حدیث نمبر: 13801
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كُنْتُ فِي حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ نَتَذَاكَرُ فَضَائِلَ الْأَنْبِيَاءِ أَيُّهُمْ أَفْضَلُ ، فَذَكَرْنَا نُوحًا وَطُولَ عِبَادَتِهِ رَبَّهُ ، وَذَكَرْنَا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ الرَّحْمَنِ ، وَذَكَرْنَا مُوسَى مُكَلِّمَ اللَّهِ ، وَذَكَرْنَا عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ ، وَذَكَرْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا تَذْكُرُونَ بَيْنَكُمْ ؟ " . قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ذَكَرْنَا فَضَائِلَ الْأَنْبِيَاءِ أَيُّهُمْ أَفْضَلُ ، فَذَكَرْنَا نُوحًا وَطُولَ عِبَادَتِهِ رَبَّهُ ، وَذَكَرْنَا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ الرَّحْمَنِ ، وَذَكَرْنَا مُوسَى مُكَلِّمَ اللَّهِ ، وَذَكَرْنَا عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ ، وَذَكَرْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَمَنْ فَضَّلْتُمْ ؟ " . فَقُلْنَا : فَضَّلْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَعَثَكَ اللَّهُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً ، وَغَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ، وَأَنْتَ خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ أَحَدٌ خَيْرًا مِنْ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا " . قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَيْفَ ذَاكَ ؟ قَالَ : " أَلَمْ تَسْمَعُوا كَيْفَ نَعَتَهُ فِي الْقُرْآنِ ( يَايَحْيَى خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا ) إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى : ( حَيًّا ) ( مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَسَيِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِيًّا مِنَ الصَّالِحِينَ ) لَمْ يَعْمَلْ سَيِّئَةً وَلَمْ يَهِمَّ بِهَا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں مسجد میں ایک حلقے میں موجود تھا ، ہم لوگ انبیاء کرام کے فضائل کا تذکرہ کر رہے تھے کہ اُن میں سے کون زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ تو ہم نے سیدنا نوح علیہ السلام کا ذکر کیا کہ انہوں نے اپنے پروردگار کی طویل عرصہ تک عبادت کی ، ہم نے سیدنا ابراہیم خلیل الرحمن علیہ السلام کا ذکر کیا ، ہم نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا ذکر کیا ، جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا ، ہم نے سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا ذکر کیا ، ہم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا ، ابھی ہم اسی حالت میں تھے کہ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم لوگ کس بارے میں بات چیت کر رہے تھے ؟ ہم نے عرض کی : ہم لوگ انبیاء کرام کے فضائل کا ذکر کر رہے تھے کہ اُن میں سے کون زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ تو ہم نے سیدنا نوح علیہ السلام کا ذکر کیا کہ انہوں نے ایک طویل عرصے تک اپنے پروردگار کی عبادت کی ، ہم نے سیدنا ابراہیم خلیل الرحمن علیہ السلام کا ذکر کیا ، ہم نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ کیا ، جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا ، اور ہم نے سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا ذکر کیا ، اور یا رسول اللہ ! ہم نے آپ کا بھی ذکر کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر تم نے کسے افضل قرار دیا ؟ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے آپ کو افضل قرار دیا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام بنی نوع انسان کی طرف مبعوث کیا ہے ، اور آپ کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دی ہے ، اور آپ انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کسی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ یحیی بن زکریا سے زیادہ بہتر ہو ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کیسے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم نے سنا نہیں ہے ؟ کہ قرآن میں ان کی کیا صفات بیان کی گئی ہیں : ” اے یحیی ! تم کتاب کو قوت کے ساتھ حاصل کر لو ، اور ہم نے بچپن میں ہی اس کو حکم ( یعنی نبوت ) عطا کر دیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ یہ آیت اللہ تعالیٰ کے اس فرمان تک ہے : ” زندہ “ ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے کلمے کی تصدیق کرنے والا تھا ، سردار تھا اور عورتوں سے بچنے والا تھا ، اور ( ہمارے ) خاص لوگوں میں سے نبی تھا ۔ “ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) ” انہوں نے کبھی کوئی برا کام نہیں کیا تھا ، اور نہ ہی کبھی اس کا ارادہ کیا تھا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید بن جدعان ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید بن جدعان ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13802
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ وَلَدِ آدَمَ إِلَّا قَدْ أَخْطَأَ ، أَوْ هَمَّ [ بِخَطِيئَةٍ ] لَيْسَ يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَزَادَ : " فَإِنَّهُ لَمْ يَهُمَّ بِهَا وَلَمْ يَعْمَلْهَا " . وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اولاد آدم میں سے ہر ایک نے ، یا تو کسی غلطی کا ارتکاب کیا ہو گا ، یا غلطی کا ارادہ کیا ہو گا ، لیکن سیدنا یحیی بن ذکریا علیہ السلام نے ایسا نہیں کیا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” انہوں نے کبھی اس کا ارادہ نہیں کیا ، اور انہوں نے کبھی اس پر عمل نہیں کیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” انہوں نے کبھی اس کا ارادہ نہیں کیا ، اور انہوں نے کبھی اس پر عمل نہیں کیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 13803
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ : أَنَا خَيْرٌ مِنْ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا ، مَا هَمَّ بِخَطِيئَةٍ " . أَحْسَبُهُ قَالَ : " وَلَا عَمِلَهَا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کسی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ یہ کہے : میں سیدنا یحیی بن زکریا علیہ السلام سے زیادہ بہتر ہوں ، کیونکہ انہوں نے کبھی کسی گناہ کا ارادہ بھی نہیں کیا ( راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ) اور انہوں نے ( کبھی ) اس ( برائی ) پر عمل بھی نہیں کیا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13804
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كُلُّ بَنِي آدَمَ يَلْقَى اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِذَنْبٍ ، وَقَدْ يُعَذِّبُهُ عَلَيْهِ إِنْ شَاءَ أَوْ يَرْحَمُهُ ، إِلَّا يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا ، فَإِنَّهُ كَانَ " سَيِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِيًّا مِنَ الصَّالِحِينَ " . وَأَهْوَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى قَذَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ فَأَخَذَهَا وَقَالَ : " ذَكَرُهُ مِثْلَ هَذِهِ الْقَذَاةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرُّعَيْنِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن ہر انسان اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کسی گناہ کے ہمراہ حاضر ہو گا ، جس کا اس نے ارتکاب کیا ہو گا ، اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا ، تو اس گناہ کے حوالے سے اسے عذاب دیدے گا اور اگر چاہے گا ، تو اس پر رحم کر دے گا ، صرف سیدنا یحیی بن زکریا علیہ السلام کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ وہ سردار تھے ، پاک دامن تھے اور نبی تھے ، اور نیک لوگوں میں سے تھے ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر پڑے ہوئے ایک تیلے کی طرف ہاتھ بڑھایا اسے پکڑایا اور پھر یہ فرمایا : اُن کی شرمگاہ اس تیلے کی مانند تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن سلیمان رعینی ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن سلیمان رعینی ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔