عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخَى بَيْنَ الزُّبَيْرِ وَابْنِ مَسْعُودٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ الْأَوْسَطِ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، معجم اوسط کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، معجم اوسط کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : آخَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ أَصْحَابِهِ ، آخَى بَيْنَ سَلْمَانَ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ ، وَبَيْنَ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ وَبَيْنَ صَعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تھا ، آپ نے سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کو ، جبکہ سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ اور سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، آخَيْتَ بَيْنِي وَبَيْنَ حَمْزَةَ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَكَذَلِكَ أَحَدُ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ .
محمد محی الدین
سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے مجھے اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو بھائی قرار دے دیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، اور امام طبرانی کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال بھی اسی طرح ہیں ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، اور امام طبرانی کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال بھی اسی طرح ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : آخَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَحَمْزَةَ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ الْفَرَوِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق فروی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق فروی ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ - مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخَا حَمْزَةَ ، آخَى بَيْنَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا زید بن حارثہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام تھے ، وہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے بھائی بنے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تھا ۔
وَفِي رِوَايَةٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَيْضًا قَالَ : قَالَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ فِي ابْنَةِ حَمْزَةَ : ابْنَةُ أَخِي ، آخَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِيهَا . وَفِي إِسْنَادِهِمَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے منقول ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : انہوں نے فرمایا : سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کے بارے میں یہ کہا: یہ میری بھتیجی ہے ، اللہ کے رسول نے میرے اور اس لڑکی کے باپ کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تھا ۔ ان دونوں کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، اور وہ مدلس ہے ، ان دونوں روایات کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ ، وَعَسَلِ بْنِ كَعْبٍ ، أَحَدُ بَنِي زِمَامٍ ، أَنَّ جَدَّهُ مَازِنَ بْنَ خَيْثَمَةَ - يَعْنِي جَدَّ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ - بَعَثَهُمَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ حِينَ نَزَلَ بَيْنَ السَّكُونِ وَالسَّكَاسِكِ وَقَالَ : حَتَّى أَسْلَمَ النَّاسُ وَافِدِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَآخَى بَيْنَ السَّكُونِ وَالسَّكَاسِكِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
عمرو بن قیس اور عسل بن کعب ، جن کا تعلق بنو زمام سے ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : اُن کے دادا مازن بن خیثمہ ( یعنی عمرو بن قیس کے دادا ) ، سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اُن دونوں کو بھیجا ، جب انہوں نے سکون اور سکاسک کے درمیان پڑاؤ کیا ہوا تھا ، اور انہوں نے یہ بیان کیا : یہاں تک کہ لوگوں نے اسلام قبول کر لیا اور وہ وفد کی شکل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سکون اور سکاسک کے درمیان بھائی چارہ قائم کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخَى بَيْنَ أَبِي الدَّرْدَاءِ وَسَلْمَانَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جِسْرُ بْنُ فَرْقَدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَتَأْتِي أَحَادِيثُ نَحْوُهَا .
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ اور سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جسر بن فرقد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اس نوعیت کی دیگر احادیث آگے آئیں گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جسر بن فرقد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اس نوعیت کی دیگر احادیث آگے آئیں گی ۔