کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نبی اکرم ﷺ کا اس شخص سے محفوظ رہنا جو آپ کے قتل کا ارادہ کرے
حدیث نمبر: 13868
عَنْ جَعْدَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَأَى رَجُلًا سَمِينًا ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُومِئُ إِلَى بَطْنِهِ بِيَدِهِ وَيَقُولُ : " لَوْ كَانَ هَذَا فِي غَيْرِ هَذَا لَكَانَ خَيْرًا لَكَ " . قَالَ : وَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِرَجُلٍ فَقَالُوا : هَذَا أَرَادَ أَنْ يَقْتُلَكَ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَمْ تُرَعْ ، لَمْ تُرَعْ ، وَلَوْ أَدَرْتَ ذَلِكَ ؟ لَمْ يُسَلِّطْكَ اللَّهُ عَلَيَّ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي إِسْرَائِيلَ الْجُشَمِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جعدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ نے ایک موٹے تازے شخص کو ملاحظہ کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پیٹ کی طرف اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کر کے یہ فرمایا : ” اگر یہ اس جگہ کے علاوہ کہیں اور ہوتا تو یہ تمہارے حق میں زیادہ بہتر تھا “ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کو لایا گیا ، لوگوں نے کہا: اس شخص نے یہ ارادہ کیا ہے کہ یہ آپ کو قتل کر دے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : تم ڈرو نہیں ، تم ڈرو نہیں ، اگر تم اس ( تلوار ) کے ساتھ گھوم رہے ہوتے ، تو بھی اللہ تعالیٰ نے تمہیں مجھ پر مسلط نہیں کرنا تھا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف اسرائیل جشمی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13868
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2183) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (471/3)»
حدیث نمبر: 13869
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى فَرَسٍ عَطُوفٍ تَتْبَعُهَا مُهْرَةٌ ، فَقَالَ : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَنَا رَسُولُ اللَّهِ . قَالَ : فَمَتَى السَّاعَةُ ؟ قَالَ : " غَيْبٌ ، وَلَا يَعْلَمُ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ " قَالَ : فَمَتَى يُمْطِرُ الْغَيْثُ ؟ قَالَ : " غَيْبٌ ، وَلَا يَعْلَمُ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ " قَالَ فَمَا فِي بَطْنِ فَرَسِي ؟ قَالَ : " غَيْبٌ ، وَلَا يَعْلَمُ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ " قَالَ : فَأَعْطِنِي سَيْفَكَ هَذَا . قَالَ : " هَا " . فَأَخَذَهُ فَسَلَّهُ ثُمَّ هَزَّهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ الَّذِي أَرَدْتَ " . ثُمَّ قَالَ : إِنَّ هَذَا أَقْبَلَ ثُمَّ قَالَ : ائْتِهِ قَاتِلَهُ ، ثُمَّ أَخُذُ بِسَيْفِي فَاقْتُلُهُ ثُمَّ غَمَدَ السَّيْفَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سرخ خیمے میں موجود تھے ، اسی دوران ایک شخص ایک گھوڑے پر سوار ہو کر آیا ، جس کے پیچھے گھوڑے کا بچہ بھی تھا ، اس نے دریافت کیا : آپ کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اللہ کا رسول ہوں ، اس نے کہا: قیامت کب آئے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ ایک غیب ہے اور غیب کا علم صرف اللہ کو ہوتا ہے ، اس نے دریافت کیا : بادل بارش کب نازل کرے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ غیب ہے ، اور غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہوتا ہے ، اس نے دریافت کیا : میری گھوڑی کے پیٹ میں کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ غیب ہے ، اور غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہوتا ہے ، اس نے کہا: آپ اپنی یہ تلوار مجھے دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لو ! اس نے وہ تلوار لی ، اُسے لہرایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : تم اس کام کی استطاعت نہیں رکھ سکو گے ، جس کا تم نے ارادہ کیا ہے ، پھر آپ نے بتایا : یہ شخص آیا ، اس نے سوچا کہ میں ان کے پاس جا کر ان سے سوال کروں گا اور پھر اپنی تلوار پکڑ کر انہیں قتل کر دوں گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13869
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6245)»
حدیث نمبر: 13870
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ قَالَ : قَالَتْ بِنْتُ الْحَكَمِ : قُلْتُ لِجَدِّي : مَا رَأَيْتُ يَوْمًا أَعْجَزَ وَلَا أَسْوَأَ رَأْيًا فِي رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَا بَنِي أُمَيَّةَ . قَالَ : لَا تَلُومِينَا يَا بُنَيَّةُ ، إِنِّي لَا أُحَدِّثُكِ إِلَّا مَا رَأَيْتُ بِعَيْنَيَّ هَاتَيْنِ . قُلْنَا : وَاللَّهِ مَا نَزَالُ نَسْمَعُ قُرَيْشًا تُعْلِي هَذَا الصَّابِئَ فِي مَسْجِدِنَا ، تَوَاعَدُوا لَهُ حَتَّى تَأْخُذَهُ ، فَتَوَاعَدْنَا إِلَيْهِ ، فَلَمَّا رَأَيْنَاهُ سَمِعْنَا أَصْوَاتًا ظَنَنَّا أَنَّهُ مَا بَقِيَ بِتِهَامَةَ خَيْلٌ إِلَّا تَفَتَّتْ عَلَيْنَا ، فَمَا عَقَلْنَا حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ وَرَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ ، ثُمَّ تَوَاعَدْنَا لَيْلَةً أُخْرَى ، فَلَمَّا جَاءَ نَهَضْنَا إِلَيْهِ فَرَأَيْتُ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ الْتَقَتَا أَحَدَاهُمَا بِالْأُخْرَى فَحَالَتَا بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ ، فَوَاللَّهِ مَا نَفَعَنَا ذَلِكَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ غَيْرَ بِنْتِ الْحَكَمِ فَلَمْ أَعْرِفْهَا . ¤
محمد محی الدین
قیس بن حبتر بیان کرتے ہیں : حکم کی صاحبزادی نے یہ بات بیان کی ہے : میں نے اپنے دادا سے کہا: اے بنوامیہ ! میں نے ایسی کوئی قوم نہیں دیکھی ، جو اللہ کے رسول کے بارے میں آپ لوگوں سے زیادہ عاجز ہو اور زیادہ بری رائے رکھتی ہو ، تو انہوں نے کہا: اے بیٹی ! تم ہمیں ملامت نہ کرو ، میں تمہیں صرف وہ چیز بیان کروں گا ، جو میں نے اپنی ان دو آنکھوں کے ذریعے دیکھی ہے ، ہم نے یہ سوچا اللہ کی قسم ہمیں قریش کے بارے میں مسلسل یہ بات سننے کو مل رہی ہے کہ وہ لوگ ہماری مسجد کے حوالے سے اس بے دین شخص سے مغلوب ہو رہے ہیں ، تو ہم نے اس بارے میں یہ طے کیا کہ آپس میں مل کر کچھ کرتے ہیں ، ہم نے اس بارے میں کچھ طے کر لیا ، جب ہم نے آپ کو دیکھا ، تو ہم نے کچھ آوازیں سنیں ، جن سے ہمیں یہ گمان ہوا کہ تہامہ میں کوئی گھوڑا باقی نہیں بچا ہو گا ، مگر یہ کہ وہ ہماری سمت آ رہا ہو گا ، تو ہمیں بات سمجھ ہی نہیں آئی ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز مکمل کر لی ، اور آپ اپنے گھر واپس چلے گئے ، پھر ہم نے اگلی رات کے بارے میں ارادہ کیا ، جب آپ تشریف لائے ، تو ہم آپ کی طرف بڑھے ، میں نے صفا اور مروہ پہاڑ کو دیکھا ، وہ دونوں ایک دوسرے سے مل گئے ہیں ، اور ہمارے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان رکاوٹ بن گئے ہیں ، اللہ کی قسم ! اس چیز ( یعنی اس صورتحال ) نے ہمیں نفع نہیں دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے ، صرف حکم کی صاحبزادی کا معاملہ مختلف ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13870
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3166)»
حدیث نمبر: 13871
وَعَنْ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ : كُنْتُ يَوْمًا فِي الْمَسْجِدِ فَأَقْبَلَ أَبُو جَهْلٍ فَقَالَ : إِنَّ لِلَّهِ عَلَيَّ إِنْ رَأَيْتُ مُحَمَّدًا سَاجِدًا أَنْ أَطَأَ عَلَى رَقَبَتِهِ . فَخَرَجْتُ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَيْهِ فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِ أَبِي جَهْلٍ ، فَخَرَجَ غَضْبَانَ حَتَّى جَاءَ الْمَسْجِدَ فَعَجَّلَ أَنْ يَدْخُلَ مِنَ الْبَابِ ، فَاقْتَحَمَ الْحَائِطَ ، فَقُلْتُ : هَذَا يَوْمُ شَرٍّ . فَاتَّزَرْتُ ثُمَّ تَبِعْتُهُ ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ : ( اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ ) فَلَمَّا بَلَغَ شَأْنَ أَبِي جَهْلٍ ( إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى ) قَالَ إِنْسَانٌ لِأَبِي جَهْلٍ : يَا أَبَا الْحَكَمِ هَذَا مُحَمَّدٌ ، فَقَالَ : أَلَا تَرَوْنَ مَا أَرَى ؟ وَاللَّهِ لَقَدْ سُدَّ أُفُقُ السَّمَاءِ عَلَيَّ ، فَلَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخِرَ السُّورَةِ سَجَدَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي فَرْوَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن میں مسجد میں موجود تھا ، اسی دوران ابوجہل آیا اور بولا: اللہ تعالیٰ کے نام پر میرے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ اگر میں نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدے کی حالت میں دیکھا ، تو میں ان کی گردن پر پاؤں رکھ دوں گا ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں وہاں سے اٹھا ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو ابوجہل کی بات کے بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے کے عالم میں نکلے ، آپ مسجد تشریف لے گئے ، آپ جلدی سے دروازے سے داخل ہونے لگے ، اسی دوران آپ دیوار سے ٹکرا گئے ، میں نے کہا: یہ برا دن ہے ، میں نے بھی لباس سنبھالا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سورت پڑھتے ہوئے اندر داخل ہوئے : ” اپنے پروردگار کے اسم کے ہمراہ پڑھو ، جس نے پیدا کیا ہے ، جس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا ہے ۔ “ جب آپ اس مقام پر پہنچے ، جو ابوجہل کے معاملے کے متعلق تھا : ” بیشک انسان سرکشی کرتا ہے ، اس وجہ سے کہ وہ خود کو بے نیاز سمجھتا ہے “ تو کسی شخص نے ابوجہل سے کہا: اے ابوالحکم ! یہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) موجود ہیں ، تو اس نے کہا: کیا تم وہ نہیں دیکھ رہے ہو ؟ جو میں دیکھ رہا ہوں ، اللہ کی قسم ! میرے سامنے آسمان کے افق کو بھر دیا گیا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورت کے آخری حصے تک پہنچے تو آپ سجدے میں چلے گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابوفردہ ہے اور وہ راوی متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13871
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2404)»
حدیث نمبر: 13872
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : إِنَّ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ اجْتَمَعُوا فِي الْحِجْرِ ، فَتَعَاقَدُوا بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى وَمَنَاتَ الثَّالِثَةِ الْأُخْرَى وَإِسَافَ وَنَائِلَةَ ، لَوْ قَدْ رَأَيْنَا مُحَمَّدًا لَقَدْ قُمْنَا إِلَيْهِ قِيَامَ رَجُلٍ وَاحِدٍ ، فَلَمْ نُفَارِقْهُ حَتَّى نَقْتُلَهُ ، فَأَقْبَلَتِ ابْنَتُهُ فَاطِمَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - تَبْكِي ، حَتَّى دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : هَذَا الْمَلَأُ مِنْ قُرَيْشٍ قَدْ تَعَاقَدُوا عَلَيْكَ لَوْ قَدْ رَأَوْكَ لَقَدْ قَامُوا إِلَيْكَ فَيَقْتُلُوكَ ، فَمَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا وَقَدْ عَرَفَ نَصِيبَهُ مِنْ دَمِكَ ، قَالَ : " يَا بُنَيَّةُ أَدْلِي وُضُوءًا " ، فَتَوَضَّأَ ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِمُ الْمَسْجِدَ ، فَلَمَّا رَأَوْهُ قَالُوا : هَذَا هُوَ ، وَخَفَضُوا أَبْصَارَهُمْ ، وَسَقَطَتْ أَذْقَانُهُمْ فِي صُدُورِهِمْ ، وَعُقِرُوا فِي مَجَالِسِهِمْ ، فَلَمْ يَرْفَعُوا إِلَيْهِ بَصَرًا ، وَلَمْ يَقُمْ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْهُمْ ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى قَامَ عَلَى رُءُوسِهِمْ ، فَأَخَذَ قَبْضَةً مِنَ التُّرَابِ ، فَقَالَ : " شَاهَتِ الْوُجُوهُ " ، ثُمَّ حَصَبَهُمْ بِهَا ، فَمَا أَصَابَ رَجُلًا مِنْهُمْ مِنْ ذَلِكَ الْحَصَى حَصَاةً إِلَّا قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ كَافِرًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْمَغَازِي فِي تَبْلِيغِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصَبْرِهِ عَلَى ذَلِكَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد حطیم میں اکٹھے ہوئے ، تو انہوں نے لات اور عزیٰ ، منات ، اساف اور نائلہ کے نام پر قسم اٹھا کر یہ طے کیا کہ اگر ہم نے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو دیکھا ، تو ہم اُٹھ کر ان کے پاس جائیں گے ، یوں جیسے مل کر کسی کی طرف جایا جاتا ہے ، اور ہم ان سے اس وقت تک جدا نہیں ہوں گے ، جب تک انہیں قتل نہیں کر دیتے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا روتی ہوئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور بولیں : قریش سے تعلق رکھنے والے افراد نے آپ کے خلاف یہ طے کیا ہے ، کہ اگر انہوں نے آپ کو دیکھا تو وہ اُٹھ کر آپ کے پاس آئیں گے اور آپ کو قتل کر دیں گے تاکہ ان میں سے ہر ایک شخص کا آپ کے قتل میں حصہ ہو جائے ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے میری بیٹی ! تم مجھے وضو کا پانی لا کے دو ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، پھر آپ مسجد میں ان لوگوں کے پاس تشریف لائے ، جب ان لوگوں نے آپ کو دیکھا ، تو انہوں نے کہا: یہ تو وہی ہیں ، نی نگاہیں جھکا لیں ، اُن کی ٹھوڑیاں لٹک کر سینے کے ساتھ لگ گئیں ، اور وہ سر جھکا کر بیٹھے رہے ، انہوں نے نگاہ اٹھا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہیں دیکھا ، ان میں سے کوئی شخص اُٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہیں آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ ان لوگوں کے سر کے پاس آ کے کھڑے ہوئے ، آپ نے مٹھی بھر مٹی لی اور پھر فرمایا : یہ چہرے رسوا ہو جائیں ، پھر آپ نے کنکریاں ان پر ماریں ، تو وہ کنکریاں اُن میں سے ہر ایک شخص کو لگیں اور وہ جس بھی شخص کو لگیں ، وہ غزوہ بدر کے دن کافر ہونے کے طور پر مارا گیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : مغازی میں اس نوعیت کی احادیث گزر چکی ہیں ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تبلیغ کرنے اور اس حوالے سے صبر کرنے کے بارے میں ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13872
درجۂ حدیث محدثین: رجال أحدهما رجال الصحيح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (2762 و 3485)»