کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اللہ کے نبی حضرت سلیمان بن داؤد علیہما السلام کا تذکرہ
عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَوَّلُ مَنْ صُنِعَتْ لَهُ النُّورَةُ وَدَخَلَ الْحَمَّامَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، فَلَمَّا دَخَلَهُ وَوَجَدَ حَرَّهُ وَغَمَّهُ قَالَ : أَوَّهْ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ ، أَوَّهْ أَوَّهْ ، قَبْلَ أَنْ لَا يَنْفَعُ أَوَّهْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَوْدِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جس شخصیت کے لئے سب سے پہلے ” نورہ “ ( یعنی بال صفا پاؤڈر ) تیار کیا گیا اور جو سب سے پہلے حمام میں داخل ہوئے وہ سیدنا سلیمان علیہ السلام تھے جب وہ اس میں داخل ہوئے اور انہیں اس کی گرمی اور مشکل محسوس ہوئی ، تو انہوں نے کہا: اُوہ ، یہ تو اللہ کے عذاب میں سے ہے ، اُوہ ، اُوہ ، اس سے پہلے کہ یہ نفع نہ دے ، اُوہ ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عبدالرحمن اودی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عبدالرحمن اودی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كَانَ سُلَيْمَانُ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ رَأَى شَجَرَةً نَابِتَةً بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَيَقُولُ لَهَا : مَا اسْمُكِ ؟ فَتَقُولُ : كَذَا . فَيَقُولُ : لِأَيِّ شَيْءٍ أَنْتِ ؟ فَتَقُولُ : لِكَذَا فَإِنْ كَانَتْ لِغَرْسٍ غَرَسَ ، وَإِنْ كَانَتْ لِدَاءٍ كَتَبَ ، فَبَيْنَا هُوَ ذَاتَ يَوْمٍ يُصَلِّي إِذَا شَجَرَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ لَهَا : مَا اسْمُكِ ؟ قَالَتْ : الْخَرْنُوبُ . قَالَ : لِأَيِّ شَيْءٍ أَنْتِ ؟ قَالَتْ : لِخَرَابِ هَذَا الْبَيْتِ . قَالَ سُلَيْمَانُ : اللَّهُمَّ عَمِّ عَلَى الْجِنِّ مَوْتِي حَتَّى يَعْلَمَ الْإِنْسُ أَنَّ الْجِنَّ لَا تَعْلَمُ الْغَيْبَ . قَالَ : فَنَحَتَهَا عَصًا يَتَوَكَّأُ عَلَيْهَا ، فَأَكَلَتْهَا الْأَرَضَةُ فَسَقَطَ [ ت فَخَرَّ ] فَحَزَرُوا أَكْلَهَا - وَالْجِنُّ تَعْمَلُ - الْأَرَضَةَ فَوَجَدُوهُ حَوْلًا ، فَتَبَيَّنَتِ الْإِنْسُ أَنَّ الْجِنَّ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا حَوْلًا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ " . وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقْرَؤُهَا هَكَذَا ، فَشَكَرَتِ الْجِنُّ الْأَرَضَةَ فَكَانَتْ تَأْتِيهَا بِالْمَاءِ حَيْثُ كَانَتْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، مَرْفُوعًا وَمَوْقُوفًا ، وَفِيهِ عَطَاءٌ وَقَدِ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ کے نبی سیدنا سلیمان علیہ السلام جب اپنی جائے نماز پر کھڑے ہوتے ، تو اپنے آگے کسی درخت کو اگتے ہوئے دیکھتے ، تو اس سے دریافت کرتے : تمہارا نام کیا ہے ؟ اس نے بتایا : یہ ہے ، وہ دریافت کرتے : تم کس مقصد کے لئے ہو ؟ وہ بتا دیتا : اس لئے ہوں ، اگر وہ بونے کے لئے ہوتا تھا ، تو اسے بو دیا جاتا تھا اور اگر وہ بیماری کے لئے ہوتا تھا ، تو اسے نوٹ کر لیا جاتا تھا ، ایک دن اسی طرح وہ نماز ادا کرنے لگے ، تو ان کے سامنے ایک درخت موجود تھا ، انہوں نے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ تو اس نے کہا: خرنوب ، سیدنا سلیمان علیہ السلام نے دریافت کیا : تم کس لئے ہو ؟ اس نے جواب دیا : اس گھر کو بے آباد کرنے کے لئے ، سیدنا سلیمان علیہ السلام نے دعا کی : اے اللہ ! میری موت کو جنات سے پوشیدہ رکھنا ، تاکہ انسانوں کو اس بات کا پتہ چل جائے کہ جنات کو غیب کا علم نہیں ہوتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو سیدنا سلیمان علیہ السلام نے اس درخت سے ایک عصا تراشا اور اس کے ساتھ ٹیک لگا لی ، دیمک اس عصا کو کھاتی رہی ، یہاں تک کہ وہ عصا گر گیا ، تو سیدنا سلیمان علیہ السلام بھی گر گئے ، اس دوران جنات کام کرتے رہے ، پھر انہوں نے دیمک کے کھانے کا اندازہ لگایا تو وہ ایک سال کی مدت بنی ، تو انسانوں کے سامنے یہ بات واضح ہو گئی کہ اگر جنات کو غیب کا علم ہوتا ، تو وہ ایک سال تک رسوا کرنے والے عذاب میں مبتلاء نہ رہتے ۔ “ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کو اسی طرح پڑھا کرتے تھے ۔ پھر جنات نے دیمک کا شکریہ ادا کیا اور وہ اس کے پاس پانی لے کر آتے تھے ، خواہ وہ جہاں بھی ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اس کی مانند روایت مرفوع اور موقوف دونوں طرح سے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ان دونوں کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اس کی مانند روایت مرفوع اور موقوف دونوں طرح سے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ان دونوں کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔