کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: عمدہ اخلاق کا بیان اور زیادتی کرنے والے کو معاف کرنا
حدیث نمبر: 13683
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاقِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے اس لئے مبعوث کیا گیا ، تاکہ میں نیک اخلاق کی تکمیل کروں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13683
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (381/2)»
حدیث نمبر: 13684
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي بِتَمَامِ مَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ وَكَمَالِ مَحَاسِنِ الْأَفْعَالِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے عمدہ اخلاق کی تکمیل اور بہترین افعال کے کمال کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابراہیم قرشی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13684
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 13685
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَكَارِمُ الْأَخْلَاقِ مِنْ أَعْمَالِ الْجَنَّةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ فِي حَدِيثٍ تَقَدَّمَ فِي الضِّيَافَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عمدہ اخلاق ، جنت کے اعمال میں سے ہیں ۔ “ اس روایت کو امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اس حدیث میں نقل کی ہے ، جو اس سے پہلے مہمان نوازی سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13685
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف, وقال النسائي : یحییٰ بن ایوب الغافقی - ليس بالقوي
حدیث نمبر: 13686
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ ، وَيُحِبُّ مَعَالِيَ الْأَخْلَاقِ وَيَكْرَهُ سَفْسَافَهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ جمیل ہے ، وہ جمال کو پسند کرتا ہے ، اور وہ بلند اخلاق کو پسند کرتا ہے ، اور وہ برے اخلاق کو ناپسند کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13686
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1867)»
حدیث نمبر: 13687
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَرِيمٌ يُحِبُّ الْكُرَمَاءَ ، وَيُحِبُّ مَعَالِيَ الْأُمُورِ ، وَيَكْرَهُ سَفْسَافَهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " يُحِبُّ مَعَالِيَ الْأَخْلَاقِ " . وَرِجَالُ الْكَبِيرِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ کریم ہے ، وہ کریم لوگوں کو پسند کرتا ہے ، اور وہ اُمور میں بلند کو پسند کرتا ہے ، اور کمتر کو ناپسند کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” وہ بلند اخلاق کو پسند کرتا ہے ۔ “ معجم کبیر کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13687
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5928)»
حدیث نمبر: 13688
وَعَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ مَعَالِيَ الْأُمُورِ وَأَشْرَافَهَا ، وَيَكْرَهُ سَفْسَافَهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ وَالْبُخَارِيُّ وَالنَّسَائِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ اُمور میں بلند اور معزز کو پسند کرتا ہے ، اور اُن ( امور ) میں کمتر کو ناپسند کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خالد بن الیاس ہے جسے امام أحمد ، یحیی بن معین ، امام بخاری رحمہ اللہ اور امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13688
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2894)»
حدیث نمبر: 13689
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : ثُمَّ لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي بِفَوَاضِلِ الْأَعْمَالِ . فَقَالَ : " يَا عُقْبَةُ ، صِلْ مَنْ قَطَعَكَ ، وَأَعْطِ مَنْ حَرَمَكَ ، وَأَعْرِضْ عَمَّنْ ظَلَمَكَ " ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر میری ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے فضیلت والے اعمال کے بارے میں بتائیے ! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے عقبہ ! جو شخص تم سے لاتعلقی اختیار کرے ، تم اس سے تعلق رکھو ، جو شخص تمہیں محروم کرے ، تم اسے دو ، اور جو شخص تمہارے ساتھ زیادتی کرے ، تم اُس سے درگزر کرو ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13689
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف ولکن الحدیث صحیح لغیرہ
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (270/17) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (148/4)»
حدیث نمبر: 13690
وَفِي رِوَايَةٍ : " وَاعْفُ عَمَّنْ ظَلَمَكَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ رِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جو شخص تمہارے ساتھ زیادتی کرے ، تم اُسے معاف کر دو ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13690
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (158/4)»
حدیث نمبر: 13691
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ لِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَكْرَمِ أَخْلَاقِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ؟ أَنْ تَصِلَ مَنْ قَطَعَكَ ، وَتُعْطِيَ مَنْ حَرَمَكَ ، وَأَنْ تَعْفُوَ عَمَّنْ ظَلَمَكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَارِثُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” کیا میں دنیا اور آخرت کے سب سے زیادہ معزز اخلاق کے بارے میں تمہاری رہنمائی نہ کروں ؟ وہ یہ ہے کہ تم اس شخص کے ساتھ تعلق رکھو ، جو تم سے لاتعلقی اختیار کرے ، تم اُسے دو ، جو تمہیں محروم رکھے اور تم اسے معاف کر دو ، جو تمہارے ساتھ زیادتی کرے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حارث ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13691
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 13692
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى خَيْرِ أَخْلَاقِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ؟ مَنْ وَصَلَ مَنْ قَطَعَهُ ، وَعَفَا عَمَّنْ ظَلَمَهُ ، وَأَعْطَى مَنْ حَرَمَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ السُّحَيْمِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . وَرَوَاهُ مُرْسَلًا وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہاری رہنمائی دنیا اور آخرت کے بہتر اخلاق کی طرف نہ کروں ؟ وہ شخص کہ جو اس فرد کے ساتھ تعلق رکھے ، جو اس کے ساتھ لاتعلقی اختیار کرے ، اور اس سے درگزر کرے ، جو اس کے ساتھ زیادتی کرے ، اور اُسے دے ، جو اسے محروم رکھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر سحیمی ہے اور وہ متروک ہے ۔ انہوں نے اسے مرسل روایت کے طور پر بھی نقل کیا ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13692
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (155/19)»
حدیث نمبر: 13693
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " أَفْضَلُ الْفَضَائِلِ : أَنْ تَصِلَ مَنْ قَطَعَكَ ، وَتُعْطِيَ مَنْ حَرَمَكَ ، وَتَصْفَحُ عَمَّنْ شَتَمَكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ زَبَّانُ بْنُ فَائِدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سب سے زیادہ فضیلت والا عمل یہ ہے کہ تم اس شخص کے ساتھ تعلق رکھو ، جو تم سے لاتعلقی اختیار کرے ، تم اس شخص کو دو ، جو تمہیں محروم رکھے اور تم اس شخص سے درگزر کرو ، جو تمہیں برا کہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زبان بن فائد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13693
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (188/20) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (438/4)»
حدیث نمبر: 13694
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَرْفَعُ اللَّهُ بِهِ الدَّرَجَاتِ ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " تَحْلُمُ عَنْ مَنْ جَهِلَ عَلَيْكَ ، وَتَعْفُو عَنْ مَنْ ظَلَمَكَ ، وَتُعْطِي مَنْ حَرَمَكَ ، وَتَصِلُ مَنْ قَطَعَكَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تم لوگوں کی رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں ، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ درجات بلند کرتا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اُس شخص کے لئے بردباری کا مظاہرہ کرو ، جو تمہارے خلاف جہالت کا مظاہرہ کرے ، تم اس شخص کو معاف کر دو جو تمہارے ساتھ زیادتی کرے ، تم اس شخص کو دو ، جو تمہیں محروم رکھے اور تم اس شخص کے ساتھ تعلق قائم رکھو ، جو تم سے لاتعلقی اختیار کرے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13694
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1947)»
حدیث نمبر: 13695
وَعَنْ عُبَادَةَ أَيْضًا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِمَا يُشْرِفُ اللَّهُ تَعَالَى بِهِ الْبُنْيَانَ وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ ؟ " . قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " أَنْ تَحْلُمَ عَلَى مَنْ جَهِلَ عَلَيْكَ ، وَأَنْ تَصِلَ مَنْ قَطَعَكَ ، وَتُعْطِيَ مَنْ حَرَمَكَ ، وَتَعْفُوَ عَنْ مَنْ ظَلَمَكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں ان امور کے بارے میں اطلاع نہ دوں ؟ جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ بلند عمارت عطا کرتا ہے ، اور ان کے ذریعے درجات بلند کرتا ہے ، لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ یہ ہیں کہ تم اس شخص کے سامنے بردباری کا مظاہرہ کرو ، جو تمہارے خلاف جہالت کا مظاہرہ کرے ، تم اس شخص کے ساتھ تعلق اختیار کرو ، جو تمہارے ساتھ لاتعلقی اختیار کرے ، تم اس شخص کو دو ، جو تمہیں محروم رکھے ، اور تم اس شخص سے درگزر کرو ، جو تمہارے ساتھ زیادتی کرے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوامیہ بن یعلیٰ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13695
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 13696
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُشْرَفَ لَهُ الْبُنْيَانُ وَأَنْ تُرْفَعَ لَهُ الدَّرَجَاتُ ، فَلْيَعْفُ عَمَّنْ ظَلَمَهُ ، وَيُعْطِ مَنْ حَرَمَهُ ، وَيَصِلْ مَنْ قَطَعَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کو ( جنت میں ) بلند عمارت ملے اور اس کے درجات بلند ہوں ، تو وہ اس شخص سے درگزر کرے ، جس نے اس کے ساتھ زیادتی کی ہو ، اور اس شخص کو دے ، جس نے اسے محروم رکھا ہو ، اور اس شخص سے تعلق قائم رکھے ، جو اس سے لاتعلقی اختیار کرے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوامیہ بن یعلیٰ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13696
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (534)»
حدیث نمبر: 13697
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ حَاسَبَهُ اللَّهُ حِسَابًا يَسِيرًا وَأَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِهِ " . قَالَ : مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي؟ قَالَ : " تُعْطِي مَنْ حَرَمَكَ ، وَتَصِلُ مَنْ قَطَعَكَ ، وَتَعْفُو عَمَّنْ ظَلَمَكَ " . قَالَ : فَإِذَا فَعَلْتُ هَذَا ، فَمَا لِي يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : " يُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْيَمَامِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تین چیزیں جس شخص میں ہوں گی ، اللہ تعالیٰ اس شخص سے آسان حساب لے گا اور اپنی رحمت کے وسیلے سے اسے جنت میں داخل کر دے گا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، وہ چیزیں کیا ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اسے دو ، جو تمہیں محروم رکھے ، تم اس سے تعلق قائم کرو ، جو تم سے لاتعلقی اختیار کرے ، تم اس شخص سے درگزر کرو جو تمہارے ساتھ زیادتی کرے ۔ “ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! جب میں ایسا کر لوں گا ، تو مجھے کیا ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم ایسا کر لو گے ، تو اللہ تعالیٰ تمہیں جنت میں داخل کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن سلیمان یمامی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13697
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (913)»
حدیث نمبر: 13698
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا شَتَمَ أَبَا بَكْرٍ ، وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْجَبُ وَيَتَبَسَّمُ ، فَلَمَّا أَكْثَرَ رَدَّ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ ، فَغَضِبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَامَ ، فَلَحِقَهُ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَانَ يَشْتُمُنِي وَأَنْتَ جَالِسٌ ، فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ غَضِبْتَ وَقُمْتَ ؟ قَالَ : " إِنَّهُ كَانَ مَعَكَ مَلَكٌ يَرُدُّ عَنْكَ ، فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ وَقَعَ الشَّيْطَانُ ، فَلَمْ أَكُنْ لِأَقْعُدَ مَعَ الشَّيْطَانِ " . ثُمَّ قَالَ : " يَا أَبَا بَكْرٍ ثَلَاثٌ كُلُّهُنَّ حَقٌّ : مَا مِنْ عَبْدٍ ظُلِمَ بِمَظْلَمَةٍ فَيُفْضِي عَنْهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، إِلَّا أَعَزَّ اللَّهُ بِهَا نَصْرَهُ ، وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ عَطِيَّةٍ يُرِيدُ بِهَا صِلَةً إِلَّا زَادَهُ بِهَا كَثْرَةً ، وَمَا فَتَحَ بَابَ مَسْأَلَةٍ يُرِيدُ بِهَا كَثْرَةً إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ بِهَا قِلَّةً " . قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ إِلَى قَوْلِهِ : " فَلَمْ أَكُنْ لِأَقْعُدَ مَعَ الشَّيْطَانِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ایک شخص نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو برا کہا: ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حیران ہوئے اور مسکرانے لگے ، جب اس شخص نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں زیادہ برا کہنا شروع کیا ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے کسی بات کا جواب دے دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے اور کھڑے ہو گئے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ شخص مجھے برا کہہ رہا تھا ، آپ تشریف فرما رہے ، جب میں نے اس کی ایک بات کا جواب دیا ، تو آپ غصے میں آ گئے اور اٹھ کھڑے ہوئے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے ساتھ ایک فرشتہ تھا ، جو تمہاری طرف سے جواب دے رہا تھا ، جب تم نے اس کی بات کا جواب دیدیا ، تو شیطان بیچ میں آ گیا ، تو میں شیطان کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے ابوبکر ! تین چیزیں ہیں ، جو حق ہیں ، جس بھی بندے کے ساتھ کوئی زیادتی کی جائے ، اور وہ اسے اللہ کے سپرد کر دے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اپنی مدد کے ذریعے اس شخص کو عزت عطا کرتا ہے ، اور جو بھی شخص عطیہ دینے کا دروازہ کھولتا ہے اور اس کے ذریعے اس کا مقصد صلہ رحمی کرنا ہو ، تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے مال میں اضافہ کر دیتا ہے ، اور جو بھی شخص مانگنے کا دروازہ کھولتا ہے ، اس کا مقصد اس کے ذریعے اپنے مال میں اضافہ کرنا ہو ، تو اللہ تعالیٰ اس وجہ سے اُس کی قلت میں اضافہ کر دیتا ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے یہ روایت صرف ان الفاظ تک نقل کی ہے : ” میں شیطان کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، امام أحمد کی روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13698
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (436/2)»
حدیث نمبر: 13699
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : جِيءَ بِي إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاءَ بِي عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ وَزُهَيْرٌ ، فَجَعَلُوا يُثْنُونَ عَلَيَّ عِنْدَهُ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تُعْلِمُونِي بِهِ ، قَدْ كَانَ صَاحِبِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ " . قَالَ : قَالَ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَنِعْمَ الصَّاحِبُ كُنْتَ . قَالَ : فَقَالَ : " يَا سَائِبُ ، انْظُرْ أَخْلَاقَكَ الَّتِي كُنْتَ تَصْنَعُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَاصْنَعْهَا فِي الْإِسْلَامِ : أَقْرِ الضَّيْفَ ، وَأَكْرِمِ الْيَتِيمَ ، وَأَحْسِنْ إِلَى جَارِكَ " . قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سائب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن ، مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جایا گیا ، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور سیدنا زہیر رضی اللہ عنہ مجھے لے کے آئے اور میری تعریفیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کرنے لگے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : تم لوگ مجھے اس کے بارے میں نہ بتاؤ ! یہ زمانہ جاہلیت میں ، میرا ساتھی رہا ہے ، راوی کہتے ہیں : تو انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! آپ بہت اچھے ساتھی تھے ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے سائب ! اپنے ان اخلاق کا جائزہ لو ! جو تم زمانہ جاہلیت میں اختیار کرتے تھے ، اور زمانہ اسلام میں بھی انہیں کرتے رہو ، تم مہمان نوازی کرو ، یتیم کا احترام کرو ، اور اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرو ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13699
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (425/4)»
حدیث نمبر: 13700
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ لَمْ تَكُنْ فِيهِ وَاحِدَةٌ مِنْ ثَلَاثٍ فَلَا يَجْنِي مِنْ عَمَلِهِ : تَقْوًى تَحْجِزُهُ عَنْ مَعَاصِي اللَّهِ ، أَوْ حِلْمٌ يَكُفُّ بِهِ سَفِيهًا ، أَوْ خُلُقٌ يَعِيشُ بِهِ فِي النَّاسِ " . وَأَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ كَانَ فِيهِ وَاحِدَةٌ مِنْ ثَلَاثٍ ، وَزَوَّجَهُ اللَّهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ : مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ أَمَانَةٌ خَفِيَّةٌ شَهِيَّةٌ فَأَدَّاهَا مَخَافَةَ اللَّهِ ، أَوْ رَجُلٌ عَفَا عَنْ قَاتِلِهِ ، أَوْ رَجُلٌ قَرَأَ : ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ) دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ ، وَضَعَّفَهُ الذَّهَبِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص میں تین میں سے ایک چیز نہیں ہو گی ، تو وہ اپنے عمل کا تاوان نہیں دے گا ( یعنی اس کو سزا نہیں ملے گی ) ایسا تقویٰ جو اسے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے روک دے ، یا ایسی بردباری ، جو اسے بے وقوف کے سامنے ( غصے کا ) اظہار کرنے سے روک دے ، اور ایسے اخلاق ، جن کے ہمراہ وہ لوگوں کے ساتھ میل جول رکھے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے : ” جس شخص میں ، تین میں سے کوئی ایک چیز ہو گی ، اللہ تعالیٰ حورعین سے تعلق رکھنے والی حور کے ساتھ اُس کی شادی کر دے گا ، جس شخص کے پاس کوئی پوشیدہ دلچسپی والی امانت موجود ہو ، اور وہ اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے اُسے واپس کر دے ، یا جو شخص قاتل ( سے بدلہ لینے ) کو معاف کر دے ، یا جو شخص ہر نماز کے بعد سورت اخلاص کی تلاوت کرے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد ابراہیم بن محمد بن عرق کے حوالے سے نقل کی ہے ، اسے امام ذہبی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13700
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 13701
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ عَفَا عِنْدَ قُدْرَةٍ عَفَا اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْعُسْرَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ كَثِيرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص قدرت ہونے کے باوجود معاف کر دے ، اللہ تعالیٰ تنگی کے دن اس سے درگزر کرے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علاء بن سعید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13701
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7585)»