حدیث نمبر: 13800
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ أَيُّوبَ كَانَ فِي بَلَائِهِ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً ، فَرَفَضَهُ الْقَرِيبُ وَالْبَعِيدُ إِلَّا رَجُلَانِ مِنْ إِخْوَانِهِ ، كَانَا مِنْ أَخَصِّ إِخْوَانِهِ كَانَا يَغْدُوَانِ إِلَيْهِ وَيَرُوحَانِ إِلَيْهِ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : تَعْلَمُ وَاللَّهِ لَقَدْ أَذْنَبَ أَيُّوبُ ذَنْبًا مَا أَذَنَبَهُ أَحَدٌ . قَالَ صَاحِبُهُ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : مُنْذُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً لَمْ يَرْحَمْهُ اللَّهُ فَيَكْشِفُ اللَّهُ عَنْهُ . فَلَمَّا رَاحَا إِلَيْهِ ، لَمْ يَصْبِرِ الرَّجُلُ حَتَّى ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، قَالَ أَيُّوبُ : مَا أَدْرِي مَا تَقُولُ ، إِلَّا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ أَنِّي كُنْتُ أَمُرُّ عَلَى الرَّجُلَيْنِ يَتَنَازَعَانِ فَيَذْكُرَانِ اللَّهَ ، فَأَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَأُكَفِّرُ عَنْهُمَا ، كَرَاهِيَةَ أَنْ يُذْكَرَ اللَّهُ إِلَّا فِي حَقٍّ . قَالَ : وَكَانَ يَخْرُجُ إِلَى حَاجَتِهِ ، فَإِذَا قَضَى حَاجَتَهُ أَمْسَكَتِ امْرَأَتُهُ بِيَدِهِ حَتَّى يَبْلُغَ ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَبْطَأَ عَلَيْهَا ، وَأُوحِيَ إِلَى أَيُّوبَ فِي مَكَانِهِ أَنِ ( ارْكُضْ بِرِجْلِكَ هَذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَ شَرَابٌ ) فَاسْتَبْطَأَتْهُ فَتَلَقَّتْهُ يَنْتَظِرُوا ، وَأَقْبَلَ عَلَيْهَا قَدْ أَذْهَبَ اللَّهُ مَا بِهِ مِنَ الْبَلَاءِ وَهُوَ عَلَى أَحْسَنِ مَا كَانَ ، فَلَمَّا رَأَتْهُ قَالَتْ : أَيْ بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ ، هَلْ رَأَيْتَ نَبِيَّ اللَّهِ هَذَا الْمُبْتَلَى ؟ وَوَاللَّهِ عَلَى ذَلِكَ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشْبَهَ بِهِ مُذْ كَانَ صَحِيحًا مِنْكَ . قَالَ : فَإِنِّي أَنَا هُوَ . وَكَانَ لَهُ أَنْدَرَانِ : أَنْدَرُ لِلْقَمْحِ وَأَنْدَرُ لِلشَّعِيرِ ، فَبَعَثَ اللَّهُ سَحَابَتَيْنِ ، فَلَمَّا كَانَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى أَنْدَرِ الْقَمْحِ فَرَّغَتْ فِيهِ الذَّهَبَ حَتَّى فَاضَ ، وَأَفْرَغَتِ الْأُخْرَى عَلَى أَنْدَرِ الشَّعِيرِ الْوَرِقَ حَتَّى فَاضَ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ کے نبی سیدنا ایوب علیہ السلام اٹھارہ سال تک آزمائش کا شکار رہے تھے ، قریب اور دور کے سب لوگوں نے انہیں ایک طرف کر دیا تھا ، صرف ان کے دو دوست ایسے تھے ، جو ان کے قریبی ساتھی تھے ، وہ صبح و شام ان کے پاس آیا کرتے تھے ، ایک دن اُن میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کی قسم ! سیدنا ایوب علیہ السلام نے ضرور کسی ایسے گناہ کا ارتکاب کیا ہو گا ، جو گناہ کسی اور نے نہیں کیا ہو گا ، دوسرے شخص نے دریافت کیا : وہ کیسے ؟ اس نے کہا: اٹھارہ سال ہو گئے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم نہیں کیا اور ان کی بیماری کو ختم نہیں کیا ، جب وہ دونوں افراد سیدنا ایوب علیہ السلام کے پاس آئے ، تو اس شخص سے صبر نہیں ہوا ، اس نے سیدنا ایوب علیہ السلام کے سامنے بھی یہ بات ذکر کر دی ، تو سیدنا ایوب علیہ السلام نے فرمایا : مجھے نہیں معلوم کہ جو وہ کہہ رہا ہے ، اس میں کتنی حقیقت ہے ، البتہ اللہ تعالیٰ یہ بات جانتا ہے کہ میں دو آدمیوں کے پاس سے گزرا ، وہ دونوں جھگڑا کر رہے تھے اور وہ دونوں اللہ کا ذکر کر رہے تھے ، تو میں اپنے گھر واپس آ گیا اور میں نے ان دونوں کی طرف سے اُس بات کا کفارہ دیا تھا ، اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ ان میں سے کوئی ایک ہی اللہ کا ذکر کر رہا ہو گا ، جو حق کے ہمراہ ہو گا ( تو دوسرا اپنی بات میں جھوٹا ہو گا ) ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : سیدنا ایوب علیہ السلام قضائے حاجت کے لئے تشریف لے جاتے تھے ، جب وہ قضائے حاجت کر کے فارغ ہوتے تھے ، تو ان کی اہلیہ ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں ان کی جگہ تک لے آتی تھیں ، ایک دن اس اہلیہ کو ان کے پاس آنے میں تاخیر ہو گئی ، اس جگہ پر سیدنا ایوب علیہ السلام کی طرف یہ وحی نازل ہوئی کہ آپ اپنا پاؤں ماریں ، یہاں سے ٹھنڈا پانی نکلے گا ، جو پینے کے لائق بھی ہو گا ، اس خاتون کو ان کے پاس آنے میں تاخیر ہو گئی ، پھر اس نے دیکھا کہ سیدنا ایوب علیہ السلام اس کی طرف آ رہے تھے اور ان کی آزمائش اللہ تعالیٰ نے ختم کر دی تھی ، اور وہ پہلے کی طرح خوبصورت حالت میں تھے ، جب اُس خاتون نے انہیں دیکھا ، تو کہا: اے شخص ! اللہ تعالیٰ تمہارے بارے میں برکت رکھے ، کیا تم نے آزمائش کا شکار اللہ کے نبی کو دیکھا ہے ؟ اللہ کی قسم ! جب وہ صحیح ہوتے تھے ، تو وہ اس وقت جس طرح کے تھے ، میں نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا ، جو تم سے زیادہ اُن سے مشابہت رکھتا ہو ، تو سیدنا ایوب علیہ السلام نے کہا: وہ میں ہی ہوں ، سیدنا ایوب علیہ السلام کے دو گودام تھے ، ایک گودام گندم کا تھا اور ایک جَو کا تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے دو بادل بھیجے ، جب ان میں سے ایک بادل گندم کے گودام کے پاس آیا ، تو اس نے اس پر سونے کی بارش کی ، یہاں تک کہ وہ بھر گیا اور دوسرے نے جَو کے گودام پر چاندی کی بارش کی ، یہاں تک کہ وہ بھر گیا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔