کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: انبیاء کرام کا تذکرہ
حدیث نمبر: 13806
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَجَلَسْتُ فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، هَلْ صَلَّيْتَ ؟ " . فَقُلْتُ : لَا . قَالَ : " قُمْ فَصَلِّ " . قَالَ : فَقُمْتُ فَصَلَّيْتُ ، ثُمَّ جَلَسْتُ فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، تَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلِلْإِنْسِ شَيَاطِينُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الصَّلَاةُ ؟ قَالَ : " خَيْرُ مَوْضُوعٍ ، مَنْ شَاءَ أَقَلَّ وَمَنْ شَاءَ أَكْثَرَ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَالصَّوْمُ ؟ قَالَ : " فَرْضٌ مُجْزِئٌ وَعِنْدَ اللَّهِ مَزِيدٌ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَالصَّدَقَةُ ؟ قَالَ : " أَضْعَافٌ مُضَاعَفَةٌ " . قَالَ : قُلْتُ : فَأَيُّهَا أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " جُهْدٌ مِنْ مُقِلٍّ أَوْ سِرٌّ إِلَى فَقِيرٍ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْأَنْبِيَاءِ كَانَ أَوَّلَ ؟ قَالَ : " آدَمُ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَنَبِيٌّ كَانَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، نَبِيٌّ مُكَلَّمٌ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَمِ الْمُرْسَلُونَ ؟ قَالَ : " ثَلَاثَمِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشَرَ ، جَمًّا غَفِيرًا " . أَوْ قَالَ مَرَّةً : " خَمْسَةَ عَشَرَ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، آدَمُ نَبِيٌّ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، مُكَلَّمٌ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّمَا أُنْزِلَ عَلَيْكَ أَعْظَمُ ؟ قَالَ : " آيَةُ الْكُرْسِيِّ ( اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ) " . قُلْتُ : رَوَى النَّسَائِيُّ طَرَفًا مِنْهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ هُوَ وَحَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ ، وَالْكَلَامُ عَلَيْهِمَا فِي الْعِلْمِ فِي حُسْنِ السُّؤَالِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے ، میں بیٹھ گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے ابوذر ! کیا تم نے نماز ادا کر لی ہے ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اٹھو اور نماز ادا کرو ! راوی کہتے ہیں : میں اُٹھا اور میں نے نماز ادا کی ، پھر میں آ کر بیٹھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابوذر ! انسانوں اور جنات سے تعلق رکھنے والے شیطانوں کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو ! راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا انسانوں میں بھی شیاطین ہوتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! میں نے دریافت کیا : نماز کیا چیز ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ دی گئی بہتر چیز ہے ، جو شخص چاہے کم کر لے ، اور جو شخص چاہے وہ زیادہ کر لے ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! روزہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک ایسا فرض ہے ، جس کی جزا ملے گی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مزید ( انعام و اکرام بھی ) ملے گا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! صدقہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک ایسی چیز ، جس کا کئی گنا اجر ہو گا ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کون سا صدقہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایسے شخص کا صدقہ کرنا ، جس کے پاس مال کم ہو اور وہ محنت کر کے ( کمائی کو صدقہ کرے ) یا پھر کسی غریب کو پوشیدہ طور پر صدقہ دینا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! انبیاء میں کون سب سے پہلے تھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سیدنا آدم علیہ السلام ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا وہ نبی تھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! وہ ایسے نبی تھے ، جس کے ساتھ کلام کیا گیا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! رسولوں کی تعداد کتنی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تین سو دس سے زیادہ زیادہ ہے ، جو ایک بڑی تعداد ہے ( ایک مرتبہ راوی نے لفظ تین سو پندرہ نقل کیا ہے ) میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا سیدنا آدم علیہ السلام نبی تھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! ان کے ساتھ کلام بھی کیا گیا تھا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کچھ نازل ہوا ہے ، ان میں سب سے عظیم آیت کون سی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آیت الکرسی ، يعنى الله لا اله الا هو الحي القيوم ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام نسائی رحمہ اللہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس سے پہلے یہ روایت گزر چکی ہے ، اور سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث بھی گزر چکی ہے ، اور ان دونوں پر کلام بھی گزر چکا ہے ، جو کتاب العلم میں ، اچھے طریقے سے سوال کرنے سے متعلق باب میں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13806
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 13807
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَبِيٌّ كَانَ آدَمُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : كَمْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ نُوحٍ ؟ قَالَ : " عَشَرَةُ قُرُونٍ " . قَالَ : كَمْ كَانَ بَيْنَ نُوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ ؟ قَالَ : " عَشَرَةُ قُرُونٍ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَمْ كَانَتِ الرُّسُلُ ؟ قَالَ : " ثَلَاثُمِائَةٍ وَثَلَاثَةَ عَشَرَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ أَحْمَدَ بْنِ خُلَيْدٍ الْحَلَبِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا سیدنا آدم علیہ السلام نبی تھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! اس نے دریافت کیا : ان کے اور سیدنا نوح علیہ السلام کے درمیان کتنا عرصہ تھا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دس صدیاں ، اس نے دریافت کیا : سیدنا نوح علیہ السلام اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے درمیان کتنا عرصہ تھا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دس صدیاں ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! رسول کتنے تھے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تین سو تیرہ تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف أحمد بن خلید حلبی نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13807
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (405) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7545)»
حدیث نمبر: 13808
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بَعَثَ اللَّهُ ثَمَانِيَةَ آلَافِ نَبِيٍّ ، أَرْبَعَةُ آلَافٍ إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ ، وَأَرْبَعَةُ آلَافٍ إِلَى سَائِرِ النَّاسِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے آٹھ ہزار انبیاء کو مبعوث کیا ہے ، جن میں سے چار ہزار بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے ، اور چار ہزار باقی سب لوگوں کی طرف مبعوث ہوئے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13808
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4132)»
حدیث نمبر: 13809
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَقَدْ سُرَّ فِي ظِلِّ سَرْحَةٍ سَبْعُونَ نَبِيًّا لَا سُرْفُ وَلَا عُرُدُ وَلَا تُعْبَلُ " رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ رِوَايَةِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ذَكْوَانَ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سرحہ ( نامی درخت ) کے سائے میں ( یس بی آر ) ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اعمش کی نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، جو انہوں نے عبداللہ بن ذکوان سے نقل کی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13809
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (5723)»
حدیث نمبر: 13810
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : بُعِثَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ ثَمَانِيَةِ آلَافِ نَبِيٍّ ، مِنْهُمْ أَرْبَعَةُ آلَافٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُهَاجِرِ بْنِ مِسْمَارٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَيَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ وُثِّقِ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کے نبی کو آٹھ ہزار انبیاء کرام کے بعد مبعوث کیا گیا ہے ، جن میں سے چار ہزار انبیاء کرام کا تعلق بنی اسرائیل سے تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس میں ایک راوی ابراہیم بن مہاجر بن مسمار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، ابن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک راوی یزید رقاشی ہے ، جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13810
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (778)»
حدیث نمبر: 13811
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : الْأَنْبِيَاءُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِلَّا عَشَرَةً : نُوحٌ وَهُودٌ وَلُوطٌ وَصَالِحٌ وَشُعَيْبٌ وَإِبْرَاهِيمُ وَإِسْمَاعِيلُ وَإِسْحَاقُ وَعِيسَى وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمْ ، وَلَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا لَهُ اسْمَانِ ، إِلَّا عِيسَى وَيَعْقُوبَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ” انبیاء کرام کا تعلق بنی اسرائیل سے رہا ہے ، البتہ دس حضرات کا معاملہ مختلف ہے ، سیدنا نوح علیہ السلام ، سیدنا ہود علیہ السلام ، سیدنا لوط علیہ السلام ، سیدنا صالح علیہ السلام ، سیدنا شعیب علیہ السلام ، سیدنا ابراہیم علیہ السلام ، سیدنا اسماعیل علیہ السلام ، سیدنا اسحاق علیہ السلام ، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، ہر ایک نبی کے دو نام تھے ، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور سیدنا یعقوب علیہ السلام کا معاملہ مختلف ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13811
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موقوف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11723)»
حدیث نمبر: 13812
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ يُصَلُّونَ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” انبیاء کرام اپنی قبروں میں زندہ ہوتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13812
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2339) اخرجه ابو يعلى فى المسند (3425)»
حدیث نمبر: 13813
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ ، لَيَنْزِلَنَّ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ إِمَامًا مُقْسِطًا وَحَكَمًا عَدْلًا ، فَلَيَكْسِرَنَّ الصَّلِيبَ ، وَيَقْتُلَنَّ الْخِنْزِيرَ ، وَلَيُصْلِحَنَّ ذَاتَ الْبَيْنِ ، وَلَيُذْهِبَنَّ الشَّحْنَاءَ ، وَلَيَعْرِضَنَّ الْمَالَ فَلَا يَقْبَلُهُ أَحَدٌ ، ثُمَّ لَئِنْ قَامَ عَلَى قَبْرِي فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، لَأُجِيبَنَّهُ " . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں ابوالقاسم کی جان ہے ، سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام منصف حکمران اور عدل کرنے والے قاضی کے طور پر نازل ہوں گے اور وہ صلیب توڑ دیں گے اور لوگوں کے درمیان صلح کروا دیں گے اور آپس کی دشمنی ختم ہو جائے گی ، اور مال پیش کیا جائے گا ، لیکن کوئی اُسے قبول ( یعنی وصول ) نہیں کرے گا اور اگر وہ میری قبر پر کھڑے ہو کر یہ کہیں : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! تو میں انہیں ضرور جواب دوں گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت صحیح میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13813
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6584)»
حدیث نمبر: 13814
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " كَانَ فِيمَنْ خَلَا مِنْ إِخْوَانِي مِنَ الْأَنْبِيَاءِ ثَمَانِيَةُ آلَافِ نَبِيٍّ ، ثُمَّ كَانَ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ ، ثُمَّ كُنْتُ أَنَا " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَهَذَا الْحَدِيثُ فِي تَرْجَمَتِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” انبیاء کرام میں سے مجھ سے پہلے جو بھائی گزرے ہیں ، ان کی تعداد آٹھ ہزار تھی ، پھر سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام آئے ، اور پھر ” میں “ مبعوث ہوا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ثابت عبدی ہے اور وہ ضعیف ہے ، اور یہ حدیث ان کے حالات میں نقل ہوئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13814
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4092)»