَ وَمِثْلَ هَيْأَتِكَ وَمِثْلَ مُخْرَجِكَ ، وَكُنَّا نَرْجُو أَنْ يَكُونَ مِنَّا ، فَلَمَّا خَرَجْتَ تَحَيَّرْنَا أَنْ يَكُونَ أَنْتَ هُوَ ، فَنَظَرْنَا فَإِذَا لَيْسَ أَنْتَ هُوَ ، قَالَ : " وَلِمَ ذَاكَ ؟ " ، قَالَ : إِنَّ مَعَهُ مِنْ أُمَّتِهِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ ، وَمَعَكَ نَفَرٌ يَسِيرٌ ، قَالَ : " فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَأَنَا هُوَ وَإِنَّهُمْ لَأُمَّتِي إِنَّهُمْ لَأَكْثَرُ مِنْ سَبْعِينَ أَلْفًا وَسَبْعِينَ أَلْفًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ مِنْ أَحَدِ الطَّرِيقَيْنِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا فلتان بن عاصم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران آپ نے نگاہ اُٹھا کر مسجد میں موجود ایک شخص کی طرف دیکھا اور فرمایا : اے فلاں ! اس شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں ، اس نے اور کوئی بات نہیں کی ، صرف یہ کہا: یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے تورات پڑھی ہوئی ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! اور انجیل بھی پڑھی ہوئی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اور قرآن ؟ اس نے کہا: اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اگر میں چاہوں ، تو اُسے بھی پڑھ سکتا ہوں ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے واسطہ دے کر دریافت کیا : تم نے تورات اور انجیل میں میرا ذکر پایا ہے ؟ اس نے کہا: میں نے آپ کی مثل اور آپ کی ہیئت کی مثل چیز پائی ہے ، لیکن ہم لوگوں کو یہ امید تھی کہ وہ نبی ہمارے خاندان میں سے ہوں گے ، جب آپ کا ظہور ہوا ، تو ہم حیران ہو گئے کہ آپ وہ نبی کیسے ہو سکتے ہیں ؟ جب ہم نے اس بارے میں تحقیق کی تو آپ وہ فرد نہیں ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ کیسے ؟ اس نے کہا: کیونکہ اس نبی کے ساتھ ، تو اُس کی امت کے ستر ہزار ایسے لوگ ہونے تھے ، جو جنت میں کسی حساب اور عذاب کے بغیر داخل ہوتے ، اور آپ کے ساتھ تو تھوڑے سے لوگ ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، وہ ” نبی “ میں ہی ہوں ، اور وہ میری ہی امت کے لوگ ہوں گے ، اور وہ ستر ہزار اور مزید ستر ہزار سے بھی زیادہ تعداد میں ہوں گے ( جو کسی حساب و کتاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں جو دو طریقوں میں سے ایک طریق کے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں جو دو طریقوں میں سے ایک طریق کے ہیں ۔
حدیث نمبر: 13905
وَعَنْ حَمْزَةَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، أَنَّ جَدَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ قَالَ لِأَحْبَارِ الْيَهُودِ : إِنِّي أُحْدِثُ بِمَسْجِدِ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ عَهْدًا ، فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ بِمَكَّةَ فَوَافَاهُ وَقَدِ انْصَرَفُوا مِنَ الْحَجِّ ، فَوَجَدَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمِنًى وَالنَّاسُ حَوْلَهُ ، فَقُمْتُ مَعَ النَّاسِ ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَنْتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ ؟ " . قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " ادْنُ " ، فَدَنَوْتُ مِنْهُ قَالَ : " أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ أَمَا تَجِدُنِي فِي التَّوْرَاةِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ " ، فَقُلْتُ : انْعَتْ رَبَّنَا ، فَجَاءَ جِبْرِيلُ حَتَّى وَقَفَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ ) " ، فَقَرَأَهَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ ابْنُ سَلَامٍ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ابْنُ سَلَامٍ إِلَى الْمَدِينَةِ فَكَتَمَ إِسْلَامَهُ ، فَلَمَّا هَاجَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَأَنَا فَوْقَ نَخْلَةٍ لِي أَجُدُّهَا فَسَمِعْتُ رَجَّةً فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ [ فَ ] قَالُوا : هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ قَدِمَ ، فَأَلْقَيْتُ نَفْسِي مِنْ أَعْلَى النَّخْلَةِ ، ثُمَّ خَرَجْتُ أَحْضُرُ حَتَّى أَتَيْتُهُ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، ثُمَّ رَجَعْتُ ، فَقَالَتْ أُمِّي : لِلَّهِ أَنْتَ ، لَوْ كَانَ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - مَا كَانَ بِذَلِكَ تُلْقِي نَفْسَكَ مِنْ أَعْلَى النَّخْلَةِ ؟ فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَأَنَا أَشَدُّ فَرَحًا بِقُدُومِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ مُوسَى إِذْ بُعِثَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ يُوسُفَ لَمْ يُدْرِكْ جَدَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ . ¤
محمد محی الدین
حمزه بن یوسف بن عبداللہ بن سلام بیان کرتے ہیں : ان کے دادا سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کے علماء سے کہا: میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی بنائی ہوئی مسجد سے ہو کے آیا ہوں ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے گئے تھے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے ، ان کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقت ملاقات ہوئی تھی ، جب لوگ حج کر کے واپس جا رہے تھے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منیٰ میں پایا ، آپ کے اردگرد لوگ موجود تھے ، وہ کہتے ہیں : میں لوگوں کے ساتھ کھڑا ہو گیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا تو دریافت کیا : تم عبداللہ بن سلام ہو ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم قریب ہو جاؤ ، میں قریب ہو گیا تو آپ نے فرمایا : اے عبداللہ بن سلام ! میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا تم نے تورات میں یہ نہیں پایا کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ تو میں نے کہا: آپ ہمارے پروردگار کے بارے میں ہمارے سامنے بیان کیجئے ! تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کھڑے ہو گئے اور انہوں نے یہ کہا: آپ یہ پڑھیں : ” تم یہ فرما دو ! کہ اللہ ایک ہے ، اللہ بے نیاز ہے ، اس نے کسی کو جنم نہیں دیا اور اسے جنم نہیں دیا گیا اور کوئی اس کا کفو نہیں ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیات سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے سامنے پڑھیں ، تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور آپ اللہ کے رسول ہیں ، پھر سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ واپس مدینہ منورہ چلے گئے ، انہوں نے یہودیوں سے اپنا اسلام چھپائے رکھا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی اور آپ مدینہ منورہ آ گئے ، تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں کھجور کے ایک درخت پر چڑھا ہوا تھا اور اس سے کھجوریں اتار رہا تھا ، اسی دوران میں نے شور و غل کی آواز سنی ، تو دریافت کیا : یہ کس وجہ سے ہے ؟ لوگوں نے بتایا : یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں ، تو میں نے کھجور کے درخت سے چھلانگ لگا دی ، پھر میں نکلا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ کو سلام کیا ، پھر میں واپس آیا ، تو میری والدہ نے کہا: اگر اُن کی جگہ سیدنا موسیٰ بن عمران علیہ السلام ہوتے ، تو تم نے اس وجہ سے کھجور کے درخت سے چھلانگ نہیں لگانی تھی ، تو میں نے کہا: اللہ کی قسم ! میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر ، اس سے زیادہ خوش ہوا ہوں ، جتنا سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی بعثت پر ہوتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ حمزہ بن یوسف نامی راوی نے اپنے دادا سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ حمزہ بن یوسف نامی راوی نے اپنے دادا سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔