کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اہل کتاب کے پاس نبی اکرم ﷺ کی نبوت کے حوالے سے کیا علم تھا ؟
حدیث نمبر: 13883
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ سَلَامَةَ بْنِ وَقْشٍ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ - قَالَ : كَانَ لَنَا جَارٌ مِنَ الْيَهُودِ فِي بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ ، [ قَالَ فَخَرَجَ عَلَيْنَا يَوْمًا قَبْلَ مَبْعَثِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَسِيرٍ ، فَوَقَفَ عَلَى مَجْلِسِ عَبْدِ الْأَشْهَلِ ] . ¤ قَالَ سَلَمَةُ : وَأَنَا يَوْمَئِذٍ أَحْدَثُ مَنْ فِيهِ سِنًّا ، عَلَيَّ بُرْدَةٌ مُضْطَجِعٌ فِيهَا بِفِنَاءِ أَهْلِي ، فَذَكَرَ الْبَعْثَ وَالْقِيَامَةَ وَالْحِسَابَ وَالْمِيزَانَ وَالْجَنَّةَ وَالنَّارَ ، فَقَالَ ذَلِكَ لِقَوْمٍ أَهْلِ أَوْثَانِ شِرْكٍ لَا يَرَوْنَ أَنَّ بَعْثًا كَائِنًا بَعْدَ الْمَوْتِ ، فَقَالُوا لَهُ : وَيْحَكَ يَا فُلَانُ ، تَرَى هَذَا كَائِنًا أَنَّ النَّاسَ يُبْعَثُونَ بَعْدَ مَوْتِهِمْ إِلَى دَارٍ فِيهَا جَنَّةٌ وَنَارٌ يُجْزَوْنَ فِيهَا بِأَعْمَالِهِمْ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ ، وُدَّ أَنَّ لَهُ بِحَظِّهِ مِنْ تِلْكَ النَّارِ أَعْظَمَ تَنُّورٍ فِي الدَّارِ يَحْمُونَهُ ثُمَّ يُدْخِلُونَهُ إِيَّاهُ فَيُطَيِّنُونَهُ عَلَيْهِ ، وَإِنَّهُ يَنْجُو مِنْ تِلْكَ النَّارِ غَدًا ، قَالَ : وَيْحَكَ وَمَا آيَةُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : نَبِيٌّ يُبْعَثُ مِنْ نَحْوِ هَذِهِ الْبِلَادِ ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ مَكَّةَ وَالْيَمَنِ ، قَالُوا : وَمَتَى نَرَاهُ ؟ فَنَظَرَ إِلَيَّ وَأَنَا مِنْ أَحْدَثِهِمْ سِنًّا ، فَقَالَ : إِنْ يَسْتَنْفِدْ هَذَا الْغُلَامُ عُمْرَهُ يُدْرِكْهُ ، قَالَ سَلَمَةُ : فَوَاللَّهِ مَا ذَهَبَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ حَتَّى بَعَثَ اللَّهُ تَعَالَى نَبِيَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ حَيٌّ بَيْنَ أَظْهُرِنَا ، فَآمَنَّا بِهِ وَكَفَرَ بِهِ بَغْيًا وَحَسَدًا ، فَقُلْنَا لَهُ : وَيْلَكَ يَا فُلَانُ ، أَلَيْسَ قُلْتَ لَنَا فِيهِ مَا قُلْتَ ؟ قَالَ : بَلَى وَلَيْسَ بِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ .
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن سلامہ بن وقش رضی اللہ عنہ ، جو غزوہ بدر میں شرکت کا شرف رکھتے ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : بنو عبداشہل میں ہمارا ایک یہودی پڑوسی تھا ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے ایک مرتبہ وہ نکل کر ہمارے پاس آیا اور عبداشہل کے لوگوں کی محفل کے پاس آ کر ٹھہر گیا ، سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں ان دنوں ان سب میں سب سے زیادہ کمسن تھا ، میرے جسم پر ایک چادر تھی ، جسے لپیٹ کر میں اپنے گھر کے صحن میں لیٹا ہوا تھا ، اس یہودی نے دوبارہ زندہ کیسے جانے ، قیامت ، حساب ، میزان ، جنت اور جہنم کا ذکر کیا ، تو بت پرستوں اور مشرکین سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں نے ، جو اس بات کے قائل نہیں تھے کہ مرنے کے بعد دوبارہ بھی زندہ کیا جا سکتا ہے ، تو انہوں نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو ، اے فلاں شخص ! تم یہ سمجھتے ہو کہ ایسا ہو گا ؟ اور لوگوں کو ان کے مرنے کے بعد ایک گھر میں منتقل کیا جائے ، جس میں جنت ہو گی ، یا جہنم ہو گی ، اور لوگوں کو اس وقت ان کے اعمال کے حساب سے بدلہ دیا جائے گا ؟ اس یہودی نے کہا: جی ہاں ! جس ذات کے نام کا حلف اٹھایا جاتا ہے ، اس وقت آدمی یہ خواہش کرے گا کہ جہنم کی آگ کے بدلے میں اُسے وہ سب سے بڑا تنور دے دیا جائے ، جسے وہ لوگ سلگایا کرتے تھے ، پھر وہ لوگ اس میں داخل ہو جائیں ، اور جب وہ اس میں داخل ہو جائیں ، تو اُسی ( تنور ) میں رچ بس جائیں ، لیکن اس آگ سے نجات پا لیں ، راوی کہتے ہیں : کسی شخص نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو ! اس کی نشانی کیا ہے ؟ تو اس نے جواب دیا : ایک نبی ہیں ، جو ان علاقوں میں مبعوث ہوں گے ، اس نے اپنے ہاتھ کے ذریعے مکہ اور یمن کی طرف اشارہ کیا ، لوگوں نے کہا: تمہارا کیا خیال ہے ؟ وہ کب ظاہر ہوں گے ؟ اس نے میری طرف دیکھا ، میں اُن لوگوں میں سب سے زیادہ کمسن تھا ، اس نے کہا: اگر یہ لڑکا اپنی طبعی عمر تک زندہ رہا ، تو یہ اُن کا زمانہ پا لے گا ۔ سیدنا مسلمہ رضی اللہ عنہ ہو کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! رات اور دن گزرتے رہے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مبعوث کر دیا اور اب وہ ہمارے درمیان زندہ ( موجود ) تھے ، ہم آپ پر ایمان لائے اور اس یہودی نے سرکشی اور حسد کی وجہ سے آپ کا انکار کیا ، ہم نے اس سے کہا: اے فلاں ! تمہارا ستیاناس ہو ، کیا تم نے ہمیں اس بارے میں ایک بات نہیں کی تھی ؟ اس نے کہا: جی ہاں ! لیکن وہ یہ نہیں ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13883
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6327) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (467/3)»
حدیث نمبر: 13884
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَيْضًا : أَنَّ يَهُودِيًّا كَانَ فِي بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ فَقَالَ لَنَا وَنَحْنُ فِي الْمَجْلِسِ : قَدْ أَطَلَّ هَذَا النَّبِيُّ الْقُرَشِيُّ الْحَرَمِيُّ ، ثُمَّ الْتَفَتَ فِي الْمَجْلِسِ ، فَقَالَ : إِنْ يُدْرِكْهُ أَحَدٌ يُدْرِكْهُ هَذَا الْفَتَى ، وَأَشَارَ إِلَيَّ ، فَقَضَى اللَّهُ أَنْ جَاءَ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ ، فَقُلْتُ : هَذَا النَّبِيُّ قَدْ جَاءَ ، فَقَالَ : أَمَا وَاللَّهِ إِنَّهُ لَإِنَّهُ ، فَقُلْتُ : مَا لَكَ عَنِ الْإِسْلَامِ ؟ فَقَالَ : وَاللَّهِ لَا أَدَعُ الْيَهُودِيَّةَ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ابْنِ إِسْحَاقَ وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ . ¤
محمد محی الدین
ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : جو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہی سے منقول ہے : ” بنو عبداشہل میں ایک یہودی تھا ، ہم ایک محفل میں موجود تھے ، اس نے ہم سے کہا: قریش سے تعلق رکھنے والے اور حرم سے تعلق رکھنے والے ، اُس نبی کا زمانہ آ گیا ہے ، پھر وہ اس محفل کی طرف متوجہ ہوا اور بولا: اگر کسی نے ان کا زمانہ پا لیا ، تو یہ نوجوان اُن کا زمانہ پا لے گا ، اس نے میری طرف اشارہ کر کے یہ بات بیان کی ، پھر اللہ کے حکم کے تحت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لے آئے ، تو میں نے کہا: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں ، تو اُس یہودی نے کہا: اللہ کی قسم ! یہ وہی ہیں ، میں نے کہا: پھر تم اسلام کیوں نہیں قبول کر لیتے ؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم ! میں یہودیت نہیں چھوڑوں گا ۔ “ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ابن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے ، اور اس نے سماع کی صراحت کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13884
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 13885
وَعَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ : قَالَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ : خَرَجْتُ إِلَى الْيَمَنِ فِي إِحْدَى رِحْلَتَيِ الْإِيلَافِ ، فَنَزَلْتُ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ فَرَآنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الدُّيِّوُرِ فَنَسَّبَنِي فَانْتَسَبْتُ لَهُ ، فَقَالَ : أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَنْظُرَ إِلَى بَعْضِكِ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، مَا لَمْ يَكُنْ عَوْرَةً ، فَفَتَحَ إِحْدَى مَنْخَرَيَّ فَنَظَرَ ، ثُمَّ نَظَرَ فِي الْآخَرِ ، قَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ فِي إِحْدَى يَدَيْكَ مُلْكًا ، وَفِي الْأُخْرَى نُبُوَّةً ، وَإِنَّا لِنَجِدُ ذَلِكَ فِي بَنِي زُهْرَةَ فَكَيْفَ ذَلِكَ ؟ قُلْتُ : لَا أَدْرِي ، قَالَ : هَلْ لَكَ مِنْ سَاعَةٍ ؟ قُلْتُ : وَمَا السَّاعَةُ ؟ قَالَ : زَوْجَةٌ ، قُلْتُ : أَمَّا الْيَوْمُ فَلَا ، قَالَ : فَإِذَا رَجَعْتَ فَتَزَوَّجْ فِي بَنِي زُهْرَةَ ، فَرَجَعَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ فَتَزَوَّجَ هَالَةَ بِنْتَ وُهَيْبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ زُهْرَةَ فَوَلَدَتْ لَهُ حَمْزَةَ ، وَزَوْجَ ابْنِهِ آمِنَةَ بِنْتِ وَهْبٍ ، فَقَالَتْ قُرَيْشٌ : نَبَحَ عَبْدُ اللَّهِ عَلَى أَبِيهِ ، فَوَلَدَتْ لَهُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ حَمْزَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَخَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الرَّضَاعَةِ ، أَرْضَعَتْهُمَا ثُوَيِّبَةُ مَوْلَاةُ أَبِي لَهَبٍ وَكَانَ أَسَنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جناب عبدالمطلب نے یہ بات بیان کی ہے : میں اپنے سالانہ دو سفروں میں سے ایک سفر میں یمن کی طرف گیا ، میں ایک یہودی شخص کے ہاں ٹھہرا ، وہاں کے ایک عبادت خانے کے ایک شخص نے مجھے دیکھا ، اُس نے مجھ سے میرا نسب دریافت کیا ، میں نے اس کے سامنے اپنا نسب بیان کیا ، اس نے کہا: کیا تم مجھے اس بات کی اجازت دو گے کہ میں تمہارے جسم کا جائزہ لوں ؟ میں نے کہا: ٹھیک ہے ، جبکہ شرمگاہ کے علاوہ ہو ، اس نے میرے نتھنوں میں سے ایک کھول کے دیکھا ، پھر دوسرے میں دیکھا اور پھر بولا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تمہارے ایک ہاتھ میں بادشاہی ہے ، اور دوسرے میں نبوت ہے ، لیکن ہم تو یہ چیز پاتے ہیں کہ اس کا تعلق بنو زہرہ سے بھی ہو گا ، تو یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ تو میں نے کہا: مجھے نہیں معلوم ، تو اس نے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس ساتھ ہے ؟ میں نے کہا: ساتھ سے مراد کیا ہے ؟ اس نے کہا: بیوی ، میں نے کہا: اب تو کوئی نہیں ہے ، اس نے کہا: جب تم واپس جاؤ گے ، تو تم بنو زہرہ میں شادی کر لینا ، جناب عبدالمطلب واپس آئے ، تو انہوں نے ہالہ بنت وہیب بن عبدمناف بن زہرہ سے شادی کی ، تو ان کے ہاں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے ، انہوں نے اپنے صاحبزادے ( سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ) کی شادی سیدہ آمنہ بنت وہب رضی اللہ عنہ کے ساتھ کی ، تو قریش نے کہا: عبداللہ نے اپنے والد کا مقابلہ کیا ہے ، سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جنم دیا ، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رضائی بھائی بھی تھے ، کیونکہ ابولہب کی کنیز ثویبہ نے اُن دونوں کو دودھ پلایا تھا ، اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی عمر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13885
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 13886
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ نَبِيَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِإِدْخَالِ رَجُلٍ الْجَنَّةَ ، فَدَخَلَ الْكَنِيسَةَ فَإِذَا هُوَ بِيَهُودٍ ، وَإِذَا بِيَهُودِيٍّ يَقْرَأُ عَلَيْهِمُ التَّوْرَاةَ ، فَلَمَّا أَتَوْا عَلَى صِفَةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمْسَكُوا ، وَفِي نَاحِيَتِهَا رَجُلٌ مَرِيضٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا لَكُمْ أَمْسَكْتُمْ ؟ " ، قَالَ الْمَرِيضُ : إِنَّهُمْ أَتَوْا عَلَى صِفَةِ نَبِيٍّ فَأَمْسَكُوا ، ثُمَّ جَاءَ الْيَهُودِيُّ يَحْبُو حَتَّى أَخَذَ التَّوْرَاةَ ، فَقَرَأَ حَتَّى أَتَى عَلَى صِفَةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُمَّتِهِ ، فَقَالَ : هَذِهِ صِفَتُكَ وَصِفَةُ أُمَّتِكَ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، ثُمَّ مَاتَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لُوا أَخَاكُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بھیجا ، تاکہ ایک شخص کو جنت میں داخل کروا دے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے عبادت خانے میں داخل ہوئے ، وہاں یہودی لوگ موجود تھے اور ایک یہودی شخص ان کے سامنے تورات پڑھ رہا تھا ، جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ کے مقام پر پہنچے ، تو اُس کو پڑھنے سے رک گئے ، اس عبادت خانے کے کونے میں ایک بیمار شخص موجود تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا ہوا ؟ تم رک کیوں گئے ؟ بیمار نے کہا: یہ لوگ اب نبی کی صفت کے مقام پر پہنچے ہیں ، اس لئے رک گئے ہیں ، پھر وہ ( بیمار ) یہودی شخص آیا ، وہ گھٹنوں کے بل جھکا ، اس نے تورات لی اسے پڑھا ، یہاں تک کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ اور آپ کی امت کی صفت کو پڑھا اور بولا: یہ صفت آپ کی ہے ، اور آپ کی امت کی ہے ، تو میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور آپ اللہ کے رسول ہیں ، پھر اس شخص کا انتقال ہو گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے بھائی کی دیکھ بھال کرو ( یعنی اس کے کفن دفن کا انتظام کرو ) ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے اور وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13886
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10295) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (5139)»
حدیث نمبر: 13887
وَعَنْ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حَرْبٍ أَنَّ أُمَيَّةَ بْنَ أَبِي الصَّلْتِ كَانَ مَعَهُ بِغَزَّةَ - أَوْ قَالَ : بِإِيلِيَاءَ - فَلَمَّا قَفَلْنَا قَالَ : يَا أَبَا سُفْيَانَ أَيُّهُنَّ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ ؟ قُلْتُ : إِنَّهُنَّ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ : كَرِيمُ الطَّرَفَيْنِ وَيَجْتَنِبُ الْمَظَالِمَ وَالْمَحَارِمَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : وَشَرِيفٌ مُسِنٌّ ، قَالَ : السِّنُّ وَالشَّرَفُ أَزْرَيَا بِهِ ، فَقُلْتُ لَهُ : كَذَبْتَ ، مَا ازْدَادَ سِنًّا إِلَّا ازْدَادَ شَرَفًا ، قَالَ : يَا أَبَا سُفْيَانَ ، إِنَّهَا لَكَلِمَةٌ مَا سَمِعْتُهَا مِنْ أَحَدٍ يَقُولُهَا لِي مُنْذُ تَنَصَّرْتُ لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ حَتَّى أُخْبِرَكَ ، قُلْتُ : هَاتِ ، قَالَ : إِنِّي كُنْتُ أَجِدُ فِي كُتُبِي نَبِيًّا يُبْعَثُ مِنْ حَرَمِنَا ، فَكُنْتُ أَظُنُّ ، بَلْ كُنْتُ لَا أَشُكُّ أَنِّي هُوَ ، فَلَمَّا دَارَسْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ إِذَا هُوَ مِنْ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ ، فَنَظَرْتُ فِي بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يَصْلُحُ لِهَذَا الْأَمْرِ غَيْرَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ ، فَلَمَّا أَخْبَرَنِي بِنَسَبِهِ عَرَفْتُ أَنَّهُ لَيْسَ بِهِ حِينَ جَاوَزَ الْأَرْبَعِينَ وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : فَضَرَبَ الدَّهْرُ ضَرَبَاتِهِ وَأُوحِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجْتُ فِي رَكْبٍ مِنْ قُرَيْشٍ أُرِيدُ الْيَمَنَ فِي تِجَارَةٍ ، فَمَرَرْتُ بِأُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ فَقُلْتُ لَهُ كَالْمُسْتَهْزِئِ بِهِ : يَا أُمَيَّةُ ، قَدْ خَرَجَ النَّبِيُّ الَّذِي كُنْتَ تَنْتَظِرُ ، قَالَ : أَمَا إِنَّهُ حَقٌّ فَاتَّبِعْهُ ، قُلْتُ : مَا يَمْنَعُكَ مِنَ اتِّبَاعِهِ ؟ قَالَ : الِاسْتِحْيَاءُ مِنْ نَسَيَاتِ ثَقِيفٍ ، إِنِّي كُنْتُ أُحَدِّثُهُمْ أَنِّي هُوَ ، ثُمَّ يَرَوْنِي تَابِعًا لِغُلَامٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ ، ثُمَّ قَالَ أُمَيَّةُ : كَأَنِّي بِكَ يَا أَبَا سُفْيَانَ إِنْ خَالَفْتَهُ قَدْ رُبِطْتَ كَمَا يُرْبَطُ الْجَدْيُ ، حَتَّى يُؤْتَى بِكَ إِلَيْهِ فَيَحْكُمَ فِيكَ مَا يُرِيدُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُجَاشِعُ بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اُمیہ بن ابوصلت ان کے ساتھ ” غزہ “ میں یا ” ایلیاء “ میں موجود تھا ، جب ہم واپس آ رہے تھے تو اس نے کہا: اے ابوسفیان ! کیا تم اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو ؟ کہ ہم اپنے ساتھیوں سے ذرا آگے بڑھ جائیں اور آپس میں بات چیت کریں ، میں نے کہا: ٹھیک ہے ، راوی کہتے ہیں : ہم نے ایسا ہی کیا ، اس نے کہا: اے ابوسفیان ! ان میں سے کون عتبہ بن ربیعہ کے خاندان میں سے ہے ؟ میں نے کہا: یہ ( سب ) لوگ عتبہ کے خاندان ہی سے تعلق رکھتے ہیں ، اس نے کہا: وہ ماں باپ کی طرف سے معزز ہے ، اور ظلم کرنے اور حرام کاموں کے ارتکاب سے اجتناب کرتا ہے ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! اس نے کہا: وہ معزز عمر رسیدہ فرد ہے ، اس نے یہ کہا: عمر رسیدگی اور شرف اس کو حقیر کرتے ہیں ، میں نے اس سے کہا: تم غلط کہہ رہے ہو ، جیسے جیسے عمر بڑھتی جاتی ہے ، آدمی کی عزت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے ، اس نے کہا: اے ابوسفیان ! یہ ایک بات ہے ، جو میں نے کسی سے سنی نہیں ہے ، جب سے میں نے عیسائیت اختیار کی ہے ، میں نے کسی کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا ، تم میرے بارے میں جلدبازی نہ کرو ، میں تمہیں بتاتا ہوں ، اس نے کہا: میں نے اپنی کتابوں میں ایک نبی کا ذکر پایا ہے ، جو ہمارے حرم میں مبعوث ہو گا ، تو میرا یہ گمان تھا ، بلکہ مجھے اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ وہ نبی ” میں “ ہوؤں گا ، لیکن جب میں نے اہل علم سے مذاکرات کیے ، تو پتہ چلا کہ اس کا تعلق بنو عبدمناف سے ہو گا ، میں نے بنو عبدمناف کا جائزہ لیا ، تو مجھے ایسا کوئی شخص نہیں ملا ، جو اس کام کے لئے عتبہ بن ربیعہ سے زیادہ موزوں ہو ، لیکن جب تم نے مجھے اس کے نسب کے بارے میں بتایا تو مجھے پتہ چل گیا کہ وہ بھی نہیں ہے ، کیونکہ اس کی عمر چالیس سال سے زیادہ ہو چکی ہے ، اور اس پر وحی نازل نہیں ہوئی ، ابوسفیان کہتے ہیں : پھر ایک زمانہ گزر گیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی نازل ہوئی ، میں قریش کے کچھ سواروں کے ساتھ تجارت کے سلسلے میں یمن جانے کے لئے نکلا ، میرا گزر امیہ بن صلت کے پاس سے ہوا ، میں نے اس کا مذاق اڑانے کے طور پر اس سے کہا: اے امیہ ! وہ نبی مبعوث ہو گئے ہیں ، جن کا تم انتظار کر رہے تھے ، اس نے کہا: وہ حق ہیں ، تم ان کی پیروی کرو ، میں نے کہا: تم اُن کی پیروی کیوں نہیں کرتے ؟ اس نے کہا: مجھے ثقیف قبیلے کی عورتوں سے حیاء آتی ہے ، وہ ایک زمانے سے مجھے پیشوا کے طور پر دیکھتی آ رہی ہیں ، اور پھر وہ مجھے دیکھیں گی کہ میں بنو عبدمناف سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کا پیروکار بن گیا ہوں ، پھر اُمیہ نے کہا: اے ابوسفیان ! تمہارے بارے میں یوں لگتا ہے کہ جیسے تم ان کی مخالفت کرو گے اور پھر تمہیں یوں باندھ دیا جائے گا ، جس طرح جدی کو باندھا جاتا ہے ، یہاں تک کہ تمہیں ان کے پاس لے جایا جائے گا ، اور تمہارے بارے میں وہ جو چاہیں گے فیصلہ دیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجاشع بن عمرو ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13887
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7262)»
حدیث نمبر: 13888
وَعَنْ خَلِيفَةَ بْنِ عَبْدَةَ بْنِ جَرْوَلٍ قَالَ : سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَدِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ سَوَاةَ بْنِ جُشَمَ : كَيْفَ سَمَّاكَ أَبُوكَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مُحَمَّدًا ؟ قَالَ : أَمَا إِنِّي سَأَلْتُ أَبِي عَمَّا سَأَلْتَنِي عَنْهُ فَقَالَ : خَرَجْتُ رَابِعَ أَرْبَعَةٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، أَنَا أَحَدُهُمْ ، وَسُفْيَانُ بْنُ مُجَاشِعِ بْنِ دَارِمٍ ، وَأُسَامَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُنْدُبِ بْنِ الْعَنْبَرِ ، وَيَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ كَامِنِ بْنِ حُرْقُوصِ بْنِ مَازِنٍ ، نُرِيدُ ابْنَ جَفْنَةَ الْغَسَّانِيَّ بِالشَّامِ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الشَّامَ نَزَلْنَا عَلَى غَدِيرٍ عَلَيْهَا شَجَرَاتٍ لِدَيْرَانِيٍّ صَاحِبِ صَوْمَعَةٍ فَقُلْنَا : لَوِ اغْتَسَلْنَا مِنْ هَذَا الْمَاءِ ، وَادَّهَنَّا وَلَبِسْنَا ثِيَابَنَا ، ثُمَّ أَتَيْنَا صَاحِبَنَا ، فَأَشْرَفَ عَلَيْنَا الدَّيْرَانِيُّ فَقَالَ : إِنَّ هَذِهِ لُغَةٌ مَا هِيَ لُغَةُ أَهْلِ الْبَلَدِ ، فَقُلْنَا : نَعَمْ ، نَحْنُ قَوْمٌ مِنْ مُضَرَ ، قَالَ : مِنْ أَيِّ مُضَرَ ؟ قُلْنَا : مِنْ خِنْدِفٍ ، قَالَ : أَمَا إِنَّهُ سَيُبْعَثُ مِنْكُمْ وَشِيكًا نَبِيٌّ فَسَارِعُوا وَجِدُّوا بِحَظِّكُمْ مِنْهُ تَرْشُدُوا ، فَإِنَّهُ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ ، فَقُلْنَا : مَا اسْمُهُ ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا مِنْ عِنْدِ ابْنِ جَفْنَةَ وُلِدَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا غُلَامٌ ، فَسَمَّاهُ مُحَمَّدًا ، قَالَ الْعَلَاءُ : قَالَ قَيْسُ بْنُ عَاصِمٍ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَدْرِي [ مَنْ أَوَّلُ ] مَنْ عَلِمَ بِكَ مِنَ الْعَرَبِ قَبْلَ أَنْ تُبْعَثَ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : بَنُو تَمِيمٍ ، وَقَصَّ عَلَيْهِ هَذِهِ الْقِصَّةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
خلیفہ بن عبدہ بن جرول بیان کرتے ہیں : میں نے محمد بن عدی بن ربیعہ سے دریافت کیا : آپ کے والد نے زمانہ جاہلیت میں آپ کا نام ” محمد “ کیوں رکھا تھا ؟ تو انہوں نے بتایا : تم نے جس چیز کے بارے میں مجھ سے دریافت کیا ہے ، میں نے بھی اس کے بارے میں اپنے والد سے دریافت کیا تھا ، تو انہوں نے بتایا : مجھ سمیت بنو تمیم سے تعلق رکھنے والے چار افراد روانہ ہوئے ، میں اُن میں سے ایک تھا ، ایک سفیان بن مجاشع بن دارم تھا ، ایک اسامہ بن مالک تھا ، اور ایک یزید بن ربیعہ تھا ، ہم لوگ شام میں موجود ابن جفنہ غسانی کی طرف جا رہے تھے ، جب ہم شام آئے تو ہم نے ایک کنویں کے پاس پڑاؤ کیا ، جس کے آس پاس درخت تھے اور پاس ہی ایک عبادت خانہ تھا ، ہم نے کہا: اگر ہم اس پانی کے ذریعے غسل کر لیں تیل لگائیں اور عمدہ لباس پہنیں ، تو پھر ہم اپنے متعلقہ فرد کے پاس جائیں گے ، اسی دوران اس عبادت خانے کے شخص نے ہمیں جھانک کر دیکھا اور بولا: یہ زبان تو اس علاقے کی زبان نہیں ہے ، ہم نے کہا: جی ہاں ! ہم مضر قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں ، اس نے دریافت کیا : مضر میں سے کس سے تعلق ہے ؟ ہم نے کہا: خندف سے ہے ، اس نے کہا: تم میں ایک نبی کو مبعوث کیا جائے گا ، تو تم لوگ جلدی کرنا اور ان سے اپنا حصہ حاصل کر لینا ، تم لوگ ہدایت پا جاؤ گے ، کیونکہ وہ انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والے ہوں گے ، ہم نے کہا: اُن کا نام کیا ہو گا ؟ اس نے جواب دیا : سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) جب ہم ابن جفنہ کے پاس سے واپس آئے ، تو ہم میں سے ہر ایک کے ہاں لڑکا پیدا ہوا ، تو ہر ایک نے اپنے بیٹے کا نام ” محمد “ رکھا ۔ علاء بیان کرتے ہیں : قیس بن عاصم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: کیا آپ جانتے ہیں ، عربوں میں سے آپ کے بارے میں سب سے پہلے کسے علم تھا ؟ جو علم آپ کی بعثت سے بھی پہلے حاصل ہوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی نہیں ! اس نے کہا: بنو تمیم کو تھا ، پھر انہوں نے پورا واقعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13888
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (111/17)»
حدیث نمبر: 13889
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ الْمُطْعِمِ قَالَ : كُنْتُ أَكْرَهُ أَذَى قُرَيْشٍ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا ظَنَنْتُ أَنَّهُمْ سَيَقْتُلُوهُ خَرَجْتُ حَتَّى لَحِقْتُ بِدَيْرٍ مِنَ الدِّيَارَاتِ ، فَذَهَبَ أَهْلُ الدَّيْرِ إِلَى رَأْسِهِمْ فَأَخْبَرُوهُ ، فَقَالَ : أَقِيمُوا لَهُ حَقَّهُ الَّذِي يَنْبَغِي لَهُ ثَلَاثًا فَلَمَّا رَأَوْهُ لَمْ يَذْهَبْ فَانْطَلَقُوا إِلَى صَاحِبِهِمْ فَأَخْبَرُوهُ ، فَقَالَ : قُولُوا لَهُ : قَدْ أَقَمْنَا لَكَ بِحَقِّكَ الَّذِي يَنْبَغِي لَكَ ، فَإِنْ كُنْتَ وَصِبًا فَقَدْ ذَهَبَ وَصَبُكَ ، وَإِنْ كُنْتَ وَاصِلًا فَقَدْ أَنَى لَكَ أَنْ تَذْهَبَ إِلَى مَنْ تَصِلُ ، وَإِنْ كُنْتَ تَاجِرًا فَقَدْ أَنَى لَكَ أَنْ تَخْرُجَ إِلَى تِجَارَتِكَ ، فَقَالَ : مَا كُنْتُ وَاصِلًا وَلَا تَاجِرًا وَمَا أَنَا بِنَصِبٍ ، فَذَهَبُوا إِلَيْهِ فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ : إِنَّ لَهُ لَشَأْنًا فَاسْأَلُوهُ مَا شَأْنُهُ ، قَالَ : فَأَتَوْهُ فَسَأَلُوهُ فَقَالَ : لَا وَاللَّهِ ، إِلَّا أَنَّ فِي قَرْيَةِ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ عَمِّي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ ، فَآذَاهُ قَوْمُهُ [ وَتَخَوَّفْتُ أَنْ يَقْتُلُوهُ ] فَخَرَجْتُ لِئَلَّا أَشْهَدَ ذَلِكَ ، فَذَهَبُوا إِلَى صَاحِبِهِمْ فَأَخْبَرُوهُ قَوْلِي ، قَالَ : هَلُمُّوا ، فَأَتَيْتُهُ فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ قِصَصِي ، قَالَ : تَخَافُ أَنْ يَقْتُلُوهُ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : وَتَعْرِفُ شِبْهَهُ لَوْ تَرَاهُ مُصَوَّرًا ؟ قُلْتُ : عَهْدِي بِهِ مُنْذُ قَرِيبٍ ، فَأَرَاهُ صُوَرًا مُغَطَّاةً يَكْشِفُ صُورَةً صُورَةً ، ثُمَّ يَقُولُ : أَتَعْرِفُ ؟ فَأَقُولُ : لَا ، حَتَّى كَشَفَ صُورَةً مُغَطَّاةً ، فَقُلْتُ : مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَهَ بِشَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الصُّورَةِ بِهِ كَأَنَّهُ طَوَّلَهُ وَجَسَّمَهُ وَبَعُدَ مَا بَيْنَ مَنْكِبَيْهِ ، قَالَ : فَتَخَافُ أَنْ يَقْتُلُوهُ ؟ قُلْتُ : أَظُنُّهُمْ قَدْ فَرَغُوا مِنْهُ ، قَالَ : وَاللَّهِ لَا يَقْتُلُوهُ وَلَيَقْتُلَنَّ مَنْ يُرِيدُ قَتْلَهُ ، وَإِنَّهُ لَنَبِيٌّ وَلِيُظْهِرَنَّهُ اللَّهُ ، وَلَكِنْ قَدْ وَجَبَ حَقُّكَ عَلَيْنَا ، فَامْكُثْ مَا بَدَا لَكَ وَادْعُ بِمَا شِئْتَ ، قَالَ : فَمَكَثْتُ [ حِينًا ] عِنْدَهُمْ ، ثُمَّ قُلْتُ : لَوْ أُطِعْهُمْ ، فَقَدِمْتُ مَكَّةَ فَوَجَدْتُهُمْ قَدْ أَخْرَجُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَلَمَّا قَدِمْتُ قَامَتْ آلُ قُرَيْشٍ فَقَالُوا : قَدْ تَبَيَّنَ لَنَا أَمْرُكَ فَعَرَفْنَا شَأْنَكَ ، فَهَلُمَّ أَمْوَالَ الصَّبِيَّةِ الَّتِي عِنْدَكَ الَّتِي اسْتَوْدَعَكَهَا أَبُوكَ ، فَقُلْتُ : مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ هَذَا حَتَّى تُفَرِّقُوا بَيْنَ رَأْسِي وَجَسَدِي ، وَلَكِنْ دَعُونِي أَذْهَبُ فَأَدْفَعُهَا إِلَيْهِمْ . فَقَالُوا : إِنَّ عَلَيْكَ عَهْدَ اللَّهِ وَمِيثَاقَهُ أَنْ لَا تَأْكُلَ مِنْ طَعَامِهِ ، قَالَ : فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَقَدْ بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْخَبَرُ ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ لِي فِيمَا يَقُولُ : " إِنِّي لَأَرَاكَ جَائِعًا ، هَلُمُّوا طَعَامًا " ، قُلْتُ : إِنِّي لَا آكُلُ حَتَّى أُخْبِرَكَ ، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ آكُلَ أَكَلْتُ . قَالَ : فَحَدَّثْتُهُ بِمَا أَخَذُوا عَلَيَّ ، قَالَ : " فَأَوْفِ بِعَهْدِ اللَّهِ وَمِيثَاقِهِ أَنْ لَا تَأْكُلَ مِنْ طَعَامِنَا وَلَا تَشْرَبَ مِنْ شَرَابِنَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، عَنْ شَيْخِهِ مِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ ، ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ ، وَقَالَ ابْنُ دَقِيقِ الْعِيدِ فِي الْإِمَامِ : إِنَّهُ وُثِّقَ وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اس بات کو ناپسند کرتا تھا کہ قریش ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچایا کرتے تھے ، جب مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ عنقریب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کر دیں گے ، تو میں نکلا اور ایک عبادت خانے میں چلا گیا ، اس عبادت خانے کے لوگ اپنے بڑے کے پاس گئے اور اسے اس بارے میں بتایا ، تو اس نے کہا: اس کے لئے اس کے حق کا بندوست کرو ، جو تین دن تک ہو ، جب تین دن گزر گئے اور انہوں نے سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ نہیں گئے ، تو وہ اپنے بڑے کے پاس گئے اور اسے اس بارے میں بتایا ، تو اس نے کہا: تم اُس سے کہو کہ ہم نے تمہارا جو مناسب حق بنتا تھا ، اس کا بندوبست کر دیا تھا ، اگر تم پریشانی کا شکار تھے ، تو تمہاری پریشانی ختم ہو گئی ہے ، اگر تم نے کہیں پہنچنا تھا ، تو کیا وجہ ہے ؟ تم اپنی منزل کی طرف کیوں نہیں جاتے ؟ اگر تم تجارت کرنے والے فرد ہو ، تو تم اپنی تجارت کی طرف کب جاؤ گے ؟ تو سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: نہ تو میں کہیں جانا چاہ رہا تھا ، نہ ہی میں تاجر ہوں ، اور نہ ہی میں پریشانی کا شکار ہوں ، وہ لوگ اپنے بڑے کے پاس گئے اور اسے اس بارے میں بتایا ، تو اس نے کہا: اس کا کوئی اہم معاملہ ہو گا ، تم لوگ اس سے پوچھو کہ اس کا معاملہ کیا ہے ؟ وہ لوگ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، انہوں نے ان سے دریافت کیا ، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی آباد کی ہوئی بستی ہیں میرا ایک چچازاد ہے ، اس کا یہ کہنا ہے کہ وہ نبی ہے ، اس کی قوم کے لوگ اسے اذیت پہنچا رہے ہیں ، مجھے اندیشہ ہوا کہ وہ لوگ اسے قتل کر دیں گے ، تو میں وہاں سے نکل آیا ، تاکہ میں اس موقع پر موجود نہ ہوؤں ، تو وہ لوگ اپنے بڑے کے پاس گئے اور اسے میرے بیان کے بارے میں بتایا ، تو اس نے کہا: اس کو میرے پاس لے کر آؤ ، میں اس کے پاس گیا ، میں نے اسے پورا واقعہ سنایا ، تو اس نے دریافت کیا : کیا تمہیں یہ اندیشہ ہے کہ وہ لوگ اسے قتل کر دیں گے ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! اس نے کہا: اگر تم ان کی تصویر دیکھ لو ؟ تو کیا تم ان کی شباہت کو پہچان لو گے ؟ میں نے کہا: میں کچھ عرصہ پہلے اُن سے ملا تھا ، پھر اُس نے سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کو کچھ تصویریں دکھائیں ، جو ڈھانپی ہوئی تھیں ، وہ ایک ایک تصویر کے آگے سے پردہ ہٹاتا گیا ، پھر دریافت کرتا گیا : کیا تم اسے جانتے ہو ؟ میں جواب دیتا تھا : جی نہیں ! یہاں تک کہ اس نے ایک ڈھانپی ہوئی تصویر کے آگے سے پردہ ہٹایا ، تو میں نے کہا: میں نے کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی ، جو اس نبی کے ساتھ ، اس تصویر سے زیادہ مشابہت رکھتی ہو ، ان کی لمبائی ، ان کی جسامت ، کندھوں کی چوڑائی بالکل ویسی ہی ہے ، اس نے دریافت کیا : کیا تمہیں یہ اندیشہ ہے کہ وہ لوگ انہیں شہید کریں گے ؟ میں نے کہا: ان لوگوں کے بارے میں میرا یہ گمان ہے کہ وہ اس حوالے سے فارغ ہو چکے ہوں گے ، اس نے کہا: اللہ کی قسم ! وہ لوگ اُس نبی کو شہید نہیں کر سکیں گے ، البتہ وہ نبی جس کو چاہیں گے اسے قتل کر دیں گے ، کیونکہ وہ نبی ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں ضرور غالب کرے گا ، لیکن اب تمہارا حق ہم پر واجب ہو چکا ہے ، تمہیں جتنا عرصہ مناسب لگتا ہے ، یہاں ٹھہرے رہو اور جو چاہو طلب کر لو ۔ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اُن کے ہاں ایک عرصے تک ٹھہرا رہا ، پھر میں نے کہا: اب میں واپس چلتا ہوں ، میں مکہ آیا وہاں میں نے لوگوں کو پایا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ کی طرف نکلنے پر مجبور کر دیا تھا ، جب میں آیا تو قریش اُٹھ کر میرے پاس آئے ، انہوں نے کہا: تمہارا معاملہ ہمارے سامنے واضح ہو گیا ہے ، ہم نے تمہاری صورت حال کو جان لیا ہے ، تو تم بے دین افراد کے وہ اموال ہمیں دے دو ، جو تمہارے پاس موجود ہیں ، جو تمہارے والد نے تمہارے پاس رکھوائے تھے ، میں نے کہا: میں ایسا نہیں کروں گا ، خواہ تم میرے سر اور جسم کو الگ کر دو ، البتہ تم لوگ مجھے موقع دو ، میں جاتا ہوں اور ان لوگوں کے اموال ان کے حوالے کر دیتا ہوں ، تو مشرکین نے کہا: تم پر اللہ کے نام کا عہد اور میثاق لازم ہے کہ تم نے اُن کے کھانے میں سے کچھ نہیں کھانا ، سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں مدینہ منورہ آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں اطلاع مل چکی تھی ، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ نے مجھ سے باتیں کیں ، اُن میں یہ بات بھی ارشاد فرمائی کہ میرے خیال میں تم بھوکے ہو ( آپ نے لوگوں سے فرمایا : ) تم لوگ کھانا لے کر آؤ ! میں نے کہا: میں کھانا نہیں کھاؤں گا ، جب تک آپ کو بتاتا نہیں ہوں ، پھر آپ جو مناسب سمجھیں ، آپ کہیں گے تو میں کھا لوں گا ، پھر سیدنا جبیر بن معطم رضی اللہ عنہ نے وہ بات بتائی ، جو اُن لوگوں نے ان سے عہد لیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اللہ کے نام کے عہد اور میثاق کو پورا کرو ، اور ہمارے کھانے میں سے نہ کھاؤ ، اور ہمارے مشروب میں سے نہ پیو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن قیق العید نے کتاب ” الامام “ میں یہ بات بیان کی ہے : اس کی توثیق کی گئی ہے ، اور یہ حدیث حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13889
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حدیث
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1609)»
حدیث نمبر: 13890
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ : خَرَجْتُ تَاجِرًا إِلَى الشَّامِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَلَمَّا كُنْتُ قَادِمًا الشَّامَ لَقِيَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَقَالَ : هَلْ عِنْدَكُمْ رَجُلٌ نَبِيءٌ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : هَلْ تَعْرِفُ صُورَتَهُ إِذَا رَأَيْتَهَا ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، فَأَدْخَلَنِي بَيْتًا فِيهِ [ صُوَرٌ ، فَلَمْ أَرَ ] صُورَةَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْهُمْ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : فِيمَ أَنْتُمْ ؟ فَأَخْبَرْنَاهُ فَذَهَبَ بِنَا إِلَى مَنْزِلِهِ ، فَسَاعَةُ مَا دَخَلْتُ نَظَرْتُ إِلَى صُورَةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا رَجُلٌ آخِذٌ بِعَقِبِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ : مَنْ هَذَا الرَّجُلُ الْقَائِمُ عَلَى عَقِبِهِ ؟ قَالَ : إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا كَانَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ ، إِلَّا هَذَا ، فَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ وَهَذَا الْخَلِيفَةُ بَعْدَهُ ، وَإِذَا صِفَةُ أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں ، میں تجارت کرنے کے لئے شام کی طرف گیا ، جب میں شام کے قریب پہنچا ، تو اہل کتاب سے تعلق رکھنے والا ایک شخص مجھ سے ملا اور بولا: کیا تمہارے ہاں کوئی نبی ہیں ؟ میں نے کہا: جی ہاں ! اس نے کہا: کیا تم ان کی تصویر کو پہچان لو گے جب اسے دیکھو گے ؟ میں نے کہا: جی ہاں ! تو وہ مجھے ایک گھر میں لے گیا ، جہاں مختلف تصویریں موجود تھیں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر نہیں دیکھی ، ابھی ہم وہاں اسی طرح موجود تھے کہ ان میں سے ایک اور شخص ہمارے پاس آیا اس نے کہا: تم لوگ کیا کر رہے ہو ؟ ہم نے اس بارے میں بتایا ، تو وہ ہمیں لے کر اپنے گھر چلا گیا ، جیسے ہی میں اُس کے گھر میں داخل ہوا ، تو مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر نظر آ گئی اور وہاں ایک شخص تھا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے موجود تھا ( یا اُس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایڑی کو پکڑا ہوا تھا ) میں نے کہا: یہ صاحب کون ہیں ؟ جو ان کے پیچھے کھڑے ہوئے ہیں ؟ تو اس نے کہا: ہر نبی کے بعد کوئی نبی ہوتا ہے ، لیکن اس نبی کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ، یہ شخص اُن کے بعد ہونے والا خلیفہ ہے ، راوی کہتے ہیں : تو وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تصویر تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13890
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1537)»
حدیث نمبر: 13891
وَعَنْ أَبِي صَخْرٍ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ قَالَ : جَلَبْتُ حَلُوبَةً إِلَى الْمَدِينَةِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ بَيْعَتِي قُلْتُ : لَأَلْقَيْنَ هَذَا الرَّجُلَ فَلَأَسْمَعَنَّ مِنْهُ ، قَالَ : فَتَلَقَّانِي بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ يَمْشُونَ ، فَتَبِعْتُهُمْ فِي أَقْفَائِهِمْ حَتَّى أَتَوْا عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ نَاشِرٍ التَّوْرَاةَ يَقْرَأُهَا ، يُعَزِّي بِهَا نَفْسَهُ ، عَلَى ابْنٍ لَهُ كَأَحْسَنِ الْفِتْيَانِ فِي الْمَوْتِ [ وَأَجْمَلَهُ ] ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْشُدُكَ بِالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ ، هَلْ تَجِدُنِي فِي كِتَابِكَ [ ذَا ] صِفَتِي وَمُخْرَجِي ؟ ! " ، فَقَالَ بِرَأْسِهِ هَكَذَا ، أَيْ : لَا ، فَقَالَ ابْنُهُ : إِنِّي وَالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ إِنَّا لَنَجِدُ فِي كِتَابِنَا صِفَتَكَ وَمُخْرَجَكَ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ : " أَقِيمُوا الْيَهُودِيَّ عَنْ أَخِيكُمْ " ، ثُمَّ وَلِيَ كَفَنَهُ وَحَنْطَهُ وَالصَّلَاةَ عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو صَخْرٍ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوصخر عقیلی بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نے مجھے بتایا کہ میں دودھ دوہ کر مدینہ منورہ لے کر گیا ، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی بات ہے ، جب میں اس کو فروخت کر کے فارغ ہوا ، تو میں نے سوچا مجھے اُن صاحب سے ملنا چاہیے اور مجھے اُن کی بات سننی چاہیے تو میرا سامنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا ، آپ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان چلتے ہوئے جا رہے تھے ، میں ان حضرات کے پیچھے چل پڑا ، یہ حضرات یہودیوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے پاس آئے ، جس نے تورات کو کھولا ہوا تھا اور اسے پڑھ رہا تھا اور وہ اپنے لڑکے کے سرہانے اُسے پڑھ رہا تھا ، جو ( لڑکا ) مرنے کے قریب تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں تمہیں اُس اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں ، جس نے تورات کو نازل کیا ہے ، کیا تم اپنی کتاب میں میرا حلیہ اور میری بعثت کے بارے میں چیز پاتے ہو ؟ تو اس نے اپنے سر کے ذریعے اس طرح اشارہ کیا : کہ جی نہیں ! تو اس کے بیٹے نے ( جو قریب المرگ تھا ) یہ کہا: اس ذات کی قسم ! جس نے تورات کو نازل کیا ہے ، ہم اپنی کتابوں میں آپ کا حلیہ اور آپ کی بعثت کے بارے میں ذکر پاتے ہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور آپ اللہ کے رسول ہیں ( پھر اُس لڑکے کا انتقال ہو گیا ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنے بھائی کو یہودیوں سے لے لو ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کے کفن دفن کا انتظام کیا ، اسے خوشبو لگائی اور اس کی نماز جنازہ پڑھائی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور ابوصخر نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13891
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (411/5)»
حدیث نمبر: 13892
وَعَنِ الْمِسْوَرِ قَالَ : مَرَّ بِي يَهُودِيٌّ وَأَنَا قَائِمٌ خَلْفَ نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَوَضَّأُ ، قَالَ : فَقَالَ : ارْفَعْ - أَوِ اكْشِفْ - ثَوْبَهُ عَنْ ظَهْرِهِ ، قَالَ : فَذَهَبْتُ أَرْفَعُهُ عَنْ ظَهْرِهِ ، قَالَ : فَنَضَحَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي وَجْهِي مِنَ الْمَاءِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مسور رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک یہودی میرے پاس سے گزرا ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہوا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر رہے تھے ، اس نے کہا: تم ان کی پشت سے کپڑا ہٹاؤ ، راوی کہتے ہیں : میں آپ کی پشت سے کپڑا ہٹانے لگا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے منہ پر پانی چھڑک دیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13892
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (26/20) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (323/4)»
حدیث نمبر: 13893
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : جَاءَ جُرْمُقَانِيٌّ إِلَى أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : أَيْنَ صَاحِبُكُمْ هَذَا الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ ؟ لَئِنْ سَأَلْتُهُ لَأَعْلَمَنَّ نَبِيٌّ هُوَ أَوْ غَيْرَ نَبِيٍّ ، قَالَ : فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ الْجُرْمُقَانِيُّ : اقْرَأْ عَلَيَّ أَوْ قُصَّ عَلَيَّ ، قَالَ : فَتَلَا عَلَيْهِ آيَاتٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَقَالَ الْجُرْمُقَانِيُّ : هَذَا وَاللَّهِ الَّذِي جَاءَ بِهِ مُوسَى . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ وَقَالَ : مُنْكَرٌ ، قُلْتُ : مَا فِيهِ غَيْرُ أَيُّوبَ بْنِ جَابِرٍ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جرمقانی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے پاس آیا اور بولا: تمہارے وہ آقا کہاں ہیں ؟ جو یہ کہتے ہیں کہ وہ نبی ہیں ، میں ان سے سوال کروں گا اور پھر پتہ چل جائے گا کہ وہ نبی ہیں ، یا نبی نہیں ہیں ؟ راوی کہتے ہیں : پھر اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ، تو جرمقانی نے کہا: آپ میرے سامنے تلاوت کیجئے ، یا میرے سامنے بیان کیجئے ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کے سامنے اللہ کی کتاب کی کچھ آیات تلاوت کیں ، تو جرمقانی نے کہا: اللہ کی قسم ! یہ وہی چیز ہے ، جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام لے کر آئے تھے ۔
یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ روایت منکر ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : اس میں ایوب بن جابر کے علاوہ اور کوئی ( غیر مستند راوی ) نہیں ہے ، اور اُسے بھی امام أحمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13893
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منکر
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2054)»
حدیث نمبر: 13894
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ قَالَ : رَأَيْتُ التَّنُوخِيَّ رَسُولَ هِرَقْلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِحِمْصَ وَكَانَ جَارًا لِي ، شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ بَلَغَ الْفَنَاءَ أَوْ قَرُبَ ، فَقُلْتُ : أَلَا تُخْبِرُنِي عَنْ رِسَالَةِ هِرَقْلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرِسَالَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى هِرَقْلَ ؟ قَالَ : بَلَى ، وَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَبُوكَ وَبَعَثَ دِحْيَةَ الْكَلْبِيَّ إِلَى هِرَقْلَ ، فَلَّمَا أَنْ جَاءَ كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا قِسِّيسِي الرُّومِ وَبِطَارِقَتَهَا ، ثُمَّ غَلَّقَ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمُ الدَّارَ ، قَالَ : نَزَلَ هَذَا الرَّجُلُ حَيْثُ رَأَيْتُمْ ، وَقَدْ أَرْسَلَ إِلَيَّ يَدْعُونِي إِلَى ثَلَاثِ خِصَالٍ : يَدْعُونِي أَنْ أَتْبَعَهُ عَلَى دِينِهِ ، أَوْ أَنْ نُعْطِيَهُ مَا لَنَا عَلَى أَرْضِنَا وَالْأَرْضُ أَرْضُنَا ، أَوْ نُلْقِي إِلَيْهِ الْحَرْبَ ، وَاللَّهِ لَقَدْ عَرَفْتُمْ فِيمَا تَقْرَءُونَ مِنَ الْكُتُبِ لَتَأْخُذَنَّ مَا تَحْتَ قَدَمِي ، فَهَلُمَّ نَتْبَعُهُ عَلَى دِينِهِ أَوْ نُعْطِيهِ مَا لَنَا عَلَى أَرْضِنَا ، فَنَخَرُوا نَخْرَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ حَتَّى خَرَجُوا مِنْ بَرَانِسِهِمْ ، وَقَالُوا : تَدْعُونَا إِلَى أَنْ نَذَرَ النَّصْرَانِيَّةَ أَوْ نَكُونَ عَبِيدًا لِأَعْرَابِيٍّ جَاءَ مِنَ الْحِجَازِ ؟ فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّهُمْ إِنْ خَرَجُوا [ مِنْ عِنْدِهِ ] أَفْسَدُوا عَلَيْهِ رِفَاقَهُمْ وَمُلْكَهُ ، قَالَ : إِنَّمَا قُلْتُ ذَلِكَ لَكُمْ لِأَعْلَمَ صَلَابَتَكُمْ عَلَى أَمْرِكُمْ ، ثُمَّ دَعَا رَجُلًا مِنْ عَرَبِ تُجِيبَ كَانَ عَلَى نَصَارَى الْعَرَبِ ، قَالَ : ادْعُ لِي رَجُلًا حَافِظًا لِلْحَدِيثِ عَرَبِيَّ اللِّسَانِ ، أَبْعَثُهُ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ بِجَوَابِ كِتَابِهِ ، فَجَاءَنِي ، فَدَفَعَ إِلَيَّ هِرَقْلُ كِتَابًا ، فَقَالَ : اذْهَبْ بِكِتَابِي إِلَى هَذَا الرَّجُلِ ، فَمَا صَغَيْتَ مِنْ حَدِيثِهِ فَاحْفَظْ مِنْهُ ثَلَاثَ خِصَالٍ : انْظُرْ هَلْ يَذْكُرُ صَحِيفَتَهُ الَّتِي كَتَبَ إِلَيَّ بِشَيْءٍ ؟ وَانْظُرْ إِذَا قَرَأَ كِتَابِي هَلْ يَذْكُرُ اللَّيْلَ ؟ وَانْظُرْ فِي ظَهْرِهِ هَلْ بِهِ شَيْءٌ يُرِيبُكَ ؟ فَانْطَلَقْتُ بِكِتَابِهِ حَتَّى جِئْتُ تَبُوكَ ، فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ بَيْنَ أَصْحَابِهِ مُحْتَبِيًا عَلَى الْمَاءِ ، فَقُلْتُ : أَيْنَ صَاحِبُكُمْ ؟ قِيلَ : هَا هُوَ ذَا ، فَأَقْبَلْتُ أَمْشِي حَتَّى جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَنَاوَلْتُهُ كِتَابِي فَوَضَعَهُ فِي حِجْرِهِ ثُمَّ قَالَ : " مِمَّنْ أَنْتَ ؟ " ، قُلْتُ : أَنَا أَحَدُ تَنُوخَ ، فَقَالَ : " هَلْ لَكَ فِي الْحَنِيفِيَّةِ مِلَّةِ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ ؟ " ، قُلْتُ : إِنِّي رَسُولُ قَوْمٍ ، وَعَلَى دِينِ قَوْمٍ لَا أَرْجِعُ عَنْهُ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْهِمْ ، [ فَضَحَكَ وَ ] قَالَ : " ( إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ ) يَا أَخَا تَنُوخَ ، إِنِّي كَتَبْتُ بِكِتَابٍ [ إِلَى كِسْرَى فَمَزَّقَهُ ، وَاللَّهُ مُمَزِّقُهُ ، وَمُمَزِّقُ مُلْكَهُ ، وَكَتَبْتُ ] إِلَى النَّجَاشِيِّ فَخَرَقَهَا ، وَاللَّهُ مُخْرِقُهُ وَمُخْرِقُ مُلْكِهِ ، وَكَتَبْتُ إِلَى صَاحِبِكُمْ بِصَحِيفَةٍ فَأَمْسَكَهَا ، فَلَنْ يَزَالَ النَّاسُ يَجِدُونَ مِنْهُ بَأْسًا مَا دَامَ فِي الْعَيْشِ خَيْرٌ " ، قُلْتُ : هَذِهِ إِحْدَى الثَّلَاثِ الَّتِي أَوْصَانِي بِهَا [ صَاحِبِي ] ، وَأَخَذْتُ سَهْمًا مِنْ جَعْبَتِي فَكَتَبْتُهَا فِي جِلْدِ سَيْفِي ، ثُمَّ أَنَّهُ نَاوَلَ الصَّحِيفَةَ رَجُلًا عَنْ يَسَارِهِ ، فَقُلْتُ : مَنْ صَاحِبُ كِتَابِكُمُ الَّذِي يَقْرَأُ لَكُمْ ؟ قَالُوا : مُعَاوِيَةُ ، فَإِذَا فِي كِتَابِ صَاحِبِي : يَدْعُونِي إِلَى جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ ، فَأَيْنَ النَّارُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ فَأَيْنَ اللَّيْلُ إِذَا جَاءَ النَّهَارُ ؟ " ، فَأَخَذْتُ سَهْمًا مِنْ جُعَيْبَتِي فَكَتَبْتُهُ فِي جِلْدِ سَيْفِي ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ كِتَابِي قَالَ : إِنَّ لَكَ حَقًّا وَأَنْتَ رَسُولٌ فَلَوْ وُجِدَتْ عِنْدَنَا جَائِزَةٌ جَوَّزْنَاكَ بِهَا ، إِنَّا سَفْرٌ مُرَمِّلُونَ ، قَالَ : فَنَادَاهُ رَجُلٌ مِنْ طَائِفَةِ النَّاسِ : أَنَا أُجَوِّزُهُ ، فَفَتَحَ رَحْلَهُ فَإِذَا هُوَ يَأْتِي بِحُلَّةٍ صَفُورِيَّةٍ ، فَوَضَعَهَا فِي حِجْرِي ، فَقُلْتُ : مَنْ صَاحِبُ الْحُلَّةِ ؟ قِيلَ : عُثْمَانُ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يُنْزِلُ هَذَا الرَّجُلَ ؟ " ، فَقَالَ فَتًى مِنَ الْأَنْصَارِ : أَنَا ، فَقَامَ الْأَنْصَارِيُّ وَقُمْتُ مَعَهُ ، فَلَمَّا خَرَجْتُ مِنْ طَائِفَةِ الْمَجْلِسِ نَادَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " [ تَعَالَ ] يَا أَخَا تَنُوخَ " ، فَأَقْبَلْتُ أَهْوِي [ إِلَيْهِ ] حَتَّى كُنْتُ قَائِمًا فِي مَجْلِسِي الَّذِي كُنْتُ فِيهِ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَحَلَّ حَبْوَتَهُ عَنْ ظَهْرِهِ فَقَالَ : " هَهُنَا ، امْضِ لِمَا أُمِرْتَ بِهِ " ، فَجُلْتُ فِي ظَهْرِهِ ، فَإِذَا أَنَا بِخَاتَمٍ فِي مَوْضِعِ غُضْرُوفِ الْكَتِفِ مِثْلَ الْحَجْمَةِ . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ ، وَرِجَالُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ كَذَلِكَ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن ابوراشد بیان کرتے ہیں : ” حمص “ میں میری ملاقات تنوخی سے ہوئی ، جو ہرقل کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف قاصد تھے وہ صاحب میرے پڑوسی تھے اور ایک بوڑھے عمر رسیدہ شخص تھے ، میں نے کہا: کیا آپ مجھے ہرقل کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجے گئے مکتوب اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہرقل کی طرف بھیجے گئے مکتوب کے بارے میں نہیں بتائیں گے ؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تبوک تشریف لائے ، آپ نے سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو ہرقل کی طرف بھیجا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب اس کے پاس آیا ، تو اس نے روم کے پادریوں اور سرداروں کو بلایا اور اپنے لئے اور ان کے لئے دروازہ بند کروا دیا ۔ پھر اس نے کہا: یہ شخص آیا ہے ، جس کو تم دیکھ رہے ہو ( یا وہ صاحب مبعوث ہوئے ہیں ، جن کے بارے میں تمہیں پتہ چلا ہے ) انہوں نے مجھے پیغام بھیجا ہے ، اور تین چیزوں کی دعوت دی ہے ، انہوں نے اس بات کی دعوت دی ہے کہ میں اُن کے دین کے حوالے سے ان کی پیروی کر لوں ، یا پھر یہ ہے کہ ہم اپنے علاقے میں رہیں اور ان کو فدیہ ادا کرتے رہیں ، یا پھر یہ ہے کہ ان کے ساتھ جنگ کر لیں ، اللہ کی قسم ! تم لوگ جو کتابیں پڑھتے رہے ہو ، اس کے حوالے سے تم لوگوں کو اس بات کی معرفت حاصل ہے کہ وہ میرے قدموں کے نیچے کی جگہ ( یعنی میری سلطنت ) پر بھی قبضہ کر لیں گے ، تو یا تو ہم ان کے دین کی پیروی کر لیتے ہیں ، یا پھر یہ ہے کہ ہم اپنے علاقے میں رہتے ہیں اور انہیں فدیہ دے دیتے ہیں ، تو وہ سب لوگ ایک دم غصے میں آ گئے ، انہوں نے اپنی ٹوپیاں اتار دیں اور بولے : کیا تم ہمیں اس بات کی دعوت دے رہے ہو کہ ہم عیسائیت کو چھوڑ دیں ؟ اور ہم حجاز سے آئے ہوئے ایک دیہاتی کے غلام بن جائیں ؟ جب ہرقل نے یہ محسوس کیا کہ وہ لوگ اُسے چھوڑ کے چلے جائیں گے اور اُن کا ساتھ خراب ہو جائے گا اور اس کی بادشاہی کو نقصان ہو گا ، تو اس نے کہا: میں نے یہ بات تم سے اس لئے کی تھی ، تاکہ تمہارے دین کے بارے میں تمہاری مضبوطی کو جان سکوں پھر اس نے عربوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو بلایا ، جو عرب عیسائیوں کا حکمران تھا ، اس نے کہا: تم میرے پاس کسی ایسے شخص کو لے کر آؤ ! جو بات کو اچھی طرح یاد رکھتا ہو اور عربی زبان جانتا ہو ، تاکہ میں اس سے ان صاحب کی طرف اُن کے جوابی مکتوب کے ہمراہ بھیجوں ، تو اس شخص نے مجھے بلوایا ، ہرقل نے جوابی مکتوب میرے حوالے کیا ، اور بولا: میرا یہ مکتوب لے کر ان صاحب کے پاس جاؤ ، اور ان کی کوئی بات بھولنا نہیں ، خاص طور پر تین چیزیں اُن کے حوالے سے یاد رکھنا ، تم اس بات کا جائزہ لینا کہ انہوں نے جو مکتوب بھیجا تھا ، اُس حوالے سے وہ کسی چیز کا ذکر کرتے ہیں ؟ اور اس بات کا جائزہ لینا کہ جب وہ میرا مکتوب پڑھتے ہیں ، تو کیا ہوتا ہے ؟ کیا وہ رات کا ذکر کرتے ہیں ؟ اور تم ان کی پشت کا جائزہ لینا کہ کیا وہاں کوئی ایسی چیز ہے جو تمہیں شک میں مبتلا کرتی ہو ؟ راوی کہتے ہیں : میں اُس کا مکتوب لے کر تبوک آ گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے درمیان ” احتباء “ کے طور پر بیٹھے ہوئے تھے ، وہ لوگ ایک پانی کے پاس موجود تھے ، میں نے دریافت کیا : تمہارے آقا کہاں ہیں ؟ تو بتایا گیا : کہ وہ یہ ہیں ، میں چلتا ہوا آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا ، میں نے اپنے پاس موجود مکتوب اُن کی طرف بڑھایا ، تو انہوں نے اسے اپنی گود میں رکھ لیا اور پھر دریافت کیا : تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ میں نے جواب دیا تنوخ سے تعلق رکھتا ہوں ، انہوں نے دریافت کیا : کیا تم صحیح دین کو قبول کرنے میں دلچسپی رکھتے ہو ؟ جو تمہارے جدامجد سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا دین ہے ، میں نے کہا: میں ایک قوم کا نمائندہ ہوں اور ایک قوم کے دین پر گامزن ہوں ، میں اس سے اس وقت تک رجوع نہیں کروں گا ، جب تک ان لوگوں کے پاس واپس نہیں چلا جاتا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے ، آپ نے یہ آیت پڑھی : ” بے شک تم جسے چاہتے ہو ، اسے ہدایت نہیں دیتے ، بلکہ اللہ تعالیٰ اسے ہدایت دیتا ہے ، جسے وہ چاہتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کے بارے میں زیادہ بہتر جانتا ہے ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے تنوخ سے تعلق رکھنے والے فرد ! میں نے کسریٰ کی طرف ایک مکتوب بھیجا ، اُس نے اسے پھاڑ دیا ، اللہ تعالیٰ اسے اور اس کی حکومت کو پھاڑ دے گا ، میں نے نجاشی کی طرف ایک مکتوب بھیجا ، اُس نے اسے پھاڑ دیا ، اللہ تعالیٰ اُسے اور اس کی حکومت کو پھاڑ دے گا ، میں نے تمہارے حکمران کی طرف ایک مکتوب بھیجا ، اُس نے اسے سنبھال کے رکھا ، تو وہ لوگ مسلسل ایسی حالت میں رہیں گے کہ انہیں کوئی پریشانی نہیں ہو گی ، جب تک وہ رہے گا ، یہ لوگ بہتر رہیں گے ، راوی کہتے ہیں : میں نے سوچا میرے حکمران نے مجھے جو تلقین کی تھی اُن میں سے ایک بات تو سامنے آ گئی ہے ، میں نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر لیا اور اپنی تلوار کے چمڑے پر یہ بات نوٹ کر لی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مکتوب اپنے بائیں طرف موجود ایک شخص کی طرف بڑھایا ، میں نے دریافت کیا : یہ صاحب کون ہیں ؟ جو تمہارے لئے اس مکتوب کو پڑھیں گے ، تو لوگوں نے بتایا : یہ معاویہ ہیں ، میرے حکمران نے جو خط لکھا تھا ، اُس میں یہ بات مذکور تھی : آپ جنت کے بارے میں دعوت دیتے ہیں ، جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین جتنی ہے ، جو پرہیزگاروں کے لئے تیار کی گی ہے ، تو پھر جہنم کہاں ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سبحان اللہ ! جب دن آ جاتا ہے ، تو رات کہاں ہوتی ہے ؟ راوی کہتے ہیں : میں نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکالا اور اپنی تلوار کے چمڑے پر یہ بات نوٹ کر لی ، جب وہ صاحب میرے مکتوب کو پڑھ کر فارغ ہوئے ، تو انہوں نے کہا: تمہارا ایک حق ہے کہ تم ایک قاصد ہو ، اگر تم ہمارے پاس اہتمام کے طور پر کوئی چیز پاتے ، تو ہم نے وہ تمہیں کھلانی تھی ، لیکن ہم خود سفر کر رہے ہیں ، راوی کہتے ہیں : تو ان لوگوں میں سے ایک شخص نے بلند آواز میں کہا: میں اسے کوئی تحفہ دیتا ہوں ، پھر اس نے اپنے پالان کو کھولا اور ایک صفوری حلہ لے کر آیا اور وہ میری گود میں رکھ دیا ، میں نے دریافت کیا : یہ حلہ دینے والے صاحب کون ہیں ؟ تو بتایا گیا : یہ صاحب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کون شخص اس کی مہمان نوازی کرے گا ؟ تو ایک انصاری نوجوان بولا: میں کروں گا ، وہ انصاری اُٹھ کھڑا ہوا ، اُس کے ساتھ میں بھی اُٹھ گیا ، جب میں اس محفل سے اٹھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلند آواز میں مخاطب کر کے فرمایا : اے تنوخ سے تعلق رکھنے والے فرد ! آگے آؤ ! میں آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا ، یہاں تک کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس جگہ پر کھڑا ہو گیا ، جہاں پہلے بیٹھا ہوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پشت پر بندھے ہوئے کپڑے کو کھولا اور فرمایا : اس حوالے سے جو تمہیں حکم دیا گیا تھا ، اُس کو بھی پورا کر لو ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پشت سے کپڑا ہٹایا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے کے مخصوص مقام پر مہر نبوت موجود تھی ، جو ایک بڑے بٹن کی مانند تھی ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں ، اور عبداللہ بن أحمد کے رجال بھی اسی طرح ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13894
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (1597) أخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (441/3)»
حدیث نمبر: 13895
وَعَنْ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ أَنَّهُ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِكِتَابٍ إِلَى قَيْصَرَ ، فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ فَأَعْطَيْتُهُ الْكِتَابَ وَعِنْدَهُ ابْنُ أَخٍ لَهُ أَحْمَرُ أَزْرَقُ سَبِطُ الرَّأْسِ ، فَلَمَّا قَرَأَ الْكِتَابَ كَانَ فِيهِ : " مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى هِرَقْلَ صَاحِبِ الرُّومِ " ، قَالَ : فَنَخَرَ ابْنُ أَخِيهِ نَخْرَةً ، وَقَالَ : لَا يُقْرَأُ هَذَا الْيَوْمَ ، فَقَالَ لَهُ قَيْصَرُ : لِمَ ؟ قَالَ : إِنَّهُ بَدَأَ بِنَفْسِهِ وَكَتَبَ : " صَاحِبَ الرُّومِ " ، وَلَمْ يَكْتُبْ : مَلِكَ الرُّومِ ، فَقَالَ قَيْصَرُ : لَتَقْرَأَنَّهُ ، فَلَمَّا قَرَأَ الْكِتَابَ وَخَرَجُوا مِنْ عِنْدِهِ ، أَدْخَلَنِي عَلَيْهِ وَأَرْسَلَ إِلَى الْأُسْقُفِ ، وَهُوَ صَاحِبُ أَمْرِهِمْ ، فَأَخْبَرُوهُ وَأَخْبَرَهُ وَأَقْرَأَهُ الْكِتَابَ ، فَقَالَ لَهُ الْأُسْقُفُ : هَذَا الَّذِي كُنَّا نَنْتَظِرُ وَبَشَّرَنَا بِهِ عِيسَى ، قَالَ لَهُ قَيْصَرُ : كَيْفَ تَأْمُرُنِي ؟ قَالَ لَهُ الْأُسْقُفُ : أَمَّا أَنَا فَمُصَدِّقُهُ وَمُتَّبِعُهُ ، فَقَالَ لَهُ قَيْصَرُ : أَمَّا أَنَا إِنْ فَعَلْتُ ذَلِكَ ذَهَبَ مُلْكِي ، ثُمَّ خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ ، فَأَرْسَلَ قَيْصَرُ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ عِنْدَهُ ، قَالَ : حَدِّثْنِي عَنْ هَذَا الَّذِي خَرَجَ بِأَرْضِكُمْ ، مَا هُوَ ؟ قَالَ : شَابٌّ ، قَالَ : فَكَيْفَ حَسَبُهُ فِيكُمْ ؟ قَالَ : هُوَ فِي حَسَبٍ مِنَّا لَا يُفَضَّلُ عَلَيْهِ أَحَدٌ ، قَالَ : هَذِهِ آيَةُ النُّبُوَّةِ ، قَالَ : كَيْفَ صِدْقُهُ ؟ قَالَ : مَا كَذَبَ قَطُّ ، قَالَ : هَذِهِ آيَةُ النُّبُوَّةِ ، قَالَ : أَرَأَيْتَ مَنْ خَرَجَ مِنْ أَصْحَابِكُمْ إِلَيْهِ ، هَلْ يَرْجِعُ إِلَيْكُمْ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : هَذِهِ آيَةُ النُّبُوَّةِ ، قَالَ : أَرَأَيْتَ مَنْ خَرَجَ مِنْ أَصْحَابِهِ إِلَيْكُمْ ، هَلْ يَرْجِعُونَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : هَذِهِ آيَةُ النُّبُوَّةِ ، قَالَ : هَلْ يَنْكُبُ أَحْيَانًا إِذَا قَاتَلَ هُوَ فِي أَصْحَابِهِ ؟ قَالَ : قَدْ قَاتَلَهُ قَوْمٌ فَهَزَمَهُمْ وَهَزَمُوهُ ، قَالَ : هَذِهِ آيَةُ النُّبُوَّةِ ، قَالَ : ثُمَّ دَعَانِي فَقَالَ : أَبْلِغْ صَاحِبَكَ أَنِّي أَعْلَمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ ، وَلَكِنْ لَا أَتْرُكُ مُلْكِي ، قَالَ : وَأَمَّا الْأُسْقُفُ فَإِنَّهُ كَانُوا يَجْتَمِعُونَ إِلَيْهِ فِي كُلِّ أَحَدٍ ، فَيَخْرُجُ إِلَيْهِمْ وَيُحَدِّثُهُمْ وَيُذَكِّرُهُمْ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْأَحَدِ لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ وَقَعَدَ إِلَى يَوْمِ الْأَحَدِ الْآخَرِ ، فَكُنْتُ أَدْخُلُ إِلَيْهِ فَيُكَلِّمُنِي وَيَسْأَلُنِي ، فَلَمَّا جَاءَ الْأَحَدُ الْآخَرُ انْتَظَرُوهُ لِيَخْرُجَ إِلَيْهِمْ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ ، وَاعْتَلَّ عَلَيْهِمْ بِالْمَرَضِ ، وَفَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا ، وَبَعَثُوا إِلَيْهِ : لَتَخْرُجَنَّ إِلَيْنَا أَوْ لَنَدْخُلَنَّ عَلَيْكَ فَنَقْتُلَكَ ، فَإِنَّا قَدْ أَنْكَرْنَاكَ مُنْذُ قَدِمِ هَذَا الْعَرَبِيُّ ، فَقَالَ الْأُسْقُفُ : خُذْ هَذَا الْكِتَابَ وَاذْهَبْ إِلَى صَاحِبِكَ ، فَاقْرَأْ عَلَيْهِ السَّلَامَ وَأَخْبِرْهُ أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، وَأَنِّي قَدْ آمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُهُ وَاتَّبَعْتُهُ وَأَنَّهُمْ قَدْ أَنْكَرُوا عَلَيَّ ذَلِكَ ، فَبَلِّغْهُ مَا تَرَى ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْهِمْ فَقَتَلُوهُ ، ثُمَّ خَرَجَ دِحْيَةُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَهُ رُسُلُ عُمَّالِ كِسْرَى عَلَى صَنْعَاءَ ، بَعَثَهُمْ إِلَيْهِ وَكَتَبَ إِلَى صَاحِبِ صَنْعَاءَ يَتَوَعَّدُهُ يَقُولُ : لِتَكْفِنِي رَجُلًا خَرَجَ بِأَرْضِكَ يَدْعُونِي إِلَى دِينِهِ أَوْ أُؤَدِّي الْجِزْيَةَ ، أَوْ لَأَقْتُلَنَّكَ - أَوْ قَالَ : لَأَفْعَلَنَّ بِكَ - فَبَعَثَ صَاحِبُ صَنْعَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَمْسَةَ عَشَرَ رَجُلًا ، فَوَجَدَهُمْ دِحْيَةُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا قَرَأَ كِتَابَ صَاحِبِهِمْ تَرَكَهُمْ خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ، فَلَمَّا مَضَتْ خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً تَعَرَّضُوا لَهُ ، فَلَمَّا رَآهُمْ دَعَاهُمْ فَقَالَ : " اذْهَبُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ فَقُولُوا لَهُ : إِنَّ رَبِّي قَتَلَ رَبَّهُ اللَّيْلَةَ " ، فَانْطَلَقُوا فَأَخْبَرُوهُ بِالَّذِي صَنَعَ فَقَالَ : أَحْصُوا هَذِهِ اللَّيْلَةَ ، قَالَ : أَخْبِرُونِي كَيْفَ رَأَيْتُمُوهُ ؟ قَالُوا : مَا رَأَيْنَا مَلِكًا أَهْيَأَ مِنْهُ ، يَمْشِي فِيهِمْ لَا يَخَافُ شَيْئًا ، مُبْتَذِلًا لَا يُحْرَسُ ، وَلَا يَرْفَعُونَ أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَهُ ، قَالَ دِحْيَةُ : ثُمَّ جَاءَ الْخَبَرُ أَنَّ كِسْرَى قُتِلَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يَحْيَى وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک مکتوب دے کر قیصر کے پاس بھیجا ، جب میں اس کے پاس آیا ، اور میں نے اسے مکتوب دیا ، تو اس وقت اس کے پاس اس کا ایک بھتیجا موجود تھا ، جو سرخ رنگت کا ، نیلی آنکھوں کا مالک تھا ، اس کے سر کے بال بالکل سیدھے تھے ، جب اس نے مکتوب پڑھنا شروع کیا ، تو اس میں یہ تحریر تھا : ” یہ اللہ کے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ، روم کے متعلقہ فرد ، ہرقل کے نام ہے “ راوی کہتے ہیں : تو اس کا بھتیجا غصے میں آ گیا اور بولا: اس کو آج نہیں پڑھا جائے گا ، قیصر نے اس سے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ اس نے کہا: ایک بات تو یہ ہے کہ انہوں نے اپنی ذات کا ذکر کر کے آغاز کیا ہے ، دوسرا یہ کہ انہوں نے لکھا ہے روم کے متعلقہ فرد ، انہوں نے یہ نہیں لکھا کہ روم کے بادشاہ ، تو قیصر نے کہا: تم اسے پڑھو ، جب اس نے اس مکتوب کو پڑھا تو وہ لوگ اس کے پاس سے اٹھ کے چلے گئے ، اس نے مجھے اپنے پاس بلوایا اور ایک پادری کو بلوایا جو ان کے معاملے سے متعلقہ فرد تھا ، اس نے اس بارے میں اس پادری کو بتایا اور اسے وہ خط پڑھایا تو اس پادری نے اس سے کہا: یہ وہی صاحب ہیں جن کا ہم انتظار کر رہے تھے اور جن کے بارے میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے ہمیں بشارت دی تھی ، قیصر نے اس سے کہا: تم اس بارے میں مجھے کیا ہدایت کرتے ہو ؟ پادری نے اس سے کہا: جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے ، تو میں ان کی تصدیق کروں گا اور ان کی پیروی کروں گا ، قیصر نے اس سے کہا: لیکن جہاں تک میرا تعلق ہے ، تو اگر میں ایسا کر لیتا ہوں تو میری حکومت ختم ہو جائے گی ، پھر ہم اس کے پاس سے اٹھ کے آ گئے ، قیصر نے ابوسفیان کو پیغام بھیجا جو ان دنوں وہاں ہی تھے ۔ اس نے کہا: آپ مجھے ان صاحب کے بارے میں بتائیے جو آپ کے علاقے میں مبعوث ہوئے ہیں وہ کون ہیں ، ابوسفیان نے بتایا وہ ایک نوجوان ہیں ، اس نے دریافت کیا : آپ لوگوں کے درمیان ان کا حسب نسب کیسا ہے ، ابوسفیان نے بتایا کہ وہ حسب نسب کے اعتبار سے ایسے ہیں کہ کوئی ان پر فضیلت نہیں رکھتا ، قیصر نے کہا: یہ نبوت کی ایک نشانی ہے ، اس نے دریافت کیا : ان کی سچائی کیسی ہے ، ابوسفیان نے کہا: انہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا: ، قیصر نے کہا: یہ نبوت کی نشانی ہے ، پھر قیصر نے دریافت کیا : اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے کہ تمہارے ساتھیوں میں سے جو شخص نکل کر ان کی طرف گیا ہو ، کیا وہ تمہاری طرف واپس بھی آ جاتا ہے ؟ ابوسفیان نے کہا: جی نہیں ، تو قیصر نے کہا: یہ نبوت کی نشانی ہے ، پھر اس نے کہا: اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے کہ ان کے ساتھیوں میں سے کوئی نکل کر تمہاری طرف آ جائے تو وہ لوگ ان کی طرف واپس چلے جاتے ہیں ، ابوسفیان نے جواب دیا : جی ہاں ، تو قیصر نے کہا: یہ نبوت کی نشانی ہے ، پھر قیصر نے دریافت کیا : کیا کبھی ایسا بھی ہوا ، انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے لڑائی کی ہو ، تو ابوسفیان نے بتایا کہ ان کے مخالفین نے ان کے ساتھ لڑائی کی ، کبھی انہوں نے اپنے مخالفین کو پسپا کر دیا ، اور کبھی ان کے مخالفین نے انہیں پسپا کر دیا ، قیصر نے کہا: یہ نبوت کی نشانی ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر قیصر نے مجھے بلایا اور بولا: تم اپنے آقا تک یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم پہچان گئے ہیں کہ آپ اللہ کے نبی ہیں لیکن میں اپنی حکومت نہیں چھوڑ سکتا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جہاں تک اس پادری کا تعلق ہے ، تو اس کا یہ معاملہ تھا ، لوگ ہر ہفتے میں ایک دن اس کے پاس اکٹھے ہوتے تھے ، وہ نکل کر ان کے پاس آتا تھا اور ان کے ساتھ بات چیت کرتا تھا ، انہیں وعظ و نصیحت کرتا تھا ، جب ہفتے کا دن آیا تو وہ اس مرتبہ نکل کر ان کے پاس نہیں آیا اور اگلا ہفتہ آنے تک وہ اپنی جگہ پر موجود رہا ، میں اس کے پاس جاتا تھا ، وہ میرے ساتھ بات چیت کرتا تھا وہ میرے ساتھ سوال و جواب کرتا تھا ، جب اگلے ہفتے کا دن آیا اور لوگ انتظار کر رہے تھے کہ وہ نکل کر ان کے پاس آئے گا ، تو وہ نکل کر ان کے پاس نہیں گیا اور ان کے سامنے یہ عذر پیش کیا کہ وہ بیمار ہے ، ایسا چند مرتبہ ہوا ، تو ان لوگوں نے اسے پیغام بھیجا کہ یا تو تم نکل کر ہمارے پاس آ جاؤ ! ورنہ ہم اندر تمہارے پاس آ کر تمہیں قتل کر دیں گے ، کیونکہ جب سے یہ عربی شخص آیا ہے ہمیں تمہاری صورت حال بدلی ہوئی محسوس ہو رہی ہے ، تو اس پادری نے مجھ سے کہا: تم یہ مکتوب لو اور اسے لے کر اپنے آقا کے پاس جاؤ اور انہیں سلام کہنا اور انہیں یہ بتانا کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہیں ، میں ان پر ایمان لاتا ہوں ، ان کی تصدیق کرتا ہوں ، ان کی پیروی کرتا ہوں ، لیکن یہ لوگ میری اس بات کی پیروی نہیں کریں گے ، تو تم جو صورت حال دیکھو گے ، اس کے بارے میں انہیں بتا دینا ، پھر وہ نکل کر ان لوگوں کے پاس گیا اور ان لوگوں نے اسے قتل کر دیا ۔ پھر سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آ گئے ، اس وقت صنعاء میں موجود کسریٰ کے مقرر کردہ گورنر کے نمائندے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، آپ نے ان لوگوں کو کسریٰ کی طرف بھیجا تھا اور اس نے صنعاء کے گورنر کو خط لکھا تھا ، جس میں اس سے یہ کہا: تھا : کہ تم ان صاحب پر ق ابوپا لو ، جو تمہاری سرزمین پر مبعوث ہوئے ہیں ، اور مجھے اپنے دین کی طرف دعوت دے رہے ہیں کہ یا تو میں ان کا دین قبول کر لوں ، یا جزیہ دے دوں ، ورنہ میں تمہیں قتل کر دوں گا ، یا میں تمہیں یہ کروں گا ، تو صنعاء کے گورنر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پندرہ افراد بھیجے ، سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ نے ان افراد کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پایا تھا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے آقا کا مکتوب پڑھا ، تو آپ نے پندرہ دن انہیں ایسے ہی رہنے دیا ، جب پندرہ دن گزر گئے تو ایک رات آپ ان کے پاس آئے ، جب آپ نے انہیں ملاحظہ کیا تو انہیں بلایا اور ارشاد فرمایا : تم اپنے آقا ( یعنی صنعاء کے گورنر ) کے پاس جاؤ ! اور اس سے یہ کہو کہ میرے پروردگار نے گزشتہ رات اس کے آقا ( یعنی کسریٰ ) کو قتل کر دیا ہے ، وہ لوگ گئے اور اس بارے میں اس گورنر کو بتایا ، تو اس نے کہا: تم لوگ اس رات کا حساب لگاؤ کہ وہ کون سی رات تھی ؟ اس نے یہ بھی کہا: کہ تم لوگ بتاؤ کہ تم نے ان کو کیسا پایا ؟ تو ان لوگوں نے بتایا : کہ ہم نے ان سے زیادہ ہیبت ناک ( یعنی بارعب ) کوئی بادشاہ نہیں دیکھا ، وہ لوگوں کے درمیان چلتے ہیں اور انہیں کسی سے کوئی خوف نہیں ہوتا ، وہ عام کی حالت میں رہتے ہیں ، ان کی حفاظت نہیں کی جاتی ، لیکن ان کے پاس آواز بھی بلند نہیں کی جاتی ، سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر یہ اطلاع آ گئی کہ اُس رات کسریٰ قتل ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن ابراہیم بن یحیی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13895
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2374)»
حدیث نمبر: 13896
وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ قَالَ : قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : أُخْرِجَ جَيْشٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَنَا أَمِيرُهُمْ ، حَتَّى نَزَلْنَا الْإِسْكَنْدَرِيَّةَ فَقَالَ عَظِيمٌ مِنْ عُظَمَائِهِمْ : أَخْرِجُوا إِلَيَّ رَجُلًا أُكَلِّمُهُ وَيُكَلِّمُنِي ، فَقُلْتُ : لَا يَخْرُجُ إِلَيْهِ غَيْرِي ، فَخَرَجْتُ مَعَ تُرْجُمَانِهِ حَتَّى وُضِعَ لَنَا مِنْبَرَانِ ، فَقَالَ : مَا أَنْتُمْ ؟ فَقُلْنَا : نَحْنُ الْعَرَبُ ، وَنَحْنُ أَهْلُ الشَّوْكِ وَالْقَرَظِ ، وَنَحْنُ أَهْلُ بَيْتِ اللَّهِ ، كُنَّا أَضْيَقَ النَّاسِ أَرْضًا وَأَشَدَّهُ عَيْشًا ، نَأْكُلُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ ، وَيُغِيرُ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ بِشَرِّ عَيْشٍ عَاشَ بِهِ النَّاسُ ، حَتَّى خَرَجَ فِينَا رَجُلٌ لَيْسَ بِأَعْظَمِنَا يَوْمَئِذٍ شَرَفًا وَلَا بِأَكْثَرِنَا مَالًا ، قَالَ : أَنَا رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ ، يَأْمُرُنَا بِأَشْيَاءَ لَا نَعْرِفُ ، وَيَنْهَانَا عَمَّا كُنَّا عَلَيْهِ وَكَانَ عَلَيْهِ آبَاؤُنَا ، فَشَنِفْنَا لَهُ وَكَذَّبْنَاهُ وَرَدَدْنَا عَلَيْهِ مَقَالَتَهُ ، حَتَّى خَرَجَ إِلَيْهِ قَوْمٌ مِنْ غَيْرِنَا فَقَالُوا : نَحْنُ نُصَدِّقُكَ وَنُؤْمِنُ بِكَ وَنَتَّبِعُكَ وَنُقَاتِلُ مَنْ قَاتَلَكَ ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ وَخَرَجْنَا إِلَيْهِ فَقَاتَلْنَاهُ ، فَظَهَرَ عَلَيْنَا وَغَلَبَنَا ، وَتَنَاوَلَ مَنْ يَلِيهِ مِنَ الْعَرَبِ فَقَاتَلَهُمْ حَتَّى ظَهَرَ عَلَيْهِمْ ، فَلَوْ يَعْلَمُ مَنْ وَرَائِيَ مِنَ الْعَرَبِ مَا أَنْتُمْ فِيهِ مِنَ الْعَيْشِ لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ حَتَّى جَاءَكُمْ حَتَّى يُشَارِكَكُمْ فِيمَا أَنْتُمْ فِيهِ مِنَ الْعَيْشِ ، فَضَحِكَ ثُمَّ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ صَدَقَ ، قَدْ جَاءَتْنَا رُسُلُنَا بِمِثْلِ الَّذِي جَاءَ بِهِ رَسُولُكُمْ ، فَكُنَّا عَلَيْهِ حَتَّى ظَهَرَتْ فِينَا فِتْيَانٌ فَجَعَلُوا يَعْمَلُونَ فِينَا بِأَهْوَائِهِمْ وَيَتْرُكُونَ أَمْرَ الْأَنْبِيَاءِ ، فَإِنْ أَنْتُمْ أَخَذْتُمْ بِأَمْرِ نَبِيِّكُمْ لَمْ يُقَاتِلْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبْتُمُوهُ ، وَلَمْ يُشَارِرْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا ظَهَرْتُمْ عَلَيْهِ ، فَإِذَا فَعَلْتُمْ مِثْلَ الَّذِي فَعَلْنَا ، وَتَرَكْتُمْ أَمْرَ نَبِيِّكُمْ ، وَعَمِلْتُمْ مِثْلَ الَّذِي عَمِلُوا بِأَهْوَائِهِمْ ، فَهُمْ لَمْ يَكُونُوا أَكْثَرَ عَدَدًا مِنَّا وَلَا أَشَدَّ قُوَّةً مِنَّا ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : فَمَا كَلَّمْتُ رَجُلًا أَنْكَرَ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
علقمہ بن وقاص بیان کرتے ہیں : سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی کہ مسلمانوں کا ایک لشکر بھیجا گیا ، میں ان لوگوں کا امیر تھا ، ہم نے اسکندریہ کے مقام پر پڑاؤ کیا ، تو دشمن کے ایک بڑے فرد نے یہ کہا: کسی شخص کو میرے پاس بھیجو تاکہ میں اس کے ساتھ بات چیت کروں اور وہ میرے ساتھ بات کرے ( سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ) تو میں نے کہا: میرے علاوہ اور کوئی اس کی طرف نہیں جائے گا ، تو میں اس کے قاصد کے ہمراہ نکلا ، یہاں تک کہ ہمارے لئے دو منبر رکھے گئے ، اس نے دریافت کیا : تم لوگ کون ہو ؟ میں نے جواب دیا : ہم عرب ہیں ، ہم کانٹوں اور پتوں میں رہنے والے لوگ ہیں ، ہم اللہ کے گھر کے پاس رہنے والے لوگ ہیں ، ہم روئے زمین پر سب سے زیادہ تنگی کا شکار لوگ تھے ، اور ہماری زندگی سب سے زیادہ مشکل تھی ، ہم مردار اور خون کھا لیا کرتے تھے اور ایک دوسرے پر حملہ آور ہو جایا کرتے تھے ، ہم اس سب سے برے طریقے سے زندہ رہے تھے جس کے ساتھ لوگ رہ سکتے ہیں ، یہاں تک کہ ہمارے درمیان ایک صاحب کا ظہور ہوا ، جو نہ تو معاشرتی طور پر سب سے زیادہ نمایاں حیثیت کے مالک تھے اور نہ ہی سب سے زیادہ مال دار تھے ، انہوں نے کہا: میں تم لوگوں کی طرف اللہ کا رسول ہوں ، انہوں نے ہمیں ایسی باتوں کا حکم دیا ، جن سے ہم واقف نہیں تھے اور انہوں نے ہمیں ایسی چیزوں سے منع کیا جن پر ہم عمل پیرا تھے ، اور ہمارے آباؤ اجداد ان پر عمل پیرا تھے ، تو ہم نے ان کی مخالفت کی ، ان کی تکذیب کی ، ان کی بات کو مسترد کیا ۔ یہاں تک کہ ہمارے علاوہ ایک اور قوم ان کے پاس آئی اور اس قوم کے لوگوں نے کہا: کہ ہم آپ کی تصدیق کرتے ہیں اور آپ پر ایمان لاتے ہیں اور آپ کی پیروی کرتے ہیں ، جو شخص آپ کے ساتھ لڑائی کرے گا ، ہم اس کے ساتھ جنگ کریں گے ، تو وہ صاحب ان لوگوں کے پاس تشریف لے گئے ، پھر ہم ان کے پیچھے گئے ، ہم نے ان کے ساتھ لڑائی کی ، تو وہ ہم پر غالب آ گئے اور پھر انہوں نے عربوں کے دیگر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر ان سے لڑائی کی ، یہاں تک کہ وہ ان پر بھی غالب آ گئے ، اگر میرے پیچھے موجود عرب لوگوں کو یہ پتہ چل جائے کہ تم لوگ کس طرح کی خوشحال زندگی گزار رہے ہو ، تو وہ سب لوگ تمہارے پاس آ جائیں گے اور تم لوگ جس خوشحال زندگی کو بسر کر رہے ہو ، وہ اس میں تمہارے حصے دار بن جائیں گے ۔ تو دشمن کا امیر ہنس پڑا اور بولا: بے شک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ کہا: ہے ، ہمارے پاس بھی رسول اسی کی مانند تعلیمات لے کے آئے تھے ، جو تمہارے رسول لے کے آئے ہیں ، اور ہمارے بڑے ان تعلیمات پر عمل پیرا رہے ، یہاں تک کہ ہمارے درمیان کچھ لوگ آئے ، جنہوں نے اپنی نفسانی خواہشات پر عمل کرنا شروع کر دیا اور انبیاء کے حکم کو ترک کر دیا ، جب تک تم لوگ اپنے نبی کے حکم پر عمل پیرا رہو گے ، جو بھی تمہارے مقابلے میں آئے گا ، تم اس پر غالب آ جاؤ گے اور جو بھی تمہارے سامنے آئے گا ، تم اس پر غلبہ پا لو گے اور جب تم لوگ اس طرح کے کام کرو گے ، جس طرح کے ہم نے کیے اور تم لوگ اپنے نبی کے حکم کو ترک کر دو گے اور اس کی مانند عمل کرو گے جو ان لوگوں نے عمل کیا جو اپنی نفسانی خواہشات پر عمل کرتے تھے ، تو پھر تمہیں تمہارے حال پر چھوڑ دیا جائے گا کیونکہ تم تعداد میں ہم سے زیادہ نہیں ہو ، اور قوت میں ہم سے زیادہ مضبوط نہیں ہو ۔ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اُس سے زیادہ سمجھ دار کسی شخص سے بات نہیں کی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عمرو بن علقمہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ راوی ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13896
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7353)»
حدیث نمبر: 13897
وَعَنْ كُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ قَالَ : قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفْدُ نَصَارَى نَجْرَانَ ، مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ مِنْ أَشْرَافِهِمْ ، وَالْأَرْبَعَةُ وَالْعِشْرُونَ مِنْهُمْ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ إِلَيْهِمْ يَئُولُ أَمْرُهُمْ ، الْعَاقِبُ : أَمِيرٌ لِلْقَوْمِ وَذُو رَأْيِهِمْ وَصَاحِبُ مَشُورَتِهِمْ وَالَّذِي لَا يَصْدُرُونَ إِلَّا عَنْ رَأْيِهِ وَأَمْرِهِ ، وَاسْمُهُ عَبْدُ الْمَسِيحِ ، وَالسَّيِّدُ : عَالِمُهُمْ وَصَاحِبُ رَحْلِهِمْ وَمُجْتَمَعِهِمْ ، وَأَبُو حَارِثَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ أَخُو بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ ، أُسْقُفُهُمْ وَحَبْرُهُمْ وَإِمَامُهُمْ وَصَاحِبُ مُدَارَسَتِهِمْ ، وَكَانَ أَبُو حَارِثَةَ قَدْ شَرُفَ فِيهِمْ حَتَّى حَسُنَ عِلْمُهُ فِي دِينِهِمْ ، وَكَانَتْ مُلُوكُ النَّصْرَانِيَّةِ قَدْ سَرَقُوهُ وَقَتَلُوهُ وَبَنَوْا لَهُ الْكَنَائِسَ وَبَسَطُوا عَلَيْهِ الْكَرَامَاتِ لِمَا يَبْلُغُهُمْ مِنَ اجْتِهَادِهِ فِي دِينِهِمْ ، فَلَمَّا وَجَّهُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ نَجْرَانَ ، جَلَسَ أَبُو حَارِثَةَ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ مُوَجَّهًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِلَى جَنْبِهِ أَخٌ لَهُ يُقَالُ لَهُ : كُرْزُ بْنُ عَلْقَمَةَ يُسَائِلُهُ إِذْ عَثَرَتْ بَغْلَةُ أَبِي حَارِثَةَ فَقَالَ كُرْزٌ : تَعِسَ الْأَبْعَدُ ، يُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بَلْ أَنْتَ تَعِسْتَ ، قَالَ : وَلِمَ يَا أَخِ ؟ قَالَ : وَاللَّهِ إِنَّهُ النَّبِيُّ الَّذِي كُنَّا نَنْتَظِرُ ، قَالَ لَهُ كُرْزٌ : مَا يَمْنَعُكَ وَأَنْتَ تَعْلَمُ هَذَا ؟ قَالَ : مَا صَنَعَ بِنَا هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ ، شَرَّفُونَا وَأَكْرَمُونَا وَقَدْ أَبَوْا إِلَّا خِلَافَهُ ، وَلَوْ قَدْ فَعَلْتُ نَزَعُوا مِنَّا كُلَّ مَا تَرَى ، وَأَضْمَرَ عَلَيْهَا أَخُوهُ كُرْزُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، يَعْنِي : أَسْلَمَ بَعْدَ ذَلِكَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ بُرَيْدَةُ بْنُ سُفْيَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کرز بن علقمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نجران کے عیسائیوں کا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وفد میں ان کے چوبیس سرکردہ افراد تھے ، اور ان چوبیس افراد میں سے تین افراد ایسے تھے ، جن کی طرف ان لوگوں کے معاملات میں رجوع کیا جاتا تھا ، ان میں سے ایک ” عاقب “ نام کا شخص تھا ، جو ان لوگوں کا امیر تھا اور ان کا تجربہ کار آدمی اور مشورہ دینے والا فرد تھا ، وہ لوگ اس کی رائے اور اس کے حکم سے عدول نہیں کرتے تھے ، اس کا نام عبدالمسیح تھا ، ایک شخص کا نام ” سید “ تھا ، وہ ان کا عالم تھا اور ان کے امور کا نگران تھا ، ایک شخص ” ابوحارثہ بن علقمہ “ تھا ، جو بکر بن وائل سے تعلق رکھتا تھا ، وہ ان کا پادری ان کا بڑا عالم اور ان کا پیشوا اور ان کے درس و تدریس کے امور کا نگران تھا ، ابوحارثہ کو ان کے درمیان نمایاں حیثیت حاصل تھی ، ان لوگوں کے دین کے بارے میں وہ بھرپور عالم تھا ، عیسائیوں کے بادشاہ اسے عزت دیتے تھے ، اس کی بات کو قبول کرتے تھے ، ان لوگوں نے اس کے لئے عبادت خانے تعمیر کیے تھے ، اور دین میں اس کی بھرپور کوشش کی وجہ سے اسے بہت سے اعزاز و احترام سے نوازا تھا ۔ جب یہ لوگ نجران سے چل کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جانے کے لئے روانہ ہوئے ، تو ابوحارثہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جانے کے لئے اپنے خچر پر بیٹھا ، اس کے پہلو میں اس کا بھائی تھا ، جس کا نام کرز بن علقمہ تھا ، وہ اس سے بات چیت کر رہا تھا ، اسی دوران ابوحارثہ کے خچر کو ٹھوکر لگی تو کرز نے کہا: دور کا شخص ، برباد ہو جائے ، اس کی مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے ، تو ابوحارثہ نے کہا: بلکہ تم برباد ہو جاؤ ! کرز نے دریافت کیا : وہ کیوں اے بھائی جان ؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم ! یہ وہی نبی ہیں ، جن کا ہم انتظار کر رہے تھے ، کرز نے اس سے دریافت کیا : جب تم یہ بات جانتے ہو ، تو پھر تمہارے لئے رکاوٹ کیا ہے ؟ اس نے کہا: رکاوٹ یہ ہے کہ جو ان ( عیسائی ) لوگوں نے ہمارے ساتھ سلوک کیا ہوا ہے ، ان لوگوں نے ہمیں عزت دی ہے ، یہ لوگ ہمارا احترام کرتے ہیں اور یہ لوگ اس بات کو نہیں مانیں گے کہ ہم اُن ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کی پیروی کریں ، اگر میں ایسا کر لیتا ہوں ، تو وہ مجھ سے ہر وہ چیز لے لیں گے ، جو تم دیکھ رہے ہو ۔ تو اس کے بھائی کرز بن علقمہ نے اس حوالے سے یہ بات پوشیدہ رکھی ، راوی کہتے ہیں : یعنی انہوں نے بعد میں اسلام قبول کر لیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بریدہ بن سفیان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13897
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 13898
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا أَرَادَ هَدْيَ زَيْدِ بْنِ سَعْنَةَ ، قَالَ زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ : مَا مِنْ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ شَيْءٌ إِلَّا وَقَدْ عَرَفْتُهَا فِي وَجْهِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ نَظَرْتُ إِلَيْهِ ، إِلَّا اثْنَتَيْنِ لَمْ أُخْبَرْهُمَا مِنْهُ : يَسْبِقُ حِلْمُهُ جَهْلَهُ ، وَلَا تَزِيدُهُ شِدَّةُ الْجَهْلِ عَلَيْهِ إِلَّا حِلْمًا ، قَالَ زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ : فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا مِنَ الْحُجُرَاتِ وَمَعَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَأَتَاهُ رَجُلٌ عَلَى رَاحِلَةٍ كَالْبَدَوِيِّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لِي نَفَرٌ فِي قَرْيَةِ بَنِي فُلَانٍ قَدْ أَسْلَمُوا وَدَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ ، وَكُنْتُ حَدَّثْتُهُمْ إِنْ أَسْلَمُوا أَتَاهُمُ الرِّزْقُ رَغَدًا ، وَقَدْ أَصَابَتْهُمْ سَنَةٌ وَشِدَّةٌ وَقَحْطٌ مِنَ الْغَيْثِ ، فَأَنَا أَخْشَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنْ يَخْرُجُوا مِنَ الْإِسْلَامِ طَمَعًا كَمَا دَخَلُوا فِيهِ طَمَعًا ، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُرْسِلَ إِلَيْهِمْ بِشَيْءٍ تُغِيثَهُمْ بِهِ فَعَلْتَ ، فَنَظَرَ إِلَى رَجُلٍ إِلَى جَانِبِهِ - أَرَاهُ عَلِيًّا - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا بَقِيَ مِنْهُ شَيْءٌ ، قَالَ زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ : فَدَنَوْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ : يَا مُحَمَّدُ ، هَلْ لَكَ أَنْ تَبِيعَنِي تَمْرًا مَعْلُومًا فِي حَائِطِ بَنِي فُلَانٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ ، إِلَى أَجَلِ كَذَا وَكَذَا ؟ قَالَ : " لَا تُسَمِّي حَائِطَ بَنِي فُلَانٍ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، فَبَايَعَنِي ، فَأَطْلَقْتُ هِمْيَانِي فَأَعْطَيْتُهُ ثَمَانِينَ مِثْقَالًا مِنْ ذَهَبٍ فِي تَمْرٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلِ كَذَا وَكَذَا ، فَأَعْطَى الرَّجُلَ وَقَالَ : " اعْدِلْ عَلَيْهِمْ وَأَغِثْهُمْ بِهَا " ، قَالَ زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ : فَلَمَّا كَانَ قَبْلَ مَحَلِّ الْأَجَلِ بِيَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَلَمَّا صَلَّى عَلَى الْجِنَازَةِ وَدَنَا إِلَى الْجِدَارِ لِيَجْلِسَ إِلَيْهِ أَتَيْتُهُ فَأَخَذْتُ بِمَجَامِعِ قَمِيصِهِ وَرِدَائِهِ ، وَنَظَرْتُ إِلَيْهِ بِوَجْهٍ غَلِيظٍ ، قُلْتُ لَهُ : يَا مُحَمَّدُ ، أَلَا تَقْضِينِي حَقِّي ؟ فَوَاللَّهِ مَا عُلِمْتُمْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِلَّا مُطْلٌ ، وَلَقَدْ كَانَ بِمُخَالَطَتِكُمْ عِلْمٌ ، وَنَظَرْتُ إِلَى عُمَرَ وَعَيْنَاهُ تَدُورَانِ فِي وَجْهِهِ كَالْفَلَكِ الْمُسْتَدِيرِ ، ثُمَّ رَمَانِي بِبَصَرِهِ فَقَالَ : يَا عَدُوَّ اللَّهِ ، أَتَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا أَسْمَعُ وَتَصْنَعُ بِهِ مَا أَرَى ؟ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْلَا مَا أُحَاذِرُ فَوْتَهُ لَضَرَبْتُ بِسَيْفِي رَأْسَكَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْظُرُ إِلَيَّ فِي سُكُونٍ وَتُؤَدَةٍ ، فَقَالَ : " يَا عُمَرُ أَنَا وَهُوَ كُنَّا أَحْوَجَ إِلَى غَيْرِ هَذَا ، أَنْ تَأْمُرَنِي بِحُسْنِ الْأَدَاءِ وَتَأْمُرَهُ بِحُسْنِ اتِّبَاعِهِ ، اذْهَبْ بِهِ يَا عُمَرُ ، فَأَعْطِهِ حَقَّهُ ، وَزِدْهُ عِشْرِينَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ مَكَانَ مَا رُعْتَهُ " ، قَالَ زَيْدٌ : فَذَهَبَ بِي عُمَرُ فَأَعْطَانِي حَقِّي وَزَادَنِي عِشْرِينَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، فَقُلْتُ : مَا هَذِهِ الزِّيَادَةُ يَا عُمَرُ ؟ قَالَ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أَزِيدَكَ مَكَانَ مَا رُعْتُكَ ، قَالَ : وَتَعْرِفُنِي يَا عُمَرُ ؟ قَالَ : لَا [ مَنْ أَنْتَ ] ، قُلْتُ : أَنَا زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ ، قَالَ : الْحَبْرُ ؟ قُلْتُ : الْحَبْرُ ، قَالَ : فَمَا دَعَاكَ إِلَى أَنْ فَعَلْتَ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا فَعَلْتَ ، وَقُلْتَ لَهُ مَا قُلْتَ ؟ قُلْتُ : يَا عُمَرُ ، لَمْ يَكُنْ مِنْ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ شَيْءٌ إِلَّا وَقَدْ عَرَفْتُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ نَظَرْتُ إِلَيْهِ ، إِلَّا اثْنَتَيْنِ لَمْ أُخْبَرْهُمَا مِنْهُ : يَسْبِقُ حِلْمُهُ جَهْلَهُ ، وَلَا تَزِيدُهُ شِدَّةُ الْجَهْلِ عَلَيْهِ إِلَّا حِلْمًا ، وَقَدِ اخْتَبَرْتُهُمَا ، فَأُشْهِدُكَ يَا عُمَرُ أَنِّي قَدْ رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا ، وَأُشْهِدُكَ أَنَّ شَطْرَ مَالِي - فَإِنِّي أَكْثَرُهَا مَالًا - صَدَقَةٌ عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ عُمَرُ : أَوْ عَلَى بَعْضِهِمْ ، فَإِنَّكَ لَا تَسَعُهُمْ ؟ قُلْتُ : أَوْ عَلَى بَعْضِهِمْ ، فَرَجَعَ عُمَرُ وَزَيْدٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ زَيْدٌ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، وَآمَنَ بِهِ وَصَدَّقَهُ وَبَايَعَهُ وَشَهِدَ مَعَهُ مَشَاهِدَ كَثِيرَةً ، ثُمَّ تُوُفِّيَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ ، رَحِمَ اللَّهُ زَيْدًا . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ طَرَفًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ کو ہدایت دینے کا ارادہ کیا ، تو زید بن سعنہ نے کہا: نبوت کی علامات سے متعلق جو بھی چیز ہے ، وہ مجھے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے میں پتہ چل گئی ، جب میں نے ان کی طرف دیکھا تھا ، البتہ دو چیزوں کا معاملہ مختلف ہے ، ان کے حوالے سے میں انہیں آزما لیتا ہوں ، ایک یہ کہ اُن کی بردباری ، ان کی سختی پر سبقت لے جاتی ہو گی اور ان کے خلاف جتنی شدت کے ساتھ بدتمیزی کی جائے گی ، وہ اتنے ہی زیادہ بردبار ہوں گے ، تو میں ان کے ساتھ رہنے لگا ، تاکہ ان کے ساتھ گھل مل کے سختی کے مقابلے میں ، اُن کی بردباری کا جائزہ لوں ، زید بن سعنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حجروں سے تشریف لائے ، آپ کے ساتھ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بھی تھے ، ایک شخص سواری پر سوار ہو کے آپ کے پاس آیا ، وہ بدوی لگ رہا تھا ، اس نے کہا: یا رسول اللہ ! بنوفلاں کے علاقے میں ، میرے ساتھی کچھ لوگ ہیں ، وہ اسلام قبول کر چکے ہیں ، وہ لوگ اسلام میں داخل ہو چکے ہیں ، میں نے انہیں یہ بتایا تھا کہ جب وہ اسلام قبول کر لیں گے ، تو ان کے پاس بہت سا رزق آئے گا ، لیکن انہیں تو قحط سالی اور مصیبت نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ، اور بارش ہو نہیں رہی ہیں ، یا رسول اللہ ! مجھے یہ اندیشہ ہے کہ وہ لوگ جس طرح لالچ کی بنیاد پر اسلام میں داخل ہوئے تھے ، اسی طرح لالچ کی وجہ سے اسلام سے نکل جائیں گے ، تو اگر آپ مناسب سمجھیں کہ ان کی طرف کوئی چیز بھیج دیں ، جس کے ذریعے آپ ان لوگوں کی مدد کر دیں ، تو یہ مناسب ہو گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پہلو میں موجود شخص کی طرف دیکھا ، میرا خیال ہے وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ کوئی بھی چیز باقی نہیں ہے ، زید بن سعنہ کہتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا ، میں نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! کیا آپ اس بات میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ متعین مدت کے بعد بنو فلاں کے باغ میں لگنے والی متعین کھجوروں کے عوض میں میرے ساتھ سودا کر لیں ، اور اس کی مدت اتنی اتنی ہو گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! اے یہودی ! میں تمہارے ساتھ کھجوروں کا سودا کروں گا ، جو متعین ہوں گی اور اس کی مدت متعین ہو گی ، جو فلاں مدت ہو گی ، لیکن تم اس میں کسی مخصوص باغ کو متعین نہیں کر سکتے ، میں نے کہا: ٹھیک ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ یہ سودا طے کیا ، میں نے اپنی تھیلی کو کھولا اور اس میں سے متعین کھجوروں کے عوض میں متعین مدت کے معاہدے کے ساتھ سونے کے اسّی مثقال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیدیے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مثقال ان صاحب کو دیے اور فرمایا : تم ان لوگوں کے پاس جاؤ اور ان کے ذریعے اُن لوگوں کی مدد کرو ۔ سیدنا زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب اس متعین مدت کے ختم ہونے میں دو یا تین دن باقی رہ گئے تو ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے ، آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے اور کچھ دیگر اصحاب تھے ، آپ نے نماز جنازہ ادا کی ، پھر آپ ایک دیوار کی طرف بڑھ گئے ، تاکہ اس کے پاس بیٹھ جائیں ، میں آپ کے پاس آیا ، میں نے آپ کی قمیص کے گریبان اور آپ کی چادر کو پکڑا اور سخت نظروں سے آپ کی طرف دیکھا اور آپ سے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ میرا حق مجھے کیوں نہیں ادا کر رہے ہیں ؟ آپ لوگوں ، بنو عبدالمطلب کے بارے میں مجھے پتہ ہے کہ آپ لوگ ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں اور آپ لوگوں کے ساتھ میل جول رکھ کر مجھے اس بات کا پتہ چل چکا ہے ، پھر میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا ، تو ان کی آنکھیں اُبل رہی تھیں ، انہوں نے میری طرف دیکھ کر کہا: اے اللہ کے دشمن ! کیا تم اللہ کے رسول کو یہ بات کہہ رہے ہو ؟ جو میں سن رہا ہوں اور ان کے ساتھ یہ کر رہے ہو ، جو میں دیکھ رہا ہوں ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اگر وہ چیز نہ ہوتی جس کے ضائع ہونے سے میں بچ رہا ہوں تو میں نے اپنی تلوار کے ذریعے تمہارا سر اُڑا دینا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سکون اور نرمی کے ساتھ میری طرف دیکھتے رہے ، آپ نے فرمایا : اے عمر ! میں اور یہ ، ہم اس کے علاوہ صورت حال کے بارے میں زیادہ محتاج ہیں ، اور وہ یہ ہے کہ تم مجھ سے یہ کہو : کہ آپ اچھے طریقے سے ادائیگی کریں ، اور تم اس کو یہ کہو : کہ یہ اچھے طریقے سے وصولی کرے ، اور اے عمر ! تم اسے لے جاؤ اسے اس کا حق دے دو ، اور اسے کھجوروں کے بیس صاع زیادہ دینا ، جو اُس چیز کا بدلہ ہوں گے ، جو تم نے اسے دھمکی دی ہے ۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجھے ساتھ لے گئے ، انہوں نے میرا حق مجھے ادا کیا اور کھجوروں کے مزید بیس صاع مجھے دیے ، تو میں نے کہا: اے عمر ! یہ اضافی ادائیگی کس لئے ہے ؟ انہوں بتایا کہ اللہ کے رسول نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں نے جو تمہیں دھمکی دی تھی ، اس کی جگہ میں تمہیں مزید ادائیگی کروں ، تو سیدنا زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عمر ! کیا تم مجھے جانتے ہو ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں ! تم کون ہو ؟ میں نے کہا: میں زید بن سعنہ ہوں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ جو یہودیوں کا بڑا عالم ہے ؟ میں نے کہا: ہاں ! یہودیوں کا بڑا عالم ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیوں کیا ؟ اور جو بات کہی تھی ، اس طرح کی بات کیوں کی ؟ تو میں نے کہا: اے عمر ! نبوت کی علامات سے متعلق ہر چیز ، میں اللہ کے رسول کے چہرے میں پہچان چکا تھا ، جب میں نے انہیں دیکھا تھا ، لیکن دو چیزیں باقی رہ گئی تھیں ، جن کے بارے میں ، میں اُن کے حوالے سے تحقیق کرنا چاہتا تھا ، وہ یہ کہ ان کی بردباری ان کی سختی پر سبقت لے جاتی ہو گی ، اور ان کے سامنے جتنی زیادہ سختی کے ساتھ بدتمیزی کی جائے گی ، اُن کی بردباری اتنی ہی زیادہ ہو گی ، تو اب میں نے ان دونوں چیزوں کو آزما لیا ہے ، اور میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں اے عمر ! کہ میں اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے سے راضی ہوں ، اور میں آب کو اس بات پر بھی گواہ بنا رہا ہوں کہ میرا نصف مال سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لئے صدقہ ہے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اس ( مال ) کا کچھ حصہ کر لو ، تم اس کی گنجائش نہیں رکھو گے ، میں نے کہا: یا پھر اس کا کچھ حصہ ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید رضی اللہ عنہ واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے اور آپ کے دست اقدس پر اسلام قبول کیا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت سے غزوات میں شریک ہوئے ، پھر وہ غزوہ تبوک کے موقع پر دشمن کی طرف رخ کر کے پیٹھ پھیرے بغیر شہید ہوئے تھے ، اللہ تعالیٰ سیدنا زید رضی اللہ عنہ پر رحم کرے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13898
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5147)»
حدیث نمبر: 13899
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : كُنْتُ مِنْ أَبْنَاءِ أَسَاوِرَةِ فَارِسَ ، قَالَ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ فَانْطَلَقْتُ تَرْفَعُنِي أَرْضٌ وَتَخْفِضُنِي أُخْرَى ، حَتَّى مَرَرْتُ عَلَى قَوْمٍ [ مِنْ الْأَعْرَابِ ] فَاسْتَعْبَدُونِي فَبَاعُونِي ، حَتَّى اشْتَرَتْنِي امْرَأَةٌ ، فَسَمِعْتُهُمْ يَذْكُرُونَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ الْعَيْشُ عَزِيزًا فَقُلْتُ لَهَا : هَبِي لِي يَوْمًا ، قَالَتْ : نَعَمْ ، فَانْطَلَقْتُ فَاحْتَطَبْتُ حَطَبًا فَبِعْتُهُ فَصَنَعْتُ طَعَامًا ، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " ، فَقُلْتُ : صَدَقَةٌ ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : " كُلُوا " ، وَلَمْ يَأْكُلْ ، فَقُلْتُ : هَذِهِ مِنْ عَلَامَاتِهِ ، ثُمَّ مَكَثْتُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَمْكُثَ ، فَقُلْتُ لِمَوْلَاتِي : هِبِي لِي يَوْمًا ، قَالَتْ : نَعَمْ ، فَانْطَلَقْتُ فَاحْتَطَبْتُ حَطَبًا فَبِعْتُهُ بِأَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، فَصَنَعْتُ طَعَامًا فَأَتَيْتُهُ بِهِ وَهُوَ جَالِسٌ بَيْنَ أَصْحَابِهِ ، فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " ، فَقُلْتُ : هَدِيَّةٌ ، فَوَضَعَ يَدَهُ ، وَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : " خُذُوا بِاسْمِ اللَّهِ " ، وَقُمْتُ خَلْفَهُ فَوَضَعَ رِدَاءَهُ ، فَإِذَا خَاتَمُ النُّبُوَّةِ ، فَقُلْتُ : أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ : " وَمَا ذَاكَ ؟ " ، فَحَدَّثْتُهُ عَنِ الرَّجُلِ ، فَقُلْتُ لَهُ : أَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنَّهُ حَدَّثَنِي أَنَّكَ نَبِيٌّ ؟ فَقَالَ : " لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ أَخْبَرَنِي أَنَّكَ نَبِيٌّ أَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ ؟ قَالَ : لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرا تعلق فارس کے خوشحال لوگوں سے تھا ، راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری روایت ذکر کی ہے ، جس میں آگے چل کے یہ الفاظ ہیں : ” میں مختلف علاقوں سے گزرتا ہوا کچھ لوگوں کے پاس آیا ، جو دیہاتی تھے انہوں نے مجھے غلام بنا لیا اور مجھے فروخت کر دیا ، یہاں تک کہ ایک عورت نے مجھے خرید لیا ، میں نے ان لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے سنا تو زندگی ٹھیک جا رہی تھی ، ایک دن میں نے اپنی مالکن سے کہا: آپ مجھے ایک دن کی چھٹی دے دیں ، اس نے کہا: ٹھیک ہے ، میں گیا ، میں نے لکڑیاں اکٹھی کیں ، انہیں فروخت کیا ، ان کے ذریعے کھانا تیار کیا اور وہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ، میں نے عرض کی : یہ صدقہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : تم لوگ کھا لو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اسے نہیں کھایا ، تو میں نے سوچا : یہ ان کی مخصوص علامات میں سے ایک ہے ۔ پھر جتنا عرصہ اللہ کو منظور تھا اتنا عرصہ گزر گیا ، پھر میں نے اپنی مالکن سے کہا: آپ مجھے ایک دن کی چھٹی دے دیں ، اس نے کہا: ٹھیک ہے ، میں گیا ، میں نے لکڑیاں اکٹھی کیں ، انہیں زیادہ قیمت میں فروخت کیا ، ان کے ذریعے کھانا تیار کیا ، اسے لے کر آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے درمیان تشریف فرما تھے ، وہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا ، آپ نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ، میں نے عرض کی یہ تحفہ ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس میں رکھا اور اپنے ساتھیوں سے فرمایا : تم لوگ اللہ کا نام لے کر کھاؤ ، میں آپ کے پیچھے کھڑا ہوا ، آپ نے چادر ہٹائی تو مہر نبوت نظر آ گئی ، میں نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کس وجہ سے ؟ تو میں نے آپ کو اس شخص کے بارے میں بتایا ، میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا وہ شخص جنت میں جائے گا ؟ جس نے مجھے یہ بتایا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جنت میں صرف مسلمان جان داخل ہو گی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس نے مجھے یہ بتایا تھا کہ آپ نبی ہیں ، تو کیا وہ جنت میں ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جنت میں صرف مسلمان داخل ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13899
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6155) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (438/5)»
حدیث نمبر: 13900
وَعَنْ سَلْمَانَ أَيْضًا قَالَ : خَرَجْتُ أَبْتَغِي الدِّينَ ، فَوَقَعْتُ فِي الرُّهْبَانِ بَقَايَا أَهْلِ الْكِتَابِ ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : ( يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمُ ) فَكَانُوا يَقُولُونَ : هَذَا زَمَانُ نَبِيٍّ قَدْ أَطَلَّ ، يَخْرُجُ مِنْ أَرْضِ الْعَرَبِ ، لَهُ عَلَامَاتٌ ، مِنْ ذَلِكَ : شَامَةٌ مُدَوَّرَةٌ بَيْنَ كَتِفَيْهِ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ . فَلَحِقْتُ بِأَرْضِ الْعَرَبِ وَخَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَأَيْتُ مَا قَالُوا كُلَّهُ ، وَرَأَيْتُ الْخَاتَمَ ، فَشَهِدْتُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، قُلْتُ : وَتَأْتِي بَقِيَّةُ أَحَادِيثِ سَلْمَانَ فِي مَنَاقِبِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں دین کی تلاش میں نکلا ، میں اہل کتاب کے باقی رہ جانے والے کچھ راہبوں کے پاس پہنچا ، اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” وہ لوگ اس نبی کو یوں پہچانتے ہیں جس طرح وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں ۔ “ تو راہبوں کا یہ کہنا تھا کہ یہ اس نبی کی بعثت کا زمانہ آ گیا ہے ، جن کا ظہور عرب کی سرزمین پر ہو گا ، ان کی مخصوص نشانیاں ہیں ، جن میں سے ایک نشانی مہر نبوت ہے ، جو ان کے دونوں کندھوں کے درمیان ایک بڑے سے تل کی طرح ہو گی ، تو میں عرب کی سرزمین پر آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا ، میں نے تمام چیزیں دیکھ لیں ، جو انہوں نے بیان کی تھیں اور میں نے مہر نبوت بھی دیکھ لی ، تو میں نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی بقیہ احادیث ان کے مناقب سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13900
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح