حدیث نمبر: 13582
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " شَهِدْتُ حِلْفَ الْمُطَيَّبَيْنِ مَعَ عُمُومَتِي وَأَنَا غُلَامٌ ، فَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي حُمْرَ النَّعَمِ وَأَنِّي أَنْكُثُهُ " . قَالَ الزُّهْرِيُّ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَمْ يُصِبِ الْإِسْلَامُ حِلْفًا إِلَّا زَادَهُ شِدَّةً ، وَلَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ " . وَقَدْ أَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَكَذَلِكَ مُرْسَلُ الزُّهْرِيِّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں اپنے چچاؤں کے ساتھ ” مطیبین “ کے حلیف بننے کے معاہدے کے موقع پر موجود تھا ، میں اُن دونوں لڑکا تھا ، اور مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ اس معاہدے کو میں توڑ دوں ، اگرچہ مجھے اُس کے بدلے میں سرخ اونٹ مل رہے ہوں ۔ “ زہری بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اسلام حلیف ہونے کے جس معاہدے کو پائے گا ، اُس کی مضبوطی میں اضافہ ہی کرے گا ، البتہ اسلام میں حلیف ہونے کے معاہدے کی کوئی حیثیت نہیں ہو گی ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش اور انصار کے درمیان الفت قائم کی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، زہری کی نقل کردہ ” مرسل “ روایت کے رجال بھی اسی طرح ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، زہری کی نقل کردہ ” مرسل “ روایت کے رجال بھی اسی طرح ہیں ۔
حدیث نمبر: 13583
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي حُمْرَ النَّعَمِ وَأَنِّي نَقَضْتُ الْحِلْفَ الَّذِي فِي دَارِ النَّدْوَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَرْزُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے یہ بات اچھی نہیں لگے گی کہ مجھے سرخ اونٹ مل جائیں ، اور میں حلیف ہونے کے اُس معاہدے کو توڑ دوں ، جو ” دارالندوہ “ میں ہوا تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مرزوق بن مرزبان ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مرزوق بن مرزبان ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 13584
وَعَنْ بُدَيْلِ بْنِ وَرْقَاءَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَدْخَلَ فِي حِلْفِ يَوْمِ الْحُدَيْبِيَةَ خُزَاعَةَ ، وَكَتَبَ إِلَيْهِمْ وَإِلَى بُدَيْلِ بْنِ وَرْقَاءَ سَرَوَاتِ بَنِي عَمْرٍو : " سَلَامٌ عَلَيْكُمْ ، فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكُمُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، أَمَّا بَعْدُ : فَإِنِّي لَمْ أَثِمَّ بَالَكُمْ وَلَمْ أَضَعْ فِي جَنْبِكُمْ ، وَإِنَّ أَكْرَمَ تِهَامَةَ عَلَيَّ لَأَنْتُمْ وَمَنْ تَبِعَكُمْ مِنَ الْمُطَّلِبِينَ ، وَقَدْ أَخَذْتُ لِمَنْ هَاجَرَ مِثْلَ مَا أَخَذْتُ لِنَفْسِي ، وَلَوْ هَاجَرَ بِأَرْضِهِ غَيْرُ سَاكِنِ مَكَّةَ وَإِنَّكُمْ غَيْرُ خَائِفِينَ مِنْ قِبَلِي وَلَا مُخَوَّفِينَ " . هَذَا أَوْ نَحْوُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
بدیل بن ورقاء بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے دن ، حلیف ہونے کے معاہدے میں خزاعہ کو داخل کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن لوگوں کی طرف ، بدیل بن ورقاء کی طرف ، اور بنو عمرو کے رؤسا کی طرف یہ خط لکھا : ” تم لوگوں پر سلام ہو ! میں تمہارے سامنے اُس اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں ، جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی معبود ہے ، امابعد ! بے شک میں نے تمہارے معاملے کو گناہ قرار نہیں دیا ہے ، اور نہ ہی میں نے تمہارے پہلو میں رکھا ہے ، تہامہ کے رہنے والوں میں ، میرے نزدیک سب سے زیادہ معزز تم لوگ ہو ، اور وہ لوگ ہیں ، جو تمہاری پیروی کریں ، جن کا تعلق مطیبین سے ہو ، میں نے ہجرت کرنے والے کے لئے وہی چیز لی ہے ، جو میں نے اپنی ذات کے لیے لی ہے ، خواہ وہ شخص مکہ میں رہائش اختیار کیے بغیر اپنی زمین سے ہجرت کرتا ہے ، تو تم لوگ میری طرف سے خوفزدہ نہ ہونا اور خوف کا شکار نہ کرنا ۔ “ یہ ، یا اس کی مانند کلمات تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 13585
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ بُدَيْلِ بْنِ وَرْقَاءَ قَالَ : دَفَعَ إِلَيَّ أَبِي ، بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ ، هَذَا الْكِتَابَ فَقَالَ : يَا بُنَيَّ ، هَذَا كِتَابُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَوْصُوا بِهِ ، وَلَنْ تَزَالُوا بِخَيْرٍ مَا دَامَ فِيكُمْ : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بُدَيْلِ بْنِ وَرْقَاءَ وَبِشْرٍ سَرَوَاتِ بَنِي عَمْرٍو فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكُمُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، وَأَمَّا بَعْدُ : فَإِنِّي لَمْ أَثِمَّ بَالَكُمْ وَلَمْ أَضَعْ فِي جَنْبِكُمْ ، وَإِنَّ أَكْرَمَ تِهَامَةَ عَلَيَّ أَنْتُمْ وَأَقْرَبَهُ مِنِّي رَحِمًا وَمَنْ تَبِعَكُمْ مِنَ الْمُطَّلِبِينَ ، وَإِنِّي أَخَذْتُ لِمَنْ هَاجَرَ مِنْكُمْ مِثْلَ مَا أَخَذْتُ لِنَفْسِي ، وَلَوْ هَاجَرَ بِأَرْضِهِ غَيْرُ سَاكِنِ مَكَّةَ إِلَّا مُعْتَمِرًا أَوْ حَاجًّا ، وَإِنِّي لَمْ أَضَعْ فِيكُمْ أَوْ سَلِمْتُ ، وَإِنَّكُمْ غَيْرُ خَائِفِينَ مِنْ قِبَلِي وَلَا مُحَصَّرَيْنِ . أَمَّا بَعْدُ : فَإِنَّهُ قَدْ أَسْلَمَ عَلْقَمَةُ بْنُ عُلَاثَةَ وَابْنَا عَوْنٍ ، وَبَايَعَا عَلَى مَنْ تَبِعَهُمْ مِنْ عِكْرِمَةَ ، وَأَخَذَ لِمَنْ تَبِعَهُ مِنْكُمْ مِثْلَ مَا أَخَذَ لِنَفْسِهِ، وَإِنَّ بَعْضَنَا مِنْ بَعْضٍ أَبَدًا فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ " . قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ : وَحَدَّثَنِي أَبِي قَالَ : سَمِعْتُ أَشْيَاخَنَا يَقُولُونَ : هُوَ خَطُّ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سلمہ بن بدیل بن ورقاء بیان کرتے ہیں : میرے والد بدیل بن ورقاء نے یہ مکتوب میرے حوالے کیا ، انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب ہے ، تو تم اس کے ذریعے تلقین کو قبول کرو ، اور جب تک یہ تمہارے درمیان رہے گا ، تم مسلسل بھلائی پر گامزن رہو گے : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ اللہ کے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بدیل بن ورقاء اور بنو عمرو کے رؤساء کے نام مکتوب ہے ، میں تمہارے سامنے اُس اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں ، جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، امابعد ! میں تمہارے معاملے کو گناہ قرار نہیں دیتا ، اور نہ ہی تمہارے پہلو میں رکھتا ہوں ، اہل تہامہ میں میرے نزدیک سب سے زیادہ معزز تم ہو ، اور رشتہ داری کے اعتبار سے میرے سب سے زیادہ قریبی ہو ، اور وہ لوگ ہیں جو مطیبین سے تعلق رکھتے ہیں ، اور تمہاری پیروی کرتے ہیں ، تم میں سے جو شخص ہجرت کر لیتا ہے ، میں نے اس کے لئے وہی چیز لی ہے ، جو میں نے اپنی ذات کے لیے لی ہے ، خواہ اُس شخص نے اپنی سرزمین سے ہجرت کی ہو ، اور مکہ میں رہائش اختیار نہ کی ہو ، البتہ عمرہ کرنے والے اور حج کرنے والے کا معاملہ مختلف ہے ، میں نے تمہارے معاملے کو ضائع نہیں کیا ، یا سپرد نہیں کیا ، تم لوگ میری طرف سے خوفزدہ نہ ہونا ، یا محصور نہیں ہونا ، امابعد ! علقمہ بن علاثہ اور عون کے دونوں بیٹوں نے اسلام قبول کر لیا ہے ، ان دونوں نے بیعت کر لی ہے ، اور ہجرت کی ہے ، ان لوگوں کی طرف سے جو عکرمہ میں سے ان کی پیروی کرتے ہیں ، اور اس نے تم میں سے اپنے پیروکاروں کے لئے وہ چیز لی ہے ، جو اپنی ذات کے لیے لی ہے ، ہم حل میں اور حرم میں ، ہمیشہ ایک دوسرے کا حصہ رہیں گے ۔ “ ابومحمد کہتے ہیں : میرے والد نے مجھے
یہ روایت بیان کی ہے : میں نے اپنے مشائخ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : یہ مکتوب سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کا تحریر کیا ہوا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت بیان کی ہے : میں نے اپنے مشائخ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : یہ مکتوب سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کا تحریر کیا ہوا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 13586
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ ، وَمَا كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَمْ يَزِدْهُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّةً أَوْ حِدَّةً " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اسلام میں حلیف ہونے کا کوئی معاہدہ نہیں ہو گا ، اور جو معاہدہ زمانہ جاہلیت میں ہوا تھا ، اسلام اس کی مضبوطی اور شدت میں اضافہ ہی کرے گا “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام أحمد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام أحمد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 13587
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْحِلْفِ فَقَالَ : " مَا كَانَ مِنْ حِلْفٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَتَمَسَّكُوا بِهِ ، وَلَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَخْرَجَهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حلیف ہونے کا معاہدہ کرنے کے بارے میں دریافت کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” زمانہ جاہلیت میں ایسا جو معاہدہ ہوا تھا ، تم لوگ اسے مضبوطی سے تھام کے رکھو ، لیکن اسلام میں ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اسے امام طبرانی نے بھی نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اسے امام طبرانی نے بھی نقل کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 13588
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ ،أَيُّمَا حِلْفٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمْ يَزِدْ فِي الْإِسْلَامِ إِلَّا شِدَّةً " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَدُّهُ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اسلام میں حلیف ہونے کا معاہدہ نہیں ہو گا ، حلیف ہونے کا جو بھی معاہدہ زمانہ جاہلیت میں ہوا تھا ، اسلام اس کی مضبوطی میں اضافہ ہی کرے گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ابن ابوملیکہ کی دادی ہے ، اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ابن ابوملیکہ کی دادی ہے ، اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13589
وَعَنْ فُرَاتِ بْنِ حِبَّانَ الْعِجْلِيِّ ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ حِلْفِ الْجَاهِلِيَّةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَعَلَّكَ تَسْأَلُ عَنْ حَلِيفِ لَخْمٍ وَتَمِيمٍ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَزِيدُهُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّةً " . وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا فرات بن حیان عجلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زمانہ جاہلیت کے حلیف ہونے کے معاہدے کے بارے میں دریافت کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شاید تم مجھ سے لخم اور تمیم کے حلیف ہونے کے بارے میں دریافت کرنا چاہتے ہو ، انہوں نے جواب دیا : یا رسول اللہ ! جی ہاں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسلام اُس کی مضبوطی میں اضافہ ہی کرے گا ۔ “ اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اور اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔