کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: مشورہ لینے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 13157
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا خَابَ مَنِ اسْتَخَارَ ، وَلَا نَدِمَ مَنِ اسْتَشَارَ ، وَلَا عَالَ مَنِ اقْتَصَدَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ عَبْدِ الْقُدُّوسِ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ شخص رسوائی کا شکار نہیں ہوتا جو استخارہ کرتا ہے ، وہ شخص ندامت کا شکار نہیں ہوتا ہے جو مشورہ کرتا ، ہے اور وہ شخص غریب نہیں ہوتا جو میانہ روی اختیار کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، جو عبدالسلام بن عبدالقدوس کے حوالے سے منقول ہے اور یہ دونوں انتہائی ضعیف ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13157
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (980)»
حدیث نمبر: 13158
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَرَادَ أَمْرًا فَشَاوَرَ فِيهِ امْرَأً مُسْلِمًا ، وَفَّقَهُ اللَّهُ لِأَرْشَدِ أُمُورِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ الْعُقَيْلِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی کام کا ارادہ کرے اور پھر اس کے بارے میں کسی مسلمان سے مشورہ لے ، تو اللہ تعالیٰ کاموں میں سے سب سے زیادہ بہتر کام کے بارے میں اس کی رہنمائی کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین عقیلی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13158
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 13159
وَعَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ ، فَإِذَا اسْتُشِيرَ فَلْيُشِرْ بِمَا هُوَ صَانِعٌ لِنَفْسِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ أَحْمَدَ بْنِ زُهَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ الْبَصْرِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس شخص سے مشورہ لیا جائے وہ امین ہوتا ہے ، جب اس سے مشورہ لیا جائے ، تو وہ اس نوعیت کا مشورہ دے جو اس نے اپنے آپ کے حوالے سے کرنا تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد أحمد بن زہیر کے حوالے سے عبدالرحمن بن عنبسہ بصری سے نقل کی ہے ، اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13159
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (2216)»
حدیث نمبر: 13160
وَعَنْ أُمِّ مَسْلَمَةٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاهُ أَبُو الْهَيْثَمِ بْنُ التَّيْهَانِ الْأَنْصَارِيُّ فَاسْتَخْدَمَهُ ، فَوَعَدَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنْ أَصَابَ سَبْيًا ، فَلَقِيَ عُمَرَ فَقَالَ : يَا أَبَا الْهَيْثَمِ ، إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَصَابَ سَبْيًا ، فَائْتِهِ فَتَنَجَّزْ عِدَتَكَ . فَمَضَى أَبُو الْهَيْثَمِ وَعُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَبُو الْهَيْثَمِ أَتَاكَ يَتَنَجَّزُ عِدَتَهُ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَدْ أَصَبْنَا غُلَامَيْنِ أَسْوَدَيْنِ ، اخْتَرْ أَيَّهُمَا شِئْتَ " . قَالَ : فَإِنِّي أَسْتَشِيرُكَ . فَقَالَ : " الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ ، خُذْ هَذَا فَقَدَ صَلَّى عِنْدَنَا وَلَا تَضْرِبْهُ ، فَإِنَّا قَدْ نُهِينَا ، عَنْ ضَرْبِ الْمُصَلِّينَ " . قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ مِنْهُ : " الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ " . فَقَطْ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، عَنْ شَيْخِهِ سُفْيَانَ بْنِ وَكِيعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اُم مسلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ابوالہیثم بن تیہان انصاری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے خدمت گزار مانگا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ وعدہ کیا کہ جب آپ کو قیدی ملیں گے ، تو آپ انہیں دیدیں گے ، ان کی ملاقات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو انہوں نے کہا: اے ابوالہیثم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قیدی ملے ہیں ، تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا وعدہ پورا کروا لو ، سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ابوالہیثم آپ کے پاس اس لئے آیا ہے تاکہ وہ اپنا وعدہ پورا کروا لے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ہمیں دو سیاہ فام غلام ملے ہیں ، تم ان دونوں میں سے جس کو چاہو اختیار کر لو ، انہوں نے عرض کی : میں آپ سے مشورہ مانگتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس سے مشورہ مانگا جاتا ہے وہ امین ہوتا ہے ، تم اس کو لے لو کیونکہ یہ ہمارے ہاں نماز پڑھتا ہے ، تم اسے نہ مارنا کیونکہ ہمیں نمازیوں کو مارنے سے منع کیا گیا ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ترمذی نے اس روایت میں سے صرف یہ والا حصہ نقل کیا ہے : ” جس سے مشورہ لیا جائے وہ امین ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اپنے استاد سفیان بن وکیع کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13160
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6942)»
حدیث نمبر: 13161
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ وَغَيْرِهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ اور دیگر حضرات بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جس شخص سے مشورہ لیا جائے وہ امین ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13161
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1879)»
حدیث نمبر: 13162
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ ، إِنْ شَاءَ أَشَارَ ، وَإِنْ شَاءَ لَمْ يُشِرْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ فِي إِحْدَاهُمَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَفِي الْأُخْرَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص سے مشورہ لیا جائے اسے امین بنایا جاتا ہے اگر وہ چاہے تو مشورہ دیدے اور اگر وہ چاہے تو مشورہ نہ دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے جن میں سے ایک میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم ہے اور وہ ضعیف ہے ، اور دوسرے میں ایک راوی عبدالرحمن بن عمرو بن جبلہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13162
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6914)»
حدیث نمبر: 13163
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس سے مشورہ لیا جاتا ہے اسے امین بنایا جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ،
یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13163
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2027)»
حدیث نمبر: 13164
وَعَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ التَّيْهَانِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ جَدِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوالہیثم بن تیہان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جس سے مشورہ لیا جائے اسے امین بنایا جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے دادا عبدالرحمن بن محمد بن زید کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13164
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (258/19)»
حدیث نمبر: 13165
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ الْبَشِيرِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَسَدِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس سے مشورہ لیا جائے اسے امین بنایا جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حفص بن سلیمان اسدی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13165
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً