حدیث نمبر: 13702
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ مَشَى إِلَى حَاجَةِ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا حَسَنَةً إِلَى أَنْ يَرْجِعَ مِنْ حَيْثُ فَارَقَهُ ، فَإِنْ قُضِيَتْ حَاجَتُهُ خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ، وَإِنْ هَلَكَ فَيَا مِنْ هَالِكٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ زَيْدٍ الْعَمِّيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے کام کے سلسلے میں چل کے جائے ، تو اللہ تعالیٰ اسے ہر ایک قدم ، جو اس نے اٹھایا ہو ، اس کے عوض میں ، اس کے لئے ایک نیکی نوٹ کرے گا ، جب تک وہ وہاں واپس نہیں آ جاتا ، جہاں وہ اس سے جدا ہو گا ، اور اگر دوسرے شخص کی حاجت پوری ہو جاتی ہے تو وہ شخص اپنے گناہوں سے نکل کر یوں ہو جائے گا ، جیسے اس دن تھا ، جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا اور اگر وہ اس دوران مارا جاتا ہے ، تو ایسے ہلاک ہونے والے کے کیا کہنے ؟ جو کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہو جائے گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحیم بن زید عمی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحیم بن زید عمی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 13703
وَعَنْ أَنَسٍ أَيْضًا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ مَشَى فِي حَاجَةِ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا سَبْعِينَ حَسَنَةً " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ زَيْدٍ الْعَمِّيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے کام کے سلسلے میں چل کے جائے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے اُٹھائے ہوئے ہر ایک قدم کے عوض میں ، اس کے لئے ستر نیکیاں نوٹ کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحیم بن زید عمی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحیم بن زید عمی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 13704
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَلْطَفَ مُؤْمِنًا أَوْ خَفَّ فِي شَيْءٍ مِنْ حَوَائِجِهِ ، صَغُرَ ذَلِكَ أَوْ كَبُرَ ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَخْدِمَهُ مِنْ خَدَمِ الْجَنَّةِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُعَلَّى بْنُ مَيْمُونٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی مومن کے ساتھ مہربانی کرے ، یا اس کے لئے کسی کام کے سلسلے میں چل کے جائے ، خواہ وہ ضرورت چھوٹی ہو یا بڑی ہو ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ جنت کے خادموں میں سے اُسے خادم عطا کرے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی معلیٰ بن میمون ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی معلیٰ بن میمون ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 13705
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَغَاثَ مَلْهُوفًا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ ثَلَاثًا وَسَبْعِينَ حَسَنَةً ، وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ يُصْلِحُ اللَّهُ بِهَا لَهُ أَمْرَ دُنْيَاهُ وَآخِرَتِهِ ، وَاثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِي الدَّرَجَاتِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَفِي إِسْنَادِهِمَا زِيَادُ بْنُ أَبِي حَسَّانَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص پریشان حال کی مدد کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے لئے تہتر نیکیاں نوٹ کرتا ہے ، جن میں سے ایک نیکی کے ذریعے ، وہ اس شخص کی دنیا اور آخرت کے معاملے کو ٹھیک کر دیتا ہے ، اور بہتر نیکیاں اُس شخص کے لئے درجات کے اضافے کا باعث ہوتی ہیں ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، ان دونوں کی سند میں ایک راوی زیاد بن ابوحسان ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، ان دونوں کی سند میں ایک راوی زیاد بن ابوحسان ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 13706
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْخَلْقُ عِيَالُ اللَّهِ فَأَحَبُّهُمْ إِلَى اللَّهِ أَنْفَعُهُمْ لِعِيَالِهِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ الصَّفَّارُ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مخلوق اللہ تعالیٰ کی عیال ہے ، تو ان میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ محبوب وہ ہے ، جو اُس کے عیال کے لئے زیادہ نفع بخش ہو ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن عطیہ صفار ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن عطیہ صفار ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 13707
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْخَلْقُ كُلُّهُمْ عِيَالُ اللَّهِ ، فَأَحَبُّ الْخَلْقِ إِلَى اللَّهِ أَنْفَعُهُمْ لِعِيَالِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَيْرٌ ، وَهُوَ أَبُو هَارُونَ الْقُرَشِيُّ ، مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کی عیال ہے ، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب بندہ وہ ہے ، جو اس کی عیال کے لیے زیادہ نفع بخش ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمیر ہے ، اور وہ ابوہارون قرشی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمیر ہے ، اور وہ ابوہارون قرشی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 13708
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ ، وَأَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَحَبُّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ ، وَأَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ سُرُورٌ تُدْخِلُهُ عَلَى مُسْلِمٍ ، أَوْ تَكْشِفُ عَنْهُ كُرْبَةً ، أَوْ تَقْضِي عَنْهُ دَيْنًا ، أَوْ تَطْرُدُ عَنْهُ جُوعًا ، وَلَأَنْ أَمْشِيَ مَعَ أَخٍ لِي فِي حَاجَةٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتَكِفَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ شَهْرًا فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ ، وَمَنْ كَفَّ غَضَبَهُ سَتَرَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ ، وَمَنْ كَظَمَ غَضَبَهُ وَلَوْ شَاءَ أَنْ يُمْضِيَهُ أَمْضَاهُ ، مَلَأَ اللَّهُ قَلْبَهُ رَخَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ مَشَى مَعَ أَخِيهِ فِي حَاجَةٍ حَتَّى تَتَهَيَّأَ لَهُ ثَبَّتَ اللَّهُ قَدَمَهُ يَوْمَ تَزُولُ الْأَقْدَامُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَفِيهِ سُكَيْنُ بْنُ سِرَاجٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ کے نزدیک لوگوں میں کون زیادہ محبوب ہے ؟ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اعمال میں کون سا عمل زیادہ محبوب ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں میں ، اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وہ شخص ہے ، جو لوگوں کے حق میں سب سے زیادہ نفع بخش ہو ، اور اعمال میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وہ خوشی ہے ، جسے تم کسی مسلمان پر داخل کرتے ہو ، یا کسی مسلمان سے تم کوئی تکلیف دہ چیز دور کر دیتے ہو ، یا تم اس کا قرض ادا کر دیتے ہو ، یا اس سے بھوک کو پرے کر دیتے ہو ، میں اپنے کسی بھائی کے ساتھ اس کے کسی کام کے سلسلے میں چل کے جاؤں ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں اس مسجد میں ، یعنی مسجد نبوی میں ایک ماہ تک اعتکاف کروں ، اور جو شخص اپنے غضب کو روک لیتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے پوشیدہ معاملات کی پردہ پوشی کرتا ہے ، جو شخص اپنے غصے کو پی لیتا ہے ، ایسی صورت میں جبکہ اگر وہ چاہے ، تو اسے دکھا سکتا ہو ، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے دل کو خوشحالی سے بھر دے گا اور جو شخص اپنے بھائی کے ساتھ اس کے کسی کام کے سلسلے میں چل کے جاتا ہے ، یہاں تک کہ اس کا وہ کام کروا دیتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس دن اس شخص کے پاؤں کو ثابت قدم رکھے گا ، جب لوگوں کے پاؤں پھسل رہے ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسکین بن سراج ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسکین بن سراج ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13709
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ كَانَ وَصْلَةٌ لِأَخِيهِ الْمُسْلِمِ إِلَى ذِي سُلْطَانٍ فِي مَبْلَغِ بِرٍّ أَوْ تَيْسِيرِ عَسِيرٍ ، أَعَانَهُ اللَّهُ عَلَى إِجَازَةِ الصِّرَاطِ عِنْدَ دَحْضِ الْأَقْدَامِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِشَامٍ النَّسَائِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے معاملے کو متعلقہ حاکم تک پہنچاتا ہے ، جس میں ( اس بھائی ) کو کوئی بہتری مل رہی ہو ، یا کوئی مشکل آسان ہو رہی ہو ، تو اللہ تعالیٰ پل صراط سے گزرتے وقت جب لوگوں کے قدم ڈگمگا رہے ہوں گے ، اس شخص کی مدد کرے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن ہشام نسائی ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ ابوحاتم اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن ہشام نسائی ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ ابوحاتم اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 13710
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لِلَّهِ خَلْقًا خَلَقَهُمْ لِحَوَائِجِ النَّاسِ ، تَفْزَعُ النَّاسُ إِلَيْهِمْ فِي حَوَائِجِهِمْ ، أُولَئِكَ الْآمِنُونَ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَيُّوبَ وَضَعَّفَهُ وَحَسَّنَ حَدِيثَهُ التِّرْمِذِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ طَارِقٍ الرَّاوِي عَنْهُ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کی کچھ مخلوق ہے ، جنہیں اس نے لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے بھیجا ہے ، لوگ اپنی ضروریات کے سلسلے میں اُن کی طرف رجوع کرتے ہیں ، وہ لوگ اللہ کے عذاب سے محفوظ رہیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ایوب ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے ، اس سے روایات نقل کرنے والا شخص أحمد بن طارق ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ایوب ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے ، اس سے روایات نقل کرنے والا شخص أحمد بن طارق ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 13711
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ كَانَ وَصْلَةً لِأَخِيهِ الْمُسْلِمِ إِلَى ذِي سُلْطَانٍ فِي مَبْلَغِ بِرٍّ أَوْ إِدْخَالِ سُرُورٍ ، رَفَعَهُ اللَّهُ فِي الدَّرَجَاتِ الْعُلَا مِنَ الْجَنَّةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ ، وَرَوَاهُ بِإِسْنَادٍ آخَرَ ضَعِيفٍ ، وَرَوَاهُ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کا معاملہ کسی حکمران تک پہنچاتا ہے ، جس سے اس کو کوئی بھلائی حاصل ہو ، یا اس کے پاس کوئی خوشی آ جائے ، تو اللہ تعالیٰ جنت کے بلند درجات میں اُس شخص کے درجے بلند کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ، انہوں نے اسے ایک اور ضعیف سند کے ساتھ بھی نقل کیا ہے ، انہوں نے اسے معجم اوسط میں بھی نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ، انہوں نے اسے ایک اور ضعیف سند کے ساتھ بھی نقل کیا ہے ، انہوں نے اسے معجم اوسط میں بھی نقل کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 13712
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ : أَنَا خَلَقْتُ الْخَيْرَ وَالشَّرَّ ، فَطُوبَى لِمَنْ قَدَّرْتُ عَلَى يَدِهِ الْخَيْرَ ، وَوَيْلٌ لِمَنْ قَدَّرْتُ عَلَى يَدِهِ الشَّرَّ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَالِكُ بْنُ يَحْيَى النُّكْرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے : میں نے خیر اور شر کو پیدا کیا ہے ، تو اس شخص کے لیے مبارک باد ہے ، جس کے ہاتھ پر میں نے ” بھلائی “ مقدر کی ہو ، اور اُس شخص کے لئے بربادی ہے ، جس کے ہاتھ پر میں نے ” شر “ مقدر کیا ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مالک بن یحیی نکری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مالک بن یحیی نکری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13713
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لِلَّهِ عِنْدَ أَقْوَامٍ نِعَمًا يُقِرُّهَا عِنْدَهُمْ مَا كَانُوا فِي حَوَائِجِ النَّاسِ ، مَا لَمْ يَمَلُّوا ، فَإِذَا مَلُّوا نَقَلَهَا إِلَى غَيْرِهِمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے کچھ لوگوں کو نعمتیں عطا کی ہیں ، وہ ان لوگوں کے پاس ان نعمتوں کو اس وقت تک برقرار رکھتا ہے ، جب تک وہ لوگ دوسرے لوگوں کی ضروریات پوری کرتے رہتے ہیں اور اکتاہٹ کا شکار نہیں ہوتے ، جب وہ اکتاہٹ کا شکار ہو جائیں ، تو اللہ تعالیٰ ان نعمتوں کو دوسرے لوگوں کی طرف منتقل کر دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 13714
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنْ لِلَّهِ أَقْوَامًا اخْتَصَّهُمْ بِالنِّعَمِ لِمَنَافِعِ الْعِبَادِ ، يُقِرُّهُمْ فِيهَا مَا بَذَلُوهَا ، فَإِذَا مَنَعُوهَا نَزَعَهَا مِنْهُمْ فَحَوَّلَهَا إِلَى غَيْرِهِمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ السَّمْتِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ وَفِيهِ لِينٌ ، وَلَكِنَّ شَيْخَهُ أَبُو عُثْمَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الْحِمْصِيُّ ، ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے کچھ لوگوں کو پیدا کیا ہے ، جنہیں اس نے لوگوں کے نفع کے لئے نعمتوں سے مخصوص کیا ہے ، وہ ان نعمتوں کو ان کے پاس اس وقت تک برقرار رکھتا ہے ، جب تک وہ لوگ ان کو خرچ کرتے رہتے ہیں ، جب وہ ان نعمتوں کو روک لیتے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ ان نعمتوں کو ان سے الگ کر دیتا ہے ، اور انہیں دوسرے لوگوں کی طرف منتقل کر دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسان سمتی ہے ، ابن معین اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس میں کمزوری پائی جاتی ہے ، تاہم اس کے استاد ابوعثمان عبداللہ بن زید حمصی کو ازدی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسان سمتی ہے ، ابن معین اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس میں کمزوری پائی جاتی ہے ، تاہم اس کے استاد ابوعثمان عبداللہ بن زید حمصی کو ازدی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 13715
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ عَبْدٍ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ نِعْمَةً فَأَسْبَغَهَا عَلَيْهِ ، ثُمَّ جَعَلَ مِنْ حَوَائِجِ النَّاسِ إِلَيْهِ ، فَتَبَرَّمَ ، فَقَدْ عَرَّضَ تِلْكَ النِّعْمَةَ لِلزَّوَالِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس بندے کو اللہ تعالیٰ نعمت عطا کرے اور بھرپور نعمت عطا کرے ، اور پھر لوگوں کی ضرورت کو اس کی طرف متوجہ کرے اور وہ شخص اس ضرورت کو پورا نہ کرے ، تو وہ شخص اس نعمت کو زوال کے لئے پیش کر دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حدیث نمبر: 13716
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ مَشَى فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ خَيْرًا لَهُ مِنَ اعْتِكَافِهِ عَشْرَ سِنِينَ ، وَمَنِ اعْتَكَفَ يَوْمًا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ ، جَعَلَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ ثَلَاثَ خَنَادِقَ كُلُّ خَنْدَقٍ أَبْعَدُ مِمَّا بَيْنَ الْخَافِقَيْنِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اپنے بھائی کی حاجت کے سلسلے میں چل کے جاتا ہے ، یہ اس کے لئے دس اعتکاف کرنے سے زیادہ بہتر ہے ، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ایک دن کا اعتکاف کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس شخص اور جہنم کے درمیان تین خندقیں حائل کر دیتا ہے ، جن میں سے ہر خندق اُس سے زیادہ بڑی ہوتی ہے ، جتنا زمین اور آسمان کے درمیان فاصلہ ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حدیث نمبر: 13717
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً ، جَعَلَ اللَّهُ تَعَالَى لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُعْبَتَيْنِ مِنْ نُورٍ عَلَى الصِّرَاطِ يَسْتَضِيءُ بِضَوْئِهِمَا عَالَمٌ لَا يُحْصِيهِمْ إِلَّا رَبُّ الْعِزَّةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ سَلَمَةَ بْنُ عُثْمَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی مسلمان سے کوئی پریشانی دور کرتا ہے ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کے لئے پل صراط پر نور کے دو شعبے مقرر کر دے گا ، اُن دونوں کی روشنی سے اتنا عالم روشن ہو گا کہ جس کا شمار صرف رب العزت کر سکتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علاء بن سلمہ بن عثمان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علاء بن سلمہ بن عثمان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13718
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى بَعْدَ الْفَرَائِضِ ، إِدْخَالُ السُّرُورِ عَلَى الْمُسْلِمِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” فرائض کے بعد اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کسی مسلمان پر خوشی داخل کرنا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمرو بجلی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمرو بجلی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 13719
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ مِنْ مُوجِبَاتِ الْمَغْفِرَةِ إِدْخَالُ السُّرُورِ عَلَى أَخِيكَ الْمُسْلِمِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جَهْمُ بْنُ عُثْمَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک مغفرت کو واجب کرنے والی چیزوں میں سے ایک ( چیز ) مسلمان بھائی پر خوشی داخل کرنا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جہم بن عثمان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جہم بن عثمان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13720
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَدْخَلَ عَلَى أَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ سُرُورًا ، لَمْ يَرْضَ اللَّهُ لَهُ ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ الْقَاضِي وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی مسلمان گھرانے پر خوشی کو داخل کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت سے کم ثواب پر راضی نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن حبیب قاضی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن حبیب قاضی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13721
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ لَقِيَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ بِمَا يُحِبُّ اللَّهُ ، لِيَسُرَّهُ بِذَلِكَ ، سَرَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنے مسلمان بھائی سے اس چیز کے ہمراہ ملتا ہے ، جس سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہو اور اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس کے ذریعے اس کو خوش کر دے ، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُس شخص کو خوش کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 13722
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِهِ نَفَّسَ اللَّهُ كُرَبَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ سَتَرَ عَلَى مُؤْمِنٍ عَوْرَتَهُ سَتَرَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَتَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ شُعَيْبٌ بَيَّاعُ الْأَنْمَاطِ وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی مومن سے کوئی تکلیف دور کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی تکلیف کو ختم کر دے گا اور جو شخص کسی مومن کی پردہ پوشی کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس شخص کی پردہ پوشی کرے گا اور جو شخص کسی مومن کو کسی پریشانی سے کشادگی نصیب کرے گا ، اللہ تعالیٰ اس شخص کو اس کی پریشانی سے کشادگی نصیب کرے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شعیب ہے ، جو چادریں فروخت کرتا تھا اور وہ مجہول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شعیب ہے ، جو چادریں فروخت کرتا تھا اور وہ مجہول ہے ۔
حدیث نمبر: 13723
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَزَالُ اللَّهُ فِي حَاجَةِ الْعَبْدِ مَا دَامَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ مسلسل بندے کی حاجت روائی کرتا رہتا ہے ، جب تک وہ شخص اپنے بھائی کی حاجت روائی کرتا رہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13724
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فِي الدُّنْيَا فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ سَتَرَ عَوْرَةَ مُسْلِمٍ سَتَرَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَاللَّهُ فِي حَاجَةِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِي الْكَبِيرِ طَرَفٌ مِنْ آخِرِهِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص دنیا میں کسی مسلمان سے پریشانی کو دور کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کر دے گا ، اور جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس شخص کی پردہ پوشی کرے گا ، اور اللہ تعالیٰ بندے کی حاجت روائی کرتا رہتا ہے ، جب تک بندہ اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں مشغول رہتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، معجم کبیر میں اس کا آخری حصہ مذکور ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن زحر ہے جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، معجم کبیر میں اس کا آخری حصہ مذکور ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن زحر ہے جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13725
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ مَشَى فِي حَاجَةِ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ أَظَلَّهُ اللَّهُ تَعَالَى بِخَمْسَةٍ وَسَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يَدْعُونَ لَهُ ، وَلَمْ يَزَلْ يَخُوضُ فِي الرَّحْمَةِ حَتَّى يَفْرُغَ ، فَإِذَا فَرَغَ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ حَجَّةً وَعُمْرَةً " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْجَنَائِزِ فِي عِيَادَةِ الْمَرِيضِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی حاجت روائی میں چل کے جاتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے لئے پچھتر ہزار فرشتوں کا سایہ کر دیتا ہے ، جو اس شخص کے لئے دعا کرتے ہیں اور ایسا شخص مسلسل رحمت میں غوطہ زن رہتا ہے ، جب تک وہ فارغ نہیں ہو جاتا ، جب وہ فارغ ہو جائے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے حج اور عمرے کا ثواب نوٹ کرتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ اس سے پہلے یہ روایت بیمار کی عیادت کرنے سے متعلق باب کتاب الجنائز میں گزر چکی ہے ۔
حدیث نمبر: 13726
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ صَدَقَةَ السِّرِّ تُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ ، وَإِنَّ صَنَائِعَ الْمَعْرُوفِ تَقِي مَصَارِعَ السُّوءِ ، وَإِنَّ صِلَةَ الرَّحِمِ تَزِيدُ فِي الْعُمْرِ وَتَنْفِي الْفَقْرَ ، وَأَكْثِرْ مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، فَإِنَّهُ كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ وَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ [ تِسْعَةٍ وَتِسْعِينَ ] دَاءً أَدْنَاهَا الْهَمُّ ، " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَصْبَغُ غَيْرُ مَعْرُوفٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا وَفِيهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” پوشیدہ طور پر صدقہ کرنا ، پروردگار کے غضب کو بجھا دیتا ہے ، اور بھلائی کے کام کرنا ، بری موت سے بچاتے ہیں ، اور صلہ رحمی کرنا ، عمر میں اضافے کا باعث بنتا ہے ، اور غربت کو ختم کر دیتا ہے ، اور تم لا حول ولا قوة الا باللہ زیادہ پڑھا کرو ! کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ، اور اس میں ننانوے بیماریوں کی شفاء ہے ، جن میں سب سے ہلکی ( چیز ) پریشانی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اصبغ ہے جو غیر معروف ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گی ہے ، اور ان راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اصبغ ہے جو غیر معروف ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گی ہے ، اور ان راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 13727
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ اللِّسَانُ " . فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا صَدَقَةُ اللِّسَانِ ؟ قَالَ : " الشَّفَاعَةُ يُفَكُّ بِهَا الْأَسِيرُ ، وَيُحْقَنُ بِهَا الدَّمُ ، وَتَجُرُّ بِهَا الْمَعْرُوفَ وَالْإِحْسَانَ إِلَى أَخِيكَ ، وَتَدْفَعُ عَنْهُ الْكَرِيهَةَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سب سے زیادہ فضیلت والا صدقہ ، زبان والا ہوتا ہے ، عرض کی گی : یا رسول اللہ ! زبان کا صدقہ کیا ہوتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایسی سفارش ، جو کسی قیدی کو چھڑا دے ، یا خون کے بدلے کے معاملے کو ختم کر دے ، یا جس کے ذریعے تم کوئی بھلائی ، یا احسان اپنے بھائی کی طرف لے جاؤ ، یا اُس سے ناپسندیدہ صورت حال کو دور کر دو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر ہذلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر ہذلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔