کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نبی اکرم ﷺ کا قرین ( ساتھ موجود ، شیطان ) سے محفوظ ہونا
حدیث نمبر: 13856
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الشَّيَاطِينِ " . قَالُوا : وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ قَابُوسِ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے ہر ایک کے ساتھ شیاطین سے تعلق رکھنے والا ایک ” قرین “ مقرر کیا گیا ہے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے ساتھ بھی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے خلاف میری مدد کی ہے ، اور وہ مسلمان ہو گیا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف قابوس بن ابوظبیان کا معاملہ مختلف ہے ، اور اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13856
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2440) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12620) أخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (2323)»
حدیث نمبر: 13857
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ أَحَدٍ إِلَّا جُعِلَ مَعَهُ قَرِينٌ مِنَ الْجِنِّ " . قَالُوا : وَلَا أَنْتَ ؟ قَالَ : " وَلَا أَنَا ، إِلَّا أَنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ ، فَلَا يَأْمُرُنِي إِلَّا بِخَيْرٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو حَمَّادٍ الْمُفَضَّلُ بْنُ صَدَقَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر ایک کے ساتھ ، جنات سے تعلق رکھنے والا ایک ” قرین “ مقرر کیا گیا ہے ، لوگوں نے عرض کی : آپ کے ساتھ بھی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے ساتھ بھی ، البتہ اللہ تعالیٰ نے اُس کے خلاف میری مدد کی ، اور وہ مسلمان ہو گیا ، تو وہ مجھے صرف بھلائی کے بارے میں ہی کہتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوحماد مفضل بن صدقہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13857
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (421/20)»
حدیث نمبر: 13858
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فُضِّلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِخَصْلَتَيْنِ : كَانَ شَيْطَانِي كَافِرًا فَأَعَانَنِي اللَّهُ عَلَيْهِ حَتَّى أَسْلَمَ ، وَنَسِيتُ الْخَصْلَةَ الْأُخْرَى " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ صِرْمَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے دیگر انبیاء پر دو حوالوں سے فضیلت دی گئی ہے ، میرا شیطان کافر تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے اُس کے خلاف میری مدد کی ، یہاں تک کہ وہ مسلمان ہو گیا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : دوسری بات میں بھول چکا ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن صرمہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13858
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2438)»
حدیث نمبر: 13859
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا مَعَهُ شَيْطَانٌ " . قُلْنَا : وَأَنْتَ ؟ قَالَ : " وَأَنَا ، إِلَّا أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمُفَضَّلُ بْنُ صَالِحٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم میں سے ہر ایک کے ساتھ ایک شیطان ہوتا ہے ، ہم نے عرض کی : آپ کے ساتھ بھی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے ساتھ بھی ہے ، لیکن اللہ تعالیٰ نے اُس کے خلاف میری مدد کی اور وہ مسلمان ہو گیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مفضل بن صالح ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13859
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (494)»
حدیث نمبر: 13860
وَعَنْ شَرِيكِ بْنِ طَارِقٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا لَهُ شَيْطَانٌ " . قَالُوا : وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَلَا أَنَا ، إِلَّا أَنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا شریک بن طارق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے ہر ایک کے ساتھ ایک شیطان ہوتا ہے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے ساتھ بھی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے ساتھ بھی ہے ، البتہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے حوالے سے میری مدد کی اور وہ مسلمان ہو گیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13860
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7222)»