کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: شعر کے بارے میں رخصت کے حوالے سے جو کچھ منقول ہے جبکہ وہ شعر شرکیہ نہ ہو یا کسی مسلمان کی ہجو پر مشتمل نہ ہو
حدیث نمبر: 13319
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : رَخَّصَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي كُلِّ شِعْرٍ جَاهِلِيٍّ إِلَّا قَصِيدَتَيْنِ لِلْأَعْشَى زَعَمَ أَنَّهُ أَشْرَكَ فِيهِمَا .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زمانہ جاہلیت کے ہر شعر ( کو سنانے یا سننے ) کی اجازت دی تھی ، البتہ دو قصیدوں کی اجازت نہیں دی تھی جو اعشی کے ہیں ، راوی کا یہ کہنا ہے کہ ان دونوں قصائد میں اس شخص نے شرک کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 13320
وَفِي رِوَايَةٍ : رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي شِعْرِ الْجَاهِلِيَّةِ ، إِلَّا قَصِيدَتَيْنِ لِلْأَعْشَى إِحْدَاهُمَا فِي أَهْلِ بَدْرٍ ، وَالْأُخْرَى فِي عَامِرٍ وَعَلْقَمَةَ . رَوَاهُ كُلُّهُ الْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ ، وَفِي إِسْنَادِهِمَا مَنْ لَا تَقُومُ بِهِ حُجَّةٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمانہ جاہلیت کی شاعری کی اجازت دی تھی البتہ اعشی کے دو قصیدوں کا معاملہ مختلف ہے ، ان میں سے ایک اہل بدر کے بارے میں ہے ، اور دوسرا عامر اور علقمہ کے بارے میں ہے ۔ یہ تمام روایات امام بزار نے نقل کی ہیں ، اور امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہیں ، ان دونوں کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن کے ذریعے حجت قائم نہیں ہو سکتی ۔
حدیث نمبر: 13321
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَحْدَثَ هِجَاءً فِي الْإِسْلَامِ فَاقْطَعُوا لِسَانَهُ " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ : مَعْنَاهُ : مَنْ هَجَا الْإِسْلَامَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي فَرْوَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اسلام کی ہجو کرتا ہے ، اس کی زبان کاٹ دو ۔ “ عبداللہ بن أحمد بن حنبل کہتے ہیں : اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اسلام کی ہجو کرے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابوفروہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابوفروہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 13322
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَالَ فِي الْإِسْلَامِ شِعْرًا مُقْذِعًا فَلِسَانُهُ هَدَرٌ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس نے اسلام کے بارے میں کوئی فحش شعر کہا: اس کی زبان رائیگاں جائے گی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 13323
وَعَنْ غُضَيْفِ بْنِ أَبِي غُضَيْفٍ صَاحِبِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَحْدَثَ هِجَاءً فِي الْإِسْلَامِ فَاقْطَعُوا لِسَانَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي فَرْوَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا غضیف بن ابوغضیف رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اسلام کے بارے میں ہجو کرے اس کی زبان کاٹ دو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابوفروہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابوفروہ ہے اور وہ متروک ہے ۔