کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت خضر علیہ السلام کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 13815
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ اللَّيَالِي أَحْمِلُ لَهُ الطَّهُورَ ، إِذْ سَمِعَ مُنَادِيًا فَقَالَ : " يَا أَنَسُ صَهٍ " . فَقَالَ : اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى مَا يُنَجِّينِي مِمَّا خَوَّفْتَنِي مِنْهُ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ قَالَ أُخْتَهَا " . فَكَأَنَّ الرَّجُلَ لُقِّنَ مَا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : وَارْزُقْنِي شَوْقَ الصَّادِقِينَ إِلَى مَا شَوَّقْتَهُمْ إِلَيْهِ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَنَسُ ، ضَعِ الطَّهُورَ وَائْتِ هَذَا الْمُنَادِي ، فَقُلْ لَهُ أَنْ يَدْعُوَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُعِينَهُ عَلَى مَا ابْتَعَثَهُ بِهِ ، وَادْعُ لِأُمَّتِهِ أَنْ يَأْخُذُوا مَا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ بِالْحَقِّ " . فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ : ادْعُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُعِينَهُ اللَّهُ عَلَى مَا ابْتَعَثَهُ بِهِ ، وَادْعُ لِأُمَّتِهِ أَنْ يَأْخُذُوا مَا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ بِالْحَقِّ . فَقَالَ : وَمَنْ أَرْسَلَكَ ؟ فَكَرِهْتُ أَنْ أُعْلِمَهُ وَلَمْ أَسْتَأْذِنْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : وَمَا عَلَيْكَ رَحِمَكَ اللَّهُ بِمَا سَأَلْتُكَ ؟ فَقَالَ : أَوَّلًا تُخْبِرُنِي مَنْ أَرْسَلَكَ ؟ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ ، فَقَالَ : " قُلْ لَهُ : أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " . فَقَالَ لِي : مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّهِ ، وَمَرْحَبًا بِرَسُولِهِ ، أَنَا أَحَقُّ أَنْ آتِيَهُ ، أَقْرِئْ رَسُولَ اللَّهِ السَّلَامَ وَقُلْ لَهُ : الْخَضِرُ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ لَكَ : إِنَّ اللَّهَ قَدْ فَضَّلَكَ عَلَى النَّبِيِّينَ كَمَا فَضَّلَ شَهْرَ رَمَضَانَ عَلَى سَائِرِ الشُّهُورِ ، وَفَضَّلَ أُمَّتَكَ عَلَى الْأُمَمِ كَمَا فَضَّلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى سَائِرِ الْأَيَّامِ . فَلَمَّا وَلَّيْتُ عَنْهُ سَمِعْتُهُ يَقُولُ : اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْمَرْحُومَةِ الْمُرْشَدَةِ الْمُتَابِ عَلَيْهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْوَضَّاحُ بْنُ عَبَّادٍ الْكُوفِيُّ ، تَكَلَّمَ فِيهِ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْمُنَادِي ، وَشَيْخُ الطَّبَرَانِيِّ بِشْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بِشْرٍ الْعَمِّيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک رات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے طہارت کا پانی اٹھایا ہوا تھا ، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی پکارنے والے کو سنا ، تو فرمایا : اے انس ! خاموش ہو جاؤ ، پھر آپ نے دعا کی : اے اللہ ! تو ایسے فرد کے ذریعے میری مدد کر دے ، جو مجھے اس خوف سے نجات دلا دے ، جو اندیشہ مجھے ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے انس ! طہارت کا پانی رکھو اور اس منادی کے پاس جاؤ ، اور اس سے کہو : وہ اللہ کے رسول کے لئے یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ نے جس کام کے لئے انہیں مبعوث کیا ہے ، اس حوالے سے ان کی مدد کرے اور تم ان کی امت کے لئے بھی دعا کرو کہ وہ امت اس چیز کو حاصل کر لے ، جو حق اُن کے نبی لے کر ان کے پاس آئے ہیں ، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں ان صاحب کے پاس آیا ، میں نے کہا: آپ اللہ کے رسول کے لئے یہ دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جس چیز کے ہمراہ مبحوث کیا ہے ، اس حوالے سے اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے ، اور آپ ان کی امت کے لئے بھی دعا کریں کہ اس امت کے نبی ، جو حق لے کر ان کے پاس آئے ہیں ، وہ امت اسے قبول کر لے ، ان صاحب نے دریافت کیا : تمہیں کس نے بھیجا ہے ؟ تو مجھے یہ اچھا نہیں لگے گا کہ میں اُس کو اس بارے میں بتاؤں ، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں اجازت نہیں لی تھی ، میں نے کہا: تمہیں کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ! جو میں نے تمہیں کہا: ہے ، تم وہ کرو ، اس نے کہا: تم مجھے نہیں بتاؤ گے کہ تمہیں کس نے بھیجا ہے ؟ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آیا اور اس کی کہی ہوئی بات کے بارے میں آپ کو بتایا ، تو آپ نے فرمایا : تم اس سے کہہ دو ! میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں ، تو اس نے مجھ سے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش آمدید اور اُن کے قاصد کو خوش آمدید ، میں اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہوں کہ میں اُن کے پاس جاؤں اور ان کی خدمت میں میں سلام پیش کروں ، بہرحال تم ان سے یہ کہہ دینا کہ سیدنا خضر علیہ السلام آپ کو سلام کہہ رہے تھے ، اور وہ آپ کو یہ کہہ رہے تھے : کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیگر تمام انبیاء کرام پر وہ فضیلت عطا کی ہے ، جو اس نے رمضان کے مہینے کو دیگر مہینوں پر عطا کی ہے ، اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو دیگر امتوں پر وہ فضیلت عطا کی ہے ، جو اس نے جمعہ کے دن کو دیگر تمام دنوں پر فضیلت عطا کی ہے ۔ “ جب میں اُن صاحب کے پاس سے واپس مڑا ، تو میں نے ان صاحب کو یہ کہتے ہوئے سنا : اے اللہ ! مجھے اس امت میں شامل کر لے ، جس پر رحم کیا گیا ، جس کی رہنمائی کی گئی اور جس کی توبہ قبول کی گئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی وضاح بن عباد کوفی ہے ، جس کے بارے میں ابوالحسین بن منادی نے کلام کیا ہے ، اور امام طبرانی کا استاد بشر بن علی بن بشرعمی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13815
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 13816
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَلَا أُحَدِّثُكُمْ ، عَنِ الْخَضِرِ ؟ " . قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " بَيْنَمَا هُوَ ذَاتَ يَوْمٍ يَمْشِي فِي سُوقِ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، أَبْصَرَهُ رَجُلٌ مُكَاتَبٌ فَقَالَ : تَصَدَّقْ عَلَيَّ ، بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ . فَقَالَ الْخَضِرُ : آمَنْتُ بِاللَّهِ ، مَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ أَمْرٍ يَكُونُ ، مَا عِنْدِي شَيْءٌ أُعْطِيكَهُ . فَقَالَ الْمِسْكِينُ : أَسْأَلُكَ بِوَجْهِ اللَّهِ لَمَا تَصَدَّقْتَ عَلَيَّ ، فَإِنِّي نَظَرْتُ السَّمَاحَةَ فِي وَجْهِكَ ، وَرَجَوْتُ الْبَرَكَةَ عِنْدَكَ . فَقَالَ الْخَضِرُ : آمَنْتُ بِاللَّهِ ، مَا عِنْدِي شَيْءٌ أُعْطِيكَهُ إِلَّا أَنْ تَأْخُذَنِي فَتَبِيعَنِي . فَقَالَ الْمِسْكِينُ : وَهَلْ يَسْتَقِيمُ هَذَا ؟ قَالَ : نَعَمِ [ الْحَقُ ] أَقُولُ لَقَدْ سَأَلْتَنِي بِأَمْرٍ عَظِيمٍ ، أَمَا إِنِّي لَا أُخَيِّبُكَ بِوَجْهِ رَبِّي بِعْنِي . قَالَ : فَقَدَّمَهُ إِلَى السُّوقِ فَبَاعَهُ بِأَرْبَعِمِائَةٍ دِرْهَمٍ ، فَمَكَثَ عِنْدَ الْمُشْتَرِي زَمَانًا لَا يَسْتَعْمِلُهُ فِي شَيْءٍ ، فَقَالَ لَهُ : إِنَّكَ إِنَّمَا اشْتَرَيْتَنِي الْتِمَاسَ خَيْرٍ عِنْدِي ، فَأَوْصِنِي بِعَمَلِ . قَالَ : أَكْرَهُ أَنْ أَشُقَّ عَلَيْكَ ، إِنَّكَ شَيْخٌ كَبِيرٌ ضَعِيفٌ . قَالَ : لَيْسَ يَشُقُّ عَلَيَّ . قَالَ : قُمْ فَانْقُلْ هَذِهِ الْحِجَارَةَ . وَكَانَ لَا يَنْقُلُهَا دُونَ سِتَّةِ نَفَرٍ فِي يَوْمٍ ، فَخَلَّى الرَّجُلُ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ نَقَلَ الْحِجَارَةَ فِي سَاعَةٍ ، قَالَ : أَحْسَنْتَ وَأَجْمَلْتَ وَأَطَقْتَ مَا لَمْ أَرَكَ تُطِيقُهُ . قَالَ : ثُمَّ عَرَضَ لِلرَّجُلِ سَفَرٌ فَقَالَ : إِنِّي أَحْسَبُكَ أَمِينًا ، فَاخْلُفْنِي فِي أَهْلِي خِلَافَةً حَسَنَةً . قَالَ : وَأَوْصِنِي بِعَمَلٍ . قَالَ : إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَشُقَّ عَلَيْكَ . قَالَ : لَيْسَ يَشُقُّ عَلَيَّ . قَالَ : فَاضْرِبْ مِنَ اللَّبِنِ لِبَيْتِي حَتَّى أَقَدُمَ عَلَيْكَ . قَالَ : فَمَرَّ الرَّجُلُ لِسَفَرِهِ . قَالَ : فَرَجَعَ الرَّجُلُ وَقَدْ تَشَيَّدَ بِنَاؤُهُ ، فَقَالَ : أَسْأَلُكَ بِوَجْهِ اللَّهِ ، مَا سَبِيلُكَ وَمَا أَمْرُكَ ؟ قَالَ : سَأَلْتَنِي بِوَجْهِ اللَّهِ ، وَوَجْهُ اللَّهِ أَوْقَعَنِي فِي الْعُبُودِيَّةِ . فَقَالَ الْخَضِرُ : سَأُخْبِرُكَ مَنْ أَنَا ، أَنَا الْخَضِرُ الَّذِي سَمِعْتَ بِهِ ، سَأَلَنِي رَجُلٌ مِسْكِينٌ صَدَقَةً فَلَمْ يَكُنْ عِنْدِي شَيْءٌ أُعْطِيهِ ، فَسَأَلَنِي بِوَجْهِ اللَّهِ فَأَمْكَنْتُهُ مِنْ رَقَبَتِي فَبَاعَنِي ، وَأُخْبِرُكَ أَنَّهُ مَنْ سُئِلَ بِوَجْهِ اللَّهِ فَرَّدَ سَائِلَهُ وَهُوَ يَقْدِرُ ، وَقَفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ جِلْدٌ وَلَا لَحْمَ لَهُ ، عَظْمٌ يَتَقَعْقَعُ . فَقَالَ الرَّجُلُ : آمَنْتُ بِاللَّهِ ، شَقَقْتُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَلَمْ أَعْلَمْ . قَالَ : لَا بَأْسَ ، أَحْسَنْتَ وَاتَّقَيْتَ . فَقَالَ الرَّجُلُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، احْكُمْ فِي أَهْلِي وَمَالِي بِمَا شِئْتَ ، أَوِ اخْتَرْ ، فَأُخَلِّي سَبِيلَكَ . قَالَ : أُحِبُّ أَنْ تُخَلِّيَ سَبِيلِي فَأَعْبُدُ رَبِّي . فَخَلَّى سَبِيلَهُ . فَقَالَ الْخَضِرُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَوْثَقَنِي فِي الْعُبُودِيَّةِ ثُمَّ نَجَّانِي مِنْهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، إِلَّا أَنَّ بَقِيَّةَ مُدَلِّسٌ . وَيَأْتِي حَدِيثٌ آخَرُ فِي وَفَاةِ سَيِّدِنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَضِرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تم لوگوں کو سیدنا خضر علیہ السلام کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک مرتبہ وہ بنی اسرائیل کے بازار میں چل رہے تھے ، ایک مکاتب غلام نے انہیں دیکھا ، تو کہا: تم مجھے صدقے کے طور پر کچھ دو ! اللہ تعالیٰ تمہیں برکت نصیب کرے ، سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا: میں اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہوں ، اللہ تعالیٰ جو چاہے کہ وہ ہو ، تو ویسا ہی ہوتا ہے ، میرے پاس تمہیں دینے کے لئے کچھ نہیں ہے ، اس غریب نے کہا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں کہ آپ مجھے کوئی چیز دے دیجئے کیونکہ مجھے آپ کے چہرے پر مہربانی کے آثار نظر آ رہے ہیں اور مجھے آپ کے پاس سے برکت کی امید ہے ، تو سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا: میں اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہوں ، میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے ، جو میں تمہیں دے دوں ، البتہ یہ ہے کہ تم مجھے پکڑ کر مجھے فروخت کر دو ، اس غریب نے کہا: کیا یہ ٹھیک ہو گا ؟ سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا: جی ہاں ! میں ٹھیک بات کہہ رہا ہوں ، تم نے مجھ سے ایک عظیم حوالے سے مانگا ہے ، اور میں تمہیں اپنے پروردگار کی ذات کے واسطے کے حوالے سے رُسوائی کا شکار نہیں کروں گا ، تم مجھے فروخت کر دو ، اس شخص نے انہیں بازار میں رکھا اور انہیں چار سو درہم کے عوض میں فروخت کر دیا ، وہ ایک طویل عرصے تک خریدار کے پاس یوں رہے کہ خریدار نے انہیں کسی کام میں استعمال نہیں کیا ، سیدنا خضر علیہ السلام نے اس ( خریدار ) سے کہا: تم نے مجھے اس لئے خریدا ہے ، تاکہ میرے پاس موجود بھلائی کو حاصل کرو ، تو تم مجھے کسی کام کے بارے میں تلقین کرو ، اس شخص نے کہا: مجھے یہ اچھا نہیں لگتا کہ میں آپ کو مشقت کا شکار کروں ، آپ ایک بوڑھے ، کمزور ، عمر رسیدہ شخص ہیں ، سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا: مجھے پریشانی نہیں ہو گی ، اس نے کہا: اچھا پھر آپ اُٹھ کر یہ پتھر منتقل کر دیں ، وہ پتھر ایسے تھے کہ چھ افراد سے کم لوگ ایک دن میں اسے منتقل نہیں کر سکتے تھے ، وہ شخص کام کے سلسلے میں اٹھ کے چلا گیا ، جب وہ واپس آیا ، تو سیدنا خضر علیہ السلام ایک گھڑی میں وہ پتھر منتقل کر چکے تھے ، تو اس نے کہا: تم نے بہت اچھا اور عمدہ کام کیا ہے ، اور تمہارے اندر اتنی طاقت ہے کہ میرا نہیں خیال تھا کہ تمہارے اندر اتنی طاقت ہو گی ، پھر اس شخص کو کسی کام کے سلسلے میں جانے کا موقع آیا ، تو اس نے کہا: میں آپ کو ایک امین شخص سمجھتا ہوں ، آپ نے میری غیر موجودگی میں میرے گھر والوں کا اچھے طریقے سے خیال رکھنا ہے ، سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا: تم مجھے کوئی کام بھی بتا دو ! اس نے کہا: مجھے یہ اچھا نہیں لگتا کہ میں آپ کو مشقت کا شکار کروں ، سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا: مجھے مشقت نہیں ہو گی ، اس نے کہا: اچھا جب تک میں اپنے گھر نہیں آتا ، آپ میرے گھر کے لئے اینٹیں تیار کر دیں ، پھر وہ شخص سفر پر چلا گیا ، جب وہ شخص واپس آیا تو سیدنا خضر علیہ السلام نے عمارت بھی تعمیر کر لی ہوئی تھی ، اس نے کہا: میں آپ سے اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں کہ آپ کا معاملہ کیا ہے ؟ اور صورت حال کیا ہے ؟ سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا: تم نے مجھے اللہ کے واسطے سے سوال کیا ہے ، اور اللہ کے واسطے نے ہی مجھے اس غلامی میں ڈالا تھا ، پھر سیدنا خضر علیہ السلام نے فرمایا : میں تمہیں بتاتا ہوں کہ میں کون ہوں ؟ میں وہ ہوں کہ جس کے بارے میں تم نے سنا ہوا ہے ، ایک غریب نے مجھ سے صدقہ مانگا ، میرے پاس اسے دینے کے لئے کچھ نہیں تھا ، اس نے مجھ سے اللہ کی ذات کے واسطے سے مانگا تھا ، تو میں نے اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دیا اور اس نے مجھے فروخت کر دیا اور میں تمہیں یہ بتاتا ہوں کہ جس شخص سے اللہ کے نام پر مانگا جائے اور وہ مانگنے والے کو لوٹا دے ، حالانکہ وہ قدرت رکھتا ہو ، تو قیامت کے دن وہ ایسی حالت میں کھڑا ہو گا ، کہ اس کی جلد ہو گی ، لیکن اس میں گوشت نہیں ہو گا ، اس کی ہڈیاں حرکت کر رہی ہوں گی ، اس شخص نے کہا: میں اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہوں ، اے اللہ کے نبی ! میں نے آپ کو مشقت کا شکار کیا ، مجھے پتہ نہیں تھا ، سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا: کوئی حرج نہیں ہے ، تم نے اچھا کام کیا اور تم نے بچنے کی کوشش کی ، اس شخص نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، اے اللہ کے نبی ! آپ میرے اہل خانہ اور میرے مال کے بارے میں جو چاہیں حکم دیں ، یا آپ یہ اختیار کریں کہ میں آپ کو چھوڑ دیتا ہوں ، تو سیدنا خضر علیہ السلام نے فرمایا : مجھے پسند ہے کہ تم مجھے چھوڑ دو ! تاکہ میں اپنے پروردگار کی عبادت کرتا رہوں ، تو اُس شخص نے انہیں چھوڑ دیا ۔ سیدنا خضر علیہ السلام نے فرمایا : ” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے مجھے غلامی میں پابند کیا تھا ، اور پھر مجھے غلامی سے نجات بھی دیدی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ بقیہ نامی راوی مدلس ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے متعلق باب کے آخر میں بھی ، سیدنا خضر علیہ السلام سے متعلق ایک روایت آئے گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13816
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7530)»