کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: کسی سے ملنے کے لئے جانا ، اور ملنے کے لئے آنے والوں کا احترام کرنا
حدیث نمبر: 13590
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُكْثِرُ زِيَارَةَ الْأَنْصَارِ خَاصَّةً وَعَامَّةً ، فَكَانَ إِذَا زَارَ خَاصَّةً أَتَى الرَّجُلَ فِي مَنْزِلِهِ ، وَإِذَا زَارَ عَامَّةً أَتَى الْمَسْجِدَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر انصار سے ملنے کے لئے جایا کرتے تھے ، خاص طور پر بھی اور عمومی طور پر بھی ، جب آپ بطور خاص کسی شخص سے ملنے کے لیے جاتے تھے ، تو آپ اس شخص کے گھر تشریف لے جاتے تھے ، اور جب عمومی طور پر ملنے کے لیے تشریف لے جاتے تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آ جاتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 13591
وَعَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ أَتَى أَخَاهُ يَزُورُهُ فِي اللَّهِ إِلَّا نَادَاهُ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنْ طِبْتَ وَطَابَتْ لَكَ الْجَنَّةُ . وَإِلَّا قَالَ اللَّهُ فِي مَلَكُوتِ عَرْشِهِ : عَبْدِي زَارَنِي فِيَّ وَعَلَيَّ قِرَاهُ . فَلَمْ يَرْضَ لَهُ بِثَوَابٍ دُونَ الْجَنَّةِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مَيْمُونِ بْنِ عَجْلَانَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو بھی مسلمان بندہ ، اپنے بھائی سے ملنے کے لیے جاتا ہے ، اور وہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اُس سے ملنے جاتا ہے ، تو آسمان میں سے ایک منادی اُسے پکار کر کہتا ہے : تم پاکیزہ ہوئے اور جنت تمہارے لئے پاکیزہ ہو گئی ، اور اللہ تعالیٰ اپنے عرش کی بادشاہی میں یہ ارشاد فرماتا ہے : ” میرا بندہ ، میری ذات کے لئے مجھ سے ملنے گیا ہے ، اس کی مہمان نوازی میرے ذمہ ہے ۔ “ تو اللہ تعالیٰ اُس شخص کے لئے جنت سے کم ثواب پر راضی نہیں ہوتا ۔
یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف میمون بن عجلان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف میمون بن عجلان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 13592
وَعَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَبَا رَزِينٍ ، إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا زَارَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ شَيَّعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ يَقُولُونَ : اللَّهُمَّ كَمَا وَصَلَهُ فِيكَ فَصِلْهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحِصْنِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورزین عقیلی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے ابورزین ! جب کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی زیارت کے لئے جاتا ہے ، تو ستر ہزار فرشتے اُس کے ساتھ چلتے ہیں ، اور وہ اس شخص کے لئے دعائے رحمت کرتے ہیں ، اور یہ کہتے ہیں : اے اللہ ! جس طرح اس نے تیری ذات کے لیے اُس سے تعلق رکھا ہے ، اُسی طرح تو بھی اس سے تعلق رکھ ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصن ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصن ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 13593
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِرِجَالِكُمْ فِي الْجَنَّةِ ؟ " . قُلْنَا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " النَّبِيُّ فِي الْجَنَّةِ ، وَالصِّدِّيقُ فِي الْجَنَّةِ ، وَالرَّجُلُ يَزُورُ أَخَاهُ فِي نَاحِيَةِ الْمِصْرِ لَا يَزُورُهُ إِلَّا لِلَّهِ فِي الْجَنَّةِ " . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي النِّكَاحِ فِي حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الْمَرْأَةِ هُوَ وَبَقِيَّةُ طُرُقِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں تمہارے اُن افراد کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ جو جنت میں جائیں گے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نبی جنت میں ہو گا ، صدیق جنت میں ہو گا اور وہ شخص جنت میں ہو گا ، جو شہر کے کنارے پر اپنے بھائی سے ملنے کے لیے جاتا ہے ، اور وہ صرف اللہ تعالی کے لیے اُس سے ملنے کے لیے جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو اس سے پہلے کتاب النکاح میں ، عورت پر شوہر کے حق سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ، وہ روایت بھی اور اس کے بقیہ طرق بھی گزر چکے ہیں ۔
حدیث نمبر: 13594
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَصْلِحِي لَنَا الْمَجْلِسَ ; فَإِنَّهُ يَنْزِلُ مَلَكٌ إِلَى الْأَرْضِ لَمْ يَنْزِلْ إِلَيْهَا قَطُّ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ تَابِعِيٌّ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : ” تم ہمارے لئے بیٹھنے کی جگہ تیار کرو ! کیونکہ ایک فرشتہ زمین کی طرف نازل ہونے لگا ہے ، جو پہلے کبھی زمین کی طرف نازل نہیں ہوا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں تابعی کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اور اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں تابعی کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اور اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13595
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُؤَاخِي بَيْنَ الِاثْنَيْنِ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَتَطُولُ عَلَى أَحَدِهِمَا اللَّيْلَةُ حَتَّى يَلْقَى أَخَاهُ ، فَيَلْقَاهُ بِوُدٍّ وَلُطْفٍ فَيَقُولُ : كَيْفَ كُنْتَ بَعْدِي ؟ وَأَمَّا الْعَامَّةُ ، فَلَمْ يَكُنْ يَأْتِي عَلَى أَحَدِهِمَا ثَلَاثٌ لَا يَعْلَمُ عِلْمَ أَخِيهِ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ خَالِدٍ الْخُزَاعِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب میں سے کسی ایک کو دوسرے کا بھائی قرار دے دیتے تھے ، تو ان میں سے کسی ایک کے لئے رات طویل ہو جاتی تھی ، اور پھر وہ محبت اور مہربانی کے ہمراہ اپنے بھائی سے ملتا تھا ، اور یہ دریافت کرتا تھا ۔ میرے بعد تم کیسے رہے ؟ لیکن اب عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ دو افراد میں سے کسی ایک پر تین دن گزر جاتے ہیں ، اور اُسے اپنے بھائی کے بارے میں کچھ پتہ ہی نہیں ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عمران بن خالد خزاعی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عمران بن خالد خزاعی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13596
وَعَنْ أُمِّ نُجَيْدٍ أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْتِينَا فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، فَأَتَّخِذُ لَهُ سَوِيقًا فِي قَعْبَةٍ ، فَإِذَا جَاءَ سَقَيْتُهُ إِيَّاهَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام نجید رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس بنو عمرو بن عوف کے محلے میں تشریف لائے ، میں نے آپ کے لیے برتن میں ستو تیار کیے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو وہ میں نے آپ کو پینے کے لئے پیش کیے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، تاہم ابن اسحاق نامی راوی مدلس ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، تاہم ابن اسحاق نامی راوی مدلس ہے ۔
حدیث نمبر: 13597
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَلْقَى إِلَيَّ وِسَادَةً حَشْوُهَا لِيفٌ ، فَلَمْ أَقْعُدْ عَلَيْهَا بَقِيَتْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے چمڑے سے بنا ہوا تکیہ رکھا ، جس کے اندر پتے بھرے ہوئے تھے ، راوی کہتے ہیں : میں اس پر نہیں بیٹھا اور وہ میرے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ہی پڑا رہا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 13598
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : دَخَلَ عُمَرُ عَلَى سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ فَأَلْقَى لَهُ وِسَادَةً فَقَالَ : مَا هَذَا يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ؟ فَقَالَ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْخُلُ عَلَيْهِ أَخُوهُ الْمُسْلِمُ فَيُلْقِي لَهُ وِسَادَةً إِكْرَامًا وَإِعْظَامًا ، إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ خَالِدٍ الْخُزَاعِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، تو انہوں نے ان کے لئے تکیہ رکھا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اے ابوعبد اللہ ! یہ کس وجہ سے ہے ؟ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس مسلمان شخص کے پاس اس کا مسلمان بھائی آئے ، اور وہ شخص اُس کے احترام اور تعظیم کے طور پر اس کے لئے تکیہ رکھے ، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کی مغفرت کر دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمران بن خالد خزاعی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمران بن خالد خزاعی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13599
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : دَخَلَ سَلْمَانُ عَلَى عُمَرَ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى وِسَادَةٍ ، قَالَ : فَأَلْقَاهَا إِلَيَّ ثُمَّ قَالَ : " يَا سَلْمَانُ ، مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْخُلُ عَلَى أَخِيهِ الْمُسْلِمِ فَيُلْقِي إِلَيْهِ وِسَادَةً إِكْرَامًا لَهُ ، إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ خَالِدٍ الْخُزَاعِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، جو تکیے پر ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے ، انہوں نے وہ تکیہ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کے لیے آگے کر دیا ، تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ اکبر ! اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوعبد اللہ ! آپ ہمیں بات بیان کریں ، سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ اس وقت تکیے پر ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے ، تو آپ نے وہ تکیہ میری طرف آگے کر دیا اور پھر ارشاد فرمایا : ” اے سلمان ! جس مسلمان شخص کے پاس اس کا مسلمان بھائی آئے ، اور وہ اس کی عزت افزائی کے طور پر اس کے لئے تکیہ رکھ دے ، تو اللہ تعالیٰ اُس شخص کی مغفرت کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمران بن خالد خزاعی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمران بن خالد خزاعی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13600
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى بَنِي وَاقِفٍ نَزُورُ الْبَصِيرَ " . رَجُلٌ كَانَ مَكْفُوفَ الْبَصَرِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُسْتَمِرِّ الْعُرُوقِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ ہمارے ساتھ بنو واقف کی طرف چلو ! تاکہ ہم بصیر کو دیکھ آئیں ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : وہ ایک ایسے شخص تھے ، جس کی بینائی ختم ہو چکی تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، اور امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ، بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ابراہیم بن مستمر عروقی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، اور امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ، بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ابراہیم بن مستمر عروقی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 13601
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى بَنِي وَاقِفٍ نَزُورُ الْبَصِيرَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُوسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، إِلَّا أَنَّ الْبَزَّارَ قَالَ : لَمْ يَرْوِهِ مِنْ حَدِيثِ جَابِرٍ إِلَّا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَعْفِيُّ ، وَأَحْسَبُهُ أَخْطَأَ فِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ ہمارے ساتھ بنو واقف کی طرف چلو ! تاکہ ہم بصیر سے مل آئیں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف موسیٰ بن عبدالرحمان مسروقی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہیں ، تاہم امام بزار نے یہ بات بیان کی ہے : کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث صرف حسین بن علی جعفی نے نقل کی ہے ، اور اس کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ اُس نے اس میں غلطی کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف موسیٰ بن عبدالرحمان مسروقی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہیں ، تاہم امام بزار نے یہ بات بیان کی ہے : کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث صرف حسین بن علی جعفی نے نقل کی ہے ، اور اس کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ اُس نے اس میں غلطی کی ہے ۔
حدیث نمبر: 13602
وَعَنْ عَوْفٍ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لِأَصْحَابِهِ حِينَ قَدِمُوا عَلَيْهِ : هَلْ تَجَالَسُونَ ؟ قَالُوا : لَا نَتْرُكُ ذَاكَ . قَالَ : فَهَلْ تَزَاوَرُونَ ؟ قَالُوا : نَعَمْ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنَّ الرَّجُلَ مِنَّا لَيَفْقِدُ أَخَاهُ فَيَمْشِي عَلَى رِجْلَيْهِ إِلَى آخِرِ الْكُوفَةِ حَتَّى يَلْقَاهُ . قَالَ : إِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا بِخَيْرٍ مَا فَعَلْتُمْ ذَلِكَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
عوف بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے شاگرد جب ان کے پاس آئے ، تو انہوں نے ان سے دریافت کیا : کیا تم لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھتے ہو ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : ہم اس کو ترک نہیں کرتے ہیں ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا تم لوگ ایک دوسرے سے ملنے کے لیے جاتے ہو ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! اے ابوعبدالرحمن ! بعض اوقات ہم میں سے کوئی ایک شخص اپنے بھائی کو غیر موجود پاتا ہے ، تو پیدل چل کر کوفہ کے آخری کنارے تک جا کر اُس سے ملاقات کرتا ہے ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ جب تک ایسا کرتے رہو گے ، تم مسلسل بھلائی پر رہو گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند منقطع ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند منقطع ہے ۔
حدیث نمبر: 13603
وَعَنْ حَبِيبِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُبَيْطٍ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ ، فَرَمَى إِلَيْهِ بِوِسَادَةٍ كَانَتْ تَحْتَهُ وَقَالَ : مَنْ لَمْ يُكْرِمْ جَلِيسَهُ فَلَيْسَ مِنْ أَحْمَدَ وَلَا مِنْ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
حبیب بن ابراہیم بن سبیط کے بارے میں یہ بات منقول ہے : کہ وہ سیدنا عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے نیچے موجود تکیہ نکال کر ان کی طرف رکھا اور بولے : جو شخص اپنے ہم نشین کا احترام نہیں کرتا ، اُس کا نہ تو سیدنا أحمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی تعلق ہے ، اور نہ ہی سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے کوئی تعلق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13604
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، زُرْ غِبًّا ، تَزْدَدْ حُبًّا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَقَالَ الْبَزَّارُ : لَا يُعْلَمُ فِيهِ حَدِيثٌ صَحِيحٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : ” اے ابوہریرہ ! وقفے سے ملا کرو ، محبت زیادہ ہو گی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار کہتے ہیں : اس بارے میں کوئی صحیح حدیث معلوم نہیں ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار کہتے ہیں : اس بارے میں کوئی صحیح حدیث معلوم نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 13605
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " زُرْ غِبًّا ، تَزْدَدْ حُبًّا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُوَيْدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وقفے سے ملا کرو ! محبت زیادہ ہو گی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عوید بن ابوعمران ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عوید بن ابوعمران ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 13606
وَعَنْ حَبِيبِ بْنِ سَلَمَةَ الْفِهْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " زُرْ غِبًّا ، تَزْدَدْ حُبًّا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ الرُّعَيْنِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وقفے سے ملا کرو ! محبت زیادہ ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مخلدر عینی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مخلدر عینی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13607
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " زُرْ غِبًّا ، تَزْدَدْ حُبًّا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وقفے سے ملو ! محبت زیادہ ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13608
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " زُرْ غِبًّا ، تَزْدَدْ حُبًّا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ. ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وقفے سے ملو ! محبت زیادہ ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔