کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نبی اکرم ﷺ کا باطل سے محفوظ ہونا
حدیث نمبر: 13861
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : حَدَّثَنِي جَارٌ لِخَدِيجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِخَدِيجَةَ : " أَيْ خَدِيجَةُ ، وَاللَّهِ لَا أَعْبُدُ اللَّاتَ أَبَدًا ، وَاللَّهِ لَا أَعْبُدُ الْعُزَّى أَبَدًا " . قَالَ : تَقُولُ خَدِيجَةُ : خَلِّ الْعُزَّى . قَالَ : وَكَانَ صَنَمُهُمِ الَّذِي يَعْبُدُونَ ثُمَّ يَضْطَجِعُونَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : مجھے سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کے پڑوسی نے یہ بات بتائی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے یہ کہتے ہوئے سنا : ” اے خدیجہ ! اللہ کی قسم ! میں ” لات “ کی کبھی عبادت نہیں کروں گا ، اللہ کی قسم ! میں عزیٰ کی کبھی عبادت نہیں کروں گا“ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ عزیٰ کو چھوڑ دیں ، راوی بیان کرتے ہیں : یہ ان لوگوں کے بت تھے ، جن کی وہ عبادت کرتے تھے اور پھر لیٹ جاتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13861
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (222/4)»
حدیث نمبر: 13862
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَسْتُ مِنْ دَدٍ ، وَلَا دَدٌ مِنِّي " . قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ : لَسْتُ مِنَ الْبَاطِلِ ، وَلَا الْبَاطِلُ مِنِّي . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَلَكِنْ ذَكَرُوا هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ مُنْكَرَاتِ حَدِيثِهِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، وَقَالَ الذَّهَبِيُّ : قَدْ تَابَعَهُ عَلَيْهِ غَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں باطل سے متعلق نہیں ہوں اور نہ ہی باطل مجھ سے متعلق ہے ۔ “ ابومحمد یحیی بن محمد بن قیس بیان کرتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ میرا باطل سے کوئی واسطہ نہیں ہے ، اور باطل کا مجھ سے کوئی واسطہ نہیں ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن محمد بن قیس ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے ، لوگوں نے یہ حدیث اس کی نقل کردہ منکر احادیث میں نقل کی ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : اس حوالے سے دیگر حضرات نے اس کی متابعت کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13862
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2402) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (415)»
حدیث نمبر: 13863
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَسْتُ مِنْ دَدٍ ، وَلَا دَدٌ مِنِّي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ التِّرْمِذِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْأَزْهَرِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں باطل سے متعلق نہیں ہوں اور باطل مجھ سے متعلق نہیں ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے محمد بن أحمد بن نصر ترمذی کے حوالے سے ، محمد بن عبدالوہاب ازہری سے نقل کی ہے ، اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13863
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (343/19)»
حدیث نمبر: 13864
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا هَمَمْتُ بِشَيْءٍ مِمَّا كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَعْمَلُونَ بِهِ غَيْرَ مَرَّتَيْنِ ، كُلُّ ذَلِكَ يَحُولُ اللَّهُ بَيْنِي وَبَيْنَ مَا أُرِيدُ مِنْ ذَلِكَ ، ثُمَّ مَا هَمَمْتُ بَعْدَهَا بِشَيْءٍ حَتَّى أَكْرَمَنِي اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” زمانہ جاہلیت میں لوگ جو اعمال کیا کرتے تھے ، میں نے اُن میں سے کسی بھی چیز کا ارادہ نہیں کیا ، البتہ دو مرتبہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور ہر مربتہ اللہ تعالیٰ میرے اور میرے ارادے کے درمیان رکاوٹ بن گیا ، پھر اس کے بعد میں نے اس حوالے سے کسی چیز کا ارادہ نہیں کیا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے حوالے سے مجھے عزت عطا کی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13864
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2403)»
حدیث نمبر: 13865
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : هَلْ أَتَيْتَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ شَيْئًا حَرَامًا ؟ قَالَ : " لَا ، وَقَدْ كُنْتُ مِنْهُ عَلَى مِيعَادَيْنِ ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَغَلَبَتْنِي عَيْنِي ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَحَالَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ سَائِرُ قَوْمِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ ، وَقَالَ فِي الْأَوْسَطِ : عَنْ عَمَّارٍ أَنَّهُمْ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : هَلْ أَتَيْتَ مِنَ النِّسَاءِ حَرَامًا ؟ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : کیا آپ نے زمانہ جاہلیت میں کبھی کسی حرام فعل کا ارتکاب کیا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! میں اس حوالے سے دو مرتبہ اس نوعیت کی صورت حال سے دوچار ہوا ، ایک مرتبہ میری آنکھ لگ گئی ، اور دوسری مرتبہ میرے اور اس ارادے کے درمیان میری قوم رکاوٹ بن گئی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ، انہوں نے ” اوسط “ میں یہ بات نقل کی ہے : یہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے : لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : کیا آپ نے خواتین کے حوالے سے بھی حرام کام کا ارتکاب کیا ؟
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13865
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (921)»
حدیث نمبر: 13866
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَشْهَدُ مَعَ الْمُشْرِكِينَ مَشَاهِدَهُمْ ، قَالَ : فَسَمِعَ مَلَكَيْنِ خَلْفَهُ وَأَحَدُهُمَا يَقُولُ لِصَاحِبِهِ : اذْهَبْ بِنَا حَتَّى نَقُومَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ : فَقَالَ : كَيْفَ نَقُومُ خَلْفَهُ وَإِنَّمَا عَهْدُهُ بِإِسْلَامِ الْأَصْنَامِ قَبْلُ ؟ قَالَ : فَلَمْ يَعُدْ بَعْدَ ذَلِكَ أَنْ يَشْهَدَ مَعَ الْمُشْرِكِينَ مَشَاهِدَهُمْ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، وَلَا يُحْتَمَلُ هَذَا مِنْ مِثْلِهِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ يَشْهَدُ تِلْكَ الْمَشَاهِدَ لِلْإِنْكَارِ وَهَذَا يَتَّجِهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کے ساتھ ان کی جنگوں میں شریک ہوتے تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ آپ نے اپنے پیچھے دو فرشتوں کی آواز سنی ، ان میں سے ایک دوسرے سے یہ کہہ رہا تھا ، تم ہمارے ساتھ چلو تاکہ ہم اللہ کے رسول کے پیچھے کھڑے ہو جائیں ، تو دوسرے نے کہا: ہم ان کے پیچھے کیسے کھڑے ہو سکتے ہیں ؟ جبکہ انہوں نے تھوڑی دیر پہلے بتوں کو ہاتھ لگایا تھا ، راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ کبھی مشرکین کے ساتھ اُن کی جنگ میں شریک نہیں ہوئے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے اور اس طرح کی صورت حال میں اس بات کا احتمال نہیں ہوتا ، صرف یہ ہو سکتا ہے کہ وہ ان جنگوں میں ساتھ رہا ہو ، کیونکہ اس نے اس بات کا انکار کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13866
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1877)»
حدیث نمبر: 13867
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ قَالَ : طُفْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ ، فَمَسِسْتُ بَعْضَ الْأَصْنَامِ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَمَسَّهَا " . قَالَ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَهَذَا يُفَسِّرُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ أَنَّ شُهُودَهُ لِلْإِنْكَارِ عَلَيْهِمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طواف کر رہا تھا ، میں نے کسی بت کو چھو لیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : تم اس کو نہ چھوؤ ، راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری روایت ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں یہ چیز اس بات کی وضاحت کر دیتی ہے جو اس سے پہلے گزری ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں موجود ہونا ان لوگوں کے خلاف انکار کرنے کے لئے تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13867
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4665)»