حدیث نمبر: 13109
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِرَجُلٍ : " تَنَقَّهُ وَتَوَقَّهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ وَقَالَ : مَعْنَى هَذَا عِنْدَنَا - وَاللَّهُ أَعْلَمُ - : أَنََّكَ تَنَقَّ الصَّدِيقَ وَاحْذَرْهُ ، وَبَلَغَنِي عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُ فَسَّرَهُ بِمَعْنًى آخَرَ قَالَ : مَعْنَاهُ : اتَّقِ الذُّنُوبَ ، وَاحْذَرْ عُقُوبَتَهَا . وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا : ” بچ کے رہو اور پرہیز کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے ، ویسے تو اللہ بہتر جانتا ہے ، لیکن ہمارے نزدیک اس کا مفہوم یہ ہے کہ تم دوست اچھا اختیار کرو اور اس سے بچ کے رہو ، اور بعض اہل علم کے حوالے سے مجھ تک یہ بات پہنچی ہے ۔ انہوں نے اس کا ایک اور مفہوم بیان کیا ہے ، وہ یہ کہتے ہیں : اس کا مفہوم یہ ہے کہ تم گناہوں سے بچ کے رہو اور اس کی سزا سے پرہیز کرو ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مسعر بن کدام ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے ، ویسے تو اللہ بہتر جانتا ہے ، لیکن ہمارے نزدیک اس کا مفہوم یہ ہے کہ تم دوست اچھا اختیار کرو اور اس سے بچ کے رہو ، اور بعض اہل علم کے حوالے سے مجھ تک یہ بات پہنچی ہے ۔ انہوں نے اس کا ایک اور مفہوم بیان کیا ہے ، وہ یہ کہتے ہیں : اس کا مفہوم یہ ہے کہ تم گناہوں سے بچ کے رہو اور اس کی سزا سے پرہیز کرو ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مسعر بن کدام ہے ، اور وہ متروک ہے ۔