کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو اپنے پڑوسی کی دی ہوئی اذیت پر صبر کرتا ہے
حدیث نمبر: 13573
عَنْ مُطَرَّفٍ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ - قَالَ : كَانَ يَبْلُغُنِي عَنْ أَبِي ذَرٍّ حَدِيثًا ، وَكُنْتُ أَشْتَهِي لِقَاءَهُ ، فَلَقِيَتْهُ فَقُلْتُ : يَا أَبَا ذَرٍّ كَانَ يَبْلُغُنِي عَنْكَ حَدِيثُكَ ، وَكُنْتُ أَشْتَهِي لِقَاءَكَ ، قَالَ : لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَبُوكَ قَدْ لَقِيتَنِي فَهَاتِ . قُلْتُ : حَدِيثًا بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَدَّثَكَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ ثَلَاثَةً وَيُبْغِضُ ثَلَاثَةً " . قَالَ : فَمَا أَخَالُنِي أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ : قُلْتُ : فَمَنْ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ؟ قَالَ : " رَجُلٌ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ، وَأَنْتُمْ تَجِدُونَهُ عِنْدَكُمْ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " . ثُمَّ تَلَا : ( إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ ) قُلْتُ : وَمَنْ ؟ قَالَ : " رَجُلٌ كَانَ لَهُ جَارُ سُوءٍ يُؤْذِيهِ فَصَبَرَ عَلَى أَذَاهُ ، حَتَّى يَكْفِيَهُ اللَّهُ إِيَّاهُ بِحَيَاةٍ أَوْ مَوْتٍ " . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَدْ رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ ذِكْرِ الْجَارِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
مطرف بن عبداللہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک روایت مجھ تک پہنچی ، تو میری یہ خواہش ہوئی کہ میری ان سے ملاقات ہو جاتی ، جب میری اُن سے ملاقات ہوئی ، تو میں نے کہا: اے سیدنا ابوذر غفاری ! آپ کے حوالے سے ایک حدیث مجھ تک پہنچی ، تو میں سے ملاقات کا خواہشمند تھا ، انہوں نے فرمایا : اللہ تمہارے باپ کا بھلا کرے ، اب تمہاری مجھ سے ملاقات ہو گئی ہے ، تو تم پیش کرو ! میں نے کہا: ایک حدیث مجھ تک پہنچی ہے ، کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو یہ بیان کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ تین لوگوں سے محبت کرتا ہے ، اور وہ تین لوگوں کو ناپسند کرتا ہے ۔ انہوں نے فرمایا : اپنے بارے میں میرا یہ خیال نہیں ہے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کروں گا ، راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : وہ تین قسم کے لوگ کون ہیں ؟ جن سے اللہ تعالیٰ محبت رکھتا ہے ، انہوں نے فرمایا : ایک وہ شخص ہے جو صبر کرتے ہوئے اور ثواب کی امید رکھتے ہوئے ، اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لیتا ہے ، وہ لڑائی کرتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ شہید ہو جاتا ہے ، اور یہ وہ شخص ہے جس کا ذکر تم اپنے پاس موجود اللہ کی کتاب میں پاتے ہو ، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ” بے شک اللہ تعالیٰ اُن لوگوں سے محبت رکھتا ہے ، جو اُس کی راہ میں یوں صف بنا کر جنگ کرتے ہیں ، جیسے وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں ۔ “ میں نے دریافت کیا : اور کون ؟ تو انہوں نے فرمایا : ” وہ شخص جس کا پڑوسی برا ہو ، اور وہ پڑوسی اُسے اذیت دیتا ہو ، اور وہ شخص اُس پڑوسی کی دی ہوئی اذیت پر صبر سے کام لیتا رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ زندگی ، یا موت ، کسی بھی صورت میں ، اُس پڑوسی کے حوالے سے اس کی کفایت کر دے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ،
یہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے پڑوسی کے حوالے سے ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، روایت کے الفاظ اُن کے نقل کردہ ہیں ، امام طبرانی کی سند اور امام أحمد کی دو اسناد میں سے ایک سند کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے پڑوسی کے حوالے سے ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، روایت کے الفاظ اُن کے نقل کردہ ہیں ، امام طبرانی کی سند اور امام أحمد کی دو اسناد میں سے ایک سند کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔